خواجہ ابراہیم یکپاسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حضرت شمس العارفین سید خواجہ ابراہیم یکپاسی چشتی

ولادت ( 760 ہجری بمطابق 1358ء) وفات ( 850ہجری بمطابق 1448ء)

حضرت شمس العارفین سید خواجہ ابراہیم یکپاسی چشتی ایک عظیم المرتبت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے علاقہ مستونگ بلوچستان میں ترویج دین کا کام کیا خواجہ قطب الدین مودود چشتی کے اولاد میں سے ان کے تین نواسوں نے چھ سو برس قبل چشت ہرات افغانستان سے سوئے بلوچستان ہجرت کی جن میں سے ایک بھائی خواجہ نظام الدین علی نے پشین منزکی میں سکونت اختیار کی دوسرے بھائی خواجہ ابراہیم یکپاسی نے مستونگ بلوچستان کا رخ کیا اور وہاں سکونت اختیار کی اور تیسرے بھائی خواجہ نقرالدین شال پیر بابا نے کوئٹہ میں سکونت اختیار کی خواجہ ابراہیم یکپاسی چشتی کی اولاد نے بلوچستان میں مستونگ قلات ڈھاڈر کچھی ساروان جھالاوان اور سند میں خان گڑھ جیکب آباد اور شکارپور کے علاقوں میں تبلیغ دین کا کام کیا - مقام تاسیف ہے کہ اولیاء چشتی مودودی نے علاقہ میں جو خدمات سرانجام دیں ان سے دنیا بے خبر ہے اسکی سب سے بڑی وجہ تعلیمی میدان میں پسماندگی تھی خواجہ میر ہیبت خان کے بیٹے خواجہ ابراہیم دوپاسی کا مزار بمقام ڈھاڈر (دھانہ درہ بولان) واقع ہے ـ خواجہ ابراہیم یکپاسی کے دوسرے فرزند خواجہ کلان تھے جن کا مزار بھی مستونگ میں ہے ـ خواجہ کلان کے تین فرزند تھے خواجہ احمد کا مزار نو شکی بلوچستان میں ہے دوسرے فرزند خواجہ علی شہید انکو بلوچ حاکم قمبر نے بمقام قلات شہید کیا ـ تیسرے فرزند خواجہ سلطان محمد تھے انکا مزار بھی بمقام مستونگ بلوچستان ہے

  • خواجہ میر ہیبت خان: بلوچستان اور افغانستان کے سرحدی علاقہ سر لٹھ اور شور اوک کی طرف چلے گۓ
  • خواجہ ابراہیم دویاسی: نے ڈھاڈر اور بولان بلوچستان کا علاقہ سمبالا
  • خواجہ کلان: مستونگ بلوچستان ہی رہے
  • خواجہ احمد: نوشکی بلوچستان کی طرف چلے گئے
  • خواجہ علی شہید: بلوچستان قلات کی طرف چلے گئے انکو بلوچ حاکم قمبر نے بمقام قلات شہید کیا
  • خواجہ سلطان: منگچر بلوچستان کی طرف چلے گئے

شجرہ نسب[ترمیم]

بحوالہ[ترمیم]

[1] تذكار يكپاسى: سلسله چشتيه كے عظيم روحانى پيشوا شمس العارفين حضرت سيد خواجه ... By سيد على محمد شاه‎

[2] طريقۀ چشتيه در هند و پاكستان و خدمات پيرواناين طريقه به فرهنگهاى اسلامى و ايرانى‎