خوشحال خان خٹک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
خوشحال خان خٹک

وفات: 1689ء

پشتون جنگجو ہیرو٫ شاعر اور فلسفی پشتو ۔ نواح پشاور کے قریب اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ باپ شہباز خان قبیلہ خٹک کا سردار اور مغلوں کی جانب سے علاقے کا جاگیردار تھا۔ اوائل عمر میں یوسف زئی قبیلے کے اکثر معرکوں میں شریک رہا۔ 1651ء میں باپ کے مرنے پر27 سال کی عمر میں اپنے قبیلے کا سردار بنا۔ شروع سے ھی مغلون کے وفادار تھے اور ٱپکا لشکر مغل فوج میں ھر اول دستے کی حیثیت رکھتا تھا ۔ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں اس کی شکایتیں دربار میں پہنچیں جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا اور وہ تین چار برس دہلی اور رنتھمبور کے قلعوں میں قید رہا۔ اپنے خلاف اورنگزیب کی ان شکایتوں اور قید و بند کی صعوبتوں کو خوشحال خان خٹک ایک جگہ اپنی شاعری مين اسطرح بلاوجہ قرار ديتے ھين - ”پروردہ کا دا مغلو پہ نمک يم، د اورنگ لا لاسا ہم لا غريوہ ڈ ک يم، بس ناحقہ يۓ زندان کڑم يو سو کالا، خداۓ خبردے کاپاخپل گناہ زۂ شک يم، د افغان پة ننگ م وتڑلہ تورہ، ننگيالے د زمانے خوشحال خٹک يم-“ ”اگرچہ مين مغلون کے نمک کاپروردہ ھون- ليکن اورنگ (زيب) کے ھاتون بہت غذ بناک ھون- ناحق چند سال تک مجھے زندان کيا- خدا جانتا ہے کہ مين نے کوي گناہ نہين کيا- مين نے افغان قوم کی ننگ و ناموس کی خاطر اپنی کمر سے تلوار باند لی ھے- مین زمانے بھرکا غيرت مند خوشحال خان خٹک ھون-“ پھر رہا ہو کر وطن واپس آیا۔ دل میں مغلوں کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ یوسف زئی اور ٱفريدی قبیلے کے ساتھ مل کر شاہی فوجوں پر کئی حملے کیے اور اکثر معرکوں میں مغل افواج کو زک پہنچائی۔ ويسے تو ساری زندگی جنگ و جدل اور افغان قوم کوايک کرنے کی کوشش مين گزاری تاھم اس کا آخری زمانہ بڑی مصیبت اور پریشانی میں گزار ۔ اپنی زندگی کے اس پہلوکے بارے مين ايک جگہ لکتھے ھين- ”لايو غم را زنے لاڑ نۂ وی بل راشی، لکہ زۂ پہ ورز پيدا د شور و شر يم“ ”ابھی ايک غم سے چٹھکارا نھين پاتا کہ دوسرا آ موجود ھوتا ھے٫ جيسے کہ مين بروز شور و شر پيدا ھوا ھون-“ اس نے تقریباً پنتالیس ہزار اشعار اپنی یادگارمين چھوڑے ہیں۔ 200 سے زايد کتابين ان سے منسوب ھين- جن مين سے زیادہ تر نا پيد ھين- موجود کتابون مين سے قابل ذکر باز بامہ، فضل نامہ، دستار نامہ اور فرح نامہ شامل ھين-ان کی شاعری مينتغزل سے بڑھ کر واقعاتی رنگ ہے۔ بیشتر رجزیہ اشعار ہیں۔ وہ بيک وقت صاحب تيغ و قلم، شاعر و فلسفی، افغان قوم کے راہ نما و حکيم، خودی و غيرت کے علمبر دارر و پاسدارتھے-