دہشت پر جنگ

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

امریکی صدر جارج بش نے 2001ء میں امریکی ٹریڈ سنٹر پر حملے کو جواز بنا کر "دہشت گردی کے خلاف جنگ" (war on terror) کا اعلان کیا۔ اس جنگ کا پہلا نشانہ افغانستان بنا۔ اس کے بعد عراق۔ شروع ہی میں امریکی صدر جارج بش نے اس جنگ کو صلیبی جنگ (Crusade war) بھی کہا جس سے اس کی اصل نیت واضح ہوتی ہے اگرچہ بعد میں اس لفظ کو استعمال نہیں کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ دو تہذیبوں کی جنگ نہیں ہے۔ [1]

فہرست

[ترمیم] نو گیارہ

11 ستمبر 2001ء کو دو مسافر بردار طیارے نیویارک میں واقع عالمی تجارتی مرکز (ورلڈ ٹریڈ سینٹر ٹاورز) کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا گئے، جس سے یہ مینار زمین بوس ہو گئے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق طیاروں کو فضا میں اغوا کر کے جان بوجھ کر عمارتوں سے ٹکرایا گیا اور اس کی ذمہ داری القاعدہ نامی تنظیم کے سر ڈالی گئی۔ اس واقع کو امریکی ذرائع ابلاغ نے 9/11 (نائن الیون) کا نام دیا۔ تاہم ابھی تک غیرجانبدار ذرائع سے اس دن کے حالات و واقعات کی مکمل و درست تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔ بہت سے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔[2] امریکی اس معاملے میں حقیقت سے بالا ہو چکے ہیں۔ چنانچہ امریکی صدر کے ایلچی کارل روو کا بیان ہے کہ

"ہم اب ایک بادشاہت ہیں ۔۔ ہم اپنی حقیقت خود بناتے ہیں۔"
we're an empire now – we create our own reality

[ترمیم] جنگیں

مکمل مضمون کے لئے دیکھئے: جنگ افغانستان 2002ء
مکمل مضمون کے لئے دیکھئے: سقوط بغداد 2003ء
Apache-killing-Iraq.avi.ogg
امریکی اپاشی جنگی بالگرد فضا سے ایک پیدل عراقی شہری کو قتل کر رہا ہے۔

9/11 کو جواز بنا کر افغانستان اور عراق پر امریکہ اور اس کے حواریوں نے جنگ مسلط کی۔ افغانستان سب سے پہلے نشانہ بنا۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباً تمام مغربی ممالک امریکہ کے حواری بن کر شامل ہو گئے۔ ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔ اس کاروائی میں نیٹو فوجوں نے ہوائی طاقت کا بےشمار استعمال کرتے ہوئے فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہوئے انگنت بم افغانستان کے علاقہ پر گرائے۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج انوکھے انداز سے جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر امریکی فوجی فائرنگ کی زد میں آ جائیں تو فوراً بمبار لڑاکا ہوائی جہازوں کی مدد مانگ لیتے ہیں۔ لڑاکا جہاز سارے علاقے پر اندھا دھند بمباری کر کے سینکڑوں رہائشیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔[3] ویڈٰیو گیم کی طرح لوگوں کو فضا سے نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔[4] نئے امریکی صدر بارک اوبامہ نے 2009 میں جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے خلاف جنگ تیز کرنے کے لیے میرین برگیڈ روانہ کیا۔[5]

[ترمیم] اغوا اور تشدد

بہت سے لوگوں کو دنیا کے مختلف حصوں سے اغوا کر کے امریکہ نے کیوبا کی خلیج گوانتانامو میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کے زندانوں میں قید کر رکھا ہے۔ یہ قید خانہ امریکی نظامِ انصاف کے ماتحت نہیں آتا بلکہ امریکی فوج اور خفیہ ادارے اسے چلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ CIA نے یورپ کے کئی ممالک میں نجی جیل قائم کیے جو ہر طرح کی عدالتی نگرانی سے آزاد تھے۔ اس کے علاوہ بحری‌جہازوں میں بھی اغواشدگان کو قید کیا گیا۔[6] یہاں قیدوں پر اذیت ناک تشدد (torture) کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ "پانی تختہ" کی اذیت بھی استعمال کی گئ جس کی اجازت امریکی حکومت کے بالائی ایوانوں نے دی۔[7] [8] صلیب احمر (ریڈکراس) نے اس کی تصدیق کی ہے کہ امریکی جنیوا معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قیدیوں پر تشدد میں ملوث رہے ہیں۔[9] FBI کے کارندوں نے گوتانمو میں امریکی فوجی اور CIA کے ہاتھوں ہونے والے تشدد پر ایک ملف کھولا جس کا عنوان "جنگی جرائم" تھا۔[10] 2008ء میں بارک اوبامہ امریکہ کا صدر بنا، تو اس نے گوتانامو کا عقوبت خانہ بند کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر امریکی تشدد طریقوں کی تفصیل اخبارات کو جاری کی۔ کہا کہ تشدد کے جرائم پر کسی امریکی اہلکار کو سزاوار نہیں ٹھیڑایا جائے گا۔[11] اگست 2009ء میں ACLU نے امریکی حکومت سے بگرام ہوائی اڈہ کے شمال میں مبحوس 600 سے زائد قیدیوں کے بارے استفسار کیا، اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ جگہ نیا گوتوانمو عقوبت خانہ بن چکا ہے۔[12]

برطانوی فوج بھی عراقی شہریوں کے اغوا، تششدد، اور قتل میں ملوث رہی۔[13]

[ترمیم] تجارتی ادارے اور تجارتی فوج

امریکی سرکاری اداروں اور فوج نے بہت سے جنگی کام تجارتی اداروں کو ٹھیکے پر دے دیے۔ اس میں سب سے زیادہ بدمشہور کمپنی بلیک‌واٹر ہے جس کے امریکی نائب صدر ڈک چینی سے تعلقات تھے۔ تجارتی کمپنی کو اسی کام کے پانچ گنا پیسے ملتے جو کہ ایک سرکاری ملازم کو ملتے۔ CIA نے بھی تجارتی اداروں کو تشدد اور جیل چلانے کے ٹھیکے دیے۔ مشہور ہوائی جہاز کمپنی بوئنگ بھی اس کام میں ملوث رہی۔ ان کمپنیوں کو عدالتی کاروائی سے بچانے کے لیے امریکی حکومتیں جارج بش اور بارک اوبامہ کی صدارت میں سینہ سپر رہیں۔[14]


[ترمیم] اندرون ملک انسانی حقوق اور آزادیاں

اس جنگ کی آڑ لے کر امریکی حکومت نے اپنے عوام کی آزادیاں بھی سلب کرنا شروع کر دیں۔ امریکی کانگریس نے امریکی عوام پر وسیع پیمانے کی جاسوسی کی منظوری دی۔[15]اس قانون سے امریکی آئین کی چوتھی ترمیم عضو معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایک امریکی شہری ہوزے پاڈیلا پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے میں ناکامی کے بعد فلوریڈا کی ایک jury سے چھوٹے موٹے دہشت گردی الزامات میں سزا کا فیصلہ حاصل کر لیا۔[16]فلوریڈا یونیوسٹی پروفیسر سمیع کے خلاف دہشت الزامات میں عدالتی ناکامی کے بعد امریکی انتظامیہ نے اسے ملک بَدر کر دیا۔[17] امریکہ میں مقیم 5000 مسلمان افراد کو بغیر کسی الزام کے جیل میں بند کر دیا گیا۔[18] امریکی ایف۔بی۔آئی۔ باقاعدہ مسلمانوں کو پھانسنے کے لیے عادی مجرموں کو بھاری رقوم دیتی ہے جو باتوں باتوں میں نوجوان مسلمانوں سے "قابلِ اعتراض" جملے کہلوا لیتے ہیں جس پر امریکی عدالتوں سے آسانی سے سزا کا فیصلہ حاصل کر لیا جاتا ہے۔[19] کینیڈا کے خفیہ ادارے شہریوں کو غیرقانونی طور پر دوسرے ممالک کے حوالے کرنے میں ملوث رہیں۔[20]


2006ء میں امریکی کانگریس نے سرکار کی طرف سے قید کو عدالت میں اعتراض کا بنیادی انسانی حق (Habeas Corpus) معطل کر دیا۔[21] دوسرے مغربی ممالک میں بھی آئینی آزادیاں سلب کرنے کے قانون بنائے گئے جن کی توثیق عدالتی فیصلوں سے ہوئی۔[22]

[ترمیم] "دہشت گردی" کی اصطلاح پر اجارہ داری

عالمی سیاست میں "terror" اور "terrorist" کے الفاظ امریکہ اور مغربی طاقتوں کا عملی طور پر نشان تجارہ بن چکے ہیں۔ جس کو چاہیں "دہشت گرد" قرار دے دیں، اور کوئی دوسرا ان الفاظ کو اپنے مرضی سے استعمال نہیں کر سکتا۔ اس تدبیر کے تحت پاکستان کے انسداد دہشت گردی کا قانون [23] جس میں اجتماعی آبروریزی کو دہشت گردی میں شامل کیا گیا تھا، کو امریکی فیصلے کے مطابق ختم کر دیا گیا کیونکہ دہشت گردی کی تعریف امریکی مرضی سے ہی ہو سکتی ہے۔ اگست 2007ء میں امریکہ نے ایران کی ایک سرکاری فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کو "دہشت گرد" قرار سے دیا۔[24]

[ترمیم] ذرائع ابلاغ

اس "جنگ" میں مغربی ممالک کی انتظامیہ کو دائیں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ذرائع ابلاغ (اخبارات، ریڈیو، ٹی وی) کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کی کئ مثالیں مل سکتی ہیں۔[25][26] مغربی ممالک کی انتظامیہ بھی ذرائع ابلاغ کے زریعہ جھوٹے دعوے لوگوں تک پہنچانے پر زور صرف کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ جامعات کے پروفیسر بھی جھوٹ پر مبنی مقالے لکھ رہے ہیں۔ بقول جارج سمتھ کے، [27]

A significant and noticeable part of the US and European academy of terrorism studies is like a shark. If it stops swimming forward, it dies.

امریکی اور یورپی اکادمیِ مطالعۂ دہشت ایک شارک کی ماند ہے، اگر یہ آگے کی طرف تیرنا بند کر دے تو مر جاتی ہے۔

امریکی صدر اور اس کی انتظامیہ کے تشدد میں ملوث ہونے کی کہانی طشت از بام ہونے کے بعد نیو یارک ٹائمز جیسے اخبار پردہ پوشی کی کوشش میں لگ گئے۔[28] عراقی شہر فالوجہ میں امریکی فوج کے بے دریغ قتل عام کو بہادر جنگ کا نام دیتے ہوئے اس پر منظرہ کھیل تیار کیے گئے[29] اور بچوں کی کتابوں پر اجارہ دری رکھنے والی کمپنی سکالسٹک نے کتابیں چھاپیں۔[30]

[ترمیم] حزب اختلاف کا کردار

جنگجو مغربی ممالک میں "حزب اختلاف" نے بھی اپنی حکومتوں کا بالعموم بھرپور ساتھ دیا۔ امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی نے کانگریس میں عراق جنگ کے حق میں ووٹ ڈالے۔[31] 2006ء میں ڈیموکریٹ جماعت نے امریکی کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھی عراق جنگ کو ختم کرنے کی طرف کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔[32]

کینیڈا میں لبرل اور قدامت پسند جماعتوں نے حکومت اور حزب اختلاف دونوں میں ہوتے ہوئے افغانستان پر جنگ کی بھرپور حمایت جاری رکھی۔

برطانیہ کی قدامت پسند حزب اختلاف نے بھی حکمران لیبر پارٹی کی تدابیر کی بھرپور حمایت کی۔

[ترمیم] طریقۂ واردات

اکیسویں صدی کے آغاز سے "دہشت گردی" مغربی حکومتوں کی نفسیات پر سوار ہے۔ مغربی ممالک کا طریقہ واردات یہ بن رہا ہے کہ دہشت گردی کے الزامات میں مسلمانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ میں اس کی بے پناہ تشہیر کرتے ہوئے ان کا تعلق القاعدہ سے جوڑا جاتا ہے۔ مثلاً برطانیہ کے مکین اپنے ملک میں سیاست دانوں کے جھوٹے دعوٰں کو تو شاید بھانپ جائیں مگر دوری کے سبب آسٹریلیا میں دہشت گرد کی گرفتاری کو درست سمجھ جانے کا امکان زیادہ ہو گا۔

[ترمیم] آسٹریلیا

آسٹریلیا میں جھوٹے دہشت گردی الزامات میں ایک بھارتی مسلمان ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا، اسی وقت جب برطانیہ میں کچھ مسلمان ڈاکڑ "دہشت گردی" کے الزامات میں گرفتار کیے گئے۔ آسٹریلوی حکومت کو البتہ منہ کی کھانی پڑی جب ڈاکٹر کے خلاف الزامات وکیلوں نے بآسانی جھوٹے ثابت کر دیے۔[33]

عراق پر حملہ کو جائز ثابت کرنے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے میں آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ آگے آگے رہا اور اپنی فوج کو بھی شرمناک حملے میں حصہ لینے بھیجا۔ آسٹریلیا نے افغانستان پر امریکی حملے میں بھی اپنی افواج سے حصہ لیا۔

[ترمیم] برطانیہ

ایک مسلمان نوجوان کو "غیر جمہوری دہشت گرد رویہ" پر دہشت گردی قانون مروجہ 2000ء اور 2006ء کے تحت سزا سنا دی گئی۔[34] 21 سالہ نوجوان محمد عاطف کو اپنے شمارندہ پر "دہشت مواد" رکھنے پر آٹھ سال کی قید سنائی گئ۔[35]نئے کالے قوانین کے تحت مسلمان خاتون کو قابل اعتراض نظم لکھنے پر سزا۔[36] برطانیہ نے طالب علم محمود ہاشمی کو کسی ملزم کے اس بیان پر کہ وہ ایک رات محمود کے گھر ٹھیرا تھا، دہشت کے الزام میں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا۔[37]

برطانیہ نے عراق اور افغانستان پر امریکی حملے میں اپنی افواج سے حصہ لیا۔ برطانوی شاہی خاندان کے شہزادے ہیری نے افغانستان میں بم برسانے میں بطور معاون کچھ ہفتے گزارے اور مغربی دنیا میں بے تحاشا داد پائی۔ [38]

[ترمیم] کینیڈا

2006ء میں اٹھارا مسلمانوں کو جن میں بچے بھی شامل تھے، پولیس نے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا جو اب تک قید ہیں۔ مقدمے کی تفصیلات شائع کرنے پر عدالت نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔[39] عدالت کے ایک رکنی جج نے کینیڈا کے خاص دہشت گردی نئے قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغیر ثبوت کے ایک بچے کو سزا سنا دی۔[40]

کینیڈا نے افغانستان پر امریکی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اپنی افواج بھجوائیں۔

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ بش کی صلیبی جنگ از جیمز کیرول، ستمبر 2004ء،بزبان انگریزی
  2. ^ روزنامہ انڈیپینڈنٹ، 25 اگست 2007ء، رابرٹ فِسک کا کالم، " Robert Fisk: Even I question the 'truth' about 9/11"
  3. ^ WSWS 14 اگست 2007ء، "Afghanistan: mounting attacks on US/NATO troops "
  4. ^ youtube "130 degree AC"
  5. ^ wsws, "The “left” and the US military offensive in Afghanistan"
  6. ^ گارڈین، 2 جون 2008ء، "US accused of holding terror suspects on prison ships"
  7. ^ روزنامہ انڈیپنڈنٹ، 12 دسمبر 2007، "CIA waterboarding 'broke suspect after 35 seconds'"
  8. ^ wsws 24 دسمبر 2007ء، "A criminal conspiracy White House, CIA hid torture tapes from 9/11 Commission"
  9. ^ WSWS 7 اگست 2007ء، "Red Cross confirms Bush administration, CIA used torture in interrogations"
  10. ^ نیویارک ٹائمز،21 مئی 2008ء، "Report Details Dissent on Guantánamo Tactics"
  11. ^ گلوب اور میل، 16 اپریل 2009ء، "Obama shields CIA interrogators from charges"
  12. ^ AFP, "ACLU seeks information on Bagram airbase"
  13. ^ انپنڈنٹ، 12 جولائی 2009ء، "MoD may face hundreds of new torture claims"
  14. ^ رجسٹر، 30 اپریل 2009ء، "Torture case against Boeing subsidiary resuscitated: Court rejects Bush, Obama state secrets gambit"
  15. ^ WSWS 6 اگست 2007ء، "Congress authorizes vast expansion of domestic spying"
  16. ^ WSWS 17 اگست 2007ء، "A travesty of justice: Jose Padilla found guilty"
  17. ^ Democracy now! 17 اپریل 2006ء، "Jailed Palestinian Professor Sami Al-Arian to Be Deported After Prosecutors Fail to Convict Him on a Single Charge"
  18. ^ David Cole, Less safe, Less free, The New Press, 2007
  19. ^ دا رجسٹر، 6 مارچ 2008ء، "Caution - FBI fit-ups of Muslim patsies in progress Loose-tongued loser tagged with international terrorizing"
  20. ^ ٹورانٹو سٹار، 1 نومبر 2007ء، "Walkom: Jabarah case still a mystery"
  21. ^ دی نیشن، 19 ستمبر 2007ء، "Senate Fails on Habeas Corpus"
  22. ^ WSWS، ۱۲ مئی ۲۰۰۷ء، "Canada’s Supreme Court authorizes secret trials and arbitrary, indefinite detention "
  23. ^ انسداد دہشت گردی قانون، ترمیم، 1999
  24. ^ WSWS 16 اگست 2007ء، "Bush to brand Iranian force as “terrorist” "
  25. ^ WSWS 18 اگست 2007ء، "New York Times on Iran: Neo-colonialism with a liberal twist"
  26. ^ WSWS، 22 اگست 2007ء، "New York Times calls for escalation of the “good war” in Afghanistan"
  27. ^ دی رجسٹر ۷ ستمبر ۲۰۰۷ء "Renewing the mythology of the London ricin cell "
  28. ^ wsws 19 جون 2008ء، "New York Times covers up for “confused” US military torturers"
  29. ^ [1] "Konami cancels Six Days in Fallujah video game"
  30. ^ [2], "Sunrise Over Fallujah"
  31. ^ کاؤنٹرپنچ، 31 اگست 2007ء، "The Democrats and the War, By JOHN WALSH"
  32. ^ wsws 16 نومبر 2007ء، "Congressional Democrats resume phony “antiwar” votes"
  33. ^ WSWS 28 جولائی 2007ء، "Haneef “terrorism” charges dropped: a debacle for the Australian government"
  34. ^ WSWS, 25 ستمبر 2007ء، "Britain: Youth convicted under antidemocratic terrorism acts"
  35. ^ گارڈین، 23 اکتوبر 2007ء، "Student jailed for promoting terrorism"
  36. ^ روزنامہ انڈیپنڈنٹ، 8 نومبر 2007ء، "UK woman found guilty of terror offences"
  37. ^ wsws 24 اپریل 2008ء، "US student held in solitary confinement on terrorism charges"
  38. ^ روزنامہ انڈیپنڈنٹ 2 مارچ 2008ء، "'Harry's War': The ugly truth"
  39. ^ ٹورانٹو سٹار، 25 ستمبر 2007ء، " Thomas Walkom: Terror trial proceedings troubling--Bizarre allegations about Toronto 18, unorthodox decisions are raising questions about Crown's case"
  40. ^ تورانتو ستار، 26 ستمبر 2008ء، "Terror verdict bad news for rest of Toronto 18"