دریائے فرات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دریائے فرات
دریائے فرات و دجلہ
دریائے فرات و دجلہ
آغاز مشرقی ترکی
دہانہ شط العرب
میدان ممالک ترکی، شام،اردن، کویت، عراق
لمبائی 2,800 کلومیٹر
منبع کی بلندی 4،500 میٹر
اوسط بہاؤ 818 مکعب میٹر فی سیکنڈ
دریائی میدان کا رقبہ 765,831 مربع کلومیٹر

فرات بین النہرین (میسوپوٹیمیا) کو تشکیل دینےوالےدو دریائوں میں سے ایک ہے، دوسرےدریا کا نام دجلہ ہے۔

نام[ترمیم]

فرات کا نام قدیم فارسی کےلفظ افراتو سےنکلا ہےجو آوستان کےلفظ hu-perethuua کا ماخذ ہے ۔ چند ماہرین کا کہنا ہےکہ فرات کا لفظ کرد زبان سےنکلا ہے۔ کرد زبان میں فر کا مطلب چوڑا، ری کا مطلب بہتا پانی اور ہات کا مطلب بہنا ہےاس طرح فرریہات کا مطلب وسیع پیمانے پر بہتا پانی ہوا۔ کرد زبان میں دریا کا جدید نام فرات اسی پرانےلفظ سےنکلا ہے۔

دریا کا منبع اور سفر[ترمیم]

دریائےفرات تقریباً دو ہزار 780 کلومیٹر (ایک ہزار730میل) طویل ہے۔ یہ دو شاخوں کارا (مغربی فرات) اور مراد (مشرقی فرات) سےمل کر تشکیل پاتا ہے۔ کارا موجودہ مشرقی ترکی میں ارضروم کےشمال میں آرمینیائی سطح مرتفع سےجبکہ مراد جھیل وان کےشمال میں کوہ ارارات کےجنوب مغرب سےنکلتا ہے۔ دریائےفرات کھائیوں اور گھاٹیوں میں سےہوتا ہوا جنوب مشرقی شام سے عراق میں داخل ہوتا ہے۔ خبور اور بلخ دریا مشرقی شام میں دریائےفرات میں گرتے ہیں۔ اس سے نیچے آتے ہوئے دریائے فرات میں کوئی مزید دریا نہیں گرتا۔ جنوبی عراق کے شہر بصرہ کےشمال میں دریائےفرات دریائے دجلہ میں گرتےہوئے شط العرب نامی ڈیلٹا بناتا ہےاور دونوں دریا خلیج فارس میں گرتےہیں۔ اس وسیع ڈیلٹا کےباعث یہ ایک بہت بڑے دلدلی علاقےکی صورت اختیار کرگیا ہے۔

دریائے فرات

احادیث میں ذکر[ترمیم]

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث میں دریائے فرات سونے کےخزانے یا پہاڑ کا ذکر کیا گیا ہے۔[حوالہ درکار]

مزید دیکھیے[ترمیم]