دو قومی نظریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

دو قومی نظریہ (انگریزی: Two Nation Theory) مسلمانوں کے ہندوؤں سے علیحدہ تشخص کا نظریہ ہے

فہرست

تعارف [ترمیم]

جنگ آزادی 1857ء کے دس سال بعد علی گڑھ مکتبہ فکر کے بانی سرسید احمد خان نے ہندی اردو جھگڑے کے باعث 1867ء میں جو نظریہ پیش کیا ، اسے ہم دو قومی نظریے کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نظریے کی آسان تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ اس کے مطابق نہ صرف ہندوستان کے متحدہ قومیت کے نظرئیے کو مسترد کیا گیا بلکہ ہندوستان ہی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو علیحدہ علیحدہ اورکامل قومیں قرار دے دی گئیں۔ انڈین نیشنل ازم پر یقین رکھنے والوں کے لیے دو قومی نظریہ صور اسرافیل بن کر گونجا ۔ ہماری شاہراہ آزادی پر دو قومی نظریہ وہ پہلا سنگ میل ہے جسے مشعل راہ بنا کر مسلمانان ہند بالآخر 1947ء میں اپنے منزل مقصد کو پانے میں سرخرو ہوئے۔lp;fmb, bujm,g ,gbhnjk,g

دو قومی نظریے کا پس منظر [ترمیم]

جنگ آزادی 1857ء کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ ہندوؤں نے ایک اور مسئلے کو لاکھڑا کیا۔ یہ جھگڑا ہندی اردو جھگڑے 1867ء کے نام سے موسوم ہے۔ 1867ء میں بنارس کے ہندوؤں نے لسانی تحریک شروع کر دی جس کا مقصد اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری اور عدالتی زبان کے طور پر رائج کرنا تھا۔ اور عربی رسم الخط کی جگہ دیوناگری رسم الخط کو اپنانا تھا۔ اس جنونی اور لسانی تحریک کا صدر دفتر آلہ آباد میں قائم کیاگیا جبکہ پورے ملک میں ہندوؤں نے کئی ایک ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دیں، تاکہ پورے ہندوستان کے تمام ہندوؤں کو اس تحریک میں شامل کیا جائے اور اس کے مقاصد کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔

اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو اردو کے خلاف ہندوؤں کی تحریک ایک ناقابل فہم اور غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔ کیونکہ اردو کو جنوبی ایشیاء میں نہ صرف متعارف کرانے اور ہر دلعزیز بنانے بلکہ اسے بام عروج پر پہچانے کے لیے انہوں نے وہی کردار ادا کیا تھا جو خود مسلمانوں کا تھا۔ اگر اردو کا کوئی قصور تھا بھی تو صرفاتنا کہ اس نے مسلمانوں کے شاندار ماضی ان کے بہادروں ، عالموں اولیاء کرام او رسپہ سالاروں کے کارناموں اورکرداروں کو اپنے اصناف اور دبستانوں میں محفوظ کر لیا ہے۔ کئی مسلمان رہنماؤں نے ہندوؤں کو سمجھانے کی کوشش کی ان پر واضح کیا گیا کہ اردو انڈو اسلامک آرٹ کا ایک لازمی جزو بن گئی ہے۔ کوئی لاکھ بار چاہے تو جنوبی ایشیاء کی ثقافتی ورثے سے اس انمول ہیرے کو نکال باہر نہیں کرسکتے۔ مگران دلائل کا ہندوؤں پر کچھ اثر نہ ہوا سرسید احمدخان جو ان دونوں خود بنارس میں تھے بھی اپنی تمام تر مصالحتی کوششوں میں بری طرح ناکام رہے کیونکہ سرسید ہی کے قائم کردہ سائینٹیفک سوسائٹی آف انڈیا کے ہندو اراکین بھی اردو کے خلاف تحریک میں پیش پیش تھے۔ ہندی اور اردو کے درمیان اس قضیے کا نتیجہ بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات کی صورت میں برآمد ہوا۔ ثقافتوں کے اس ٹھکراؤ نے سرسید کے خیالات میں ایک اورانقلاب برپا کر دیا۔

دو قومی نظریہ [ترمیم]

ایک دن بنارس کے چیف کلکٹر سکسپئیر سے ہندی اردو جھگڑے سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے سرسید احمد خان نے اپنا مشہور زمانہ دو قومی نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا

“Now I am convinced that both these communities will not join whole heartedly in any thing. Hostility between the two communities will increase immensely in the future. He who lives will see.”

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سرسید احمد خان ہندی اردو جھگڑے سے پہلے ہندو مسلم اتحاد کے بڑے علمبردار تھے۔ اور متحدہ قومیت کے حامی تھے لیکن اس جھگڑے کے باعث ان کو اپنے سیاسی نظریات یکسر تبدیل کرنا پڑے۔ ہندو۔ مسلم اتحاد کی بجائے اب وہ انگریز مسلم اتحاد کے داعی بن گئے۔ اور متحدہ قومیت کے بجائے ہندوستان میں مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کے عظیم پیامبر بن کر ابھرے

سرسید احمد خان کے بعض سوانح نگاروں کے مطابق اس جھگڑے سے پہلے سرسید Idealistتھے اور Idealism پر یقین رکھتے تھے لیکن اس جھگڑے نے ان کو Realistبنا دیا اور اب وہ Realism کے پیکر بن کر سامنے آئے۔ یہ تھا وہ جھگڑا جس نے ہندوستان میں متحدہ قومیت کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان لا کھڑا کیا۔

یہ تھا وہ جھگڑا جس نے ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت کو طشت ازبام کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندی اردو جھگڑے کی صورت میں ہم ان دو مختلف ثقافتوں کا ٹھکراؤ دیکھتے ہیں جو باوجود اس حقیقت کے کہ صدیوں تک ایک ہی خطے میں پروان چڑھی تھیں لیکن ریل کی دو پٹریوں کی طرح یا بجلی کے ایک ہی کیبل کے اندر دو تاروں کی طرح اور یا پھر ندی کے دو کناروں کی طرح نہ کبھی ماضٰ میں آپس میں گھل مل گئے اور نہ کبھی مستقبل میں ان کے گھل مل جانے کا کوئی امکان تھا۔

علی گڑھ اور دو قومی نظریہ [ترمیم]

مکتبہ علی گڑھ کے قائدین نے دو قومی نظرئیے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ان کا استدلال تھا کہ دو قومی نظرئیے ہی کی بنیاد پر مسلمانان ہند اپنے دائمی حلیفوں کی دائمی غلامی سے بچا سکتے ہیں۔ اس نظریے کے حامی راہنماؤں نے 1906ء میں نہ صرف شملہ وفد کو منظم کیا بلکہ آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے مسلمانان ہند کے لیے ایک الگ نمائندہ سیاسی جماعت بھی قائم کر دی

مسلم لیگ اوردو قومی نظریہ [ترمیم]

1906ء سے 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست کا مرکز دو قومی نظریہ ہی رہا ہے۔ اس ضمن میں آل انڈیا نیشنل کانگریس ، ہندو مہا سبھا دیگر ہندو تنظمیں اورہندو رہنما اپنی تمام تر کوششوں ، حربوں اور چالوں میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قائدین کو دو قومی نظریے سے برگشتہ کیا جاسکے اور اس نظریے کو غلط مفروضے کے طور پر پیش کیا جائے سکے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔

دو قومی نظریہ اور اقبال [ترمیم]

یورپ کی سیر ، یورپ میں مطالعہ اورمسجد قرطبہ میں اذان دینے کے بعد ڈاکٹر علامہ اقبال نے عملی سیاست میں سرگرمی سے حصہ لینا شروع کیا۔ تو آپ کے سیاسی نظریات سامنے آئے ۔ 1930ء میں آلہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اکیسویں سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آپ نے نہ صرف دو قومی نظرئیے کی کھل کر وضاحت کی بلکہ اسی نظرئیے کی بنیاد پر آپ نے مسلمانان ہند کی ہندوستان میں ایک الگ مملکت کے قیام کی پیشن گوئی بھی کر دی۔ دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے دوران آپ نے محمد علی جناح سے کئی ملاقاتیں کیں جن کا مقصد دو قومی نظرئیے ہی کی بنیاد پر مسلمانان ہند کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قابل قبول حل تلاش کرنا تھا۔ 1936ء سے 1938ء تک آپ نے قائداعظم کو جو مکتوبات بھیجے ہیں ان میں بھی دو قومی نظرئیے کا عکس صاف اور نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ دو قومی نظرئیے کی تشریح کرتے ہوئے اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

دو قومی نظریہ اور قائداعظم [ترمیم]

بانی پاکستان دو قومی نظرئیے کے سب سے بڑے علمبردار رہے ہیں آپ نے نہ صرف آل انڈیا نیشنل کانگریس کے تا حیات صدر بننے کی پیشکش کو مسترد کیا بلکہ علمائے دیوبند اورمسلم نیشنلسٹ رہنماؤں کی مخالفت بھی مول لی۔ لیکن دو قومی نظرئیے کی صداقت پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے پاکستان کا مقدمہ دو قومی نظرئیے ہی کی بنیاد پر لڑا اور اسی بنیاد پر ہی آل انڈیا سلم لیگ کو ہندوستان کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں آباد مسلمانوں کی واحد نمائندہ اور سیاسی جماعت منوائی ۔ دو قومی نظرئیے کو نظریہ پاکستان میں منتقل کرنے کا سہرا آپ ہی کو جاتا ہے۔