خواجہ حسن بصری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش: 21 ھ / 642ء

وفات: 110 ھ / 728ء

صوفی بزرگ ۔ نام حسن ۔ کنیت ابو سعید اس کے علاوہ دو کنیت ابو محمداور ابو النصر بھی ہیں[1]۔ لقب خواجہ خواجگان ۔ حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت میں پیدا ہوئے حضرت عمر نے اپنے ہاتھ سے ان کے منہ میں لعاب ڈالا اور نام بھی انہوں نے رکھا[2] ۔ آپ کے والد موسی راعی زید بن ثابت انصاری کے آزاد کردہ غلام تھے۔ والدہ ماجدہ ام المومنین حضرت ام سلمہ کی لونڈی تھیں انکی تربیت بھی ام المومنین نے ہی فرماءی[3]۔ ابتدا میں آپ جواہرات بیچا کرتے تھے۔ اس لیے حسن لولوئی کے نام سے مشہور تھے۔ اس پیشے سے آپ نے بہت روپیہ کمایا۔ لیکن جب عشق الہی نے غلبہ ہوا تو سارا روپیہ راہ خدا میں لٹا دیا اور گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر عبادت میں مشغول ہوگئے۔آپ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے دست بیعت ہوءے، سسلسلہ قادریہ اور سلسلہ چشتیہ آپ کے وسیلہ سے جناب علی کرم اللہ وجہ سے جاملتا ہے۔تصوف میں آپ ایک خاص مقام حاصل ہے۔ سنت نبوی کے سخت پابند تھے۔ خوف الہی سے ہر وقت روتے رہتے تھے۔ کثرت گریہ کے باعث آنکھوں میں گڑھے پڑ گئے تھے۔ مزاج میں انکسار بہت تھا۔ آپ کے نزدیک زہد کی بنیاد حزن و الم ہے۔تصوف میں خوف و الم کا مسلک آپ ہی سے منسوب ہے۔ تمام اکابر صوفیا آپ کو شیخ الشیوخ مانتے ہیں۔ آخر عمر میں بصرہ میں سکونت اختیار کر لی ۔ یکم رجب ۱۱۰ ھ نواسی۸۹ سال کی عمر میں بصرہ میں انتقال کیا[4]۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تاریخ مشائخ چشت از محمد زکریا المہاجر المدنی صفحہ ۱۴۴ناشر مکتبہ الشیخ کراچی
  2. ^ تاریخ مشائخ چشت از محمد زکریا المہاجر المدنی صفحہ ۱۴۵ناشر مکتبہ الشیخ کراچی
  3. ^ تاریخ مشائخ چشت از محمد زکریا المہاجر المدنی صفحہ ۱۴۵ناشر مکتبہ الشیخ کراچی
  4. ^ تاریخ مشائخ چشت از محمد زکریا المہاجر المدنی صفحہ ۱۲۱ناشر مکتبہ الشیخ کراچی