دالہ (ریاضیات)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مثال دالہ کا مخطط
\begin{align}&\scriptstyle f \colon [-1,1.5] \to [-1,1.5] \\ &\textstyle x \mapsto \frac{(4x^3-6x^2+1)\sqrt{x+1}}{3-x}\end{align}
اصطلاح term

دالہ
استدلال
تفویض
تابع
ناتابع
ساحہ
حیطہ

function
argument
assign
dependent
independent
domain
range

دالہ کی مشہور زمانہ دستخطی علامت

ریاضیات میں دالہ یہ تصور ہے کہ ایک قدر (دالہ کا استدلال، یا ادخال) سے دوسری قدر (دالہ کا اخراج، یا قدر) مکمل طور پر معلوم ہو جاتی ہے۔ دالہ ہر ادخال کو صرف ایک اخراج قدر تفویض کرتی ہے۔ استدلال اور دالہ کی قدر حقیقی عدد ہو سکتے ہیں یا کسی مجموعہ کے ارکان۔ حقیقی عدد کی صورت میں اکثر اوقات دالہ کا کلیہ لکھا جا سکتا ہے، اور اس کے مخطط کی کارتیسی متناسق میں خاکہ کشی کی جا سکتی ہے۔ تصویر میں دالہ f کا کلیہ  y = f(x) = x^2

y=x2
Parabola a1.svg

ہے، جہاں x افقی محور پر ہے، اور y عمودی محور پر۔ اس دالہ کے لیے استدلال x کوئی بھی حقیقی عدد ہو سکتا ہے۔ تصویر سے ظاہر ہے کہ اس دالہ کا اخراج y غیر منفی حقیقی عدد ہوتا ہے۔

ریاضیاتی تعریف[ترمیم]

Function illustration.svg
a=f(1)
b=f(2)
b=f(3)


رسمی تعریف: ریاضیات میں دالہ f ایک قاعدہ ہے جو مجموعہ X کے ہر رکن x کو مجموعہ Y کا صرف ایک رکن f(x) تفویض کرتا ہے۔

تصویر سے ظاہر ہے کہ X کے ایک سے زیادہ ارکان کو Y کا ایک ہی رکن تفویض کیا جا سکتا ہے (مگر X کے ایک رکن کو Y کے دو ارکان تفویض کرنے کی اجازت نہیں)۔ مجموعہ X کو دالہ کا ساحہ کہا جاتا ہے۔ مجموعہ Y کے رکن f(x) کو دالہ f کی x پر قدر بولتے ہیں۔ رکن x کو دالہ f کا استدلال کہا جاتا ہے۔ ساحہ پر x کی تمام اقدار پر دالہ f سے ملنے والی مجموعہ Y پر تمام اقدار f(x) کو دالہ کا حیطہ کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ عام طور پر دالہ کا حیطہ، مجموعہ Y کا ذیلی مجموعہ ہو گا۔ علامتی طور پر لکھتے ہیں

f\colon X \to Y

یعنی f دالہ X کو Y میں لے جاتا ہے، اور

 x \mapsto f(x)

x کو f(x) نقش کرتا ہے۔

جائزہ[ترمیم]

دالہ کا علم میں کثرت استعمال کی وجہ سے کچھ رواج راہ پا گئے ہیں۔ دالہ کے ادخال کی علامت کو اکثر"ناتابع متغیر" یا استدلال کہتے ہیں، اور حرف x کی علامت سے لکھتے ہیں، یا اگر وقت کا دالہ ہو، تو حرف t کی علامت۔ اخراج کی علامت کو "تابع متغیر" یا "دالہ کی قدر" کہتے ہیں، اور اکثر حرف y کی علامت سے لکھتے ہیں۔ دالہ خود کو عموماً f کہتے ہیں، اور اسطرح علامت y=f(x) سے مراد ہے کہ دالہ f کی ادخال کا نام x ہے، اور اخراج y نامی ہے۔

Function machine box.png

دالہ کو آلہ کے طور پر دیکھنا مفید رہتا ہے۔ آلہ میں x داخل ہو، تو آلہ اسے بطور ادخال منظور کرے گا، اور دالہ f کے قاعدہ کے مطابق f(x) پیدا کرے گا، جو آلہ میں سے اخراج ہو گا۔ اس لیے ہم تخیل کر سکتے ہیں کہ ساحہ تمام ممکنہ ادخال ہیں، اور حیطہ تمام ممکنہ اخراج۔

عام زندگی میں بیشتر اوقات دالہ کا ساحہ اور حیطہ اعداد کا ذیلی مجموعہ ہوتے ہیں، اور اکثر حقیقی اعداد۔ اس صورت میں دالہ کا مخطط بنا کر تصور کرنا آسان رہتا ہے۔


دالہ‌ات کی ترکیب[ترمیم]

Function composition io.png
اصطلاح term

سِرک
افقی
دابی
کھینچی
منعکس
ترکیب
واحد الواحد
مقلوب
شناخت
استحالہ

shift
horizontal
compress
stretch
reflect
composite
one-to-one
inverse
identity
transformation


دو دالہات کی ترکیب سے نئی دالہ وجود میں آ سکتی ہے جسے ترکیب دالہ کہیں گے۔ دو دالہ f اور g ہوں، ہم f کے ساحہ میں جُز x سے f کے حیطہ میں جُز y=f(x) تک پہنچتے ہیں۔ اب اگر جُز y دالہ g کے ساحہ میں ہو تو ہم اس پر دالہ g کے استعمال سے دالہ g کے حیطہ میں جُز z=g(y) تک پہنچتے ہیں۔ نتیجہ نئی دالہ h(x)=g(f(x)) ہے، جو دالہ f کو دالہ g میں ڈالنے سے بنی ہے۔ اسے f اور g کی ترکیب کہتے ہیں اور g\circ f لکھتے ہیں۔ دالہ f کے ساحہ کو X ، دالہ f کے حیط اور دالہ g کے ساحہ کو Y ، اور دالہ g کے حیطہ کو Z، کہتے ہوئے ہم علامتی طور پر یوں لکھ سکتے ہیں:

\begin{align}
f\colon X &\to Y \\
g\colon Y &\to Z \\
 g\circ f\colon X &\to Z \\
 x &\mapsto g(f(x)).
\end{align}

خیال رہے کہ ترکیبِ دالہ g\circ f میں ترتیب اہم ہے، پہلے دالہ f استعمال ہوئی اور اس کے اخراج پر دالہ g استعمال کی گئی۔ آلاتی طور پر ترکیب کو تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ دالہ g\circ f کا ساحہ وہ تمام x\in X ہیں جن کے لیے y=f(x) دالہ g کے ساحہ میں ہیں۔ خیال رہے کہ عام طور پر g\circ f  \ne f \circ g

مقلوب دالہ[ترمیم]

تعریف: کسی دالہ کو واحد الواحد دالہ کہا جائے گا اگر یہ کوئی قدر دو بار اختیار نہ کرے، یعنی

\ f(x_1) \ne f(x_2) جب بھی x_1 \ne x_2

اگر دالہ کا ساحہ اور حیطہ حقیقی عدد ہوں، تو واحد الواحد دالہ افقی لکیر اختبار پر پورا اترے گی۔

اگر f واحد الواحد دالہ ہے جس کا ساحہ X اور حیطہ Y ہے، تو اس کی مقلوب دالہ f^{-1} کا ساحہ Y اور حیطہ X ہو گا، اور درج ذیل خاصے سے تعریف ہو گی

f^{-1}(y) = x  \iff  f(x)=y

کسی بھی y\in Y کے لیے۔ (یاد رہے کہ f^{-1} سے مراد \frac{1}{f} ہرگز نہیں۔ \frac{1}{f(x)} کے لیے \ [f(x)]^{-1} کی علامت استعمال ہوتی ہے۔)

شناخت دالہ[ترمیم]

ایسی دالہ جو مجموعہ X کے رکن x کو x ہی تفویض کرے کو شناخت دالہ کہتے ہیں، اور عموماً I_X لکھتے ہیں:

I_X(x)=x

واحد الواحد دالہ f جس کا ساحہ X ہو، کے لیے

 (f \circ f^{-1})(x) =f(f^{-1}(x)) =(f^{-1} \circ f)(x) = f^{-1}(f(x)) = I_X(x) = x

دالہ کا استحالہ[ترمیم]

اگر دالہ کا ساحہ اور حیطہ دونوں حقیقی اعداد ہوں، یعنی y=f(x), \, x\in \mathbb{R},\, y \in \mathbb{R}، تو پھر دالہ کا مخطط بنایا جا سکتا ہے اور اس کی استحالہ خصوصیت پڑھی جا سکتی ہیں۔ ذیل میں c حقیقی عدد ہے:

Function horizontal shift.svg
Function compress stretch.svg

افقی سرکنا[ترمیم]

  • اگر c>0 ہو، تو دالہ f(x-c)، دالہ f(x) کی دائیں سرکی صورت ہے۔
  • اگر c>0 ہو، تو دالہ f(x+c)، دالہ f(x) کی بائیں سرکی صورت ہے۔

Function reflection vertical axis.svg

منعکس[ترمیم]

  • دالہ f(x) کو عمودی دھرا کے حوالہ سے منعکس کرنے سے دالہ f(-x) بنتا ہے۔


کھینچنا اور دابنا[ترمیم]

  • اگر c>1 ہو، تو دالہ f(cx) ، دالہ f(x) کی اُفقی دابی صورت ہے۔
  • اگر c>1 ہو، تو دالہ f\left(\frac{x}{c}\right) ، دالہ f(x) کی اُفقی کھینچی صورت ہے۔


E=mc2     اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے     ریاضی علامات