داغ دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
داغ دہلوی

داغ دہلوی
تخلص داغ
پیشہ شاعر
قومیت بھارتی
صِنف غزل، قصیدہ، مخمس
موضوعات عشق
Official website

پورا نام نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25مئی 1831ءکودہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے ۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔
غدر کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پذیر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔
نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ ۔ فصیح الملک ، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ءمیں فالج کی وجہ سے حیدر آباد میں وفات پائی ۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ابتدائ زندگی: داغ دہلوی چاندنی چوک دہلی میں پیدا ھوئے _ اُٰنکے والد کو ولیم فیسر کے قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئ۔ اُس وقت داغ کی عمر۴ برس کی تھی۔ اُن کی والدہ نے مرزا فخرو سے دوسرا نکاح کر لیا تھا اسی لئے اُن کی پرورش لال قلعے میں ہوئ اور وہیں اُن کی تعلیم و تربیت ہوئ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]