خودمختار ریاست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

خودمختار ریاست، کسی بھی ایسے ملک یا خطے کو کہتے ہیں جس میں مستقل آبادی، متعین کردہ سرحدیں، ایک حکومت اور دوسری خودمختار ریاستوں کے ساتھ سفارتی و تجاری تعلقات بنانے کی خاصیت ہو۔[1]
1933ء کے عالمی چارٹر، جس میں ریاستوں کے حقوق اور فرائض کے مطابق کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے چار اجزاء کا حامل ہونا ضروری ہے، جو کہ یہ ہیں:

  • مستقل آبادی
  • متعین کردہ سرحد
  • حکومت
  • دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی خاصیت[2] خودمختار ریاست کا عمومی تصور یہی ہے کہ یہ اپنے تئیں نظام حکومت اور معاملات چلانے میں آزاد ہو اور کسی بیرونی طاقت یا ریاست کا اس خطہ ارض کی فیصلہ سازی پر کوئی اثر و رسوخ نہ ہو۔[3] خود مختار ریاست عمومی لحاظ سے کوئی بھی قوم یا افراد، جو کہ خطہ ارض پر قابض ہوں اور ان کا کوئی بھی اندرونی آئین موجود ہو، اور حکومت اپنی ریاست کے افراد کی آزادی کے ساتھ بغیر کسی بیرونی دباؤ کے طرز زندگی کو بہتر بنائے۔ [4]

کوئی بھی ریاست تب بھی خودمختار کہلاتی ہے جبکہ اسے دوسری خودمختار ریاستیں تسلیم نہ کرتی ہوں، اس طرح کی ریاستیں اپنے تئیں خودمختار ریاستیں تو ہوتی ہیں مگر انھیں ان ریاستوں کے ساتھ تعلقات اور تجارت میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ ان کے وجود کو بطور خودمختار ریاست تسلیم نہیں کرتیں۔

مزید دیکھیے [ترمیم]

بیرونی روابط [ترمیم]

حوالہ جات [ترمیم]

  1. ^ مالکولم ناتھن شا (2003ء)، "ریاست کی زمہ داریاں"، عالمی قوانین، کیمبرج یونیورسٹی پریس، ص: 178 
  2. ^ نندساری جیسنتولیانا (1995ء)، عالمی قوانین بارے رائے عامہ، کوئلیر قوانین عالمی، ص: 20 
  3. ^ کیری ویٹن (1836ء)، بین الاقوامی قوانین کے اجزاء، کیری لی اور بلانچڈ، ص: 51 
  4. ^ امریکہ کی تہذیبی ڈکشنری (2004ء)، خودمختار، چہارم، ہوگٹن میفلن کمپنی