خلیل بن احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ابو عبدالرحمٰن خلیل ابن احمد الفراھیدی البصری (پیدائش 100ھ، وفات 170ھ)، علمِ عروض کے بانی اور ماہرِ لغت و موسیقی۔ آپ عمان میں پیدا ہوئے اور عجمی النسل تھے۔ مشہور عربی مورخ جارج زیدان نے لکھا کہ ہے آپ ایرانی شہزادوں کی نسل سے تھے اور ان کے جد کو شہنشاہِ ایران نے یمن بھیجا تھا[1]۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خلیل کے والد وہ پہلے شخص تھے جنہیں حضورِ اکرم (ص) کی وفات کے بعد پہلی بار "احمد" کہا گیا[1]۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بصرہ میں گزارا اور وہیں وفات پائی اور دفن ہوئے۔

علمِ عروض کے موجد[ترمیم]

خلیل بن احمد کو متفقہ طور پر علمِ عروض کا بانی اور موجد مانا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کا نام تاریخ میں زندہ و جاوید ہے۔ آپ کو علمِ موسیقی سے بھی کامل واقفیت حاصل تھی اور سنسکرت زبان سے بھی واقف تھے اور ان علوم سے فائدہ اٹھا کر آپ نے ایک نیا علم، علمِ عروض، وضع کیا جس میں کسی کلام یا شعر کے بارے میں یہ جانچا جاتا ہے کہ وہ وزن میں ہے یا نہیں۔ علمِ عروض کی بنیاد رکھتے ہوئے آپ نے پانچ دائرے اور پندرہ بحریں اختراع کیں جو آج بھی عربی، فارسی اور اردو شاعری میں استعمال ہوتی ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

آپ کی دو تصانیف کے حوالے ملتے ہیں[1]۔

  • "کتاب النغم" جو کہ علمِ موسیقی میں تھی۔
  • "کتاب العین" جو کہ علمِ لغت میں ہے اور عربی لغت کی پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 رموزِ شاعری از ڈاکٹر سید تقی عابدی، القمر، لاہور، 2003ء