دھوپ کنارے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دھوپ کنارے
نوعیت ڈرامہ
تحریر حسینہ معین
ہدایات ساحرہ کاظمی
نمایاں اداکار راحت کاظمی، مرینہ خان، ساجد حسن، قاضی واجد، بدر خلیل، ارشد محمود، کہکشاں اعوان، عشرت ہاشمی، عذرا شیروانی، حمید وائیں
تھیم موسیقی ارشد محمود
نشر پاکستان
اصل زبان اردو
اقساط 13
تیاری
مقام کراچی
دورانیہ 55 منٹ
پروڈکشن ادارہ پی ٹی وی کراچی سینٹر
نشریات
اصل چینل پاکستان ٹیلی وژن PTV
اصل نشریات 1987

سلسلۂ ناٹک دھوپ کنارے پی ٹی وی پر 1987ء کے دور میں پیش کیا جانے والا ایک ڈرامہ ہے ۔ جو ایک سینئر ڈاکٹر احمر اور ٹرینی ڈاکٹر لڑکی زویا کے حالات کے گھر گھومتی ہے ۔ اس ڈرامے کی مصنفہ حسینہ معین تھیں اور ہدایات ساحرہ کاظمی کی ۔ ڈرامہ پی ٹی وی کے عہد زریں کے یادگار تخلیقات میں سے ایک ہے ۔

خاکہ[ترمیم]

بنیادی طور پر یہ ڈرامہ دو ڈاکٹروں (مرینہ خان اور راحت کاظمی) کی بے نام محبت کے گرد گھومتا ہے جو محبت کے ساتھ ساتھ ایک اور انجانے رشتے میں بھی بندھے ہوتے ہیں جس کا علم ان دونوں کو نہیں ہوتا۔ جب دونوں کو اس انجانے رشتے کا علم ہوتا ہے تو یہ انکے لیے انتہائی دھچکے کا سبب بنتا ہے۔

ڈرامہ اپنا آغاز بہت سُست رفتاری سے کرتا ہے تاہم جلد ہی یہ اپنی مضبوط کہانی کے باعث دیکھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ [1] ڈرامے میں سنجیدہ کہانی کے ساتھ مزاح کا بھی عنصر شامل تھا ۔ حمید وائن اور ساجد حسن نے مزاح کے ماحول کو بھرپور بنایا ۔

کردار[ترمیم]

  • ڈاکٹر احمر انصاری
  • ڈاکٹر زویا علی خان
  • انجی
  • دادی
  • ممی
  • ڈاکٹر عرفان
  • ڈاکٹر شینا کرامت
  • فضیلت بی بی

موسیقی[ترمیم]

اس ڈرامے کے لیے حسن اکبر کمال کی لکھی ہوئی نظم 'ہنسی کھنکتی ہوئی' جس کے لئے دھنیں ارشد محمود نے ترتیب دیں اور نیرہ نور نے اسے گایا۔

تاثرات[ترمیم]

بھارتی رودبار سونی ٹی وی نے 25سال بعد ”کچھ تو لوگ کہیں گے “کے نام سے پاکستانی ڈرامہ سلسلہ”دھوپ کنارے“کا چربہ بنایا۔ [3]


حوالہ جات[ترمیم]