خلافت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
زمرہ جات

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو دنیائے اسلام میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ آپ مسلمانوں کے مذہبی پیشوا تھے اور دنیاوی امور میں بھی ان کی رہنمائی فرماتے تھے۔ افواج کی سپہ سالاری ، بیت المال کی نگرانی اور نظم و نسق کے جملہ فیصلے آنحضرت کی مرضی اور ہدایت کے بموجب ہوتے تھے۔

خلافت راشدہ

آنحضرت کی وفات کے بعد اس اسلامی مرکزیت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کے جانشین مقرر کرنے کا جو طریقہ اختیار کیاگیا اسے خلافت کہتے ہیں۔ پہلے چار خلفاء ’’ حضرت ابوبکر رض ، حضرت عمر رض ، حضرت عثمان رض ، حضرت علی رض‘‘ کو عہد خلافت راشدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے نائبین رسول نے قرآن و سنت کے مطابق حکومت کی اور مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی بھی احسن طریقےسے کی۔اور ہر طرح سے یہ خلفاء اللہ تعالیٰ کے بعد اہل اسلام کے سامنے جوابدہ تھے۔ اور ان کا چناؤ مورثی نہیں تھا بلکہ وصیت/اکابر اصحابہ رض کی مشاورت سے ان کا انتخاب کیا جاتا رہا۔

خلافت بنو امیہ و بنو عباس

مگر خلافت راشدہ کی مدت فقط ۳۰ سال رہی۔ حضرت علی رض کی شہادت کے بعد شام کے حاکم حضرت امیر معاویہ رض خلیفہ بن گئے۔ اور اس طرح یہ خلافت ملوکیت کی طرف چلی گئی۔ اور خلیفہ نے ایک بادشاہ کی حیثیت اختیار کر لی۔ جو کہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ خلیفہ کا چناؤ مورثی بنیادوں پر ہونے لگا۔ عالم اسلام پر تقربیا نوے سال تک بنو امیہ نے حکومت کی جن کا دارلخلافہ دمشق رہا۔۔ بنو امیہ کے دور میں عمر بن عبدالعزیز رح ایک ایسے خلیفہ تھے جنہوں نے خلافت راشدہ کے طرز پر حکومت کی اور پانچویں خلیفہ راشد کہلائے۔ اس کے بعد بنو عباس برسراقتدار آئے۔ ان کا دارالخلافہ بغداد تھا۔انھوں نے تقریبا ۵۰۰ سال تک حکومت کی۔ خاندان بنو عباس کی حکومت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔

عباسی دور حکومت کے آخری دنوں میں خلافت کی حیثیت برائے نام رہ گئی تھی۔ ہر جگہ خود مختار سلطانوں یا امیروں کی حکومت تھی۔ جو رسمی طور پر اپنے آپ کو عباسی خلافت کے تابع کہتے تھے۔ البتہ خطبہ خلیفہ ہی کے نام کا پڑھا جاتا تھا۔ مگر بغداد کی تباہی کے بعد یہ صورت بھی باقی نہ رہی۔ اس وقت مصر کے سلطان بیبرس نے ایک عباسی شہزادے کو جو قتل ہونے سے بچ گیا تھا، المستنصر باللہ کے لقب سے قاہرہ میں خلیفہ بنا دیا۔ مگر مصر کا آخری خلیفہ سولہویں صدی عیسوی میں ترکی کے فرمانروا سلطان سلیم اول کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوگیا۔

خلافت عثمانیہ

خلافت عثمانیہ ۱۵۱۷ء سے لے کر ۱۹۲۴ء تک رہنے والی سب سے زیادہ طاقتور مسلم سلطنت تھی۔ اس کے زمانے میں کسی بھی شخص نے خلافت کے دعویدار ہونے کا اعلان نہیں کیا (سوائے شریف مکہ حسین ابن علی کے، جو انگریزوں کا ایک بچھایا ہوا جال تھا) ۔ خلافت عثمانیہ کو آخرکار کمال اتاترک نے ۱۹۲۴ء میں ختم کر دیا۔ خلیفہ عبدالمجید کو برطرف کر دیا گیا اور خلافت کو ختم کرکے ترکی میں جمہوری حکومت قائم کر دی گئ۔(جو کہ یورپی نظام سیاست سے متاثر ہوکر کیا جانے والے فیصلہ تھا جس کے بعد ترکی عالم اسلام سے کافی حد تک کٹ کر رہ گیا)

دیگر خلافتیں

اسلامی تاریخ میں چند دیگر خلافتوں کا تذکرہ بھی آتا ہے۔ ان میں اندلس کی خلافت امویہ، مصر کی خلافت فاطمیہ اور مراکش کی خلافت موحدین قابل ذکر ہیں۔ مگر یہ خلافتیں ایک مخصوص علاقے تک محدود رہیں ۔اندلس کی اموی خلافت عبدالرحمن اول نے 138ھ میں قائم کی تھی جو دراصل بادشاہت تھی۔ اس کا خاتمہ 1037ء میں المعتز باللہ کے عہد میں ہوا۔ فاطمی خلافت المہدی نے 377ھ میں قائم کی تھی۔ اس کا خاتمہ خلیفہ ابوالحمدعبداللہ کے عہد میں 656ھ میں ہوا۔ خلافت موحدین کے بانی دراصل معروف عالم دین ابن تومرت تھے تاہم اس کے پہلے حکمران عبدالمومن تھے جو 1145ء میں مسند اقتدار پر بیٹھے۔ اس خلافت کا خاتمہ 1269ء میں ادریس ثانی کے دور میں ہوا۔

بیرونی روابط

خلافت کا اسلامی نقطہ نظر

مزید دیکھیے