خواجہ معین الدین چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
معین الدین چشتی - Moinuddin Chishti
معین الدین چشتی کا آستانہ، اجمیر، بھارت
Full Name Moinuddin Chishti
Born 536 AH or 1142 [1]
Birthplace سیستان, ایران[2]
Died 6th رجب 633 AH
˜ Mar. 15, 1236 CE
Place of Burial غریب نواز Gharīb Nawāz،سلطان الہند، شیخ, خلیفہ
Order Chisti
Predecessor Usman Harooni
Successor قطب الدین بختیار کاکی
Disciples Qutbuddin Bakhtiar Kaki
نظام الدین اولیاء
بابا فرید الدین گنج شکر
Nasiruddin Chiragh Dehlavi
Religion اسلام

سُلطان الہند حضرت خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی اجمیری جنوبی ایشیاء میں تصوّف کے سب سے بڑے سلسلۂ چشتیہ کے بانی ہیں اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء جیسے عظیم الشان پیرانِ طریقت کے مرشد ہیں۔ غریبوں کی بندہ پروری کرنے کے عوض عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا جو آج بھی زبان زدِ عام ہے۔

آپ 14 رجب 536 ہجری کو جنوبی ایران کےعلاقےسیستان کےایک دولت مند گھرانےمیں پیدا ہوئے۔ آپ نسلی اعتبار سےصحیح النسب سید تھےآپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سےامیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سےجاملتا ہے۔ آپ کےوالد گرامی خواجہ غیاث الدین حسین بہت دولت مند تاجر اور بااثر تھے۔ خواجہ غیاث صاحب ثروت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے۔ دولت کی فراوانی کے باوجود حضرت معین الدین چشتی بچپن سےہی بہت قناعت پسند تھے۔

ولادت اور بچپن[ترمیم]

مقالات بہ سلسلۂ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

جس زمانے میں آپ کی ولادت ہوئی وہ بڑا پرآشوب دور تھا سیستان اور خراسان لوٹ مار کی زد میں تھے ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ سرسبز و شاداب علاقوں میں آگ بھڑک رہی تھی اور خوبصورت شہر کھنڈروں میں تبدیل ہو رہےتھےملت اسلامیہ میں کئی فرقے پیدا ہو چکےتھےجو بڑی سفاکی اور بےرحمی سےایک دوسرے کاخون بہا رہےتھے۔ ”ملاحدہ“ اور ”باطینوں“ کی جماعت نے پور ےملک میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔

یہی وہ خون رنگ اور زہرآلود فضا تھی جس نے خواجہ غیاث الدین حسین کو ترک وطن پر مجبور کر دیا۔ آپ اہل خانہ کو لے کر خراسان چلےآئے۔ اس وقت حضرت معین الدین چشتی کی عمر مبارک ایک برس تھی۔ خواجہ غیاث الدین حسین کا خیال تھا کہ انہیں ارض خراسان میں کوئی نہ کوئی گوشہ عافیت ضرور مل جائےگا۔ مگر گردش ایاّم کے یہاں بھی وہی تیور تھے جاں گداز فتنے یہاں بھی سر اٹھا رہے تھے۔

549 ھجری میں خونی سیلاب انسانی سروں سے گزر گیا۔ اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی عمر 13 سال تھی۔

طوس اور نیشاپور کے شہروں میں ظالموں نےایسا ظلم کیا اور اس قدر خون بہایا کہ وہاں ایک بھی انسان زندہ نہ بچا۔ ہر طرف لاشوں کےانبار لگے ہوئے تھے۔ مسجدوں میں پناہ لینےوالوں کو بھی ظالموں نے نہ چھوڑا۔ نیشاپور کےمظلوموں اور جامِ شہادت نوش کرنےوالوں میں صرف سپاہی اور عوام ہی شامل نہ تھے بلکہ بڑے بڑے علما فضلا اولیاءابرار‘ اتقیا بھی شامل تھے۔ نیشاپور جو ان دنوں علم و فضل کا گہوارہ تھا۔ اسےبھی خاک میں ملا دیا گیا لائبریریوں‘ درسگاہوں اور کتاب گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

انہی پر آشوب حالات اور آفتوں سے لڑتے جھگڑتے حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے پرورش پائی۔ اور اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کے خون کے دریا بہتے دیکھے۔ کبھی کبھی آپ نہایت رقت آمیز لہجے میں اپنےوالد خواجہ غیاث الدین حسین سے سوال کرتے۔ بابا! خون مسلم کی یہ ارزانی کب تک جاری رہے گی۔نوعمر فرزند کا سوال سن کر والد گرامی رونےلگتےاور فرماتے بیٹے! یہ خونی ہوائیں اہل ایمان کیلئےآزمائش ہیں تمہیں صبر سےکام لیتےہوئےاچھےوقت کا انتظار کرنا چاہئے۔

پھر ایک دن صبر کی تلقین کرنے والا باپ بھی 551 ھجری کو دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 15 سال تھی۔ آپ اس نازک اور درندگی سےلبریز دور میں ایک شفیق اورمہربان باپ کے سایہ عافیت سے محروم ہو چکے تھے والد گرامی کی رحلت پر آپ ہر وقت اداس رہنے لگے۔ ایسے لمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نے بڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑے حوصلے کے ساتھ بیٹے کو سمجھایا فرزند! زندگی کے سفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہےاگر تم ابھی سےاپنی تکلیفوں کا ماتم کرنے بیٹھ گئے تو زندگی کے دشوار گزار راستے کیسے طے کرو گے۔

اٹھو اور پوری توانائی سےاپنی زندگی کا سفر شروع کرو۔ ابھی تمہاری منزل بہت دور ہے یہ والد سے محبت کا ثبوت نہیں کہ تم دن رات ان کی یاد میں آنسو بہاتے رہو۔ اولاد کی والدین کیلئے حقیقی محبت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہر عمل سے بزرگوں کے خواب کی تعبیر پیش کرو۔تمہارے والد کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کیلئے ہی صرف کر دینی چاہئیں۔ مادر گرامی کی تسلیوں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سےعلم حاصل کرنے لگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سےایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سے جاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔

اجمیر شریف میں غریب نواز کا مزار

والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنے والی چکی آپ کو ورثے میں ملی۔ والدین کی جدائی کے بعد باغبانی کا پیشہ آپ نے اختیار کیا۔ درختوں کو خود پانی دیتے۔ زمین کو ہموار کرتے پودوں کی دیکھ بھال کرتے۔ حتیٰ کہ منڈی میں جا کر خود ہی پھل بھی فروخت کرتے۔ آپ کاروبار میں اس قدر محو ہو گئے کہ آپ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی کہ جس کا بظاہر کوئی علاج نہ تھا۔ آپ اکثر اوقات اپنی اس محرومی پر غور کرتے جب کوئی حل نظر نہ آتا تو شدید مایوسی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھتے اور رونے لگتے۔ یہ خدا کے حضور بندے کی ایک خاموش التجا تھی۔

ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ ادھر سے مشہور بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی کا گزر ہوا۔ آپ نے بزرگ کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے پاس گئےاور حضرت ابراہیم قندوزی کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔حضرت ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کےاس جوش عقیدت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے شفقت سےآپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگے جانے لگے تو آپ نے حضرت ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔ حضرت ابراہیم نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا اے نوجوان! ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے عرض کی کہ آپ چند لمحےاور میرے باغ میں قیام فرمایے۔ کون جانتا ہے کہ یہ سعادت مجھے دوبارہ نصیب ہوتی ہے کہ نہیں۔ آپ کا لہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ حضرت ابراہیم سے انکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سے بھرے ہوئے دو طباق لئے اور آپ نے حضرت ابراہیم کے سامنے رکھ دئیےاور خود دست بستہ کھڑے ہو گئے۔

اس نو عمری میں سعادت مندی اور عقیدت مندی کا بے مثال مظاہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیم حیران تھے۔ انہوں نے چند انگور اٹھا کر کھا لئے۔ حضرت ابراہیم کےاس عمل سےآپ کے چہرے پر خوشی کا رنگ ابھر آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم قندوزی نے فرمایا۔ معین الدین بیٹھ جاؤ! آپ دوزانوں ہو کر بیٹھ گئے۔ فرزند! تم نےایک فقیر کی خوب مہمان نوازی کی ہے۔ یہ سرسبز شاداب درخت‘ یہ لذیذ پھل یہ ملکیت اور جائیداد سب کچھ فنا ہو جانے والا ہے۔ آج اگر یہاں بہار کا دور ہے تو کل یہاں خزاں بھی آئے گی۔ یہی گردش روز و شب ہے اور یہی نظام قدرت بھی۔ تیرا یہ باغ وقت کی تیز آندھیوں میں اجڑ جائے گا۔ پھر اللہ تعالٰیٰ تجھے ایک اور باغ عطا فرمائے گا۔ جس کےدرخت قیامت تک گرم ہوائوں سے محفوظ رہیں گے۔ ان درختوں میں لگے پھلوں کا ذائقہ جو ایک بار چکھ لے گا پھر وہ دنیا کی کسی نعمت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ حضرت ابراہیم قندوزی نے اپنے پیرھن میں ہاتھ ڈال کر جیب سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر حضرت خواجہ کی طرف بڑھایا اور فرمایا وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے۔

یہ کہہ کر خشک روٹی کا وہ ٹکڑا حضرت معین الدین چشتی کے منہ میں ڈال دیا۔ پھر باغ سے نکل کر اپنی منزل کی جانب تیزی سے چل دیئے۔حضرت ابراہیم کی دی ہوئی روٹی کا ٹکڑا اس قدر سخت اور خشک تھا کہ اس کا چبانا دشوار تھا۔ مگر آپ نےایک بزرگ کا تحفہ سمجھ کر وہ روٹی کا ٹکڑا کھا لیا۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچےاترنا ہی تھا کہ حضرت معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے کائنات کی ہر شے فضول ہے۔

دوسرے ہی دن آپ نے اپنی چکی اور باغ فروخت کر دیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دی۔ عزیز واقارب آپ کی اس حرکت کو دماغی خلل قرار دے رہے تھے لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ذہن و دل کے کس گوشے سےروشنی کی وہ لکیر پھوٹ رہی ہے جس نے دنیا کےتمام اجالوں کو دھندلا کر کے رکھ دیا ہے۔ بعدازاں آپ نے سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹانے کے بعد تحصیل علم کیلئے خراساں کو خیرباد کہہ کر سمرقند بخارا کا رخ کیا جو اس وقت علوم و فنون کےاہم مراکز تصور کئے جاتے تھے۔ یہاں پہلے آپ نےقرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیرفقہحدیث اور دوسرے علوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔

علوم ظاہری کی تکمیل ک ےبعد آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں عراق کا رخ کیا۔ راستے میںاپنے زمانے کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ عثمان ہرونیسکونت پذیر تھے۔ حضرت خواجہ کچھ دن تک ایک عام طالب علم کی حیثیت سے حضرت عثمان ہرونی کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ مگر شیخ نے کوئی توجہ نہ دی۔ پہلے قدرے مایوس ہوئے بعدازاں ایک موقع پا کر آپ نے دل کی بات شیخ سےکہہ ہی ڈالی کہ میری دلی تمنا ہےکہ آپ مجھے مستقل غلامی کا شرف بخشیں۔ اس پر پھر ایک دن حضرت عثمان ہرونی نےآپ کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنے مرشد کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہے۔ آپ پیرو مرشد کی خدمت کیلئے ساری ساری رات جاگتے رہتے کہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے۔

ایک دن حضرت خواجہ کو مرشد پاک نے سینے سے لگا کر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیئےاور دعا فرمائی۔ ”اے خدائے ذوالجلال!معین الدین کو قبول فرما۔ اس نے بے سرو سامانی کے باوجود مجھے نہیں چھوڑا تو بھی اسے زمین پر تنہا نہ چھوڑ۔ ابھی دعا کےالفاظ مکمل بھی نہ ہو پائے تھے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی بارش نور میں نہا گئے۔ ایک تیز شعاع دل و دماغ کو روشن کرتی چلی گئی۔ اور آپ کی آنکھوں کے سامنے سے تمام حجابات اٹھ گئے۔

معین الدین! اب کیا نظر آتا ہے؟ حضرت عثمان ہرونی نےآپ سے فرمایا۔ آپ کے صدقے میں عرش سےتحت الثری تک دیکھ رہا ہوں۔ حضرت معین الدین چشتی نےکہا۔اللہ کا شکر ہے کہ تم سیراب ہو گئے۔ ورنہ عشق کے صحرا میں لوگ ایک بوند کیلئےزندگی بھر ترستے رہتے ہیں پھر آپ کے پاس جو شخص بھی نگاہ کرم کی بھیک مانگنےآتا تو آپ فرماتے کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں نےمعین الدین کو عطا کر دیا ہے۔

ایک اور روایت کےمطابق حضرت عثمان ہرونی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو لے کر مکہ معظمہ حاضر ہوئے۔ خانہ کعبہ کا طواف کرن ےکے بعد آپ نے بلند آواز میں فرمایا۔ الٰہی!معین الدین حاضر ہے اپنےاس عاجز بندے کو شرف قبولیت عطا فرما۔ جواب میں ندائےغیبی سنائی دی۔ ”ہم نےاسے قبول کیا۔ بےشک! یہ معین الدین ہے۔

پھر مکہ معظمہ کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گیے۔ پھر جیسے ہی سرورِ کائنات کی قربت حاصل ہوئی حضرت عثمان ہرونی نے خواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔”معین الدین! آقائے کائنات کے حضور سلام پیش کرو۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےگداز قلب کےساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ ”السلام علیکم یا سید المرسلین۔“ وہاں موجود تمام لوگوں نے سنا۔ روضہ رسول ا سے جواب آیا۔ ”وعلیکم السلام یا سلطان الہند“۔

اس کے بعد مرشد نے حضرت خواجہ کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا معین الدین! تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں دونوں مقامات پر قبولیت کی سند عطا ہوئی آئندہ بت خانہ ہند تمہاری سرگرمیوں کامرکز ہو گا۔ اگرچہ وہاں کفر کی گہری تاریکی پھیلی ہوئی ہے لیکن تم وہاں اسلام کی شمع روشن کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ اس وسیع و عریض ملک میں صرف تم ہی سلطان کہلائو گے جسے دربار رسالت سے تاج سلطانی عطا ہوا ہے وہ ہندوستان کےتمام بادشاہوں پر غالب آکر رہےگا۔

بعدازاں حضرت معین الدین چشتی نےاپنے مرشد کی ہدایت پر طویل عرصے تک شدید ریاضتیں کیں۔ مسلسل سات سات دن کا روزہ رکھتے۔پھر پیرومرشد کی اجازت سےآپ تنہا حجاز مقدس پہنچے۔ حج کی سعادت حاصل کی روضہ رسول پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ کئی ممالک کا سفر اختیار کیا۔

سفر بغداد کے دوران آپ کی ملاقات حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے ہوئی اولیائے کرام میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ کا مقام بہت بلند ہے۔ حضرت معین الدین چشتی اڑھائی ماہ تک حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ کے ہاں قیام پذیر رہےاور ایک عظیم صوفی کی محبتوں سے فیض یاب ہوئے۔

اس کے بعد حضرت معین الدین چشتی بغداد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ پھر آپ تبریز تشریف لے گئےاور وہاں حضرت خواجہ ابو سعید تبریزی سے فیض حاصل کیا۔ حضرت تبریزی کو تصوف کی دنیا میں ہمہ گیر شہرت حاصل ہے۔ چند دن یہاں گزارنے کے بعد آپ اصفحان تشریف لے گئے۔ وہاں مشہور بزرگ حضرت شیخ محمود اصفحانی کی محبت سے فیض یاب ہوئے۔

انہی دنوں وہاں ایک نو عمر لڑکے کو دیکھا جو درویشوں سے نہایت عقیدت رکھتا تھا حضرت معین الدین چشتی کی آمد سے پہلے وہ لڑکا حضرت شیخ محمود اصفحانی کی ذات سے بہت متاثر تھا۔ مگر جب اس نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کو دیکھا تو ارادہ بدل دیا۔ پھر جب آپ اصفحان سے روانہ ہوئے تو وہ نو عمر لڑکا آپ کے ساتھ ہی ہولیا۔ یہی نو عمر لڑکا حضرت معین الدین چشتی کی صحبت میں اولیائے ہند کا تاجدار بنا۔جسے دنیا حضرت قطب الدین بختیار کاکی کےنام سے جانتی ہے۔ آپ گنج شکر حضرت بابا فرید کے مرشد اورحضرت نظام الدین اولیاء کے دادا مرشد ہیں۔

بہرکیف حضرت معین الدین چشتی اصفحانسےخرقان تشریف لےآئے یہاں آپ نے دو سال وعظ فرمایا اور ہزاروں انسانوں کو راہ راست پر لائے۔ پھر ایران کے شہر استرآباد تشریف لےآئےان دنوں وہاں ایک مرد کامل حضرت شیخ ناصر الدین قیام پذیر تھے۔ جن کا دو واسطوں سے سلسلہ حضرت بایزید بسطامی سے جا ملتا ہے چند ماہ یہاں حضرت شیخ ناصرالدین سے روحانی فیض حاصل کیا۔ پھر ہرات کا قصد کیا۔ یہ شہر ایرانی سرحد کے قریب افغانستان میں واقع ہے۔ یہاں حضرت خواجہ عبداللہ انصاری کے مزار مبارک پر آپ کا قیام تھا۔ بہت جلد سارے شہر میں آپ کے چرچے ہونے لگے۔ جب بات حد سے بڑھ گئی اور خلق خدا کی ہر لمحے حاضری کی وجہ سے وظائف اور عبادت الٰہی میں فرق پڑنے لگا تو آپ ہرات کو خیرباد کہہ کر سبزوار تشریف لےگئے۔

سبزوار میں آپ کی آمد کو چند دن ہی گزرے تھے کہ مقامی باشندوں کی بہت بڑی تعداد یہاں ک ےگورنر یادگار محمد کے خلاف درخواست لے کرآپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے بتایا کہ مقامی گورنر کے جابرانہ روئیے سے تنگ آکر لوگ قبروں میں اتر گئے ہیں لیکن حکومتی ظلم و زیادتی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ لوگوں نےالتجا بھرے لہجے میں آپ سے درخواست کی کہ آپ اس ظالم گورنر کےحق میں دعا فرمائیں کہ اللہ اسے ہدایت دےاور اس کی ظلم سامانیوں سےاہل شہر کو نجات مل جائے۔ آپ نےاہل شہر کی فریاد سنی اور انہیں یقین دلایا کہ خداوند تعالٰیٰ بہت جلد اس شہر کےرہنے والوں پر رحم کرے گا۔۔

دوسرے دن آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتی گورنر یادگار محمد کے دربار میں تشریف لے گئے۔ محل کے دروازے پر پہنچ کر آپ نےدربان سےکہا۔”اپنےحاکم کو خبر کرو کہ اس سے درویش معین الدین ملنا چاہتا ہے۔“دربان نے حاکم سبزوار کواطلاع دی لیکن یادگار محمد کا غرور انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ اس نےغضبناک لہجے میں دربان کو جواب دیا۔”میرے پاس کسی فقیر سے ملنے کاوقت نہیں ہے۔“ دربان واپس آیا اور جیسے ہی اس نے یادگار محمد کےالفاظ دہرانے کی کوشش کی تواس کی زبان گنگ ہوگئی۔ دربان نے گھبرا کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا۔ اس کی روح کانپنے لگی‘ ہاتھ سے تلوار چھوٹ گئی اور وہ زمین پر گر کے بیہوش ہو گیا۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی کسی اجازت کے بغیر محل کےدروازے میں داخل ہو گئے۔دوسرے دربان کی نظر پڑی تو وہ آپ روکنے کیلئےآگے بڑھا مگر اس کابھی وہی حشر ہوا جو پہلے دربان کا ہو چکا تھا پھر محل میں ایک شور سا برپا ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ یادگار محمد صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس کے کمرے میں داخل ہو چکے تھے۔ جہاں بیٹھ کر وہ سنگ دل حاکم انسانی تقدیروں کے فیصلے کرتا تھا۔ دربار میں ہلچل سی مچ گئی۔ حضرت خواجہ کےجلال معرفت کا یہ عالم تھا کہ جس پر نظر پڑتی‘ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا۔ یادگار محمد نےآپ کو دیکھا تو خوف و دہشت سے کانپنے لگا۔

”میں وہی فقیر ہوں جس سے تو نے ملنا بھی گوارہ نہیں کیا۔“ گورنر کےدربار میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی بارعب آواز گونجی ”میں یہاں اس لئے نہیں آیا کہ تو مجھے بندگان خدا کے خون میں ڈوبی ہوئی چند روٹیوں کی بھیک دے یا مخلوق خدا کے جسموں کو برہنہ کر کےچند گز ریشمی کپڑا میرےحوالےکر دے۔ میں تو اس لئے آیا ہوں کہ حجت تمام ہو جائے۔ اس سے پہلے کہ تیرے اقتدار کو زمین نگل لے‘ حق کی نافرمانیوں سے باز آجا۔ تو جن پر ستم ڈھا رہاہے۔ انہیں ان کی مائوں نےآزاد پیدا کیا۔ بساط ہستی پر تیری حیثیت ہی کیا ہے؟ تجھ سے پہلے بڑے بڑے ستمگر یہاں اپنی طاقت آزما چکے ہیں۔ انہیں تلاش کر کے وہ کہاں سےآئے تھےاور کدھر گئے؟

گورنر سبزوار کے دربار پر کسی قبرستان سا گمان ہو رہا تھا۔ حاضرین مردوں کی طرح ساکت تھےاور یادرگار محمد اپنی زرگناہ کرسی سےاتر کر نیچےآنا چاہتا تھا مگر اس کا جسم مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔حضرت خواجہ معین چشتی جابر حاکم کے سامنے کلمات حق ادا کر کے واپس جاچکے تھے لیکن آپ کےالفاظ کی گونج ابھی تک باقی تھی۔ آپ کی باتوں سے ظالم گورنر پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔

کچھ دن بعد حضرت خواجہ معین الدین چشتی سبزوار سے”حصارِ شادماں“ تشریف لائے تو یادگار محمد بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنی باقی ماندہ عمر پیرو مرشد کی خدمت میں بسر کرے۔ مگر پیرو مرشد نے آپ کو ”حصارِ شادماں“ میں لوگوں کی رشدو ہدایت کیلئے مقرر کر دیا۔ ”حصارِ شادماں“ سےرخصت ہو کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی بلخ تشریف لائےاور حضرت شیخ احمد خضرویہ کی خانقاہ پر قیام کیا۔ یہاں حکیم ضیاء الدین بلخی نےآپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

بلخ کے بعد کچھ عرصے تک آپ نےغزنی میں قیام فرمایا۔ یہاں ایک رات آپ نے خواب میں سرورِ کائنات کو دیکھا۔ رسول اکرم نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کو اپنی دعائوں سے سرفراز کیا اور ہندوستان جانے کی ہدایت فرمائی۔ آپ کو دربار رسالت سےسلطان الہند کا خطاب پہلے ہی مل چکا تھا لیکن روانگی کا حکم اب ملا تھا۔ آقائے نامدار کی اجازت پاتے ہی آپ 586 ھجری کو لاہور تشریف لائےاور سب سے پہلے حضرت داتا گنج بخش کا فیض حاصل کرنے کے بعد ملتان چلےگئے۔ یہاں آپ نے پانچ سال تک قیام کیا اور سنسکرت زبان سیکھی۔ چونکہ آپ ہندو قوم کے سامنےاسلامی تعلیمات پیش کرنے والے تھےاس لیے مقامی لوگوں کی زبان جاننا آپ کیلئےاشد ضروری تھا۔ ملتان کےبعد دہلی قیام پذیر ہوئے۔ یہاں سب سے لاڈلے مرید حضرت قطب الدین بختیار کاکیکو چھوڑ کر خود اجمیر شریف کے خطہ زمین کو تبلیغ کیلئے مستقل طور پر منتخب فرمایا۔۔

زمانہ قدیم کی کتابوں میں اجمیر کو جانگیر‘ جیراگ‘ جیمزآدمیر اور جلوپور کے نام سے بھی پکارا گیا۔ اس شہر کو بسانے والوں میں راجہ اجےپال کانام لیا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت اجمیر پر پرتھوی راجہ چوہان کی حکمرانی تھی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر شہر کے نواح میں گھاس پھونس کی ایک جھونپڑی بنائی اس جھونپڑی میں نماز کا مصلہ‘ پانی کا برتن اورایک جوڑا لباس شہنشاہ معرفت کا یہ کل اثاثہ تھا۔ شروع شروع میں مقامی لوگ آپ کو جوگی یا سادھو سمجھتے رہے لیکن جب لوگوں نےآپ کو قریب سے دیکھا تو وضع قطع کےاعتبار سےآپ ہندو سنیاسیوں سے مختلف دکھائی دیئے۔ پھر ایک دن کچھ راجپوت آپ کی جھونپڑی میں داخل ہوئےاس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔ راجپوت خاموشی بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ آپ نماز و وظائف سےفارغ ہو گئے۔ آپ نےان راجپوتوں سےآنے کی وجہ پوچھی تو راجپوتوں نے کہا کہ ہم کچھ دنوں سےآپ کو جنگل بیابان میں مصروف عبادت دیکھ رہے تھےاس لئے جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور کہاں سےآئے ہیں۔ اور یہاں آنےکا مقصد کیا ہے۔آپ نےجواباً فرمایا کہ میں مسلمان ہوں اور تمہیں اللہ کا پیغام پہنچانےآیا ہوں۔ مسلمان کا نام سن کر راجپوت چونک اٹھے۔ کیا تم شہاب الدین غوری کی قوم سے ہو؟ ہاں وہ میرا دینی بھائی ہی۔ آپ نے فرمایا۔ غوری تو اپنےہمراہ ایک لشکر جرار لے کر آیا تھا۔ مگر میں تو تمہارے درمیان تنہا ہوں۔ پھر بھی تمہیں خدا کا پیغام سنائوں گا اور تمہیں وہ پیغام سننا ہو گا۔ اگر تم اپنے کان بند کر لو گے تو تمہاری سماعتوں میں شگاف پڑ جائیں گے۔ وہ پیغام تمہارے ذہن و دل کی گہرائیوں میں اتر کر رہے گا۔ جاؤ اپنے گھروں کے دروازے بند کر لو۔ دل و دماغ پر پہرے بٹھا دو مگر وہ روشنی کی لکیر آہنی دروازوں سے گزر کر بھی تم تک پہنچ جائے گی۔

یہ ایک بڑا دعویٰ تھا جو ایک سرکش قوم کےدرمیان کیا جارہا تھا۔ ایک راجپوت کو آپ کی بات ناگوار گزری اس نےتلخ لہجے میں کہا کہ ہم اپنی زمین پر یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتے۔آپ نے فرمایا کہ یہ زمین اللہ کی ہےاگر کسی انسان کی ملکیت ہوتی تو تمہارے باپ دادا موت کا ذائقہ نہ چکھتے یا زمین کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ کا یہ جواب سن کر راجپوتوں نےکہا کہ ہم کسی اللہ کو نہیں جانتےزمینو آسمان پر ہمارے دیوتائوں کی حکومت ہے۔ یہاں تمہارے رہنےکی ایک ہی صورت ہو سکتی ہےکہ تم دوبارہ اپنی زبان پر اللہ تعالٰیٰ کا نام نہ لائو گے۔ اس پر آپ نے فرمایا ”میں تو اسی کے نام سےزندہ ہوں اور تمہیں بھی اسی کے نام کی برکت سے زندہ کرنےآیا ہوں۔“

ایک راجپوت نے اللہ کا وہ پیغام سن کی فرمائش کی جسے آپ سنانے کے لئے اجمیر شریف تشریف لائے تھے۔ آپ نے سورۃ اخلاص پڑھ کر اس کا ترجمہ سنسکرت زبان میں سنایا۔ اور فرمایا کہ اللہ کو سب سے ناپسند اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کی پرستش ہے۔ مٹی کے جو بت ایک جگہ سے دوسری جگہ خود گردش نہیں کر سکتے وہ تمہاری مدد کیا کریں گے۔ یوں آپ نےاجمیر شریف میں پہلی اذان دی۔آپ کی زبان سےاپنے بتوں کے خلاف ادا ہونے والےالفاظ سن کر راجپوت غصےمیں لال پیلےہو گئےاورتلواریں بےنیام ہو گئیں۔وہ آپ کو تہہ تیغ کر دینا چاہتے تھے کیونکہ آپ نےان کے روبرو ان کے بتوں کی نفی کی تھی۔

جب حضرت معین الدین چشتی نے پہلی بار جلال بھرے لہجے میں دیکھا توایک برق سے لدائی اور راجپوتوں کےجسم پرخوف طاری ہو گیا۔ تلواریں ہاتھ سے چھوٹ گئیں پھر وہ لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جنہوں نےآج تک میدانِ جنگ میں پیٹھ نہیں دکھائی تھی۔ جب شہر میں ایک مسلمان فقیر کی ہیبت کی شہرت سنائی دی تو بڑی تعداد میں راجپوت مسلح ہو کر انتقام کےارادے سےآپ کی جھونپڑی میں آپہنچےاس وقت آپ نماز کی ادائیگی میں مشغول تھے۔ راجپوتوں نے میان سے تلوار نکال کر نماز کےدوران ہی آپ کو (نعوذ باللہ) قتل کرنا چاہا۔ لیکن تلواروں نےایک بار پھر نیاموں سے نکلنے سےانکار کر دیا۔ ان کےجسموں پر ایک بار پھر لرزہ طاری ہو گیا اور وہ راجپوت فرار ہوتے ہوئے چیخ رہے تھے کہ یہ تو جادوگر ہے۔

اس کے بعد راجپوتوں کی ایک اور جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ کے پیغام کو سنا اور اپنے آباو اجداد کا مذہب چھوڑ کر ایک ایسے مذہب میں داخل ہو گئے جس کی نگاہ میں اچھوتکھتریشودرراجپوت اور برہمن سب برابر تھے۔ کفر کے قلعے میں پہلا شگاف پڑ چکا تھا۔ مذہبی اجارہ داروں کی پیشانی پر گہری لکیریں ابھر آئیں۔ نجومیوں اور پنڈتوں نےآسمان کی طرف دیکھا ستاروں کی گردش میں ایک عجیب سا انتشار برپا تھا۔ پراسرار علوم کے جاننے والے حیرت زدہ تھےاور آسمان کے بروج میں کسی خوفناک انقلاب کی تصویر صاف نمایاں تھی۔

ہندو دھرم کے رکھوالوں نےآپ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والوں کو طلب کیا اور پوچھا ”آخر تمہیں اس اجنبی کے پیغام میں کیا کشش محسوس ہوئی کیا تم نےاس کے خدا کو دیکھا ہے؟“ دین اسلام میں داخل ہونے والے نو مسلمانوں نے کہا ہم کچھ نہیں جانتے ہمارے دل نے گواہی دی کہ وہ سچ بولتا ہی۔ بس ہم مجبور ہو گئے۔

کچھ ناعاقبت نااندیشوں نےراجہ پرتھوی چوہان کےسامنے یہ تجویز پیش کی کہ باغیوں کی اس مختصر سی تعداد کو قتل کردیا جائےاوراسلام کے خطرے سے ہمیشہ کیلئے جان چھڑا لی جائے۔ راجہ پرتھوی نے یہ تجویز قبول نہیں کی کیونکہ مسلمان ہونے والوں میں بہت سے بااثر ہندو قبائل کے لوگ بھی شامل تھے اس طرح ریاست میں انتشار پھیلنے کا اندیشہ تھا۔ لیکن ان کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔ چنانچہ وہ نو مسلم افراد حضرت معین الدین چشتی کے قدموں میں آپڑے۔ جاسوسوں نے پرتھوی راج کو خبر دی کہ معتوب راجپوت نیا مذہب قبول کر کے بہت زیادہ خوش ہیں تو وہ آگ بگولا ہو گیا اورمسلمانوں کے خلاف سازشوں کےنئے جال بنے جانے لگے۔

اسی دوران حضرت معین الدین چشتی کا ایک خادم آپ کے وضو کیلئےاناساگر تالاب سے پانی لینے کیلئے گیا تو وہاں خلاف معمول راجہ کے سپاہی تعینات نظر آئے جب خادم نے پانی سے گھڑا بھرنا چاہا تو راجپوت سپاہیوں نے سختی سے منع کر دیا اور کہا کہ اب تم اچھوت ہو تالاب کے پانی کو گندہ مت کرو۔خادم نے کہا کہ پانی تو جانوروں پر بھی بند نہیں کیا جاتا۔ ہم تو پھر انسان ہیں اس پر راجپوت سپاہیوں نےکہا کہ تم حیوانوں سے بھی بدتر ہو۔ خادم نےآکر جب آپ کو سارا ماجرا سنایا تو آپ نے فرمایا کہ راجپوت سپاہیوں سے کہو کہ اس مرتبہ ایک گھڑا پانی لے لینےدو پھر ہم اپنا کوئی اور انتظام کرلیں گے۔آپ کے حکم پر جب خادم دوبارہ تالاب پر پانی لینے گیا تو راجپوت سپاہیوں نےتمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ آج گھڑا بھر لو اس کے بعد تمہیں یہاں سے پانی لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ چنانچہ خادم نے مرشد کے حکم کے مطابق وہ گھڑا بھر لیا۔راجپوت سپاہیوں کے ساتھ ساتھ مسلمان خادم پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے کہ اناساگر تالاب کا سارا پانی ایک چھوٹے سے برتن میں سمٹ آیا تھا۔ تالاب کے جس پانی پر راجپوت سپاہی تکبر کر رہے تھے وہ پانی سےخالی ہو چکا تھا۔ راجپوتوں کے نزدیک یہ جادوگری کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ یہ دیکھ کر راجپوت سپاہی وہاں سے خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہو ئے۔ آپ کا خادم بھی لرزتے قدموں سے واپس آیا۔ کانپتے لہجے میں سارا واقعہ سنایا۔ آج اسے پہلی بار اپنے مرشد کی روحانی طاقت کا احساس ہو چکاتھا

پورےاجمیر شہر میں ہنگامہ برپا تھا اناساگر تالاب کے خشک ہونے کی خبر سب کیلئے حیران کن تھی۔پرتھوی راج مسلمانوں کے بڑھتے ہوئےاثرو رسوخ کو ہر صورت میں روکنا چاہتا تھا۔ مشیروں نےاسے مشورہ دیاکہ اس مسلمان فقیر کا مقابلہ ہندو جادوگر ہی کر سکتے ہیں۔لیکن اس سے پہلے شہر اجمیر کے چند معززین اناساگر تالاب کی سابقہ پوزیشن بحال کرنے کی استدعا لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئےاور عرض کی کہ اگر تالاب کا پانی اسی طرح خشک رہا تو بہت سارےانسان پانی کے بغیر مر جائیں گے۔ چنانچہ آپ نےاسلام کی رواداری اور صلہ رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ تو حق کے نافرمانوں کیلئےایک چھوٹی سی جھلک ہے۔ وگرنہ ہمارا مذہب تو کسی کتے کو بھی پیاس سے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ یہ فرما کر آپ نےاپنے خادم کو حکم دیا کہ ”برتن کا پانی تالاب میں واپس ڈال دیا جائے۔“ آپ نے راجپوت قوم کے نمائندوں کو دوبارہ فرمایا قدرت بار بار سرکشوں کو مہلت نہیں دیا کرتی۔ اس سےپہلےکہ تمہارےآباو اجداد پر زمین تنگ ہو جائےبت پرستی چھوڑ کر اللہ تعالٰیٰ کی وحدانیت پر ایمان لےآئو۔ ورنہ دوزخ کی دہکتی آگ کیلئےتیار ہو جاؤ۔

آپ کےارشادات سن کر بظاہر تو وہ نگاہیں نیچی کر کے خاموش کھڑے رہے لیکن ان کے دل میں نفرتیں کچھ اور بڑھ گئیں اور ان کے سینوں میں سازش اور انتظام کی آگ بھڑ اٹھی۔جب گھڑے کا پانی آپ کے حکم پر تالاب میں ڈالا گیا تولوگ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تالاب ایک بارپھر پانی سے لبالب بھر گیا۔ بت پرستوں کیلئے یہ ایک فقیر کی جانب سے بہت بڑا پیغام تھا۔ جسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائےانہوں نے پرتھوی راج کو مشورہ دیا کہ اجمیر شریف کے دراز قد‘ تنومند شادی جادوگر کو اس مسلمان فقیر کے مقابلے پر لایا جائے جو طاقتور جسم اور ساحرانہ کمالات میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔

پرتھوی راج نے ساتھیوں کا مشورہ قبول کر کے شادی جادوگر کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اسےحکم دیا کہ اپنے جادو کی بے پناہ طاقت سے دیوتائوں کی بستی کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کر دے۔ مہاراج کی طرف سے حکم ملتے ہی شادی جادوگر نے مسلمان فقیر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طاقت کا اندازہ کرنے کی کوشش کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اسےآسانی کے ساتھ شکست نہیں دی جاسکتی۔ وہ اپنے تابع شیاطین کے سہارے فقیر مسلمان س ےمقابلے کی تیاریاں کرنے لگا۔ شادی نےاپنے چیلوں کو نئے منتر سکھائےاور ساحروں کی فوج لے کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی جادوگروں کی یہ جماعت حق پرستوں کے قریب پہنچی تو حلقہ اسلام میں داخل ہونے والے نئے مسلمان گھبرا گئےانہوں نےآپ کو جادوگروں کی یلغار سےآگاہ کیا حضرت خواجہ معین الدین چشتی یہ کہہ کر دوبارہ اپنی نماز میں مشغول ہوگئے۔ پہلے کی طرح اب بھی ناکامی ہی ان کامقدر ہے۔جادوگروں کی یہ جماعت اپنے منتر پڑھتے پڑھتےاچانک ایک جگہ ٹھہر گئی جب شادی جادو گر نےانہیں آگے بڑھن ےکا حکم دیا تو انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ ان میں آگے بڑھنے کی طاقت نہیں ہے۔

شادی جادوگر اپنے منتر پڑھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا اس کی آنکھیں آگ برسا رہی تھیں منہ سے بھڑکتے شعلے نکل رہے تھے۔ یہ ایک خوفناک منظر تھا۔ وہ بلند آواز میں یہ کہہ رہا تھا کہ مسلمان سن لیں کہ ان کی موت کا وقت قریب آچکا ہی۔ کیونکہ میری شکتی دیوتائوں کے دشمنوں کو ہلاک کر ڈالے گی۔ یہ کہہ کر اس نےابھی تھوڑا ہی فاصلہ طےکیا تھا کہ اس کی زبان بھی بند ہو گئی۔ اچانک اس کی زبان سے رحیم رحیم کےالفاظ نکلنے لگی۔

جب شادی کے چیلوں نےاپنے گرو کا یہ حال دیکھا تو وہ غصے سے بے قابو ہو گئےاور شدید غصے کےعالم میں اپنے ہی گرو کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے لگے۔ شادی جادوگر اس دشنام طرازی کو برداشت نہ کر سکا۔ آگے بڑھنے کے بجائےاپنے ساتھیوں کی طرف لپکا اور اپنے ہی چیلوں پر پتھر برسانے لگا۔ اس طرح شادی جادوگر نےاپنے کئی چیلوں کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جو باقی بچےوہ فرار ہو گئے۔

شادی جادوگر کا جنون بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت معین الدین چشتی نےاس بگڑتی صورتحال میں خادم کے ہاتھ پانی کا ایک پیالہ بھر کر بھیجا جیسے ہی شادی جادوگر نے پیالے کا پانی پیا تو کفر کی ساری تاریکیاں دل و دماغ سے جاتی رہیں اور بڑے عقیدت مندانہ انداز میں حضرت خواجہ کے قدموں میں گر گیا۔اس طرح خداپرستوں کی صف میں ایک اور کلمہ گو کا اضافہ ہو گیا۔

شجرہ طریقت خواجہ معین الدین چشتی[ترمیم]

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا٬ یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلهٔ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا٬

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

بشکریہ: اردو گھر

  1. ^ "Birth Date". http://www.israinternational.com/knowledge-nexus/170-the-life-of-hazrat-khawaja-moinuddin-chishti-ra.html.
  2. ^ "Birth Place". http://www.sufiwiki.com/Abdul_Qadir_Jilani.