دار العلوم ندوۃ العلماء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دار العلوم ندوۃ العلماء
Mohr copy.jpg
شعار إلی الإسلامِ مِن جدید (عربی)
شعار اردو "از سرِ نو اسلام کی جانب"
سنہ تاسیس ١۳١۵ھ مطابق ١۸۹۸ء
مذہبی الحاق اسلام
محل وقوع لکھنؤاترپردیشبھارت بھارت کا پرچم
ویب سائٹ www.nadwatululama.org

جنگ آزادی 1857ء کے بعد جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے اپنے آپ کو ایک ایسے گرداب میں پایا جہاں سے نکلنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لہٰذا پوری قوم کے اندر مختلف سطحوں پر اورمختلف انداز سے نشاۃ ثانیہ کے لیے کوششیں شروع ہو گئیں۔ تاکہ کم از کم مسلمانوں کے پیدائشی حقوق کا تحفظ اورجداگانہ تشخص کو بچانے کا بندوبست کیا جا سکے۔ اس ضمن میں مکتبہ دیوبند اورعلی گڑھ مکاتب فکر کا قیام قابل ذکر ہے ۔لیکن بدقسمتی سے ان دونوں مکاتب فکر کے زعماء اورعلماء کے درمیان مختلف امور پر اختلاف رائے موجود تھا۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ دیوبند مکاتب فکر میں راسخ العقیدہ مسلمانوں کا غلبہ تھا جبکہ علی گڑھ مکتبہ فکر جدیدیت پسند اور آزاد خیال مسلمان کا گڑھ تھا۔

قیام[ترمیم]

تحریک دیوبند
Jameah Darul Uloom Deoband.jpg

اہم شخصیات

مولانا محمد قاسم نانوتوی · مولانا رشید احمد گنگوہی
مولانا حسین احمد مدنی ·
مولانا محمود حسن
مولانا شبیر احمد عثمانی ·
مولانا اشرف علی تھانوی
مولانا انور شاہ کشمیری ·
مولانا محمد الیاس کاندھلوی
مولانا عبید اللہ سندھی ·
محمد تقی عثمانی

اہم ادارے

دارالعلوم دیوبند, بھارت
مظاہر علوم سہارنپور, بھارت
دار العلوم معین الاسلام, بنگلہ دیش
دار العلوم ندوۃ العلماء, بھارت
دار العلوم کراچی, پاکستان
جامعہ علوم اسلامیہ, پاکستان
جامعہ دار العلوم زاہدان, ایران
دار العلوم لندن, انگلینڈ
دار العلوم نیویارک, ریاستہائے متحدہ
دار العلوم کیناڈا
مدرسہ انعامیہ, شمالی افریقہ

تحریکیں

تبلیغی جماعت
جمعیت علمائے ہند
جمعیت علمائے اسلام
تحریک ختم نبوت
سپاہ صحابہ
لشکر جھنگوی
طالبان

اس دوران چند علمائے کرام نے اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ دیوبند اور علی گڑھ کے درمیان جو خلیج اور دوری ہے اس کے بڑے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دونوں مکاتب فکر کے زعماء اپنی روش میں اتنے دور نکل جائیں کہ پھر ایک دوسرے کو انجان سمجھ بیٹھیں ۔ انہی خیر خواہان ِقوم نے ایک ایسے ادارے کی ضرورت شدت سے محسوس کی ، جو ان دونوں مکاتب فکر کے درمیان ایک پل اور رابطے کا سا کام دے سکے۔ لہذا اس خیال کے حامی علمائے کرام نے 1894ء میں ایک ادارہ قائم کیا اور اس کو ندوۃ العلماء کا نام دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ مولوی عبدالغفور صاحب اس خیال کے محرک تھے، لیکن بعد میں مولوی سید محمد علی صاحب نے اس کو عملی جامہ پہنایا ۔ موج کوثر کے مصنف شیخ محمد اکرم کے مطابق مولانا شبلی اور مولوی عبدالحق دہلوی نے اس ادارے کے قواعد مرتب کیے۔

اغراض و مقاصد[ترمیم]

1۔ علمائے اسلام کے باہمی اختلافات کو ختم کرنا

2۔ مسلمانوں کے لیے درست نصاب تعلیم کا وضع کرنا

جہاں تک ندوة العلماء کے اغراض و مقاصد کا تعلق تھا یہ مسلمانوں کے بہترین مفاد میں تھا اس لیے پوری قوم میں اس کی پزیرائی ہوئی۔ یہاں تک کہ سرسید احمد خان اور محسن الملک نے بھی ان کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ حقیقت میں شبلی نعمانی ندوۃ العلماء کے روح رواں تھے۔ جب اس ادارے کو برے دن دیکھنا پڑے تو شبلی نعمانی 1904ء میں اپنی ملازمت کو خیرباد کہہ کر لکھنو آئے اور ندوۃ العلماء میں نئی روح پھونک دی۔ یہ آپ ہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ندوة کا شمار امت مسلمہ کے قابل فخر اداروں میں ہونے لگا۔

ندوۃ العلماء کي كاركردگى[ترمیم]

اس ادارے نے جو مصنفین ، انشاء پرداز اور محقیقن پیدا کیے وہ ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ان میں مولانا سید سلیمان ندوی ،مولانا محمد عمران خان ندوی ازہری، نمولانامحمد رابع حسني ندوي, مولاناواضح رشيدحسني ندوي , مولانا عبدالله حسني ندوي, مولانا عبدالله عباس ندوي , مولانا سعيد الرحمن ندوي ,مولانا عبدالسلام ندوي، مولانا سید ابو الحسن ندوی، مولانا شاہ معين الدين ندوي،مولانا أبوالعرفان خان ندوي ,مولانامحمد أكرم ندوي, مولانا عبد الباري ندوي، مولانا عبد السلام قدوائي ندوي، ، مولانا محمد شہاب الدين ندوى باني فرقانيہ اكيڈمى ، سید نجیب اشرف اور مولوی ابو ظفر ریاست کرناٹک میں مولانا حافظ اقبال موٹیاندوی بھٹکلی،مولانا محمدصادق اکرمی ندوی بھٹکلی ،مولانا محمدغزالی خطیب ندوی بھٹکلی،مولانا محمد ایوب ندوی بھٹکلی مولانا محمد اقبال ندوی بھٹکلی مولانا عبد الباری ندوی بھٹکلی مولانا الیاس بھٹکلی اور مولانا فیصل بھٹکلی، مولانا محمدضیاالحق ملپاندوی بھٹکلی ، علاقۂ مرہٹواڑہ میں مولانا ریاض الدین فاروقی ندوی،مولانا صدرالحسن ندوی مدنی اسی طرح حالیہ برسوں میں اس ادارے سے فراغت حاصل کرکے مختلف میدانوں میں سرگرم فرزندان ندوہ میں مولانا انیس الرحمن ندوی اور مولانا محمد مجیب ندوی (ایڈیٹر ریڈیو کویت) كے اسمائے مبارک سر فہرست ہیں۔