خواجہ قطب الدین مودود چشتی

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو محفوظ کر دیا گیا ہے؛ وجوہات میں احتمالِ تخریب کاری و جانبداری، مضمون کی بہتری اور یا پھر اسکی دائرہ المعارف میں شمولیت سے نااہلیت شامل ہوسکتی ہیں۔ متعلقہ گفتگو کیلیۓ تبادلۂ خیال کا صفحہ استعمال کیجیۓ۔

ولادت بمقام چست شریف مورخہ 430 ہجری اور وفات رجب 527 ہجری کو ہوئی۔ آپ کو چشت ہرات کے مقام پر دفنایا گیا۔ خواجہ قطب الدین مودود چشتی خواجہ ابو یوسف ناصر الدین چشتی رحمت اللہ علیہ (375ہجری  459 ہجری) کے فرزند تھے اور خواجہ ابو یوسف ناصر الدین سیدابو نصر محمد سمعان رحمت اللہ علیہ (ہجری   398ہجری) کے فرزند تھے

خواجہ مودود چشتی کا ذکر خیر کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ کے بارے میں بے شمار مضامین تحریر کئے جا چکے ہیں، کافی  چھان بین کے بعد میں آپ کی شخصیت کے اُن پہلوں کو اُجاگر کرنا چاہتا ہوں جو کہ  ابھی  تک مخفی ہیں ، آپ کے بارے جو کچھ بھی لکھا گیا وہ سلسلہ  شجرہ طریقت کے دہرے میں لکھا گیا ہے،  مگر میں آپ کے شجرہ نسب  ذاتی زندگی آبا و اجداد  اولاد اور سلسلہ نصب کے  بارے میں تحریر کرونگا،

مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

تصوف
Allah.svg
تصوف کی تاریخ

عقائد و عبادات

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نمـازروزہ
حجزکوٰۃ

صوفي شخصیات

اویس قرنیشیخ سیدناعبدالقادرجیلانی
رابعہ بصریسلطان باہوحسن بصریابن عربیمولانا رومی
گوھرشاہی

تصوف کی معروف کتابیں

احياء علوم الدينکشف المحجوبمكتوبات الربانيدینِ الٰہیفتوحات مكیہ

صوفی مکاتبِ فکر

سنی صوفیشـیعہ صوفی

سلاسلِ طریقت

قادریہچشتیہ
نقشبندیہسہروردیہ
مجددیقادری سروری
قادری المنتہی

علم ِ تصوف کی اصطلاحات

طریقتمعرفتفناءبقاءلقاءسالکشیخطریقہنورتجلی
وحدت الوجودوحدت الشہود

مساجد

مسجد الحراممسجد نبویمسجد اقصٰی

تصوف کی نسبت سے معروف علاقے

دمشقخراسانبیت المقدس
بصرہفاس

فہرست

القاب

خواجہ قطب الدین ، سلطان خواجہ مودود ، آقاء مودود چستی ، شمس ال صوفیا ، چراغ چستیاں ،

حالات زندگی

 خواجہ ابو یوسف چشتی نے 459 ھ میں [1] وصال فرمایا تو ان کے بڑے بیٹے خواجہ مودود چشتی انکے خلیفہ اور جانشین مقرر ہوئے،  ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی ۔ قرآن مجید 7 سال کی عمر میں حفظ کیا۔ اپنی تعلیم 16 سال کی عمر میں مکمل کی، آپ 29 برس کی عمر میں سجادہ نشین ہوۓ  اور خلق اللہ  کی ہدایت میں مشغول ہو گئے،  آپ کے مریدوں کی تعداد بے شمار ہے خلفہ کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے،  اور خلفہ خاص کی تعداد ایک ہزار بتا ئی گئی ہے، خواجہ قطب الدین مودود چشتی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے بھی شیخ اشیوخ تھے - جو شخص دلی مراد لے کر آ پ کے مزار پر تین روز جا وۓ اسکی مراد پوری ہو جاتی ہے،  آپ ہمیشہ فقراء اور مساکین کے ساتھ صحبت پسند رکھتے تھے، نیا کپڑا ہر گز نہیں پہنتے تھے

معجزات

   جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہو تا آپ اسکے دل کی حال  مفصل بیاں فرما  دیتے ، اور جس کی قبر سے آپ گزرتے اسکا حال بیان فرما دیتے، [2]   خواجہ مودود چشت کے تمام اکا بر اور مشاہخ وقت تابع تھے اور آپ کی تعظیم تکریم میں انتہا ئی کوشش کر تے تھے۔ آپ نے خرقہ ادارت اپنے والد محترم حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سے پہنا تھا۔

تصانیف

آپ نے پندرہ سال کی عمر میں کتاب منہاج ال عارفین لکھ ڈالی، آپ کے دوسرے کتاب کا نام خلاص تہ الشرع ہے، 

شجرہ طریقت خواجہ مودود

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا٬ یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلهٔ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا٬

تصاویر درگاہ

شجرہ جات

شجرہ طریقت خواجہ معین الدین اجمیری

شجرہ طریقت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمت ﷲ علیہ کے شیخ خواجہ عثمان ہارونی رحمت ﷲ علیہ تھے اور انکے شیخ خواجہ شریف زندنی رحمت ﷲ علیہ تھے اور خواجہ شریف زند نی رحمت ﷲ علی کے شیخ و مرشد خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ تھے، اسطرح خواجہ مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمت ﷲ علیہ کے شیخ ال شیوخ ھوۓ،

رشد و ہدایت

خواجہ قطب الدین مودودی چستی رحمت ﷲ علیہ کے خلفاء کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے، اس سے آپ کے حلقہ رشد و ہد اہت کا پتہ چلتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپکا سلسلہ دعوت اس قدر وسعت اختیار کر گیا، اسکے اثرات صرف ہرات تک محدود نہ رہے، بلکہ دور دور علاقوں مغرب میں خراسان، عراق، شام، اور حجاز تک اور جنوب میں سیستان ، بلوچستان، اور برصغیر پاک ہند و سندھ تک پہنچے، مغرب میں آپکے نظریات کی پرچار آپکے خلفاء نے کی، ان میں خواجہ شریف زند نی، خواجہ عثمان ہارونی، قابل ذکر ہیں، خواجہ قطب الدین مودود چستی رحمت ﷲ علیہ کی عمر 29 برس کی تھی جب آپکے والد کا انتقال ہوا، آپ نے خرقہ ادارت اپنے والد سے حاصل کی اور اپنے والد کے سچے جانشین ثابت ھوۓ، آپ نے کسی امیر یا بادشاہ کے دروازہ پر کبھی قدم نہیں رکھا، آپ ہر شخص کی تعظیم و تکریم کرتے تھے، سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے تھے، سادہ زندگی بسر کرتے اور سادہ لباس پہنتے تھے،

جب اللہ تعلٰی نے حضرت آدم کی اولاد کو دنیا میں پھیلایا تو انکی تربیت کی بھی اشد ضرورت پڑی، کیونکہ تربیت ہی انسان اور حیوان میں فرق پیدا کرتی ہے، چنانچہ اللہ تعالٰی نے اس تربیت کے لیے خود انہی میں سے خاص انسانوں کو منتخب فرمایا، اور ہدایات آسمانی کتابوں کی صورت میں اُتاری، ہدایت کے پہلے درجے میں پیغمبروں کو ذریعہ بنایا جن کے آخری پیغمبر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ، دوسرے درجے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سلسلہ اہل بیت کے ذریعے امامین کو مقرر فرمایا امامین کی تعداد ہر فقہ اسلام کے لحاظ سے مختلف سمجھی جاتی ہے، امامین کے ساتھ تیسرا دور اولیا اور صوفیا کا شروع ہوتا ہے، اسلام کی وسعت اولیاء کے دور بہت زیادہ ہوہی، ہر مسلم اور غیر مسلم کے دل میں اولیاء کے لیے عقیدت و احترام کا جذبہ ہے، آج بھی صوفیاء کے مزارات پر غیر مسلموں کی کثیر تعداد نظر آتی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ صوفیاء نے علاقوں کی بجائے دلوں پر حکمرانی کی، کسی ولی نے دربار عہدے یا تخت و تاج کی تمنا نہیں کی بلکہ خود بادشاہوں نے اولیاء کے درباروں میں حاضری دی ہے، خواجہ معین الدین چشتی سے لیکر داتا گنج بخش لاہوری اور لعل شہباز قلندر سہو انی تک حاکمین وقت چادریں چڑھاتے اور حاضری دیتے رہے ہیں، مسلمانوں کے دلوں میں حرمت نبی صلی اللہ علیہ و سلم عقیدتے اہل بیعت اور احترام ے اولیا میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے، حضرت خواجہ قطب الدین مودودی چشتی رحمت اللہ علیہ کے سلسلہ چشتیہ سندھ بلوچستان خصوصاً" پاکستان کی کچھ تفصیل پیش ہے کیونکہ سلسلہ چشتیہ ہندوستان کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ تحریر موجود ہے،

اولاد

آپ کے فرزندخواجہ نجم الدین احمد مشتاق بن مودود چشتی رحمت اللہ علیہ بھی چست کے مقام میں مد فون ہیں، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی آپ کی نسل سے تھے جو 1903 ہجری میں اورنگ آباد دکن ہندوستان میں پیدا ھوۓ۔ پاکستان میں آپ کی اولاد مختلف علاقوں میں آباد ہے ۔ آپ کی اولاد میں سے ایک مشہور بزرگ خواجہ نظام الدین علی گزرے ہیں ۔جن کا مزار صوبہ بلوچستان کے شہر پشین کے نواح میں منزکی نامی مقام پر ہے۔ اس مقام پر آپکی اولاد کثیر تعداد میں مقیم ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مقام پر آپکی اولاد میں سے ایک مشہور بزرگ خواجہ نقرالد ین چشتی مودودی المعروف شال پیر بابا جن کا مزار کوئٹہ چھاونی میں قلعہ میری خان قلات کے قریب واقع ہے۔ خواجہ ولی مودودی چستی کرانی اور خواجہ میر شہدا کرانی بھی آپکی اولاد میں سے ہیں۔ ان مشہور اولیا کے مزارات کوئٹہ شہر کے مغرب میں واقع کرانی نامی مقام پر موجود ہیں۔ کرانی کے مقام پر آپکی اولاد کثیر تعداد میں مقیم ہیں۔اور یہ گاؤں خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کی وجہ سے مشہور ہے۔

چشت

چست شریف افغانستان کے صوبہ ہرات میں واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ يہ دریا ے ھا ری کے شما لی کنارے پر ہرات کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ قصبہ 930 عیسوی سے اسی مقام پر واقع ہے۔ چشت کی وجہ شہرت چشتیہ تصوف کی وجہ سے ہے۔ چشتی نظریہ محبت اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ چست میں تصوف کی بنیاد حضرت ابو اسحاق شامی نام کے بزرگ نے رکھی۔

خواجہ مودود اور بلوچستان

وادی شال کوٹ اور وادی ضلع بولان میں مودودی خاندان کے اثرات خود انکے مورث اعلی کی حیات ہی میں پہونچ گئے تھے، ایک حوالے سے خود خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ کی بلوچستان آمد کم از کم ایک مرتبہ ثابت ہے، وہ اپنے مرید اور خلیفہ خاص شیخ بابت کے یہاں شوراوک کے علاقہ میں آئے تھے، شیخ بابت کا تعلق پشتونوں کے بڑیچ قبیلے سے تھا، ،پنجاب میں آباد اس قبیلہ کے لوگ وڑیچ کہلاتے ہیں،خواجہ مودودی چستی کے زندگی ہی میں انکے مرید اور خلفاء نے تبلیغ کا کام شروع کردیا تھا بعد میں خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ کے اپنے اولاد سادات مودودی کے مختلف شاخوں نے خدمت ے دین کے کام کو خطہ بلوچستان میں مزید آگے بڑھایا، اور خلق خدا کی زندگیوں کو اسلام سانچے میں ڈھالا خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ کے خاندان کا تعارف اور سلسلہ خواجہ ابو یوسف رحمت ﷲ علی ( 362ھ - 459ھ) اور انکے فرزند اکبر خواجہ قطب الدین رحمت ﷲ علیہ (430ھ - 527ھ) سے تعلق رکھنے والے عظیم شخصیات تھیں، خواجہ قطب الدین رحمت ﷲ علیہ کے والد بزرگوار خواجہ ابو یوسف رحمت ﷲ علیہ سلطنت غزنوی کے دور میں پیدا ھوۓ، سلطنت غزنوی کے خاتمے کے بعد سلجوقی سردار طغرل حاکم بنا اس وقت آپ کی عمر 54 برس تھی، آپ کا نسب تیر ویں واسطہ سے حضرت امام حسین رحمت ﷲ علیہ ملتا ہے،

چشتی اولیاء بلوچستان

شجرہ نسب خواجہ مودود

سلسلہ اولاد

شجرہ شریف از جانب والدہ ماجدہ

شجرہ شریف از جانب والدہ ماجدہ طریق ب حضرت امام حسن علیہ السلام مہر سند آپ کا شجرہ نصب از طرف والدہ ماجدہ --

  • سید حسن مثنٰی علیہ سلام
  • سید عبدﷲ علیہ سلام
  • سید یحیٰی علیہ سلام
  • سید ابرا ہیم علیہ سلام
  • سید احمد علیہ سلام
  • سید سلطان فرسنا فہ علیہ سلام
  • بی بی خطّا بنت سید ابو احمد ابدال

حوالہ جات بیرون

  1. ^ بحوالہ کتاب (خواجہ براہیم  یک پاسی چشتی) 
  2. ^ (بحوالہ کتاب سیر الا قطاب)ی
  3. ^ [1] خواجه حسن بصری
  4. ^ [2] خواجه عبدالواحد بن زید
  5. ^ [3] خواجه فضیل ابن عیاض
  6. ^ [4] خواجه ابراھیم بن ادھم
  7. ^ [5] خواجه حذیفہ مرعشی
  8. ^ [6] خواجه ابو ہبیرہ بصری
  9. ^ [7] خواجه ممشاد علوی
  10. ^ [8] خواجه ابو اسحاق شامی
  11. ^ [9] خواجه ابو احمد ابدال
  12. ^ [10] خواجه ابو محمد
  13. ^ [11] خواجه ابو یوسف
  14. ^ [12] خواجه قطب الدین مودود چشتی
  15. ^ [13] خواجه شریف زند نی
  16. ^ [14] خواجه عثمان ہارونی
  17. ^ [15] خواجه معین الدین چشتی
  18. ^ [16] خواجه قطب الدین بختیار کاکی
  19. ^ [17] بابا فرید گنج شکر
  20. ^ [18] نظام الدین اولیاء
  21. ^ [19] نصیرالدین چراغ دهلوی

حوالہ جات

Referenced from Book Khwaajah Maudood Chisti
  • [20] Chishti Tariqa
  • [21] Soofie(Sufi)
  • [22] Chishti Order
  • [23] خواجگان چشت سيرالاقطاب: زندگينامه هاي مشايخ چشتيه
  • [24]طريقۀ چشتيه در هند و پاكستان و خدمات پيرواناين طريقه به فرهنگهاى اسلامى و ايرانى‎
  • ( خزینہ الاصفیاء: مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ )
  • تذکرہ سید مودودی ادارہ معارف اسلامی لاہور
  • سیر ال اولیاء
  • مرا تہ الاسرار
  • تاریخ مشائخ چشت
  • سفینہ ال عارفین
  • تذکرہ غوث و قطب
  • شجرہ موروثی سادات کرانی
دیگر زبانیں