خان عبدالغنی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

خان عبدالغنی خان المعروف غنی خان (پیدائش: 1914ء|وفات: 1996ء) بیسویں صدی میں پشتو زبان کے انتہائی معروف شاعر تھے۔ غنی خان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی بناء پر انھیں خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا جیسے پشتو کے قد آور شاعروں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ایک معروف شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ بہترین مصنف اور مصور بھی تھے۔ غنی خان خدائی خدمتگار تحریک کے راہنما خان عبدالغفار خان کے فرزند اور عوامی نیشنل پارٹی کے پہلے صدر خان عبدالولی خان کے بڑے بھائی بھی تھے۔

احوال زندگی[ترمیم]

غنی خان برطانوی دور حکومت کی انتظامی تقسیم کے مطابق صوبہ سرحد کے قصبہ ہشت نگر میں پیدا ہوئے جو آج کل گاؤں اتمانزئی، ضلع چارسدہ کہلاتا ہے۔ آپ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان کے صاحبزادے اور عوامی نیشنل پارٹی کے پہلے منتخب صدر خان عبدالولی خان کے بڑے بھائی تھے۔ غنی خان کی اہلیہ پارسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور نواب رستم جنگ کی صاحبزادی تھیں۔ غنی خان نے فنون لطیفہ کی تعلیم رابندرا ناتھ تگور یونیورسٹی سے حاصل کی اور مصوری اور مجسمہ سازی میں انتہائی قابل فنکار مانے جانے لگے۔ فنون لطیفہ کی مزید تربیت برطانیہ سے حاصل کی۔ والد کی ہدایت پر امریکہ میں انھوں نے شوگر ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کی اور متحدہ ہندوستان واپس آ کر تخت بائی شوگر مل میں نوکری شروع کردی۔ اپنے والد کی تحریک سے انتہائی متاثر ہونے کی وجہ سے وہ خدائی خدمتگار تحریک کا حصہ رہے اور پشتونوں کی آزادی و حقوق کے علمبردار رہے۔ گو ہندوستان کی تقسیم سے پہلے ہی انھوں نے سیاست کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن حکومت پاکستان نے 1948ء میں غنی خان کو اپنے والد کے ہمراہ گرفتار کر لیا۔ آپ 1954ء تک ملک کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل رہے۔ قید کے اسی دور میں انھوں نے اپنی مشہور زمانہ شاعری کا مجموعہ “دہ پنجرے چاغر“ تحریر کیا جو کہ ان کے بقول ان کی زندگی کا کل سرمایہ ہے۔ حکومت پاکستان کے زیر انتظام فنون و ادب کے اداروں نے غنی خان کی شاعری اور خدمات کو اصل مقام عطا نہ کیا اور ان کا ابتدائی کلام چھپنے سے رہ گیا۔ زندگی کے آخری دور میں بہرحال ان کی فنون و ادب میں خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے انعام سے نوازا اور ان کی شاعری کو 1985ء کے بعد کہیں پذیرائی مل سکی ورنہ اس سے پہلے سرکاری سطح پر انھیں انتہائی ناپسندیدہ فنکار تصور کیا جاتا رہا۔ 23 مارچ 1980ء کو صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے ان کی پشتو ادب اور مصوری میں خدمات کے صلے میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

ادبی خدمات[ترمیم]

غنی خان کی جوانی کی چند نظموں کے سوا تمام تر شاعری غیر سیاسی اور رومانوی ہے۔ ان کی شاعری کے مجموعات میں فانوس، پلوشے، دہ پنجرے چاغر، کلیات اور لتون شامل ہیں۔ ان کی انگریزی کتاب The Pathans جو کہ 1947ء میں شائع ہوئی، پشتون قبائل اور تاریخ پر انتہائی مستند سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں ان کی واحد کتاب، جس کا عنوان “خان صاحب“ تھا 1994ء میں شائع ہوئی۔
غنی خان کی شاعری پشتو کے کلاسیکی شعراء سے نسبتاً جداگانہ رنگ رکھتی ہے، اس کی وجہ غنی خان علم کے حصول کے زرائع، آبائی و بیرون ملک ثقافتوں کا مشاہدہ، نفسیات، جذباتیت اور زندگی پر مذہب کے اثرات کی جدا تشریح ایسے عناصر ہیں جو غالب نظر آتے ہیں۔

اقوال[ترمیم]

غنی خان کی قدرت سے رغبت اور پشتون ثقافت اور آبائی علاقوں سے محبت ان کی تصانیف سے عیاں ہے، وہ لکھتے ہیں،

  • پشتون ہونا صرف ایک نسل سے تعلق رکھنا نہیں ہے، بلکہ یہ تو زندگی میں غیرت اور محبت کے وہ جذبات ہیں جو ہر انسان میں کہیں نا کہیں پائے جاتے ہیں اور یقین کیجیے یہ جذبات انسان پر حاوی ہوتے ہیں۔
  • پشتون دراصل فصل کی طرح ہیں، یہ سب ایک جیسے ہوتے ہیں جیسے فصل کا ہر خوشہ ایک سا ہوتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی جو مجھے بھاتی ہے وہ یہ کہ یہ اپنے بہترین کپڑے پہن کر اور تیار ہو کر اور خوشی سے اپنے وطن کی بقاء کی جنگ کے لیے جاتے ہیں، یا مر جاتے ہیں یا دشمن کو مار دیتے ہیں۔
  • میں اپنے لوگوں کو پڑھا لکھا اور روشن خیال دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایسے لوگ جو انصاف کرنا جانتے ہوں، اپنے لیے قدرت کے اصولوں کے عین مطابق روشن مستقبل تلاش سکیں۔

خراج تحسین[ترمیم]

غنی خان کی وفات کے بعد، حکومت صوبہ سرحد نے 8 ایکڑ رقبہ پر غنی خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کتب خانہ قائم کیا اور اس کو “حجرہ غنی“ سے منسوب کیا۔ یہ بلاشبہ ایک مصنف اور شاعر کا حجرہ ہے جہاں علم کے پیاسوں کے لیے بے شمار زرائع دستیاب ہیں۔ یہ کتب خانہ غنی خان کی آبائی رہائش گاہ، “دارالامن“ کے قریب گاؤں اتمانزئی میں قائم ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

خان عبدالغفار خان
خان عبدالولی خان
پشتو ادب

بیرونی روابط و حوالہ جات[ترمیم]