دیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دير
Dir
نوابی ریاستِ پاکستان
۲۸ جولائی ۱۹۶۹

Flag of Dir

Flag

Location of Dir
پاکستان کے نقشے میں دیر ریاست کو سرخ رنگ سے مخطت کیا گیا ہے۔
دارالحکومت دیر قصبہ
تاریخ
 -  قیام Enter start date
 -  سقوط ۲۸ جولائی ۱۹۶۹
رقبہ 5,282 km2 (2,039 sq mi)
اس ریاست کو پاکستانی حکومت نے دو ضلعوں (دیر بالا اور دیر زیریں میں تقسیم کیا گیا ہے)۔


دیر ریاست صرف دیر، پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی سابقہ ریاست۔جس پر نوابوں کا حکومت ہوتا تھا ،اس ریاست کا بنیاد سترہ صدی میں نوابوں کے زیریں حکومت میں آیا۔اس مقام کی ایک قدرتی خوبصورتی ہے،جیسے کہ یہ سوات کے ساتھ ہے تو یہ مقام بھی سوات کی طرح خوبصورت و شاداب ہے اور اس کا اب و ہوا بھی بہت ہی عمدہ اور زبردست ہے۔جیسے ہی 1969ء میں دیر والوں نے نواب کے حکومت سے منہ مڑلیا اور پاکستان کے ساتھ ہونے کا فیصلہ کیا،تو پاکستان کے حکومت نے نواب کو نظربند کرلیا اور دیر سے لے گیا۔اس کے بعد حکومتِ پاکستان نے اس ریاست کو تو پہلے ایک ریاست کے طور پر پاکستان میں شامل کرلیا لیکن بعد میں اس ریاست کو دو ضلعوں میں تقسیم کیا ،ایک دیر بالا اور دوسرا دیر لوئر یا دیر زیریں۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

دیر کا آخری نواب شاہ جہان تھا ،کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ظالم شخص تھا،لوگوں پہ ظلم و ستم کرتا تھا ۔وہ کوئی نہ کوئی رواج رکھتا،مثلاً وہ ہر مہینے آتا اور ہر گھر سے گھی ،مکھن یا مرغے جمع کرتا تھا،اگر کوئی یہ چیز یں نواب کے لئے جمع نہیں کرتا تو اسے سخت سزا دیتا تھا۔اس کے علاوہ وہ کسی کے ہاتھ میں قلم نہیں چھوڑتا تھا کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ اگر کہیں لوگ پڑھنے والے ہوجائے تو میری نوابی چھین جائی گی۔دیر کے لوگ عام طور پر بڑے ہنر مند،عقلمند اور محنتی لوگ ہیں لیکن نواب شاہ جہاں کے وجہ سے وہ پڑھی میں پیچھے رہ گئے ورنہ وہ آج پورے پاکستان میں جانے جاتے۔

نواب کو ہٹانے کا مطالبہ اور دیر ریاست کو پاکستان میں تبدیل کرنا[ترمیم]

جیسا کہ بیان ہوچکا ہے کہ نواب شاہ جہان ایک ظالم حکمران تھا اسلئے دیر کے لوگ ویسے تو پہلے ہی سے پاکستان کے ساتھ ہونا چاہتے تھے لیکن نواب کے خروش نے انہیں روکھا تھا،لیکن آخر کار لوگوں نے کچھ سردار چپکے سے صدر پاکستان ایوب خان کے طرف بھیج کر ان سے مطالبہ کیا کہ دیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ ہونا چاہتے ہیں اور نواب کو فوراً ہٹا لیا جائے۔ ایوب خان نے ویسا ہی کیا ،نواب کو نظر بند کرکے دیر ریاست کو پاکستان میں شامل کیا۔[1]


دیر کا خوبصورت منظر

حوالہ متن[ترمیم]

  1. ^ د دیر یو لنڈ تاریخ پہ قول د بیبی باچنیراز (کتابچہ:دیر کا ایک مختصر تاریخ بقول باچنیراز بی بی)۔
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=دیر&oldid=840835’’ مستعادہ منجانب