خود کشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
خود کشی

خود کشی (Suicide) کسی شخص کو اپنے آپ کو قصداً اور غیر قدرتی طریق پر ہلاک کرنے کا عمل ۔ زیادہ تر لوگ دماغی خرابی کی وجہ سے خود کشی کرتے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو بیماری کی وجہ سے خود کشی کرتے ہیں۔ بیماری بھی دراصل دماغی توازن درہم برہم کر دیتی ہے اس طرح اپنے آپ کو ہلاک کرنے والوں کا تعلق بھی دماغ کے عدم توازن ہی سے ہوتا ہے۔ سرطان کے مریض بہت کم خود کشی کرتے ہیں۔ لیکن سوء ہضم کے مریض اپنے تئیں سرطان کا مریض سمجھ کر خود کشی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مردوں میں عمر کے ساتھ خودکشی کی شرح بڑھتی جاتی ہے لیکن عورتوں میں پچیس برس کی عمر کے بعد خود کشی کرنے کا رجحان تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔ عورتوں کے مقابلے میں مرد اور سیاہ فام کے مقابلے میں سفید فام لوگ زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو ہلاک کرتے ہیں۔

جاپان میں خودکشی کو ایک مقدس اور بہادرانہ فعل سمجھا جاتا ہے اور لوگ ذرا ذرا سی بات پر ’’ہتک عزت ، کاروبار ، نقصان ، عشق میں ناکامی ‘‘ پر اپنے آپ کو ہلاک کر لیتے ہیں۔

دنیا میں خودکشی کی سب سے زیادہ شرح سویڈن میں ہے۔ جبکہ اسلام اور دیگر الہامی مذاہب میں خود کشی کو حرام قرار دیا ہے۔

سانچہ:خودکشی ۔ عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کرکے اپنی جان لے لیتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکشی 146صحتِ عامہ کا ایک ایسا اہم مسئلہ ہے145 جس پر اکثر معاشرے میں لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او خودکشی کے واقعات میں سنہ 2020 تک 10 فیصد کمی لانا چاہتا ہے لیکن اس نے خبردار کیا کہ صرف 28 میں خودکشی کی روک تھام کے لیے حکمتِ عملی موجود ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سکولوں کی سطح پر مزید تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ ڈبلیوں ایچ او نے دنیا بھر سے خودکشی پر ہونے والی 10 سال کی تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کا تجزیہ کیا ہے۔ اس تجزیہ کا ماخز مندرجہ ذیل ہے: سالانہ آٹھ لاکھ افراد خودکشی کرکے اپنی جان لیتے ہیں۔ یہ 15 سے 29 سال کے جوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ 70 سے زائد عمر کے افراد کا اپنی جان لینے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ خودکشی کرنے والوں میں سے ایک تہائی کا تعلق کم آمدن والے طبقعے سے تھا۔ امیر ممالک میں خودکشی سے مردوں کی اموات خواتین کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آتشی اسلحے اور زیریلے کیمیائی مواد تک رسائی کو کم کرنے سے خودکشی کے واقعات میں کمی ہو گئی اور خودکشی کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر حکمتِ عملی ترتیت سے فرق پڑا لیکن ایسی حکمتِ عملی کو کم ممالک میں اختیار کیا گیا۔ عالمی ادارۂ صحت کی سربراہ ڈاکٹر مارگریٹ چان نے کہا کہ 146یہ رپورٹ صحتِ عامہ کے ایک بہت بڑے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی بات کرتا ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر معاشرے میں لوگ اکثر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ دماغی صحت کے مسائل سے جڑے معاشرتی داغ کی وجہ سے لوگ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے جس کی وجہ وہ خودکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے ہالی وڈ کے اداکار روبن ویلیمز کی موت کی تفصیلات کو روپورٹ کرنے کی طرح خودکشی کے واقعات کو میڈیا میں رپورٹ کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ روپورٹ میں ممالک سے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کی مدد کے لیے اقدامات کریں جنھوں نے ماضی میں خودکشی کی کوشش کی کیونکہ ان کا خودکشی کرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ برطانیہ میں خودکشی کے خلاف مہم چلانے والے جانی بینجامن نے بی بی سی کو بتایا کہ 146میرے خیال میں خودکشی کے بارے میں زیادہ آگاہی ہونی چاہیے اور لوگوں کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ وہ خودکشی کا سوچنے والے لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش ائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ 146خودکشی کے بارے مزید آگاہی اور سکولوں کی سطح پر تعلیم ہونی چاہیے کیونکہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جوان لوگوں کا اپنی جان لینے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

سانچہ:Samaritans

سانچہ:خودکشی کی طرف مائل افراد کی نشاندہی کرنے والا موبائل فون ایپ

امدادی تنظیم سمیریٹنز نے اس موبائل فون ایپ کو بند کردیا ہے جس کا مقصد ٹویٹر پر مائل بہ خودکشی افراد کی نشاندہی کرنا تھا۔ اس تنظیم نے ریڈار نامی موبائل ایپ کے بارے میں تحفظات کے باعث اسے بند کیا ہے۔ تنظیم نے ان افراد سے معافی مانگی ہے جن کو ریڈار ایپ کے باعث پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سمیریٹنز کے پالیسی ڈائریکٹر جو فرنز نے ایک بیان میں کہا ’ہم نے مزید سوچ بچار کے لیے اس ایپ کو فی الحال بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ ریڈار ایپ گذشتہ ماہ لانچ کی گئی تھی۔ یہ ایپ ٹویٹر پر مخصوص جملوں پر نظر رکھتی ہے جیسے کہ ’اکیلے رہنے سے عاجز آ گیا ہوں‘، ’اپنے آپ سے نفرت ہے‘، ’افسردہ ہوں‘، ’میری مدد کرو‘ اور ’کسی سے بات کرنی ہے‘۔ جن افراد نے اس سروس کے لیے رجسٹر کروایا ہوا ہے ان کو ایک الرٹ اس وقت ملتا تھا جب رجسٹر ہوئے افراد کو فالو کرنے والا کوئی شخص ان میں سے کوئی جملہ لکھتا تھا۔ اگرچہ ریڈار صرف ان ٹویٹس کو مانیٹر کرتا تھا جن کو سب پڑھ سکتے تھے لیکن کچھ کے لیے ان ٹویٹس کا تجزیہ پریشان کن تھا۔