حکیم لقمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حکیم لقمان ایک شخصیت ہیں جن کا تذکرہ قرآن میں سورۃ لقمان میں آیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ نبی تھے یا نہیں۔ البتہ وہ ایک بہت دانا آدمی تھے اور بہت سی حکایات ان سے منسوب ہیں۔ ان کی حکمت بھی مشہور ہے اور اردو کی مشہور مثل ہے کہ وہم کی دوا تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔ یعنی ان کو حکمت کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ حکیم لقمان اللہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کا ایمان بہت طاقتور تھا۔ قرآن میں ان کی کچھ نصیحتیں درج ہیں جو انھوں نے اپنےبیٹے کو کی تھیں۔ سورۃ لقمان میں ہے کہ

اور (یاد کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا: اے میرے فرزند! اﷲ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شِرک بہت بڑا ظلم ہے (سورۃ لقمان۔ آیت ۱۳)

دانائی کی باتیں[ترمیم]

ان کی دانائی سے لبریز باتوں کی کچھ مثالیں یہ ہیں

  • اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہے(بحوالہ سورۃ لقمان۔ آیت ۱۸ ۔ قرآن)
  • اس دنیا میں ایسے کوشش کرو جیسے یہیں ھمیشہ رہنا ہے اور آخرت کے لیے ایسے کوشش کرو جیسے کل مر جانا ہے۔
  • میں نے بولنے پر بارہا افسوس کیا ہے مگر خاموش رہنے پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔
  • اگر معدہ کھانے سے بھر جائے تو دماغ سو جاتا ہے ، بے زبان اعضائے جسمانی خدا کی عبادت و ریاضت سے قاصر ہو جاتے ہیں۔
  • میں نے عقل بے وقوفوں سے سیکھی۔ جن افعال سے وہ گھاٹا اٹھاتے ہیں میں ان سے پرہیز کرتا ہوں۔
  • عہد شکنوں اور جھوٹوں پر کبھی اعتماد نہ کرو۔

ایک قصہ[ترمیم]

معارف مثنوی نامی کتاب میں درج ہے کہ حکیم لقمان کے ایک امیر دوست نے کہیں سے تربوز منگوائے۔وہ حکیم لقمان کو بہت پسند کرتا تھا اس لیے اس نے حکیم لقمان کو بلایا اور تربوز کی قاشیں کھلانی شروع کر دیں۔ حکیم لقمان بڑے مزے سے وہ کھاتے رہے اور شکریہ ادا کرتے رہے۔ جب ایک حصہ تربوز رہ گیا تو اس امیر آدمی نے کہا کہ اب میں بھی تو کھا کر دیکھوں کہ یہ کتنا میٹھا ہے جو آپ بہت خوش ہو کر کھا رہے ہیں۔ جب اس نے تربوز کھایا تو ہو انتہائی کڑوا تھا اور کھانا تقریباً نا ممکن تھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا کہ اے لقمان آپ یہ کیسے کھا رہے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ " اے دوست، آپ کے ہاتھوں سے سینکڑوں اچھی چیزیں پائیں ہیں جن کے شکرانہ سے میری کمر جھکی ہوئی ہے۔ مجھے شرم آئی کہ وہ ہاتھ جو مجھے بہت اچھی چیزیں عنائت کرتا تھا اگر اس سے ایک دن کوئی کڑوی چیز ملے تو میں اس سے انکار کر دوں۔ اے دوست، اس بات کے لطف نے کہ یہ تربوز آپ کے ہاتھوں سے آیا ہے اس نے اس کی کڑواہٹ کو مٹھاس میں بدل دیا ہے۔"
اس بات سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ نے انسان پر بےشمار نعمتیں نازل کی ہیں چنانچہ اگر انسان کو کچھ تکلیف ملے تو فوراً ناشکرا بن کر شکایت نہیں کرنا چاہیے۔