دیا خان
| دیا | ||
|---|---|---|
| فنکار موسیقی | ||
| پیدائشی نام | دیپیکا تھتھال | |
| ولادت | 7 اگست، 1977ء | |
| ابتدا | اوسلو، |
|
| اصناف موسیقی | پاپ ورلڈ ٹیکنو |
|
| پیشہ | گلوکار محصل سجل فلمساز |
|
| سرگرم دور | 1985ء تا حال | |
| ریکارڈنگ کمپنی | سونی بی ایم جی،ایریسٹا ہایٔلو/ گرپّا ریکارڈز |
|
دیا ایک پاکستانی نژاد ناروینی گلوکارہ [1] کمپوزر، محصل سجل اور فلم ساز ہیں. دیا انسانی حقوق، آزادی اظہار اور امن کی پُر جُوش اور بے باک اظہار کیلئے وہ اپنی کمپنی فیوز کو استعمال کرتی ہیں۔ دیا نے سٹیج پر خود پرفارم کرنا ترک کر دیا ہے، وہ اس کی بجائے اُن فنکاروں کی مدد کرتی ہیں جن کی آواز کو دبایا دیا گیا ہے۔ دیا نے 2007، میں سسٹر ہڈ ( Sisterhood ) کی بنیاد رکھی۔ جس نے برطانیہ میں مقیم مسلمان لڑکیوں کو ایک کیسٹ کی صورت میں اپنے تخلیقی اظہار کا موقع دیا۔ اکتوبر 2010، میں دیا نے فری میوز , کے تعاون سے بین الااقوامی موسیقی کا ایک ایسا مجموعہ ترتیب دیا جس میں مشرقی وسطٰی، افریقہ اور ایشیاء کے اُن فنکاروں کو پیش کیا گیا جو اپنے ملکوں میں پابندیوں کا شکار ہیں، ریاستی یا غیر ریاستی جبر کی وجہ سے بیروں ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا جیلوں میں بند پڑے ہیں۔[2] دیا کو اُنکی حقوق نسواں، امن، آزادی اظھار کی جدوجہد اور موسیقی کی خدمات پر بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔
فہرست |
سوانح حیات [ترمیم]
پیدائش و خاندانی پس منظر [ترمیم]
دیا 7 اگست 1977ء کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو ميں پيدا ہوئیں. دیا کے والد کا تعلق راجپوتوں کی ذيلی شاخ تھتھال سے ہے، جبکہ انکی والدہ پشتونوں کے درانی قبیلے سے تعلق رکھتی ہيں۔ دیا مشہور پاکستانی نژاد ناروینی اداکار عادل خان کی بڑی بہن ہیں۔ دیا کا پیدائشی نام دیپیکا تھتھال ہے۔ جو اُنہیں اُردو کے مشہور افسانھ نگار ہرچرن چاولہ کی بیگم پورنیما چاولہ نے دیا تھا۔ وہ دیا کی پیدائش کے وقت اُن کے پڑوسی تھے۔
موسيقی [ترمیم]
دیا کا تعلق ايک ثقافتی گھرانے سے ہے. دیا کے والد ناروے ميں مختلف ثقافتی سرگرمیوں کے روح و رواں رہے ہيں. انہوں نے پاکستانی کلاسيکی موسيقی اور ديگر پاکستانی تخليقی روايات کو ناروے ميں متعارف کرانے کے سلسلے ميں بہت زيادہ کام کيا ہے۔ اپنی ثقافت سے محبت کے نتیجے میں جہاں اُنہوں نے دیا کی تربیت کے سلسلے میں اُردو زباں اور دیگر روایتی تعلیم پر خصوصی توجہ دی، وہیں اُنہوں نے دیا کیلئے موسیقی کی تعلیم کا بھی بندوبست کیا۔ جس کیلئے اُنہوں نے پاکستان اور ہندوستان کے نامور موسیقاروں کی خدمات حاصل کیں۔ شب و روز کی محنت کی وجہ سے دیا نے جلد ہی ناروے کے موسیقی کے حلقوں میں اپنی جگہ پیدا کر لی۔ دیا ساڑھے سات سال کی عمر میں نارویجین ٹی وی پر نمودار ہوئیں، اور باوجود مسائل کے اُن کی کامیابیوں کا سلسلہ مسلسل بڑھتا رہا۔
پیشۂِ موسيقی [ترمیم]
1990ء میں دیا پاکستانی موسیقار استاد بڑے فتح علی خان اور ناروینی موسیقار جان گاربارک کے مشترکہ البم پر بطور مہمان گلوکارہ کے پیش ہوئیں۔ 12 سال کی عمر میں اُنہوں نے ناروینی گلوکار آٓندرس ویلر کے البم پر ایک گانے میں اُن کا ساتھ دیا۔ 15 سال کی عمر میں ناروے کی مشہور ریکارڈنگ کمپنی چرچ ثقا فتی ورکشاپ نے دیا کو سائن کیا اور " I Alt Slags Lys " کے نام سے اُن کا پہلا سولو البم جاری کیا۔[3] یہ البم مشرقی اور مغربی موسیقی کا امتزاج تھا اور اسکی تیاری میں ناروے کے نامور موسیقارو ں کے علاوہ پاکستان کے مایہ ناز طبلہ نواز استاد شوکت حسین اور ہندوستان کے مشہور سارنگی نواز استاد سلطان خان نے حصہ لیا۔[4] دیا کا دوسرا البم ستمبر 1995 میں " بی ایم جی ایریسٹا " ( BMG/Arista ) نے دیا کے پیدائشی نام دیپیکا کے تحت جاری کیا۔[5] اس البم کی تیاری میں ناروینی پروڈیوسر تھور ایرک ھیرمانسن، ٹامی ٹی، اور انگریز پروڈیوسر نک سیلیٹو ( Nick Sillitoe ) نے حصہ لیا۔ اس کے بعد دیا برطانیہ منتقل ہو گئیں۔[6].
دیا کا اگلا سنگل " پلان آف مائی اون" ( Plan of My Own ) تھا جو برطانیہ کے ٹی وی چینل دی باکس کے ٹاپ 30 میں پہلے نمبر پر آیا۔ دیا کا اگلا سنگل "وٹ ول اٹ بی " ( What WIll It Be ) برطانیہ میں مقیم قدامت پسند مسلمان حلقوں کی وجہ سے بہت متنازع ہو گیا۔[7] فساد کے ڈر اور دھمکی آمیز خطوط ملنے کی وجہ سے برطانیہ میں موجود ایشین ٹی وی B4U، زی ٹی وی اور دیگر چینلوں نے دیا کے ویڈیو کے نشر کرنے پر پابندی لگا دی۔[8] یہ سلسلہ یہیں پر بس نہیں ہوا بلکہ یہ بھی افواہ بھی پھیلائی گئی کہ چونکہ دیا کا پیدائشی نام دیپیکا ہے لہزا دیا ایک ہندو لڑکی ہے جو شہرت حاصل کرنے کیلیے مسلمان ہونے کا ناٹک کر رہی ہے۔[9] دیا ان حالات سے بد دل ہو کر امریکہ کے شہر اٹلانٹا منتقل ہو گئیں،[10] جہاں 2007ء میں انہوں نے دو بار گریمی ایوارڈ یافتہ مشہور زمانہ پیانو نواز باب جیمز، مشہور گروپ دی پولیس کے گریمی ایوارڈ یافتہ گٹار نواز اینڈی سمرز اور ناروے کے ٹرمپٹ نواز نیلس پھیتر مولویر کے تعاون سے "آٹا راکسس " ( Ataraxis ) نامی البم جاری کیا۔[11] یہ البم پاکستانی کلاسیکی موسیقی، پاکستان اوو افغانستان کی لوک موسیقی اور الیکٹرونیکا کا حسین امتزاج تھا۔ اس تجرباتی البم کو موسیقی کے حلقوں میں بہت پذیرائی ملی۔[12]
مختلف فنکاروں، موسیقاروں اور میوزک پروڈیوسروں نے دیا کی موسیقی سے استفادہ کیا ہے اور دیا کی موسیقی کے مختلف ٹکڑوں کواپنے موسیقی سے متعلقہ منصوبوں میں استعمال کیا ہے۔ ان میں نیلس پھیتر مولویر، سیب ٹیلر، نووال بون کرّشر، جینٹ جیکسن ( ری مکس ) لیقوڈ سٹرینجر، مسالہ ڈوسا، مارک سمتھ، فیوٹیلیٹی آرکسٹرا، گا ئے چیمبرز، پال اوکن فولڈ اور کایا پروجیکٹ کے نام نمایاں ہیں۔
دیا نے اب عملی موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، اور انہوں نے خود سٹیج پر پرفارم کرنا چھوڑ دیا ہے۔ بلکہ سٹیج کے پیچھے رہ کر مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ وہ اُن لوگوں کی زبان بنیں جنہیں اپنے اظہار کے مواقع نصیب نہیں ہیں۔
سِسٹرہُڈ ( Sisterhood ) [ترمیم]
دیا نے 2007ء میں سسٹرہُڈ کے نام سے ایک نیٹ ورک قائم کیا،[13] جس کا مقصد مغربی ممالک میں مقیم مسلمان خواتین فنکاروں اور موسیقاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جہاں سے اُن کی تخلیقی اور فنکارانہ صلاحیتوں کو جلا اور اس کے اظہار کیلئے مواقع میسر ہوں۔ سسٹرہُڈ اس کے علاوہ مسلمان خواتین کو مغربی معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل جیسے حقوق نسواں، نسل پرستی، محبت، جنس اور11 ستمبر کی بعد کی دنیا جیسے موضوعات پر بحث و مباحثےکے مواقع بھی مہیا کرتا ہے۔ سسٹرہُڈ نے 2008ء میں سسٹرہُڈ آن لائن مکس ٹیپ جاری کی۔ اس ٹیپ میں برطانیہ میں مقیم مختلف مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والی والی گلوکاراؤں اور شاعرات نے حّصہ لیا۔
سجل الإنتاج [ترمیم]
- لسن ٹو دا بینڈ (Listen to the Banned) دیا نے فری میوز کے تعاون کے سے لِسن ٹو دی بینڈ نامی البم سے اُن گلوکاروں کو پیش کیا ہے [14] جِن کی آوازوں کو خاموش کر دیا گیا تھا۔ اس مجموعے میں مشرقی وسطٰی، افریقہ اور ایشیاء کے اُن فنکاروں کو پیش کیا گیا جو اپنے ملکوں میں پابندیوں کا شکار ہیں، ریاستی یا غیر ریاستی جبر کی وجھ سے بیروں مُلک ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا جیلوں میں بند پڑے ہیں۔ [15]
اس البم نے جہاں دیا کو استحصال کے شکار فنکاروں کے ہمدرد کے طور پر پیش کیا ہے، وہیں یہ البم یورپ کے ورلڈ میوزک چارٹ پر کئ مہینوں تک چھٹے نمبر پر پراجمان رہا ہے۔[16]
- نارڈک وومن (Nordic Woman)
- ایرانین وومن (Iranian Woman)
- ایکو آف انڈس (Echo of Indus)
فلم سازی [ترمیم]
دیا غیرت کے نام پر کئیے جانے والے خواتین کے قتل کے موضوع پر آگاہی پیدا کرنے کیلئے بناز اے لو سٹوری نامی ایک دستاویزی فلم بنائی ہے، جو 2012ء میں نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ اپنے موضوع کی اہمیت کی وجہ سے مغربی ممالک میں بہت پزیرائی ملی ہے۔
اعزازات [ترمیم]
- 1993ءمیں پاکستان ورکر ویلفیر یونین ناروے نے دیا کو اُن کی فّنی خدمات اور ناروے میں نوجوانوں کیلۡے اچھی مثال قائم کرنے پر انعامی شیلڈ سے نوازا۔
- 1996ء میں ناروے کے شائبلرز لیگات نے دیا کو پاکستانی اور ناروینی تہزیب کے درمیان پُل کا کام کرنے اور رواداری کا ماحول قائم کرنے کی کوشش پر انعام سے نوازا۔
- 2006ء میں نیدر لینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم کے ایمسٹرڈیم میونسپل میوزیم میں منعقدہ نمائش میں دیا کا ایک ویڈیو پیش کیا گیا، اس نمائش میں مقامی اور غیر ملکی نظریہ سازوں، نقادوں اور فنکارون نے عصری بصری ثقافت پر بحث کرنا تھی۔
- 2008ء میں دیا کو فریڈم ٹو کری ایٹ ( Freedom to Create Prize ) انعام سے نوازا گیا ۔ دیا کے علاوہ یہ انعام زمبابوے کے تمثیل نگار کونٹ مہلنگا اور بیلارس کے بیلارس فری تھیٹر کو بھی دیا گیا
- 2012ء میں دیا کو آزادی اظہار کی خدمات کی وجہ سے عالمی پین ایوارڈ کی ناروینی شاخ نے ایوارڈ سے نوازا۔
متفرقات [ترمیم]
- دیا غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بین الاقوامی تحریک (International Campaign Against Honour Killings) کی پُر جوش ہمدرد ہیں.
- دیا برطانیہ کے شہر برمنگھم میں " آشرم " نامی خواتین کی پناہ گاہ کی سرپرستِ اعلٰی ہیں۔
- دیا " فرحت تنچ " نامی گلوکار کیلئے ترکی کے وزییرِاعظم سے فری میوز کی جانب سے کی جانے والی درخواست کی حامی ہیں۔ [17]
- دیا ایرانی خواتین کے حقوق اور آزادی کےمنشور کی عالمی تحریک کی حامی ہیں۔ [18]
- دیا " ایرانی یک جہتی تحریک " کی حامی ہیں۔ [19]
- دیا " سب کیلئے ایک قانون " (No to faith-based arbitration! No to Sharia family law) کی حامی اور دستخط کنندہ ہیں۔
- دیا " امریکی جنگجویانہ رویے اور مُسلم دہشت گردی کے خلاف منشور" ( Manifesto of the Third Camp Against US Militarism and Islamic Terrorism ) کی حامی اور دستخط کنندہ ہیں۔ [20]
- دیا مریم نمازی کے " تمام فنون کیلئے ایک قانون " ( One Law For All Art ) کے مقابلے کی مُنصف تھیں۔ اُن کے ساتھی مُنصفوں میں مشہور فلاسفر اے سی گرے لِنگ اور صحافی، کالم نگار پولی ٹائن بی تھے۔ [21]
بیرونی روابط [ترمیم]
حوالہ جات [ترمیم]
- ^ Rambel, Nina (1990). "Deepika - vår nye gullstrupe". Norway: Hjemmet. http://www.deeyahpoint.co.uk/nor/no/beautifultz6.jpg.
- ^ Tracy McVeigh (2010-12-05). "Banned singers join together for an album of hope". www.guardian.co.uk. http://www.guardian.co.uk/world/2010/dec/05/oppressive-regimes-music-banned-freemuse. Retrieved 2010-12-05.
- ^ 1991 Newspaper article about Deeyah breaking down boundaries of musical genres and cultural and societal barriers of perceptions placed on a young Muslim girl born in Norway-tipping her for great things in her career http://www.deeyahpoint.co.uk/nor/no/boundaryxa8.jpg By Dagbladet
- ^ mixed various Pakistani musical styles with jazz and western folk music
- ^ 2nd album
- ^ "Deepika". www.ballade.no. 2006-08-06. http://translate.google.com/translate?hl=en&sl=no&tl=en&u=%20http%3A%2F%2Fwww.ballade.no%2Fnmi.nsf%2Fdoc%2Fart2006050411240928093385. Retrieved 2010-12-19.
- ^ Zofia Paszkiewicz, Sondre Bjørdal (2008-12-03). "Deeyah threatened into silence". www.nrk.no. http://translate.google.com/translate?hl=en&sl=no&tl=en&u=http%3A%2F%2Fwww.nrk.no%2Fkultur_og_underholdning%2F1.6334815%20. Retrieved 2010-12-19.
- ^ Freemuse (27.12.2005). "Tv channel bans music video because of threats". freemuse.org. http://www.freemuse.org/sw12485.asp. Retrieved 2011-03-02.
- ^ "Deeyah - Is 'Muslim Madonna' Actually A Hindu?". www.contactmusic.com. 2005-02-22. http://www.contactmusic.com/new/xmlfeed.nsf/story/is-muslim-madonna-actually-a-hindu_22_02_2006. Retrieved 2010-12-19.
- ^ Espen A Hansen (2005-12-27). "Fled to the U.S.". www.vg.no. http://translate.google.com/translate?hl=en&sl=no&tl=en&u=http%3A%2F%2Fwww.vg.no%2Fmusikk%2Fartikkel.php%3Fartid%3D111664. Retrieved 2010-12-19.
- ^ "New Album "Ataraxis": Deeyah Featuring Bob James, Andy Summers and Nils Petter Molvaer". www.allaboutjazz.com. 2007-11-08. http://www.allaboutjazz.com/php/news.php?id=15833. Retrieved 2010-12-19.
- ^ Thomas Barth (2007-12-11). "Deeyah - Ataraxis". www.musiq.no. http://translate.google.com/translate?hl=en&sl=no&tl=en&u=http%3A%2F%2Fwww.musiq.no%2Fanmeldelse.php%3Fanmno%3D1630%20. Retrieved 2010-12-19.
- ^ Vixy. "Deeyah Presents SISTERHOOD". www.punjab2000.com. http://www.punjab2000.com/index.php?option=com_content&task=view&id=984&Itemid=2. Retrieved 2010-12-19.
- ^ Joel Whitney (2010-12). "Listen to the Banned". guernicamag.com. http://www.guernicamag.com/interviews/2213/deeyah_12_15_10/. Retrieved 2010-12-20.
- ^ Howard Male (2010-12-12). "Album: Various artists, Listen to the Banned (Freemuse)". www.independent.co.uk. http://www.independent.co.uk/arts-entertainment/music/reviews/album-various-artists-listen-to-the-banned-freemuse-2158474.html. Retrieved 2010-12-19.
- ^ "World Music Charts Europe". July 2010. http://www.wmce.de/?chartUrlMonth=7&chartUrlYear=2010. Retrieved 2010-12-19.
- ^ "CAMPAIGN NEWS". www.freemuse.org. 2010-06-24. http://www.freemuse.org/sw38474.asp. Retrieved 2010-12-19.
- ^ http://www.equalrightsnow-iran.com/discriminatory_laws.html
- ^ http://maryamnamazie.blogspot.com/2009/07/iran-solidarity.html
- ^ http://www.thirdcamp.com/php/amanifest.php
- ^ http://www.onelawforall.org.uk/art-competition-winners/