خواجہ ابو یوسف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ
( متوفی: 459ھ)
آپ رحمۃ اللہ علیہ قدس اللہ سرہ کو خالق کائنات نے علم اکمل اور عمل افضل سے نوازا تھا اپکا لقب ناصرالدین تھا اپکے والد خواجہ محمد سمعان نجیب الطرفین سید تھے، آپ نے خرقہء فقر و ارادت اپنے ماموں حضرت شیخ ابومحمد چشتی سے پایا اور انہیں سے تربیت حاصل کی،[1]

حالات زندگی[ترمیم]

آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے بھانجے، مرید اور خلیفہ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ خواجہ ابو محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ہمشیرہ مکرمہ بھی ولیہ کامل تھیں ہمیشہ عبادت و ریاضت میں رہتیں۔ چالیس برس کی عمر تک شادی کو تیار نہ تھیں لیکن ایک دن والد ماجد خواجہ ابو احمد رحمۃ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیں اس شہر میں ایک سید زادہ محمد سمعان رحمۃ اللہ علیہ ہے تمہارے مقدر میں لکھا ہے کہ وہ تمہارا شوہر بنے گا اور ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے نور ولایت سے ہمارا خاندان روشن ہوگا۔ دوسری طرف ایسا ہی خواب خواجہ ابو محمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی دیکھا۔ چنانچہ صبح شہر بھر میں اس سید زادے کی تلاش کرائی گئی۔ جب اس سید زادے کو لایا گیا تو بی بی کا نکاح سید زادے سے پڑھا دیا گیا۔ بی بی بھی چونکہ واقف حال تھیں معترض نہ ہوئیں۔ اس بی بی کے بطن سے خواجہ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نسب پاک یوں ہے[2]

مقالات بہ سلسلۂ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

شجرہ طریقت چشتیہ[ترمیم]

آپ اپنے ماموں خواجہ ابو محمد رحمۃ اللہ علیہ چشتی کے زیر تربیت رہے۔ آپ کی عمر چھتیس سال کی تھی جب آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں کا انتقال ہوا اور آپ رحمۃ اللہ علیہ ان کی جگہ مسند افروز ہوئے۔ پچاس سال کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ ابو اسحق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ خواجہ حاجی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے قریب ایک تہہ خانہ بنوا کر اس میں معتکف ہو گئے آپ تقریباً بارہ سال تک یہاں معتکف رہے۔ آپ کی وفات سوم ماہ رجب الم رجب 459ھ کو ہوئی۔ خواجہ ابو یوسف‌ چشتی‌ (متوفی‌ 459) کا لقب‌ ناصر الدین‌ تھا آپ علاقہ کے قابل احترام شخصیت تھے آپ کی ملاقات خواجہ‌ عبداللہ‌ انصاری‌ (متوفی‌ 481) سے بھی ہوتی تھی ـ ابوبکر شبلی‌ (متوفی‌ 334) اپنے وقت میں خواجہ ابو یوسف‌ چشتی‌ کے محفل سماع میں حاضر ہوتے تھے ,[3]

خواجہ ابو یوسف چشتی کا نکاح[ترمیم]

اپنے پیر و مربی کے وصال کے بعد آپ نے ایک مرتبہ ہرات کا سفر کیا ہرات سے واپسی پر کنک نامی گاؤں پہنچنے پر شام ہو گئی اور خواجہ ابو یوسف چشتی نے وہاں ایک درویش کے کاشانے میں قیام کیا ، ان بزرگ سیرت درویش کی ایک پاک باز اور پارسا بیٹی تھیں اس لڑکی نے خواب دیکھا کہ چودھویں کا چاند آسمان سے انکی گود میں اتر آیا اور کہتا ہے کہ میں تجھے اپنی زوجیت میں لینا چاہتا ہوں اور لڑکی نے قبول بھی کر لیا ، مگر جب صبح کے وقت وہ درویش بزرگ خواجہ کی خدمت میں آئے۔

تو خواجہ صاحب نے لڑکی کا یہی خواب ان سے بیان فرماتے ہوۓ تعبیر بتائی کہ اللہ کی یہی مرضی ہے کہ میں آپ کی بٹی سے نکاح کروں اور اسکی بطن سے قطب زمانہ فزند پیدا ہوں یہ بات سن کر درویش خاموش رہے اور گھر جا کر اپنی بیٹی سے سارا واقع بیان کیا اور درویش کی لڑکی نے اس خواب کو بلکل سچ بتایا اور اپنی رضامندی ظاہر کی، اسکے بعد درویش خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میری کیا مجال کہ میں آپ جیسے عالی مرتبت بزرگ کو انکار کروں۔

اسطرح اس درویش نے اپنی بیٹی کا نکاح خواجہ ابو یوسف چشتی سے پڑھایا اور کچھ دن بعد خواجہ صاحب اپنی زوجہ کو لیکر وطن روانہ ہوئے اور ان سے قطب زمانہ فزند خواجہ قطب الدین مودود چشتی اور حضرت شیخ تاج الدین ابولفتح پیدا ہوئے [4]ـ

نسب[ترمیم]

شجرہ جات[ترمیم]

شجرہ نسب خواجہ ابویوسف[ترمیم]

شجرہ شریف از جانب والدہ ماجدہ[ترمیم]

شجرہ شریف از جانب والدہ ماجدہ طریق ب حضرت امام حسن علیہ السلام مہر سند آپ کا شجرہ نصب از طرف والدہ ماجدہ -

  • امیر المومنین حضرت علی ابن ابو طالب علیہ سلام
  • سید امام حسن علیہ سلام
  • سید حسن مثنٰی علیہ سلام
  • سید حسین علیہ سلام
  • سید عبدﷲ علیہ سلام
  • سید یحیٰی علیہ سلام
  • سید ابرا ہیم علیہ سلام
  • سید احمد علیہ سلام
  • سید سلطان فرسنا فہ علیہ سلام
  • سید خواجہ ابو احمد ابدال علیہ سلام
  • بی بی خظامت اللہ بنت سید ابو احمد ابدال
  • سید خواجہ ابو یوسف ناصر الدین ایو سف چشتی رحمت اللہ علیہ (375ہجری  459 ہجری)

سلسلہ اولاد خواجہ ابویوسف[ترمیم]

سماع (قوالی)[ترمیم]

(قوالی) کی تعریف[ترمیم]

قوالی صوفیاء کی سنت ہے ، کچھ لوگوں کو اس پر اعتراضات ہیں لیکن اگر افادیت کے نظریہ سے دیکھا جائے یہ کروڑوں غیر مسلموں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے، اور اسلام کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کا باعث بنا ہے ، اور ان حالات میں جبکہ اسلام کا حلیہ بگاڑ کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے، جو کہ

  • غیر مسلم ممالک میں اذان پر پابندی،
  • مسجدوں کی میناروں کے بلند کرنے پر پابندی ، اور
  • مسلمان بچیوں کے اسکارف پہنے پر پابندی کا باعث ہوا ہے،

آج کے جدید طریقوں کے مقابلے مسلمان خود اولیاء کے اس قدیم سچ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، صوفیاء کی سنت دین کے نقصان کا نہیں بلکہ فائدہ کا باعث بنا ہے ،

خواجہ ابو یوسفؒ کی مجلس سماع[ترمیم]

خواجہ ابو یوسف بن سمعان کے مجلس سماع میں سوائے فقراء علماء صلحا اور مشاہخ کے کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی، سماع کے دوران اگر کوئی دنیا والوں میں سے چلا آتا تو آپ سماع رکھوا دیتے اور اس کے جانے کے بعد دوبارہ سماع شروع ہوتا، اگر کوئی فاسق اصرا کر کے شریک ہو جاتا اور آخر وقت تک رہتا تو اپنے فسق و فجور سے توبہ کرکے مشائخ میں شامل ہو جاتا، خواجہ ابو یوسف بن سمعان اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میری مجلس میں اگر کوئی فاجر آئے گا تو وہ صاحب نعمت ہو کر واپس جائیگا،


سماع کی برکت[ترمیم]

ایک شخص نے خواجہ ابو یوسف سے دریافت کی کہ اگر سماع اسرار الہی ہے تو حضرت جنید بغدادی کیوں اس سے تائب ہو گئے خواجہ ابو یوسف نے جواب دیا شیخ ابو بکر شبلی حضرت جنید بغدادی کے خلیفہ اور حجت ہیں برابر میری محفل میں حاضر ہوتے اور سماع سنتے ہیں، قسم اللہ کی اگر حضرت جنید بغدادی میری محفل میں شریک ہوتے تو ہرگز توبہ نہ کرتے، چونکہ حضرت جنید بغدادی کو احوال و اخوانے سماع میں دشواری محسوس ہوئی اس لیۓ انھوں نے توبہ کرلی، جس کو اخوانے سماع میسر نہ ہوں بلا شبہ اس کو سماع سے توبہ کرنا چائیے۔

سماع کے خاص آداب[ترمیم]

  • سماع کے خاص آداب ہیں جب تک تجھے ضرورت محسوس نہ ہو سماع نہ کیا جاۓ،
  • سماع کو عادت کے طور پر بھی اختیار نہ کیا جائے،
  • جب سماع کرے تو کافی دیر بعد کرے تا کہ اسکی تعظیم دل سے محو نہ ہو اور پیر و مرشد کی موجودگی ضروری ہے،
  • سماع کی محفل میں بے ذوق لوگوں کی شرکت منع ہے،
  • قوالوں کے لیۓ ضروری ہے کہ وہ ماہر فن صاحب عشق و حال و زی عزت ہوں،
  • نوعمر لڑکوں اور خواتین کی شرکت کی اجازت اسلۓ نہیں ہے کہ اس سے حجاب اور پراگندگی کا احتمال ہوتا ہے،
  • کچھ جاہل صوفی ان باتوں میں تصرف کرکے تصوف اور طریق تصوف کے لیۓ بد نامی کا باعث بنتے ہیں،[6]

حوالہ جات[ترمیم]

Referenced from Book Khwaajah Maudood Chisti
  • [4] Chishti Tariqa
  • [5] Soofie(Sufi)
  • [6] Chishti Order
  • [7]طريقۂ چشتیہ در ھند و پاكستان و خدمات پيرواناين طريقہ بہ فرھنگھاى اسلامى و ايرانى‎
  • ( خزینہ الاصفیاء: مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ )
  • تذکرہ سید مودودی ادارہ معارف اسلامی لاہور
  • سیر ال اولیاء
  • مرا تہ الاسرار
  • تاریخ مشائخ چشت
  • سفینہ ال عارفین
  • تذکرہ غوث و قطب

حوالہ جات بیرون[ترمیم]

  1. ^ [1] خواجگان چشت سيرالاقطاب: زندگينامه هاي مشايخ چشتيه
  2. ^ بحوالہ کتاب (خواجہ براہیم  یک پاسی چشتی) 
  3. ^ [2] تذكار يكپاسى
  4. ^ [3] خواجگان چشت سيرالاقطاب: زندگينامه هاي مشايخ چشتيه
  5. ^ شجرہ موروثی سادات کرانی
  6. ^ کشف المحجوب (سید علی بن عثمان ہجویری)