خانان استراخان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

خانان استراخان یا خانیت استراخان ایک تاتار ریاست تھی ، جو سنہری لشکر سلطنت (ترکی زبان میں آلتین اوردا) یا سلطنت اردوئے طلائی کے انہدام کے بعد قائم ہوئی ۔ یہ ریاست 15ویں اور 16ویں صدی عیسوی میں دریائے وولگا کے طاس سے ملحقہ علاقوں میں موجود رہی ، جہاں آج کل روس کا علاقہ استرا خان اوبلاست واقع ہے ۔

اس ریاست کو 1460ء میں محمود استراخانی نے قائم کیا ۔ اس کا دارالحکومت حاجی تارخان شہر تھا ، جو روسی وقائع (کرونیکل) میں استراخان کے ناں سے درج ہے ۔ ریاست کے علاقوں میں زیریں وولگا وادی اور دریائے وولگا کا طاس ، آج کے استراخان اوبلاست اور دریائے وولگا کے دائیں کنارے آج کے کلمیکیا کے گیاہستانوں (سٹیپ لینڈ) سمیت شامل تھا ۔ بحیرہ کیسپیئن (بحیرہ قزوین) کا شمال مغربی ساحل ریاست کی جنوبی سرحد اور خانان کریمیا (قریم یورتی) اس کی مغربی سرحد پر واقع تھے ۔ خانان استراخان کا صدرمقام حاجی تارخان ، آج کے استراخان شہر سے 12 کلومیٹر دور واقع تھا ۔

ریاست کی تشکیل سے پہلے[ترمیم]

دریائے وولگا کے زیریں علاقے میں 5ویں صدی عیسوی سے ہی مختلف ترک قبیلے آباد چلے آ رہے تھے ۔ جیسے کہ خزار جنہوں نے یہاں سب سے پہلے خزاری سلطنت قائم کی تھی ۔ مشرق کی طرف سے منگول مداخلت کے بعد یہاں وولگا بلغاروں کی ریاست وولگا بلغاریہ کا خاتمہ ہوا اور یہ علاقے سلطنت اردوئے طلائی (سنہری لشکر سلطنت) کے زیر نگیں آ گیا ۔ یہ سلطنت خانہ جنگی کی وجہ سے کمزور ہوئی تو 1466ء کے قریب نیم خودمختار خانان استرا خان ریاست قائم ہوئی ۔ دریائے وولگا کے دہانے پر وا‍قع ہونے کی وجہ سے کئی تجارتی راستے اس کے اختیار میں تھے جو آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ تھے ، لیکن تجارتی راستے اپنی کشش کی وجہ سے ہمسایہ ریاست اور خانہ بدوش قبیلوں کے خانان استراخان پر حملے کا باعث بھی بنتے ۔ قریم یورتی ( خانان کریمیا) کے خان مینلی اول گیرائے ، جس نے عظیم لشکر ریاست(ریاست اردوئے عظیم ) کے دارالحکومت سرائے باتو کو تباہ کیا تھا ، خانان استراخان کو بھی بہت نقصان پہنچایا ۔

لوگ اور مذہب[ترمیم]

خانان استراخان کی آبادی کی اکثریت استراخانی تاتار اور نوگائے لوگوں پر مشتمل تھی ۔ تاجر ماسکو ، کازان (قازانکریمیا ، وسط ایشیا اور قفقاز پار کے علاقوں کو تجارت جہاں سے گزر کر ہی کرتے تھے ۔

اشرافیہ میں درجہ بہ درجہ سب سے پہلے خان پھر سلطان ، بیگ اور مورزالر تھے ۔ باقی لوگوں کوقارا خلق یعنی کالے لوگ ( پرانی ترک بولی میں مطلب عظیم مخلوق ، قارا عام طور پر بڑے یا عظیم کے لئے استعمال ہوتا تھا ) جو کہ عام لوگوں کے لئے ترک رتبہ تھا ۔ ریاست کا مذہب اسلام تھا ۔

تاریخ[ترمیم]

1530ء کی دہائی میں استراخان نے خانان کریمیا اور ریاست اردوئے نوگائے (ریاست نوگائے لشکر) کے ساتھ ماسکو کی روسی ریاست کے خلاف تعاون کیا ۔ اس کے بعد استراخان اپنے پہلے حلیفوں تاتاروں کے ساتھ تنازعات میں الجھ گیا ۔ 1552ء میں زار روس ایوان چہارم ، مشہور عام ایوان خوفناک ، نے خانان قازان کے دارالحکومت قازان پر قبضہ کر لیا ، اس کے کچھ ہی عرصے بعد استرا خان میں بھی ایک ماسکو نواز حکومت قائم ہو گئی ۔

ایوان چہارم نے استراخان میں اپنی فوجیں بھیجیں ، جس کی وجہ سے استراخان کا آخری حکمران درویش خان ، ماسکو کا باجگزار بننے پر مجبور ہوا ۔ 1554ء میں ماسکو نواز اشرافیہ اور نوگائے قبائلیوں نے استرا خان پر قبضہ کر رہی روسی فوجوں کی حمایت کی ۔ استرا خان پر کریمیا کا حملے ٹلنے کے بعد درویش خان نے خانان کریمیا سے ، اپنے علاقوں سے روسیوں کو نکالنے کے لئے گٹھ جوڑ کیا ۔ ایوان چہارم نے روسی آباد کاروں اور کاسک فوجوں کو بھیجا ، جنہوں نے علاقے کو فتح کیا اور 1556ء میں اس کا ماسکو سے الحاق کر دیا ۔ خانان استرا خان کا دارالحکومت حاجی تارخان کا محاصرہ کیا گیا اور اس جلا دیا گیا ، ریاست روسیوں کے قبضے میں چلی گئی اور اس کا خاتمہ ہو گیا ۔ درویش خان ازوف کے قلعے میں بھاگ گیا ۔ حانان استراخان کے خاتمے کے بعد روسیوں کے حلیف کلمیکوں نے تاتاروں پو حملے کئے اور نوگائے خانہ بدوشوں کو علاقے سے نکال دیا ۔ روسیوں اور کلمیکوں نے علاقے کی مسلم اکثریتی آبادی کا قتل عام کیا اور بچوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا ۔

کافی نوگائے قازاقستان اور داغستان چلے گئے ۔ تقریبا 70 ہزار تاتاری آج بھی استرا خان اوبلاست میں رہتے ہیں ۔

استراخان کے خان[ترمیم]

خطاب نام دور حکومت
خان محمود بن کوچک 1465 - 1466 C.E.
خان قاسم بن محمود 1466 – 1490 C.E.
خان عبد الکریم 1490 – 1504 C.E.
خان قاسم بن سید احمد 1504 – 1532 C.E.
خان اق قبق بن مرتضی بیگ 1532 – 1534 C.E. (پہلا دور)
خان عبد الرحمان 1534 – 1538 C.E.
خان شیخ حیدر 1538 – 1541 C.E.
خان اق قبق بن مرتضی بیگ 1541 – 1544 C.E. (دوسرا دور)
خان یمغرچی خان 1544 – 1554 C.E.
خان درویش علی 1554 – 1556/57 C.E.
زار روس کے ایوان چہارم نے 1557ء میں خانان استراخان فتح کر لیا-

مزید دیکھیے[ترمیم]