خیر الدین باربروسا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
خیر الدین باربروسا
c. 1478 – 4 جولائی 1546
خیرالدین باربروسا پاشا
عرفیت باربروسا
سرخ داڑھی
خیرالدین
قسم قزاق / سلطنت عثمانیہ امیر البحر
جائے پیدائش جزیرہ لسبوس
جائے وفات استنبول, سلطنت عثمانیہ
وفاداری سلطنت عثمانیہ
سرگرم c. 1500–1545
عہدہ امیر البحر
کارروائیوں کا مقام روم


خیر الدین پاشا باربروسا (پیدائش: 1475ء، انتقال: 1546ء) ایک ترک قزاق تھا جو بعد ازاں سلطنت عثمانیہ کی بحری افواج کا سربراہ مقرر ہوا اور کئی دہائیوں تک بحیرہ روم میں اپنی طاقت کی دھاک بٹھائے رکھی۔ وہ یونان کے جزیرہ مڈیلی (موجودہ لیسبوس) میں پیدا ہوا۔ اس کا انتقال استنبول میں ہوا۔ اس کا اصل نام خضر یعقوب اوغلو (خضر ابن یعقوب) تھا۔ خیر الدین کا لقب اسے عظیم عثمانی فرمانروا سلطان سلیمان قانونی نے دیا تھا۔ باربروسا کا نام اس نے اپنے بڑے بھائی بابا عروج (عروج رئیس) سے حاصل کیا تھا جو الجزائر میں ہسپانویوں کے ہاتھوں شہید ہوا تھا۔

بابا عروج کی زیر نگرانی ابتدائی زندگی[ترمیم]

خضر چار بھائیوں اسحق، عروج اور الیاس میں سے ایک تھا جو 1470ء کی دہائی میں یعقوب آغا اور ان کی عیسائی بیوی قطرینہ کے ہاں پیدا ہوا۔ چند مورخین یعقوب کو ایک سپاہی قرار دیتے ہیں جبکہ چند کا کہنا ہے کہ وہ سالونیکا کے قریب وردار کے شہر میں عثمانی فوج ینی چری کا حصہ تھا۔ ابتداء میں چاروں بھائیوں نے مشرقی بحیرہ روم میں تاجر اور جہازراں اور بعد ازاں قزاق کی حیثیت سے کام کیا جہاں ان کا ٹکراؤ اکثر و بیشتر جزیرہ رہوڈس پر موجود سینٹ جانز کے ناءٹس سے ہوتا تھا۔ ان جھڑپوں میں الیاس قتل ہوا جبکہ عروج کو گرفتار کرلیا گیا اور رہوڈز میں قید میں رکھنے کے بعد بطور غلام فروخت کردیا گیا۔ وہ غلامی کی زندگی سے فرار حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ور پہلے اٹلی اوربعد ازاں مصر پہنچا۔ جہاں وہ مملوک سلطان قانصوہ غوری سے ملاقات میں کامیاب ہوگیا جس نے عروج کو عیسائیوں کے زیر قبضہ بحیرہ روم کے جزائر پر حملے کے لئے ایک جہاز عطا کیا۔

1505ء تک عروج نے تین مزید جہاز حاصل کرلئے اور جربا کے جزیرے پر چھاؤنی قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا جس کی بدولت بحیرہ روم میں اس کارروائیوں کادائرہ مغرب کی جانب منتقل ہوگیا۔ 1504ء سے 1510ء کے دوران وہ اس وقت مشہور ہوا جب اس نے سقوط غرناطہ کے بعد عیسائیوں کے ہاتھوں اسپین سے نکالے گئے مسلمانوں کو شمالی افریقہ پہنچا۔ ہسپانوی مسلمانوں سے اس کا سلوک اتنا اچھا تھا کہ وہ ان میں بابا عروج کے نام سے مشہور ہوگیا اور یہی بابا عروج اسپین، اٹلی اور فرانس میں بگڑ کر باربروسا بن گیا۔ الجزیرہ کے لئے اسپین سے بچاؤ کاواحد راستہ عثمانی سلطنت میں ضم ہوجانا تھا اس لئے باربروسا نے الجزیرہ کو عثمانی سلطان کے سامنے پیش کردیا۔ سلطان نے الجزیرہ کو عثمانی سنجق (صوبہ) کے طور پر منظور کرلیا اور عروج کو ”پاشائے الجزیرہ“ اور ”مغربی بحیرہ روم میں بحری گورنر“ متعین کردیا۔ 1516ء میں عروج نے الجزیرہ پر قبضہ کر کرے بادشاہ بن بیٹھا۔ وہ دیگر شہروں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن 1518ء میں مقامی رہنما کی مدد کے لئے آنے والے ہسپانوی افواج کے خلاف جنگ کے دوران اپنے بھائی اسحاق سمیت ہلاک ہوگیا۔ اس کی عمر 55 سال تھی۔

خیر الدین کے ابتدائی کارنامے[ترمیم]

اٹلی کے جزیرے پر واقع باربروسا قلعہ جس کا نام خیر الدین سے موسوم ہے جس نے 1535ء میں اس قلعے کو فتح کیا

بھائی کے مارے جانے کے بعد خیر الدین نے اس کی پالیسی کو جاری رکھا اور اسپین سے مظلوم مسلمانوں کو شمالی افریقہ لاتا رہا جس کی بدولت اسے اسپین کے مخالف مسلمانوں کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوگئی۔ اس نے 1519ء میں الجزیرہ پر قبضے کی کوشش کرنے والی اسپین اور اٹلی کی مشترکہ فوج کو شکست دی۔ 1529ء میں اس نے ایک ساحلی جزیرے پر ہسپانوی قلعے پر بھی قبضہ کرلیا۔ 1530ء میں اینڈریا ڈوریا نے باربروسا کو شکست دینے کے لئے حملے کی کوشش کی لیکن باربروسا کے بحری بیڑے کی آمد سے قبل ہی ڈر کر فرار ہوگیا۔

خیرالدین بطور ایڈمرل پاشا[ترمیم]

استنبول میں آبنائے باسفورس کے ساتھ واقع ترک بحری عجائب گھر کے قریب باربروسہ کا مجسمہ

1532ء میں سلیمان اعظم نے عثمانی بحری بیڑے کی تشکیل کے لئے باربروسا کو استنبول طلب کیا۔ سلطان نے باربروسا کو بحیرہ روم کا ایڈمرل پاشا (ایڈمرل ان چیف) اور شمالی افریقہ کا بیلربے (کمانڈر ان چیف) مقرر کیا اور بحری بیڑے کی کمان اس کے سپرد کردی۔ باربروسا نے سب سے پہلے جنوبی اٹلی کے ساحلوں پر حملے کئے اور 1534ء میں تیونس پر قبضہ کرلیا اور حفصی سلطان مولائے حسن فرار ہوگیا۔ مولائے حسن نے اپنی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے چارلس پنجم سے مدد طلب کی اور اسپین اور فرانس کی ایک عظیم فوج نے 1535ء میں بونے اور مہدیہ سمیت تیونس باربروسا سے چھین لیا۔

یورپ کے متحدہ بحری بیڑے کو عبرتناک شکست[ترمیم]

جنگ پریویزا ایک یورپی مصور کی نظر میں

1537ء میں لطفی پاشا اور باربروسا نے جزائر آیونین اور جنوبی اٹلی کے خلاف ایک زبردست عثمانی فوج کی قیادت کی اور باربروسا نے سلطنت وینس سے کورفو چھین لیا جس پر فروری 1538ء میں پاپ پال سوئم نے عثمانیوں کے خلاف اتحاد تشکیل دیا جس میں پاپائے روم، اسپین، رومی سلطنت، وینس اور مالٹا کی افواج شامل تھیں لیکن ستمبر 1538ء میں باربروسا نے جنگ پریویزا میں اس مشترکہ عیسائی فوج کو زبردست شکست دی جس کی قیادت اینڈریا ڈوریا کے ہاتھوں میں تھی۔ اس فتح کی بدولت بحیرہ روم میں اگلے 33سال (1571ء میں جنگ لپانٹو تک) تک ترکوں کو مکمل برتری حاصل رہی۔

مزید فتوحات اور امن معاہدہ[ترمیم]

اگلے سال باربروسا نے وینیٹیئنس سے کاسل نووو چھین لیا جسے انہوں نے جنگ پریویزا کے بعد ترکوں سے حاصل کرلیا تھا۔ اس نے بحیرہ آیونین اور ایجیئن میں عیسائیوں کے باقی ماندہ ٹھکانوں کا بھی خاتمہ کردیا۔ بالآخر وینس نے امن معاہدے کی درخواست کی جس کے بعد 1540ء میں سلطان سلیمان اور وینس کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اکتوبر 1541ء میں چارلس پنجم نے الجزیرہ کا محاصرہ کرکے مغربی بحیرہ روم میں ہسپانوی اور عیسائی بحری بیڑے کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایک زبردست سمندری طوفان کے باعث اسے ساحل پراترنے میں شدید مشکلات پیش آئیں تاہم زمین پر لڑی گئی غیر فیصلہ کن جنگ کے بعد چارلس نے ناامید ہوکر فوج واپس بلالی۔

مغربی بحیرہ روم میں نئی مہمات[ترمیم]

استنبول کا باربروسا بلیوارڈ

1543ء میں باربروسا نے ایک عظیم بحری بیڑے کے ساتھ مغربی بحیرہ روم میں نئی مہمات کا آغاز کیا اور اٹلی اور اسپین کے جزائر اور ساحلی علاقوں پر حملے کئی۔ اس نے فرانسیسی ساحلی شہر نیس پر قبضہ کرلیا۔ اس نے اپنے بیڑے کے ہمراہ موسم سرما ٹولون میں گذارا اور اگلے موسم بہار میں اسپین اور اٹلی کے اتحادی بیڑے کو ایک مرتبہ پھر زبردست شکست دی اور ریاست ناپولی کے قلب تک حملے کئی۔ اس نے اطالوی شہر جینووا پر حملے کرنے کی دھمکی دی لیکن تین ہزار دوکات اور اپنے لیفٹیننٹ اور دوست طرغت رئیس کو رہا کرنے کے عوض حملہ سے باز رہا۔ طرغت 1540ء میں گرفتار ہونے کے بعد جینووا میں قید تھا اور ایک جہاز پر غلام کے طور پر کام کررہا تھا۔ بعد ازاں اس نے جنوبی فرانس میں اسپین کے کئی حملوں کا بھرپور جواب دیا اور 1544ء میں چارلس پنجم اور سلیمان اعظم کے درمیان معاہدے کے بعد استنبول پہنچ گیا۔

سبکدوشی اور سوانح حیات کی تحریر[ترمیم]

باربروسا 1544ء میں استنبول میں سبکدوش ہوگیا اور الجزیرہ میں اس کے صاحبزادے حسن پاشا کو جانشیں مقرر کیا گیا۔ اس نے اپنی سوانح حیات ”غزوات خیر الدین پاشا“ بھی تحریر کی جو ہاتھ سے لکھی گئی 5 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس سوانح حیات کی جلدیں آجکل توپ کاپی محل اور جامعہ استنبول کے کتب خانے میں موجود ہیں۔

انتقال[ترمیم]

خیر الدین پاشا باربروسا کا انتقال 1546ء میں استنبول میں آبنائے باسفورس کے کنارے واقع اپنے محل میں ہوا۔ اس کا مزار استنبول میں ترک بحری عجائب خانے کے قریب موجود ہے ۔ ترک بحریہ کے متعدد جہازوں کے نام اسی پررکھے گئے ہیں۔ آج بھی ترک بحریہ کا کوئی جہاز آبنائے باسفورس سے گذرتا ہے تو اس کے مقبرے کی طرف سلامی دیتا ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]