دہریت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

لفظ دہریت اپنے لغتی معنوں کے اعتبار سے اور اسلامی اصطلاح میں بھی ایک ایسے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے کہ جب کوئی خالق کی تخلیق سے انکاری ہو اور زمان (وقت) کی ازلی اور ابدی صفت کا قائل ہو؛ یہ مفہوم ہی لفظ دہریت کا وہ مفہوم ہے کہ جو قرآن کی آیات سے ارتقا پاکر اور مسلم فلاسفہ و علماء کی متعدد تشریحات کے بعد خاصے وسیع معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے اور اسکے تخلیق سے انکاری مفہوم سے منسلک ہونے کی وجہ سے مذہب سے انکاری ہونے کے معنوں میں بھی استعمال میں دیکھا جاتا ہے؛ اسے عموماً انگریزی میں atheism کے متبادل لکھ دیا جاتا ہے جبکہ لغتی معنوں میں atheism کا درست اردو ترجمہ لامذہبیت (یا فارسی عبارت میں ناخدائی) کا آتا ہے؛ لفظ دہریت بذات خود secularism اور یا materialism سے زیادہ نزدیک ہے۔ لفظ دہریت سے ہی اسکے شخصی مستعملات یعنی دہری اور دہریہ کے الفاظ بھی ماخوذ کیۓ جاتے ہیں دہری بعض اوقات صفت کس ساتھ ساتھ اسم کی صورت میں آتا ہے؛ اور ان ماخوذ الفاظ سے مراد دہریت سے تعلق کی ہوتی ہے یعنی دہریت کی حالت میں مبتلا شخص دہریہ کہلایا جاتا ہے اور اسکی جمع دہریون کی معنع جاتی ہے۔

لفظ کا قرآنی ماخذ[ترمیم]

لفظ دھر قرآن کی سورۃ الدھر (76) کی آیت ایک میں ایسے وقت کے معنوں میں آیا ہے کہ جو عرصے تک پھیلا ہوا یعنی ایک زمانہ ہو[1] اور اس آیت میں انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ جب اسکا کوئی وجود نہیں تھا، یعنی اسکی تشریح کے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی اللہ کی جانب سے تخلیق کی گئی یا یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ اسکی ازلی حیثیت کچھ نا تھی[2] اسکے علاوہ قرآن کی پینتالیسویں سورۃ الجاثیہ کی آیت 24 میں دھر کا لفظ اسی تخلیقی نوعیت کی وضاحت میں آتا ہے کہ ------ تـــرجـــمہ: اور کہتے ہیں یہ لوگ کہ نہیں ہے زندگی مگر یہی ہماری دنیاوی زندگی۔ (یہیں) مرتے ہیں ہم اور زندہ رہتے ہیں اور یہیں ہلاک کرتی ہمیں مگر گردشِ ایام (الدھر)۔ حالانکہ نہیں ہے انہیں اس بات کا ذرا بھی علم۔ یہ محض گمان سے کام لیتے ہیں (قرآن 45:24) ------ مذکورہ بالا آیت کے عربی متن میں الدھر کا لفظ گردشِ ایام کی جگہ آیا ہے اور واضح طور پر اس تصور کی نفی کی جارہی ہے کہ وقت یا زمان کو ازلی یا لاتخلیقی و لافانی کہا جاۓ اور یہ لاتخلیقی و لافانی حیثیت صرف خالق کو حاصل ہے جس نے زمان و مکان کو پیدا کیا؛ یہی وہ مقام ہے کہ جہاں سے لفظ دھریت اور پھر دھریہ وجود میں آتے ہیں یعنی وہ کیفیت کہ جو خدا کو حاصل ہے اگر اسکو کسی اور شۓ (جاندار یا بے جان) جیسے وقت کے لیۓ اختیار کیا جاۓ تو گویا وقت کو خدا کی خصوصیات سے مماثل کیا گیا اور اسی عقیدہ کو دھریت اور اسکے ماننے والے کو دھریہ کہا جانے لگا جو کہ اپنے مادہ پرستی کے مفہوم میں بہت نزدیک ہے۔

وسعت اور فلسفہ[ترمیم]

قرآن میں دھر کا لفظ (جیسا کہ اوپر بیان ہوا) سورۃ الدھر (سورۃ الانسان) میں آیا اور پھر سورۃ الجاثیہ میں یہ مفہوم اپنے سیاق و سباق کے حوالے سے گمراہ اور غیر خدائی لوگوں کے لیۓ استعمال ہوا اور یہی تصور ہے کہ جس نے لفظ دھر کو اسکے خاصے جداگانہ اور فلسفیانہ مفہوم میں دھریت کے معنی دیۓ۔ مسلم فلسفی البداوی نے دھر کے مفہوم میں وہ زمان و مکاں (space of time) بیان کیۓ کہ جس میں یہ عالم پایا جاتا ہے۔ امام غزالی (1058ء تا 1111ء) نے اپنی تصنیف تھافت الفلاسفۃ (The Incoherence of the Philosophers) میں بھی اسی دھریت کے مفہوم کا تذکرہ لکھا ہے۔ مسلم سائنسدان اور فلسفی، الجاحظ نے اپنی کتاب کتاب الحیوان میں لفظ دھریت کو خاصی عمومیت دیتے ہوۓ اسے ایسے شخص کے لیۓ اختیار کیا ہے کہ جو رب کا منکر ہو، تمام تخلیق، جزاء اور سزا کا انکاری ہو اور اپنی خواہشات کا پیروکار ہو[3] یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اپنی پہلے مفہوم میں یہ اصطلاح بنیادی طور پر ایک ایسے شخص کے لیۓ یا عقیدے کے لیۓ آتی ہے کہ جو وقت کی لافانی حیثیت کو مانتا ہو اور اسکی کسی خالق کے زریعے تخلیق کا انکاری ہو، پھر یہ مفہوم پھیل کر تمام اقسام کے خدا کے انکاری عقائد تک استعمال ہونے لگا، اور بعض اوقات اسی مفہوم کو چند ایسے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے کہ جس میں مذہب سے ہٹاؤ پایا جاتا ہو۔ یعنی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ دھریہ ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ جو(ماضی اور مستقبل دونوں جانب) دنیا کی لافانیت کا قائل ہو اور (وسیع مفہوم میں) موت (death) کے بعد کسی اور صورت یا کسی اور دنیا میں دوسری زندگی (life) کا انکاری ہو اور دوسرے یہ کہ لفظ دھریت ایسے معنوں میں بھی مستعمل دیکھا گیا ہے کہ جو بنیادی طور پر الگ مفہوم رکھتے ہیں یعنی کہ اپنے عقیدے سے انکار تو نہیں مگر ہٹاؤ یا انحراف (deviation) کرنے کے معنوں میں بھی دیکھا جاتا ہے؛ مسلم علماء اس انحراف کرنے کی کیفیت کے لیۓ ایک اور اصطلاح استعمال کرتے ہیں جسکو الحاد (apostasy) کہا جاتا ہے، الحاد کرنے والے کو ملحد کہا جاتا ہے جبکہ خود الحاد کا لفظ انحراف کے معنوں میں استعمال کرنے کیوجہ یہ ہے کہ یہ لفظ عربی زبان کے لحد (deviate/grave) سے نکلا ہے؛ لحد ، قبر کی اس دراڑ کو کہا جاتا ہے کہ جو درمیان سے الگ ہو جاتی ہے یعنی ہٹاؤ یا انحراف کر جاتی ہے۔ اسلامی اصطلاح میں ملحد فی الدین ایسے ہی شخص کے لیۓ آتا ہے کہ جو سچی (یعنی اسلام کی اصل تعلیمات) سے انحراف کرتا ہو اور ایسی باتیں اور خیالات کو متعارف کرتا ہو کہ جو اصل مذہب کی تعلیمات سے ثابت نا ہوں (ایسی صورت میں بعض اوقات بدعت یعنی دین میں اختراع یا inovation) کی اصطلاح بھی دیکھنے میں آتی ہے جبکہ اس کے برخلاف دہریہ اسکو کہا جاتا ہے کہ جو خدا پر یقین ہی نا رکھتا ہو اور دنیا کی لافانیت کا قائل ہو باالفاظ دیگر لامذہب ہو۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

دہریہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Sura 76 Aya 1 In Urdu (آسان قرآن) and In English
  2. ^ Moududi's commentary on Quran
  3. ^ Description of dahriyya at Muslim philosophy