دیا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دیا خان
پیدائش 7 اگست 1977 (1977-08-07) ‏(37)
اوسلو, ناروے
قومیت نارویجن
پیشہ فلم ہدایتکار, ریکارڈ پروڈیوسر
سالہائے فعالیت 1992 تا حال
وجہِ شہرت بناز اے لو سٹوری
اعزازات
موقع جال
www.deeyah.com

دیا خان ایک پاکستانی نژاد نارویجن گلوکارہ، ریکارڈ پروڈیوسر اور فلم ہدایتکار ہیں. دیا انسانی حقوق، آزادی اظہار اور امن کی پُر جُوش داعی ہیں اور اس کے بے باک اظہار کیلئے دیگر پلیٹ فارم کے علاوہ اپنی کمپنی فیوز کو استعمال کرتی ہیں۔ دیا نے اب عملی موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، اور انہوں نے خود سٹیج پر پرفارم کرنا چھوڑ دیا ہے۔ بلکہ سٹیج کے پیچھے رہ کر مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ اب وہ اُن فنکاروں کی مدد کرتی ہیں جن کی آواز کو دبایا دیا گیا ہے۔ وہ اُن لوگوں کی زبان بنیں جنہیں اپنے اظہار کے مواقع نصیب نہیں ہیں۔ دیا نے 2007، میں سسٹر ہڈ ( Sisterhood ) کی بنیاد رکھی۔ جس نے برطانیہ میں مقیم مسلمان لڑکیوں کو ایک کیسٹ کی صورت میں اپنے تخلیقی اظہار کا موقع دیا۔ اکتوبر 2010، میں دیا نے فری میوز , کے تعاون سے بین الاقوامی موسیقی کا ایک ایسا مجموعہ ترتیب دیا جس میں مشرقی وسطیٰ، افریقہ اور ایشیاء کے اُن فنکاروں کو پیش کیا گیا جو اپنے ملکوں میں پابندیوں کا شکار ہیں، ریاستی یا غیر ریاستی جبر کی وجہ سے بیروں ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا جیلوں میں بند پڑے ہیں۔[1] دیا کو اُنکی حقوق نسواں، امن، آزادی اظہار کی جدوجہد، موسیقی اور فلم کی خدمات پر بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔

سوانح حیات[ترمیم]

پیدائش و خاندانی پس منظر[ترمیم]

دیا 7 اگست 1977ء کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو ميں پيدا ہوئیں. دیا کے والد کا تعلق راجپوتوں کی ذيلی شاخ تھتھال سے ہے، جبکہ انکی والدہ پشتونوں کے درانی قبیلے سے تعلق رکھتی ہيں۔ دیا مشہور پاکستانی نژاد نارویجن اداکار عادل خان کی بڑی بہن ہیں۔ دیا کا پیدائشی نام دیپیکا تھتھال ہے۔ جو اُنہیں اُردو کے مشہور افسانھ نگار ہرچرن چاولہ کی بیگم پورنیما چاولہ نے دیا تھا۔ وہ دیا کی پیدائش کے وقت اُن کے پڑوسی تھے۔

موسيقی[ترمیم]

دیا کا تعلق ايک ثقافتی گھرانے سے ہے. دیا کے والد ناروے ميں مختلف ثقافتی سرگرمیوں کے روح و رواں رہے ہيں. انہوں نے کلاسیکی موسیقی اور ديگر پاکستانی تخليقی روايات کو ناروے ميں متعارف کرانے کے سلسلے ميں بہت زيادہ کام کيا ہے۔ اپنی ثقافت سے محبت کے نتیجے میں جہاں اُنہوں نے دیا کی تربیت کے سلسلے میں اُردو زباں اور دیگر روایتی تعلیم پر خصوصی توجہ دی، وہیں اُنہوں نے دیا کیلئے علم موسیقی سیکھنے کا بھی بندوبست کیا۔ جس کیلئے اُنہوں نے پاکستان اور ہندوستان کے نامور موسیقاروں کی خدمات حاصل کیں۔ شب و روز کی محنت کی وجہ سے دیا نے جلد ہی ناروے کے موسیقی کے حلقوں میں اپنی جگہ پیدا کر لی۔ دیا ساڑھے سات سال کی عمر میں نارویجین ٹی وی پر نمودار ہوئیں۔

پیشۂِ موسيقی[ترمیم]

1990ء میں دیا پاکستانی موسیقار استاد بڑے فتح علی خان اور نارویجن موسیقار جان گاربارک کے مشترکہ البم پر بطور مہمان گلوکارہ کے پیش ہوئیں۔ 12 سال کی عمر میں اُنہوں نے نارویجن گلوکار آندرس ویلر کے البم پر ایک گانے میں اُن کا ساتھ دیا۔ 15 سال کی عمر میں ناروے کی مشہور ریکارڈنگ کمپنی چرچ ثقا فتی ورکشاپ نے دیا کو سائن کیا اور " I Alt Slags Lys " کے نام سے اُن کا پہلا سولو البم جاری کیا۔[2] یہ البم مشرقی اور مغربی موسیقی کا امتزاج تھا اور اسکی تیاری میں ناروے کے نامور موسیقارو ں کے علاوہ پاکستان کے مایہ ناز طبلہ نواز استاد شوکت حسین اور ہندوستان کے مشہور سارنگی نواز استاد سلطان خان نے حصہ لیا۔[3] دیا کا دوسرا البم ستمبر 1995ء میں " بی ایم جی ایریسٹا " ( BMG/Arista ) نے دیا کے پیدائشی نام دیپیکا کے تحت جاری کیا۔[4] اس البم کی تیاری میں نارویجن پروڈیوسر تھور ایرک ھیرمانسن، ٹامی ٹی، اور انگریز پروڈیوسر نک سیلیٹو ( Nick Sillitoe ) نے حصہ لیا۔ دیا خان کا آخری البم "آٹا راکسس " ( Ataraxis ) کے نام سے 2007ء منظر عام پر آیا جس میں دو بار گریمی ایوارڈ یافتہ مشہور زمانہ پیانو نواز باب جیمز، مشہور گروپ دی پولیس کے گریمی ایوارڈ یافتہ گٹار نواز اینڈی سمرز اور ناروے کے ٹرمپٹ نواز نیلس پھیتر مولویر نے حصہ لیا۔[5] یہ البم کلاسیکی موسیقی، پاکستان اوو افغانستان کی لوک موسیقی اور الیکٹرونیکا کا حسین امتزاج تھا۔ اس تجرباتی البم کو موسیقی کے حلقوں میں بہت پذیرائی ملی۔[6]

جن مختلف فنکاروں، موسیقاروں اور میوزک پروڈیوسروں نے دیا کی موسیقی سے استفادہ کیا ہے اور دیا کی موسیقی کے مختلف ٹکڑوں کواپنے موسیقی سے متعلقہ منصوبوں میں استعمال کیا ہے۔ ان میں نیلس پھیتر مولویر، سیب ٹیلر، نووال بون کرّشر، جینٹ جیکسن ( ری مکس ) لیقوڈ سٹرینجر، مسالہ ڈوسا، مارک سمتھ، فیوٹیلیٹی آرکسٹرا، گا ئے چیمبرز، پال اوکن فولڈ اور کایا پروجیکٹ کے نام نمایاں ہیں۔

سِسٹرہُڈ ( Sisterhood )[ترمیم]

دیا نے 2007ء میں سسٹرہُڈ کے نام سے ایک نیٹ ورک قائم کیا،[7] جس کا مقصد مغربی ممالک میں مقیم مسلمان خواتین فنکاروں اور موسیقاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جہاں سے اُن کی تخلیقی اور فنکارانہ صلاحیتوں کو جلا اور اس کے اظہار کیلئے مواقع میسر ہوں۔ سسٹرہُڈ اس کے علاوہ مسلمان خواتین کو مغربی معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل جیسے حقوق نسواں، نسل پرستی، محبت، جنس اور11 ستمبر کی بعد کی دنیا جیسے موضوعات پر بحث و مباحثےکے مواقع بھی مہیا کرتا ہے۔ سسٹرہُڈ نے 2008ء میں سسٹرہُڈ آن لائن مکس ٹیپ جاری کی۔ اس ٹیپ میں برطانیہ میں مقیم مختلف مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والی والی گلوکاراؤں اور شاعرات نے حّصہ لیا۔

ریکارڈ پروڈیوسر[ترمیم]

  • لسن ٹو دا بینڈ (Listen to the Banned)

دیا نے فری میوز کے تعاون کے سے لِسن ٹو دی بینڈ نامی البم سے اُن گلوکاروں کو پیش کیا ہے [8] جِن کی آوازوں کو خاموش کر دیا گیا تھا۔ اس مجموعے میں مشرقی وسطیٰ، افریقہ اور ایشیاء کے اُن فنکاروں کو پیش کیا گیا جو اپنے ملکوں میں پابندیوں کا شکار ہیں، ریاستی یا غیر ریاستی جبر کی وجھ سے بیروں مُلک ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا جیلوں میں بند پڑے ہیں۔ [9] اس البم نے جہاں دیا کو استحصال کے شکار فنکاروں کے ہمدرد کے طور پر پیش کیا ہے، وہیں یہ البم یورپ کے ورلڈ میوزک چارٹ پر کئی مہینوں تک چھٹے نمبر پر پراجمان رہا ہے۔[10]

  • نارڈک وومن (Nordic Woman)
  • ایرانین وومن (Iranian Woman)
  • ایکو آف انڈس (Echo of Indus)

فلم سازی[ترمیم]

دیا غیرت کے نام پر کئیے جانے والے خواتین کے قتل کے موضوع پر آگاہی پیدا کرنے کیلئے باناز اے لو سٹوری نامی ایک دستاویزی فلم بنائی ہے، جو 2012ء میں برطانیہ کے ایک فلمی میلے میں نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ اس فلم کو اپنے موضوع کی اہمیت کی وجہ سے مغربی ممالک میں بہت پزیرائی ملی ہے۔ اس فلم نے ناروے کیلئے پہلی بار "حالات حاضرہ" جیسے معتبر اور مشکل زمرے میں بہترین عالمی دستاویزی فلم کا ایمی اعزاز جیتا، اس کے علاوہ امریکہ کے پی باڈی اعزاز اور برگن عالمی فلمی میلے میں بھی پہلے انعام کی حقدار قرار پائی۔ ان اعزازت کے علاوہ فلم کو برطانوی پولیس کی تربیت کے نصاب میں بھی شامل کیا گیا۔

اعزازات[ترمیم]

  • 1993ءمیں پاکستان ورکر ویلفیر یونین ناروے نے دیا کو اُن کی فّنی خدمات اور ناروے میں نوجوانوں کیلۡے اچھی مثال قائم کرنے پر انعامی شیلڈ سے نوازا۔
  • 1996ء میں ناروے کے شائبلرز لیگات نے دیا کو پاکستانی اور ناروینی تہزیب کے درمیان پُل کا کام کرنے اور رواداری کا ماحول قائم کرنے کی کوشش پر انعام سے نوازا۔
  • 2006ء میں نیدر لینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم کے ایمسٹرڈیم میونسپل میوزیم میں منعقدہ نمائش میں دیا کا ایک ویڈیو پیش کیا گیا، اس نمائش میں مقامی اور غیر ملکی نظریہ سازوں، نقادوں اور فنکارون نے عصری بصری ثقافت پر بحث کرنا تھی۔
  • 2008ء میں دیا کو فریڈم ٹو کری ایٹ ( Freedom to Create Prize ) انعام سے نوازا گیا ۔ دیا کے علاوہ یہ انعام زمبابوے کے تمثیل نگار کونٹ مہلنگا اور بیلارس کے بیلارس فری تھیٹر کو بھی دیا گیا
  • دیا مریم نمازی کے " تمام فنون کیلئے ایک قانون " ( One Law For All Art ) کے مقابلے کی مُنصف تھیں۔ اُن کے ساتھی مُنصفوں میں مشہور فلاسفر اے سی گرے لِنگ اور صحافی، کالم نگار پولی ٹائن بی تھے۔ [11]
  • 2012ء میں دیا کو آزادی اظہار کی خدمات کی وجہ سے پین انٹرنیشنل کی نارویجن شاخ نے اوسیتزکی اعزاز سے نوازا۔
  • 2013ء میں دیا خان کو اس کی فلم کیلئے امریکہ کا پی باڈی اعزاز دیا گیا
  • 2013ء میں بناز اے لو سٹوری پر دیا کو ایمی اعزاز اور برگن فلمی میلے میں بہترین فلم کا اعزاز دیا گیا
  • 2013ء میں دیا کو لبرٹی ہیومن رائٹس آرٹس ایوارڈ (Liberty Human Rights Arts Award)کیلئے نامزد کیا گیا۔


بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Tracy McVeigh (2010-12-05). "Banned singers join together for an album of hope". www.guardian.co.uk. http://www.guardian.co.uk/world/2010/dec/05/oppressive-regimes-music-banned-freemuse۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-05. 
  2. ^ 1991 Newspaper article about Deeyah breaking down boundaries of musical genres and cultural and societal barriers of perceptions placed on a young Muslim girl born in Norway-tipping her for great things in her career http://www.deeyahpoint.co.uk/nor/no/boundaryxa8.jpg By Dagbladet
  3. ^ mixed various Pakistani musical styles with jazz and western folk music
  4. ^ 2nd album
  5. ^ "New Album "Ataraxis": Deeyah Featuring Bob James, Andy Summers and Nils Petter Molvaer". www.allaboutjazz.com. 2007-11-08. http://www.allaboutjazz.com/php/news.php?id=15833۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-19. 
  6. ^ Thomas Barth (2007-12-11). "Deeyah - Ataraxis". www.musiq.no. http://translate.google.com/translate?hl=en&sl=no&tl=en&u=http%3A%2F%2Fwww.musiq.no%2Fanmeldelse.php%3Fanmno%3D1630%20۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-19. 
  7. ^ Vixy. "Deeyah Presents SISTERHOOD". www.punjab2000.com. http://www.punjab2000.com/index.php?option=com_content&task=view&id=984&Itemid=2۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-19. 
  8. ^ Joel Whitney (2010-12). "Listen to the Banned". guernicamag.com. http://www.guernicamag.com/interviews/2213/deeyah_12_15_10/۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-20. 
  9. ^ Howard Male (2010-12-12). "Album: Various artists, Listen to the Banned (Freemuse)". www.independent.co.uk. http://www.independent.co.uk/arts-entertainment/music/reviews/album-various-artists-listen-to-the-banned-freemuse-2158474.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-19. 
  10. ^ "World Music Charts Europe". July 2010. http://www.wmce.de/?chartUrlMonth=7&chartUrlYear=2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-19. 
  11. ^ http://www.onelawforall.org.uk/art-competition-winners/