خواجہ مودود چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو محفوظ کر دیا گیا ہے؛ استفسارِ وجوہات و متعلقہ گفتگو کیلیے تبادلۂ خیال کا صفحہ استعمال کیجیے۔

آپ کا نام مودود ہے اسی توسط سے آپکی اولاد مودودی کہلاتی ہے ـ خواجہ مودود چشتی بن خواجہ ابو یوسفؒ کا ذکر خیر کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ کے بارے میں بے شمار مضامین تحریر کئے جا چکے ہیں، کافی  چھان بین کے بعد آپ کی شخصیت کے اُن پہلوں کو اُجاگر کیا گیا ہے جو کہ  ابھی  تک مخفی ہیں ، آپ کے بارے جو کچھ بھی لکھا گیا وہ سلسلہ شجرہ طریقت کے داہرہ میں لکھا گیا ہے،  مگر آپ کے شجرہ نسب  ذاتی زندگی آبا و اجداد اور اولاد کے  بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں ، آپ کی ولادت بمقام چست شریف مورخہ 430 ہجری اور وفات رجب 527 ہجری کو ہوئی۔ خواجہ قطب الدین مودود چشتی خواجہ ابو یوسف ناصر الدین چشتی رحمت اللہ علیہ (375ہجری  459 ہجری) کے فرزند تھے اور خواجہ ابو یوسف ناصر الدین سیدابو نصر محمد سمعان رحمت اللہ علیہ (ہجری   398ہجری) کے فرزند تھے - آپکی وفات کے بعد آپ کو چشت ہرات کے مقام پر دفنایا گیا۔

سلاجقہ کے ظہور (429 ھ) کے ایک سال بعد سید المشاہخ خواجہ قظب الدین مودود چشتیؒ پیدا ہوۓ، آلسلجوق کی دور تاسیس (485 ـ 498ھ) انہوں نے اپنی جوانی میں دیکھاجبکہ مسلسل شمشیر زنی سے سلجوقیوں نے ایک عظیم سلطنت قاہم کر دی تھی، سلاجقہ کے تیس سالہ دورعروج (455 ـ 485 ھ) کو اؐنہوں نے اپنے عالم شباب سے لے کر 55 سال کی پختہ عمر تک بچشم سر دیکھا، جبکہ الپ ارسلان اورملک شاہ کی بادشاہی اور نظام الملک کی وزارت نے سلجوقی سلطنت کے آفتاب کو نصف النہار تک پہچادیاتھا، اس کے بعد خواجہ مودود چشتی ؒ نے سلجوقیوں کا تیرہ سالہ دور خانہ جنگی (498 ـ 552ھ) بھی دیکھا، جبکہ ملک شاہ کے بیٹے باہم مصروف پیکار تھے ، آخر میں انھوں نے سلجوقی سلطنت کادور زوال 498 ـ 552ھ) بھی دیکھا، جس میں محمد اور سنجر اپنے خاندان کے روبہ زوال قوت کو سمبالتے ہوۓ نظر آۓ، اس دوران میں سنجر کے 41 سالہ دور حکومت کے ابتدائی 16 سال ہی آپ دیکھ سکےـ [1]

مقالات بہ سلسلۂ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

تاریخی پس منظر

القاب

قطب الدین ، سلطان خواجہ مودود ، آقاء مودود چستی ، شمس الصوفیا ، چراغ چستیاں ، مشہور ہیں

حالات زندگی

خواجہ قطب‌الدین‌ مودود خواجہ ابو یوسفؒ کی ملاقات شیخ احمد جام ملقب بہ زندہ پیل سے بھی ہوئی تھی ـ خواجہ ابو یوسفؒ چشتی کا [2] وصال  459 ھ  میں ہوا تو ان کے بڑے بیٹے خواجہ مودود چشتی انکے خلیفہ اور جانشین مقرر ہوئے، آپ کے دوسرے بیٹھے کا نام شیخ تاج الدین ابوالفتح تھا , خواجہ مودود چشتی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی ۔ قرآن مجید 7 سال کی عمر میں حفظ کیا۔ اپنی تعلیم 16 سال کی عمر میں مکمل کی، آپ 29 برس کی عمر میں سجادہ نشین ہوئے  اور خلق اللہ  کی ہدایت میں مشغول ہو گئے، خواجہ قطب‌الدین‌ مودود چشتی‌ مشائخ چشت سے تھے آپ کے مریدوں کی تعداد بے شمار تھی خلفاء کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے،  اور خلفاء خاص کی تعداد ایک ہزار بتا ئی گئی ہے،  جو شخص دلی مراد لے کر آ پ کے مزار پر تین روز جاوۓ اسکی مرادیں  پوری ہو جاتی ہیں،  آپ ہمیشہ فقراء اور مساکین کے ساتھ صحبت پسند کرتے تھے، نیا کپڑا ہر گز نہیں پہنتے تھے - خواجہ قطب الدین مودود چشتی خواجہ معین الدین اجمیری چشتی کے بھی شیخ اشیوخ تھے - [3]

رشد و ہدایت

خواجہ قطب الدین مودودی بن خواجہ ابو یوسفؒ کے خلفاء کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے، اس سے آپ کے حلقہ رشد و ہد اہت کا پتہ چلتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپکا سلسلہ دعوت اس قدر وسعت اختیار کر گیا، اسکے اثرات صرف ہرات تک محدود نہ رہے، بلکہ دور دور علاقوں مغرب میں خراسان، عراق، شام، اور حجاز تک اور جنوب میں سیستان ، بلوچستان، اور برصغیر پاک ہند و سندھ تک پہنچے، مغرب میں آپکے نظریات کی پرچار آپکے خلفاء نے کی، ان میں خواجہ شریف زندنی، خواجہ عثمان ہارونی، قابل ذکر ہیں، خواجہ قطب الدین مودود بن خواجہ ابو یوسفؒ کی عمر 29 برس کی تھی جب آپکے والد کا انتقال ہوا، آپ نے خرقہ ادارت اپنے والد سے حاصل کی اور اپنے والد کے سچے جانشین ثابت ھوۓ، آپ نے کسی امیر یا بادشاہ کے دروازہ پر کبھی قدم نہیں رکھا، آپ ہر شخص کی تعظیم و تکریم کرتے تھے، سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے تھے، سادہ زندگی بسر کرتے اور سادہ لباس پہنتے تھے،

جب اللہ تعلٰی نے حضرت آدم کی اولاد کو دنیا میں پھیلایا تو انکی تربیت کی بھی اشد ضرورت پڑی، کیونکہ تربیت ہی انسان اور حیوان میں فرق پیدا کرتی ہے، چنانچہ اللہ تعالٰی نے اس تربیت کے لیے خود انہی میں سے خاص انسانوں کو منتخب فرمایا، اور ہدایات آسمانی کتابوں کی صورت میں اُتاری، ہدایت کے پہلے درجے میں پیغمبروں کو ذریعہ بنایا جن کے آخری پیغمبر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ، دوسرے درجے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سلسلہ اہل بیت کے ذریعے امامین کو مقرر فرمایا امامین کی تعداد ہر فقہ اسلام کے لحاظ سے مختلف سمجھی جاتی ہے، امامین کے ساتھ تیسرا دور اولیاء اور صوفیا کا شروع ہوتا ہے، اسلام کی وسعت اولیاء کے دور بہت زیادہ ہوہی، ہر مسلم اورغیر مسلم کے دل میں اولیاء کے لیے عقیدت و احترام کا جذبہ ہے، آج بھی صوفیاء کے مزارات پر غیر مسلموں کی کثیر تعداد نظر آتی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ صوفیاء نے علاقوں کی بجائے دلوں پر حکمرانی کی، کسی ولی نے دربار عہدہ یا تخت و تاج کی تمنا نہیں کی بلکہ خود بادشاہوں نے اولیاء کے درباروں میں حاضری دی ہے، خواجہ معین الدین چشتی سے لیکر داتا گنج بخش لاہوری اور لعل شہباز قلندر سہوانی تک حاکمین وقت چادریں چڑھاتے اور حاضری دیتے رہے ہیں، مسلمانوں کے دلوں میں حرمت نبی صلی اللہ علیہ و سلم عقیدت اہل بیعت اور احترام ے اولیاء میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے، حضرت خواجہ قطب الدین مودودی چشتی رحمت اللہ علیہ کے سلسلہ چشتیہ سندھ بلوچستان خصوصاً" پاکستان کی کچھ تفصیل پیش ہے کیونکہ سلسلہ چشتیہ ہندوستان کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ تحریر موجود ہے،

خلفاء اورمریدین

خواجہ قطب‌الدین‌ مودود بن خواجہ ابو یوسفؒ کے خلفاء اور مریدین کی تعداد بے شمار تھی آپ کے ایک خلیفہ و مرید آپکے فرزند و جانشین

  • خواجہ احمد چشتی کا لقب نجم الدین تھا ـ
  • حاجی‌شریف‌ زَنْدَنی‌ (متوفی‌ 612)، ملقب‌ به‌ نیرالدین‌. بھی آپ کے خلیفہ و مرید تھے انکے بارے میں نقل ہے کہ آپ نے چالیس برس تک

جنگلوں میں گزربسر کی اور جنگلی میوں اور پتوں پرگزارہ کیا ـ حاجی‌شریف‌ زَنْدَنی‌ سلطان‌ سنجر کے محترم‌ تھے ـ حاجی‌شریف‌ زَنْدَنی‌ کے بعد

  • خواجه‌ عثمان‌ هارونی‌ (متوفی‌ 618) خواجہ قطب‌الدین‌ مودود کے خلیفہ اور مرید ہوئے ـ حاجی‌شریف‌ زَنْدَنی‌ کے بعد
  • خواجه‌ عثمان‌ هارونی‌ کو خرقہ خلافت ملاـ
  • شاه‌ محمود سنجان‌ (متوفی‌ 597)، ملقب‌ بہ ركن‌الدین‌ تھےـ لقب‌ شاه‌ از قطب‌الدین‌ مودود آپ کو ملا ـ آپ کا مقبرہ ابیج کے مقام پر ہے ـ شاہ‌ محمود سنجان‌ شاعر بھی تھے اور انکی رباعیاں مشہور ہیں ـ

دیگر قطب‌الدین‌ مودود کے مریدان مندر جہ زیل ہیں:

  • پیر كبار چشتی‌ اهل‌ پشاور؛
  • ابونصر شكیبان‌ زاهد، از مشایخ‌ سیستان‌؛
  • شیخ‌ حسن‌ تبتی‌؛
  • عثمان‌ رومی‌، كہ‌ خرقه بایزیدِ بسطامی‌ بھی انکو ملا اور وہ دو طرفہ پیر سلسله‌ ہوۓ.

معجزات خواجہ مودودؒ

جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہو تا آپ اسکے دل کا حال  مفصل بیاں فرما  دیتے ، اور جس کی قبر سے آپ گزرتے اس قبر والے کا حال بیان فرما دیتے، [4]   خواجہ مودود چشت کے تمام اکابر اور مشاہخ وقت تابع تھے اور آپ کی تعظیم و تکریم میں انتہا ئی کوشش کر تے تھے۔ آپ نے خرقہ ادارت اپنے والد محترم حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سے پہنا تھا۔ حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی ؒ جب بلخ پہنچے تو وہاں کے علما نے آپ کی بڑی مخالفت کی مسعلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم اجتماع ہوا۔اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اٹھائے حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی ؒ نے ان کے جوابات دیے اور فرمایا ہم حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کی سنت پر قائم ہیں۔ وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ اس پرعلماء نے کہا کہ حضرت ابراہیم ادھم پیر کامل تھے وہ ہوا میں اڑا کرتے تھے اس لئے ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی اسی وقت مجلس سے اٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں اڑنے لگے اور علما کی نظروں سے غائب ہوگئے۔ کچھ وقت گزارنے کے بعد مجلس میں آکر یوں خاموشی سے بیٹھ گئے کہ کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ پھر آپؒ کے آنے کا مجلس میں شور برپا ہوگیا۔ اس مجلس میں دو ہزار لوگ موجود تھے وہ سب آپ کے مرید ہوگئے مگر بعض ضدی علما اسرار کرتے رہے کہ یہ پرواز والا کام تو بعض جوگی بھی کر لیتے ہیں۔ اگر جامع مسجد کے حوض میں پڑا ہوا پتھر آپؒ کے ولایت کی گواہی دے تو پھر ہم آپؒ کو مان لینگے۔ حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی ؒنے پتھر کی طرف اشارہ کیا تو وہ پتھر آپ کے پاس آکر رک گیا۔ پتھر سے آواز آئی اے خواجہ مودو آپ کی ولایت پر کوئی شک نہیں۔ بلخ کے علما نے جب آپ کی یہ کرامت دیکھی تو آپ کے قدموں میں گر پڑے اور معافی مانگی۔ جب آپ کا اس دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو ایک بڑا عجیب واقع رونما ہوا۔ خزینتہ الاصفیا میں لکھا ہوا ہے کہ جب آپ پر نزاع کا وقت طاری ہوا تو آپؒ بار بار دروازے کی طرف دیکھتے تھےجیسے کسی کے آنے کا انتظار ہو۔ اسی اثنا میں ایک نورانی چہرے والا شخص آیا اس نے آپ کو ایک ریشمی کپڑے کا ٹکڑا پیش کیا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی ونے اس کپڑے کو ایک نظر دیکھا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔ اسی طرح لکھا ہوا ہے کہ جب آپؒ کی نماز جنازہ ہوئی تو اس میں بیشمار لوگ آئے جن میں سے آپ کی نماز جنازہ اول رجال الغیب (فوت شدہ بزرگ) نے پڑھائی پھر عام آدمیو نے پڑھی آپؒ کی نماز جنازہ تین چار دفعہ پڑھی گئی۔ جب نماز جنازہ ختم ہوئی تو جنازے کا تابوت خودبخود اٹھ گیا اور آپؒ کی آخری آرام گاہ کی طرف چلنے لگا۔ اس کرامت کو دیکھ کر دس ہزار غیر مسلم لوگ مشرف با اسلام ہوئے۔ آپؒ اس دارفانی سے یکم رجب الم رجب ۵۲۵ ہجری میں رخصت ہوئے۔ آپؒ کی آخری آرام گاہ چشت افغانستان میں ہے- [5]

سماع کی حالت میں کیفیت

خواجہ مودودؒ کو سماع کا بہت زیادہ شوق تھا اور وہ اکثر سماع کے مجلس ترتیب دیتے تھے جس میں علماء اور مشائخ بہت بڑی تعداد میں شریک ہوتے تھے، سب کے لیۓ انواع و اقسام کے لزیز کھا نے مہیا کیۓ جاتے تھے ، مجلس سماع کے آغاز اور اختتام تلاوت کلام پاک سے ہوتا تھا ـ خواجہ سماع کے درمیان اتنا روتے کہ سب پر گریہ طاری ہو جاتا کبھی متبسم ہوتے تو روئے انور سرخ ہو جاتا کبھی مستی کے عالم میں آ جاتے اور اکثر لوگوں کے درمیان سے غائب ہو جاتے اور دیر کے بعد نمودار ہوتے حاضرین میں سے ایک مرتبہ ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت اکثر محفل سے غائب ہو جاتے ہیں کیا وجہ ہے، آپ نے جواب دیا ائے عزیز من صاحب سماع محبوب کا نورانی لباس زیب تن کر لیتا ہے اور سب سے بیگانہ ہو کر اس کے ساتھ یگانہ ہو جاتا ہے ، جن کی آنکھیں نور معرفت سے روشن ہوں وہی اس مقام کو پا سکتا ہے ،[6]

محفل سماع (قوالی)

Mahfil-E-Samaa

تصانیف

آپ نے پندرہ سال کی عمر میں کتاب منہاج ال عارفین لکھ ڈالی، آپ کے دوسرے کتاب کا نام خلاصه الشریعه ہے، 

  • خلاصه الشریعه
  • منهاج‌العارفین

آپکی دونوں تصانیف سلسلہ خواجگانے کے بارے میں ہیں لیکن ان کے اصل نسخے دستیاب نہ ہوسکے ـ

چست شریف

چست شریف افغانستان کے صوبہ ہرات میں واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ يہ دریائے ھاری کے شمالی کنارے پر ہرات کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ قصبہ 930 عیسوی سے اسی مقام پر واقع ہے۔ چشت کی وجہ شہرت چشتیہ تصوف کی وجہ سے ہے۔ چشتی نظریہ محبت اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ چست میں تصوف کی بنیاد حضرت ابو اسحاق شامی نام کے بزرگ نے رکھی۔

خواجہ مودود اور بلوچستان

وادی شال کوٹ اور وادی ضلع بولان میں مودودی خاندان کے اثرات خود انکے مورث اعلی کی حیات ہی میں پہونچ گئے تھے، ایک حوالے سے خود خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ کی بلوچستان آمد کم از کم ایک مرتبہ ثابت ہے، وہ اپنے مرید اور خلیفہ خاص شیخ بابت کے یہاں شوراوک کے علاقہ میں آئے تھے، شیخ بابت کا تعلق پشتونوں کے بڑیچ قبیلے سے تھا، ،پنجاب میں آباد اس قبیلہ کے لوگ وڑیچ کہلاتے ہیں،خواجہ مودودی چستی کے زندگی ہی میں انکے مرید اور خلفاء نے تبلیغ کا کام شروع کردیا تھا بعد میں خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ کے اپنے اولاد سادات مودودی کے مختلف شاخوں نے خدمت ے دین کے کام کو خطہ بلوچستان میں مزید آگے بڑھایا، اور خلق خدا کی زندگیوں کو اسلام سانچے میں ڈھالا خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ کے خاندان کا تعارف اور سلسلہ خواجہ ابو یوسف رحمت ﷲ علی ( 362ھ - 459ھ) اور انکے فرزند اکبر خواجہ قطب الدین رحمت ﷲ علیہ (430ھ - 527ھ) سے تعلق رکھنے والے عظیم شخصیات تھیں، خواجہ قطب الدین رحمت ﷲ علیہ کے والد بزرگوار خواجہ ابو یوسف رحمت ﷲ علیہ سلطنت غزنوی کے دور میں پیدا ھوۓ، سلطنت غزنوی کے خاتمے کے بعد سلجوقی سردار طغرل حاکم بنا اس وقت آپ کی عمر 54 برس تھی، آپ کا نسب تیر ویں واسطہ سے حضرت امام حسین رحمت ﷲ علیہ ملتا ہے،

نسب اور اولاد

شجرہ طریقت خواجہ مودود

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا٬ یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلهٔ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا٬

شیخ عثمان ہارونی تصوف میں چشتی سلسلے کے بزرگ تھے۔ ان کی طریقت کا سلسلہ یوں ہے۔ کہ عثمان ہارونی چشتی جناب شیخ زندنی چشتی کے مرید تھے۔ زندنی جناب خواجہ مودود چشتی کے مرید تھے۔ مودود چشتی خواجہ ناصر الدین چشتی کے مرید تھے۔ جناب ناصر چشتی ، خواجہ محمد اسحاق بانیءسلسلہ چشت کے مرید تھے۔ خواجہ محمد اسحاق چونکہ خراسان کے اطراف میں چشت نامی ایک گائوں کے رہنے والے تھے اسی مناسبت سے چشتی کہلائے اور ان سے آگے جو ارادت مندی کا سلسلہ چلا یعنی جن بزرگوں نے ان کے ہاتھ پر بعیت کی انہیں چشتی کہا گیا ۔ ہر چند جناب اسحاق شام کے رہنے والے تھے مگر ایک مدت سے یہاں آ رہے تھے اور یہاں برسوں رہ کر اپنے فیوض باطنی سے لوگوں کو فیض پہنچایا اور یہیں مدفون ہوئے اس لیے انہیں چشتی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تصوف کے کئی ایک سلسلے خواجہ حسن بصری کے واسطے سے جناب علی کرم اللہ وجہ‘ تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ چشتی سلسلہ کا شجرہ طریقت ملاحظہ کریں۔

خواجہ محمد اسحاق بانیءسلسلہ چشت، خواجہ ممشا د علی دینوری کے مرید تھے۔ دینوری خواجہ ہبیرہ بصری کے مرید تھے۔ بصری خواجہ حزیفہ مرعشی کے مرید تھے۔ مرعشی حضرت سلطان ابراہیم ادھم کے مرید تھے۔ ادھم حضرت فضیل بن عیاض کے مرید تھے۔ فضیل بن عیاض عبدالواحد زید کے مرید تھے۔ زید حبیب عجمی کے مرید تھے۔ عجمی جناب خواجہ حسن بصری کے مرید تھے۔ ا ور حسن بصری جناب علی کرم اللہ وجہ‘ کے شاگرد اور مرید تھے۔

اولاد

آپ کے فرزندخواجہ نجم الدین احمد مشتاق بن مودود چشتی رحمت اللہ علیہ بھی چست کے مقام پر دفن ہیں، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی آپ کی نسل سے تھے جو 1903 ہجری میں اورنگ آباد دکن ہندوستان میں پیدا ھوۓ۔ پاکستان میں آپ کی اولاد مختلف علاقوں میں آباد ہے ۔ آپ کی اولاد میں سے ایک مشہور بزرگ خواجہ نظام الدین علی گزرے ہیں ۔جن کا مزار صوبہ بلوچستان کے شہر پشین کے نواح میں منزکی نامی مقام پر ہے۔ اس مقام پر آپکی اولاد کثیر تعداد میں مقیم ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مقام پر آپکی اولاد میں سے ایک مشہور بزرگ خواجہ نقرالد ین چشتی مودودی المعروف شال پیر بابا جن کا مزار کوئٹہ چھاونی میں قلعہ میری خان قلات کے قریب واقع ہے۔ خواجہ ولی مودودی چستی کرانی اور خواجہ میر شہدا کرانی بھی آپکی اولاد میں سے ہیں۔ ان مشہور اولیا کے مزارات کوئٹہ شہر کے مغرب میں واقع کرانی نامی مقام پر موجود ہیں۔ کرانی کے مقام پر آپکی اولاد کثیر تعداد میں مقیم ہیں۔اور یہ گاؤں خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کی وجہ سے مشہور ہے۔ ایک اور مشہور بزرگ حضرت شمس العارفین سید خواجہ ابراہیم یکپاسی چشتی ایک عظیم المرتبت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے علاقہ مستونگ بلوچستان میں ترویج دین کا کام کیا - [7]

  • خواجہ میر ہیبت خان: بلوچستان اور افغانستان کے سرحدی علاقہ سر لٹھ اور شور اوک میں ترویج دین کا کام کیا
  • خواجہ ابراہیم دویاسی: نے ڈھاڈر اور بولان بلوچستان میں ترویج دین کا کام کیا
  • خواجہ کلان: مستونگ بلوچستان میں ترویج دین کا کام کیا
  • خواجہ احمد: نوشکی بلوچستان میں ترویج دین کا کام کیا
  • خواجہ علی شہید: بلوچستان قلات کی طرف چلے گئے انکو بلوچ حاکم قمبر نے بمقام قلات شہید کیا
  • خواجہ سلطان: منگچر بلوچستان میں ترویج دین کا کام کیا
  • سید ابو الاعلیٰ مودودی (پیدائش:1903ء ، انتقال:1979ء) مشہور عالم دین اور مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔

چشتی اولیاء بلوچستان

شجرہ جات

شجرہ نسب خواجہ مودود چشتی

سلسلہ اولاد

شجرہ شریف از جانب والدہ ماجدہ

شجرہ شریف از جانب والدہ ماجدہ طریق ب حضرت امام حسن علیہ السلام مہر سند آپ کا شجرہ نصب از طرف والدہ ماجدہ -

  • امیر المومنین حضرت علی ابن ابو طالب علیہ سلام
  • سید امام حسن علیہ سلام
  • سید حسن مثنٰی علیہ سلام
  • سید حسین علیہ سلام
  • سید عبدﷲ علیہ سلام
  • سید یحیٰی علیہ سلام
  • سید ابرا ہیم علیہ سلام
  • سید احمد علیہ سلام
  • سید سلطان فرسنا فہ علیہ سلام
  • سید خواجہ ابو احمد ابدال علیہ سلام
  • بی بی خظامت الله بنت سید ابو احمد ابدال

تصاویر درگاہ

حوالہ جات بیرون

  1. ^ تاریخ سلاجقہ ( سید ابوالاعلی مودودی)
  2. ^ بحوالہ کتاب (خواجہ براہیم  یک پاسی چشتی) 
  3. ^ [1] تذكار يكپاسى
  4. ^ (بحوالہ کتاب سیر الا قطاب)ی
  5. ^ [2] تذكار يكپاسى
  6. ^ (بحوالہ کتاب سیر الا قطاب) باب خواجہ مودودؒ
  7. ^ [3] تذكار يكپاسى


حوالہ کتب

بحوالہ کتاب خواجہ مودود چشتی
  • [4] چشتی طریقہ
  • [5] صوفی
  • [6] چشتی سلسلہ
  • [7] خواجگان چشت سيرالاقطاب: زندگينامه هاي مشايخ چشتيه
  • [8]طريقۀ چشتيه در هند و پاكستان و خدمات پيرواناين طريقه به فرهنگهاى اسلامى و ايرانى‎
  • عبدالرحمان‌بن‌ احمد جامی‌، نفحات‌ الانس‌، چاپ‌ محمود عابدی‌، تهران‌ 1370 ش‌؛
  • هدیه‌ بن‌ عبدالرحیم‌ چشتی‌ عثمانی‌، سیرالاقطاب‌، لكهنو 1331/1913؛
  • داراشكوه‌ بابری‌، سفینه الاولیا، كانپور 1318؛
  • عالم‌ فقری‌، اولیاءاللّه، لاهور 1990؛
  • محمدبن‌ موسی‌ غزنوی‌، مقامات‌ ژنده‌ پیل‌:
  • احمدجام‌، چاپ‌ حشمت‌اللّه‌ مؤید سنندجی‌، تهران‌ 1340 ش‌؛
  • غلام‌ سرور لاهوری‌، خزینه الاصفیا، كانپور 1332/1914؛
  • محمدمعصوم‌بن‌ زین‌العابدین‌ معصوم‌ علیشاه‌، طرائق‌ الحقائق‌، چاپ‌ محمدجعفر محجوب‌، تهران‌ 1339ـ 1345 ش‌؛
  • احمد منزوی‌، فهرست‌ مشترك‌ نسخه‌های‌ خطی‌ فارسی‌ پاكستان، اسلام‌آباد 1362ـ1370 ش‌؛
  • محمدبن‌ مبارك‌ میرخورد، سیرالاولیاء در احوال‌ و ملفوظات‌ مشایخ‌ چشت‌، لاهور 1357 ش‌؛
  • عارف‌ نوشاهی‌، فهرست‌ كتابهای‌ فارسی‌ چاپ‌ سنگی‌ و كمیاب‌ كتابخانه گنج‌ بخش‌، اسلام‌آباد 1365 ش‌ـ.
  • ( خزینہ الاصفیاء: مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ )
  • تذکرہ سید مودودی ادارہ معارف اسلامی لاہور
  • سیر ال اولیاء
  • مرا تہ الاسرار
  • تاریخ مشائخ چشت
  • سفینہ ال عارفین
  • تذکرہ غوث و قطب
  • شجرہ موروثی سادات کرانی