خواجہ نجم الدین احمد مشتاق
آپکا نام احمد اور لقب مودود تھا ولادت 492 ہجری اور وفات 577 ہجری آپ کا ایک اور لقب مشتاق آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے ایک غیبی آواز کے ذریعےدی گئ آپ کا مزار اقدس چشت شریف میں ہے خواجہ نجم الدین احمد مشتاق خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت اللہ علیہ (430ہجری 527 ہجری) کے فرزند تھے اور خواجہ قطب الدین مودود چشتی خواجہ ابو یوسف ناصر الدین چشتی رحمت اللہ علیہ (375ہجری 459 ہجری) کے فرزند تھے - [1]
|
مقالات بہ سلسلۂ مضامین |
| عقائد و عبادات |
| خدا کی وحدانیت قبولیت اسلام نمـاز · روزہ · حج · زکوٰۃ |
| صوفي شخصیات |
| اویس قرنی · عبدالقادر جيلانی رابعہ بصری · سلطان باہو · حسن بصری · ابن عربی· مولانا رومی نظام الدین اولیاء |
| تصوف کی معروف کتابیں |
| احياء علوم الدين · کشف المحجوب · مكتوبات الرباني · مکاشفة القلوب · القول الجمیل فی بیان اسوالسبیل |
| صوفی مکاتبِ فکر |
| سنی صوفی · شـیعہ صوفی |
| سلاسلِ طریقت |
| قادریہ · چشتیہ · نقشبندیہ سہروردیہ · مجددی · قادری سروری قادری المنتہی |
| علمِ تصوف کی اصطلاحات |
| طریقت · معرفت · فناء · بقاء · لقاء سالک · شیخ · طریقہ · نور · تجلی وحدت الوجود · وحدت الشہود |
| مساجد |
| مسجد الحرام · مسجد نبوی مسجد اقصٰی |
| تصوف کی نسبت سے معروف علاقے |
| دمشق · خراسان · بیت المقدس بصرہ · فاس |
|
|
فہرست |
تاریخی پس منظر[ترمیم]
تاریخ[ترمیم]
حضرت خواجہ مودود چشتی رحمت اللہ علیہ کے ایک ہی فرزند تھے جن کا نام حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق تھا - خواجہ مودود چشتی رحمت اللہ علیہ کی نسل انہی سے چل رہی ہے، حضرت خواجہ مودود چشتی رحمت اللہ علیہ کے وفات کے بعد خواجہ شریف زندنی آپ کے خلیفہ مقرر ہوے اور یہ سلسلہ طریقت چشتیہ کے نام سے ہندوستان منتقل ہوا -
سلسلہ طریقت چشتیہ[ترمیم]
- خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ [2]
- خواجہ شریف زندنی رحمت ﷲ علیہ [3]
- خواجہ عثمان ہارون رحمت ﷲ علیہ [4]
- خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمت ﷲ علیہ [5]
- قطب الدین بختیار کاکی رحمت ﷲ علیہ [6]
- بابا فرید الدین گنج شکر رحمت ﷲ علیہ [7]
- خواجہ نظام الدین اولیاء رحمت ﷲ علیہ [8]
- نصیرالدین چراغ دهلوی رحمت ﷲ علیہ [9]
حضرت خواجہ مودود چشتی رحمت اللہ علیہ کے وفات کے بعد حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق رحمت اللہ علیہ انکے سجادہ نشین ہوے , اور مسند خلافت و ارشاد پر متمکن ہوئے, اس طرح ایک اور سلسلہ بنام طریقت مودودیہ متعارف ہوا جو بزریعہ آپ کے اولاد کے 800 ہجری میں بلوچستان منتقل ہوا -
طریقت مودودیہ[ترمیم]
- خواجہ رکن الدین
- خواجہ نظام الدین
- خواجہ قطب دین محمد
- خواجہ تقی الدین محمد
- خواجہ نظام الدین علی
- خواجہ نقرالد ین شال پیر بابا
- خواجہ ولی مودودی چستی کرانی
- خواجہ ابراہیم یکپاسی
- خواجہ ابراہیم دوپاسی
حالات زندگی[ترمیم]
حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق رحمت اللہ علیہ کے تین بیٹے تھے، جن کے نام خواجہ بہاو الدین محمود خواجہ نظام الدین علی اور خواجہ رکن الدین حسین تھے، حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق رحمت اللہ علیہ نے ان تینوں میں سے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا، خواجہ محمود بڑے صاحبزادے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ حق انکا ہے، اور خواجہ نظام الدین علی اپنی اعلٰی علمی حیثیت کی وجہ سے سمجھتے تھے کہ انکو یہ رتبہ ملنا چا یۓ، جبکہ خواجہ رکن الدین سب سے چھوٹے اور خاموش طبیعت کے مالک تھے اور مریدین کی خاطر مدارات میں لگے رہتے تھے، خواجہ نجم الدین احمد مشتاق رحمت اللہ علیہ کے انتقال کے بعد آخر کار خواجہ رکن الدین حسین رحمت اللہ علیہ کو اتفاق رائے سے جانشین مقرر کیا گیا، حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق رحمت اللہ علیہ اپنے والد حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی کے مرید تھے، اپنے وقت کے بڑے مشاہخ میں سے تھے، آپ کو علوم ظاہری اور باطنی پر پوری مہارت اور عبور حاصل تھی، ایک رات خواب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ سے فرمایا کہ اے احمد اگر تو ہمارا مشتاق ہے تو ہم بھی تمارے مشتاق ہیں یہ بشارت پتے ہی صبح آپ چپکے سے زیارت حریمین شریفین کے لیے روانہ ہوگئے، آپ نے اس حالت میں سفر کیا کہ کسی نے آپ کو نہیں پہچانا ارکانے حج ادا کرنے کے بعد آپ فورا" مدینہ منورہ پہنچے اور چھ ماہ تک وہاں مقیم رہے، آپکے طویل قیام کی وجہ سے روضہ اقدس کے مجاور تنگ آگۓ اور آپ کو تکلیف دینے کے درپے ہو گئے، ایک دن روضہ اطہر سے یہ آواز آئی اور یہ سب نے سنی کہ تم لوگ جسے ستا رہے ہو وہ ہمارے مشتاق ہیں، اس واقع کے بعد آپکا لقب مشتاق پڑا، مدینہ شریف سے واپسی پر بغداد آکر حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے خانقاہ میں ٹھہرے حضرت شیخ شہاب الدین نے آپ کو بڑے احترام سے رکھا، اور آپ کی خوب خاطرمدارات کی، حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق رحمت اللہ علیہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے ہمعصر تھے جو سلسلہ عالیہ سہروردیہ بانی تھے، خلیفہ بغداد نے ایک خواب دیکھا ،اس لیے اسنے آپ کو اپنے محل میں دعوت دی، جب آپ وہاں پہنچے تو خلیفہ آپ کی بڑی تعظیم کی اور تحائف پیش کۓ، آپ نے خلیفہ کو نہایت موثر پند و نصیحت کئے، رخصت کرتے ھوۓ آپ کو خلیفہ نے جو تحائف دیے آپ نے انکی دلجوئی کی خاطر وہ لے ليے اور محل سے باہر آکر سارے فقیروں میں تقسیم کر دیے اور خراسان کی طرف روانہ ہو گئے، آپ کے کمالات کرامات بے شمار ہیں، آپکا سجادہ نشین آج تک چشت کی مسند پر متمکن ہے - [10]
نسب[ترمیم]
شجرہ جات[ترمیم]
شجرہ نسب خواجہ نجم الدین احمد[ترمیم]
- سید امام حسین علیہ السلام (4ہجری 60 ہجری)
- سید امام زین العابدین علیہ السلام (ہجری 94 ہجری)
- سید امام محمد باقر علیہ السلام (ہجری 114ہجری)
- سید امام جعفر صادق علیہ السلام (80ہجری 148 ہجری)
- سید امام موسی کاظم علیہ السلام (128ہجری 183 ہجری)
- سید امام علی رضا علیہ السلام (153ہجری 203 ہجری)
- سید امام محمد تقی علیہ السلام (195ہجری 220ہجری)
- سید امام علی نقی علیہ السلام (214ہجری 254ہجری)
- سید حسن ؒاصغر رحمت اللہ علیہ
- سید عبداللہ علی اکبر رحمت اللہ علیہ 238(ہجری 292ہجری)
- سیدابومحمدالحسینعلیہ سلام (295ہجری 352 ہجری)
- سید ابو عبداللہ محمد رحمت اللہ علیہ (270ہجری 394 ہجری)
- سیدابوجعفرابراہیم رحمت اللہ علیہ (ہجری 370ہجری)
- سیدابو نصر محمد سمعان رحمت اللہ علیہ (ہجری 398ہجری)
- سید خواجہ ابو یوسف ناصر الدین ایوسف چشتی رحمت اللہ علیہ (375ہجری 459 ہجری)
- سید خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت اللہ علیہ (430ہجری 527 ہجری)
- سید خواجہ نجم الدین احمد مشتاق مودودی چستی چشت ہرات( 492ہجری 577 ہجری)
سلسلہ اولاد خواجہ نجم الدین احمد[ترمیم]
- سید خواجہ نجم الدین احمد مشتاق مودودی چستی چشت ہرات( 492ہجری 577 ہجری)
- سید خواجہ رکن الدین مودودی چستی ( 545ہجری 635ہجری)
- سید قدودین خواجہ محمد مودودی چستی ( 584ہجری 624 ہجری) بمطابق ( پیدائش 1188 ء وفات 1226 ء )
- سید خواجہ قطب دین محمد ابن خواجہ محمد مودودی چستی ( 602ہجری 680ہجری) بمطابق ( پیدائش 1205 ء وفات 1288ء )
- سید اودالدین خواجہ ابواحمد سید محمد مودودی چستی ( 635ہجری 710ہجری) بمطابق ( پیدائش 1237 ء وفات 1307ء )
- سید تقی الدین خواجہ یوسف مودودی چستی ( 662ہجری 745ہجری) بمطابق ( پیدائش 1263 ء وفات 1353 ء )
- سید نصرالدین خواجہ ولید مودودی چستی ( 727ہجری 820 ہجری) بمطابق (پیداہش 1326 ء وفات 1417 ء)
- سید خواجہ نقرالد ین چشتی مودودی المعروف شال پیر بابا تقریباﹰدور حیات ( 1421ء )
- سیدخواجہ ولی مودودی چستی کرانی رحمت اللہ عليہ تقریباﹰدور حیات ( 1470 ء)
- سید خواجہ میر شہداد مودودی چشتی کرانی تقریباﹰدور حیات (1519 ء )
- سید قاسم شاہ مودودی چشتی کرانی تقریباﹰدور حیات ( 1558ء) [11]
حوالہ جات بیرون[ترمیم]
حوالہ کتب[ترمیم]
- [11] Chishti Tariqa
- [12] Soofie(Sufi)
- [13] Chishti Order
- [14] خواجگان چشت سيرالاقطاب: زندگينامه هاي مشايخ چشتيه
- [15]طريقۀ چشتيه در هند و پاكستان و خدمات پيرواناين طريقه به فرهنگهاى اسلامى و ايرانى
- ( خزینہ الاصفیاء: مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ )
- تذکرہ سید مودودی ادارہ معارف اسلامی لاہور
- سیر ال اولیاء
- مرا تہ الاسرار
- تاریخ مشائخ چشت
- سفینہ ال عارفین
- تذکرہ غوث و قطب
- شجرہ موروثی سادات کرانی