خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اضلاع خیبر پختونخواہ

صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی پاکستان میں خیبر پختونخوا کا قانون ساز ایوان ہے۔ یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کی گئی۔ اس ایوان کی 124 نشستیں ہیں جن میں سے 99 پر براہ راست انتخابات منعقد ہوتے ہیں جبکہ 22 نشستیں خواتین اور 3 نشستیں غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔[1]

انتظام[ترمیم]

وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے سربراہ کے طور پر ایک گورنر کو تعینات کرتی ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا 24 خیبر پختونخوا کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ منتخب شدہ اسمبلی اپنے پارلیمانی لیڈر کا انتخاب کرتی ہے جو کہ عام طور پر اکثریتی جماعت سے تعلق رکھتا ہے اور وہ صوبائی کابینہ کی مدد سے امور حکومت سرانجام دیتا ہے۔ کابینہ میں شامل ہونے کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کا رکن ہونا لازم ہے۔ ضلعی سطح پر مقامی حکومتیں کام کرتی ہیں جس کا سربراہ ضلع ناظم ہوتا ہے۔ [1]

تاریخ[ترمیم]

1901ء میں صوبہ خیبر پختونخوا کو چیف کمشنر کے زیر انتظام صوبے کا درجہ دیا گیا۔ 1932ء میں 31 سال بعد اس صوبہ کا سربراہ گورنر تسلیم کیا گیا۔ 1937ء میں حکومت ہند کا ایکٹ 1935ء صوبہ خیبر پختونخوا میں لاگو ہوا جس کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا کی قانون ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 12 مارچ 1946ء کو اس صوبائی قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس سردار بہادر خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں نوابزادہ اللہ نواز خان کو اس اسمبلی کا پہلا خطیب منتخب کیا گای اور لالا گرڈیری لال کو ایک دن بعد 13 مارچ 1946ء کو پہلا نائب خطیب منتخب کیا گیا۔ اس وقت اس اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 50 تھی۔ یہ قانون ساز اسمبلی 1951ء میں تحلیل کر دی گئی اور نشستوں کی تعداد بڑھا کر 58 کر دی گئی۔
پاکستان کے قیام کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کی قانون ساز اسمبلی میں پہلے انتخابات 15 دسمبر 1951ء کو منعقد ہوئے۔ نوابزادہ اللہ نواز خان کو ایک بار پھر اس اسمبلی کا خطیب جبکہ خان محمد فرید خان کو نائب خطیب منتخب کیا گیا۔ 3 اکتوبر 1955ء کو ون یونٹ قرار دیے جانے کے بعد پاکستان دو صوبوں میں بٹ گیا، مغربی اور مشرقی پاکستان۔ اس قانون ساز اسمبلی کی عمارت کو تب پشاور کی عدالت عالیہ قرار دے دیا گیا اور اسمبلی کا خاتمہ ہو گیا۔ 1970ء میں جب مغربی پاکستان کو ایک بار پھر تقسیم کیا گیا تو صوبہ خیبر پختونخوا کی قانون ساز اسمبلی بھی بحال کر دی گئی۔ اسمبلی کی بحالی کے بعد یہاں انتخابات منعقد ہوئے اور قانون ساز اسمبلی کو صوبائی اسمبلی کا نام دے دیا گیا۔ اس وقت اس اسمبلی میں اراکین کی تعداد 43 تھی جس میں سے دو ارکان خواتین اور صرف ایک اقلیتی ارکان تھے۔ 2 مئی 1972ء کو اس اسمبلی کا پہلا اجلاس پاکستان کا ادارہ برائے دیہی ترقی کے ہال میں منعقد ہوا۔ محمد اسلم خان خٹک کو اس اسمبلی کا خطیب اور ارباب سیف الرحمان خان کو نائب خطیب منتخب کیا گیا۔
5 جولائی 1977ء کو مارشل لاء نافذ ہونے کے بعد اس اسمبلی اور حکومت کو تحلیل کر دیا گیا۔ 28 فروری 1985ء کو صوبہ میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات منعقد کروائے گئے۔ 12 مارچ 1985ء کو حلف برداری کے لیے اجلاس کا انعقاد ہوا جبکہ 14 مارچ 1985ء کو راجہ امان اللہ خان اور احمد حسن کو خطیب اور نائب خطیب منتخب کیا گیا۔ 1987ء میں اسمبلی کی اپنی عمارت قائم ہونے کے بعد اس کو باقاعدہ طور پر دیہی ترقیاتی ادارے سے یہاں منتقل کر دیا گیا۔[2]

انتخابات[ترمیم]

2008ء کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعتوں کے طور پر ابھریں اور حکمران اتحاد قائم کیا۔

سیاسی جماعت منتخب اراکین مخصوص نشستیں کل
عوامی نیشنل پارٹی 30 8 38
پاکستان پیپلز پارٹی 16 4 20
متحدہ مجلس عمل 11 3 14
پاکستان مسلم لیگ (ن) 6 1 7
پاکستان مسلم لیگ (ق) 5 1 6
پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) 5 1 6
دوسری جماعتیں و آزاد 26 7 33
کل 99 25 124
ذریعہ:[3]

2002ء کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نے 53، عوامی نیشنل پارٹی نے 15 اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]