دیو آنند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دیو آنند
دیو آنند اپنی آپ بیتی سوانح حیات Romancing with Life (ترجمہ : زندگی سے دل لگی) کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے
پیدائش 26 ستمبر 1923 (1923-09-26)
شکرگڑھ, گرداس پور, پنجاب,
برطانوی بھارت[1]
وفات 4 دسمبر 2011 (عمر 88 سال)
لندن, انگلستان, برطانیہ
رہائش ممبئی, مہاراشٹر, بھارت
قومیت بھارتی
پیشہ اداکار, پیشکار, ہدایتکار
سالہائے فعالیت 1946 – 2011
شریک حیات کلپنا کارتک (1954–2011)
دیوآنند

[[26 ستمبر[[ 1923ء سے 3 دسمبر 2011ء

بالی وڈ کے مشہور اداکار۔پنجاب کے ضلع گروداس پور میں پیدا ہوئے انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا۔ لیکن فلموں کا شوق انہیں ممبئی لے آیا۔ کافی جدوجہد کے بعد 1946ء میں پربھات ٹاکیز کی فلم ’ہم ایک ہیں‘ کے ذریعے وہ پردے پر نظر آئے۔ ان کی پہلی کامیاب فلم ’ضدی‘ تھی۔

بعد میں ان کی دوستی مشہور فلم ساز اور اداکار گرودت سے ہوئی اور پھر مشہور گلوکارہ ثریا کے ساتھ بھی کئی فلموں میں انہوں نے کام کیا۔گلوکارہ ثریا کے ساتھ دوستی کے رشتے کافی پروان چڑھے تاہم یہ دوستی شادی میں تبدیل نہ ہو سکی۔ لیکن ثریّا نے پھر پوری زندگی شادی نہیں کی۔دیو صاحب گزشتہ 6 عشروں سے فلم میں کام کر رہے ہیں اور اس دوران فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری بھی کی۔ بھارتی فلم انڈسٹری میں دیو آنند، راج کپور اور دلیپ کمار کی ایسی تکون بنی جس نے انڈسٹری پر طویل عرصے تک حکمرانی کی۔ یہ حکمرانی راجیش کھنہ کی آمد تک برقرار رہی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

دھرم دیو پشوری آنند 26 ستمبر 1923ء[2] میں ضلع گرداسپور کی تحصیل شکرگڑھ (موجودہ ضلع نارووال، پاکستان) پنجاب، برطانوی بھارت کے ایک دولتمند ایڈووکیٹ پشوری لال آنند کے گھر پیدا ہوئے۔ تین بھائیوں میں دیو کا نمبر دوسرا تھا۔ دیو کی چھوٹی بہن شیلا کانتا کپور، شیکھر کپور کی والدہ ہیں۔ انہوں نے گورنمٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی[3]۔

فنکاری کا سفر[ترمیم]

گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اپنا شہر چھوڑ کر 1940ء میں وہ بمبئی آگئے۔ انہوں نے چرچ گیٹ بمبئی میں ملٹری ناظر کے دفتر میں ایک سو پینسٹھ روپے[4] کی نوکری اختیار کی، پھر انہوں نے اپنے بھائی چیتن کے ساتھ بھارتی عوامی ڈرامہ یونین (IPTA) میں شمولیت اختیار کی۔ جلد ہی ان کو پربھات ٹاکیز کی جانب سے فلم ہم ایک ہیں (1946) میں اداکاری کی پیشکش ہوئی۔ پونہ میں فلمبندی کے دوران ان کی ملاقات عظیم اداکار گرو دت سے ہوئی جس میں ان دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی پہلے کامیاب ہوا تو وہ دوسرے کی بھی مدد کرے گا۔ اس سوچ کے تحت دیو آنند کی پیش کردہ فلم کے ہدایتکار گرو دت اور گرو دت کی ہدایتکردہ فلم کے اداکار دیو آنند ہوتے تھے۔

40ء کی دہائی کا اختتام[ترمیم]

چالیس کی دہائی کے اختتام میں دیو آنند کو گلوکارہ - اداکارہ ثریّا کے ساتھ عورتوں پر مبنی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ دیو آنند نے خود کو خوش قسمت سمجھا اور ان پیشکشوں کو قبول کیا۔ فلمبندی کے دوران وہ اداکارہ ثریّا سے دل لگا بیٹھے۔ اس جوڑے نے سات فلموں میں ساتھ کام کیا، ان میں ودیا (1948ء)، جیت (1949ء)، شیر (1949)، افسر (1950ء)، نیلی (1950)، دو ستارے (1951ء) اور صنم (1951) شامل ہیں، یہ ساری فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہیں۔ ان تمام فلموں میں ثریّا کو ہی اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملا جس سے یہ علامت ظاہر ہونے لگی کے وہ دیو سے بڑی اداکارہ ہیں۔ فلم ودیا کے گانے کنارے کنارے چلیں کی فلمبندی کے دوران کشتی کے ڈوب جانے کے بعد دیو نے ثریّا کی جان بچائی، اس واقعہ کے بعد ثریّا کو دیو آنند سے پیار ہو گیا۔ اس سارے قصّہ کو عوام کی نظر سے پوشیدہ رکھا گیا، اس کو خفیہ رکھنے میں ان کے دوستوں درگا کھوتے اور کامنی کوشل نے بھی بڑی مدد کی۔ فلم جیت کے منظر پر دیو نے آخر کار ثریّا کو شادی کی دعوت دی اور 3000 روپے کی ہیرے کی انگوٹھی پہنائی۔ ثریّا کی نانی نے دیو کے ہندو ہونے کیوجہ سے اس کی شدید مخالفت کی اور پھر ثریّا نے کبھی شادی نہیں کی۔ اس مخالفت کی وجہ سے ان دونوں نے پھر کبھی ساتھ کام نہیں کیا[5][6]۔ اس کے بعد آنند خود کو منوانے کیلیئے کسی بڑی فلم کی تلاش میں لگ گئے۔

کامیابی اور 1950ء کی دہائی[ترمیم]

آنند کو کامیابی کی پہلی کرن اشوک کمار نے دکھائی۔ انہوں نے دیو آنند کو بمبئی ٹالکیز کی فلم ذدّی میں اداکارہ کامنی کوشل کے ساتھ پیش کیا، جو ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ ذدّی کی کامیابی کے بعد دیو نے فلمیں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذدّی وہی فلم ہے جس میں پہلی بار لتا کشور گیت - یہ کون آیا کرکے یہ سولہ سنگھار محفوظ کیا گیا[7]۔ یہ گیت بے انتہا کامیاب ہوا اور یہاں سے ہی دیو اور کشور کی ہم آہنگی کے اگلے چالیس سالوں کا آغاز ہوا۔ 1949ء میں دیو نے اپنی اور کشور کمار کی مضبوط دوستی کے مدّ نظر اپنی کمپنی نوکیتن کی شروعات کی جس نے 2011ء تک 35 فلمیں پیش کیں۔

1951ء میں جرائم پر مبنی سنسنی خیز فلم بازی گرو دت کی ہدایتکاری میں پیش کی۔ 1950 کی دیائی میں یہ فلم جرائم پر مبنی فلموں کیلیئے مثال ثابت ہوئی۔ یہ فلم سنیل دت کی ہدایتکاری اور کلپنا کارتک کی اداکاری کیلیئے سنگ میل ثابت ہوئی اور دیو آنند اور کلپنا کارتک کی جوڑی کو کئی فلموں میں ساتھ کام کرنے کی پیشکش کا باعث بنا۔ ان فلموں میں آندھیاں، ٹیکسی ڈرائیور، ہاؤس نمبر 44 اور نو دو گیارہ پیش پیش ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور کی فلمبندی کے دوران دیو نے کلپنا کو شادی کی پیشکش کی اور 1954ء میں ایک چھوٹی سی تقریب میں یہ جوڑا رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا۔ 1956ء میں ان کے گھر لڑکا، سنیل آنند اور اس کے بعد لڑکی دیوینا پیدا ہوئی۔ شادی کی بعد اداکارہ کلپنا نے ادارکاری کو خیر آباد کردیا۔

اپنے تیز ترّار لہجے اور سر کو ہلا کر جملہ ادا کرنے کو دیو نے اپنا طرز انداز بنا لیا اور فلم ہاؤس نمبر 44، پاکٹ مار، منیم جی، سی۔آئی۔ڈی اور پیئنگ گیسٹ میں اس کی پیروی کرتے نظر آئے۔ 1950 میں ان کی پراسرار یا ہلکی مزاحیہ پریم کہانیاں یا معاشرہ پر مبنی فلمیں پردہ پر اتریں جن میں ایک کے بعد ایک اور فنٹوش شامل ہیں[8]۔ 1950 کی دہائی کے بقیا حصّہ میں دیو نے لگاتار کئی کامیاب فلموں میں نئی اداکارہ وحیدہ رحمٰن کیساتھ کام کیا، ان فلموں میں سی۔آئی۔ڈی (1956)، سولہواں سال، کالا پانی، اور انسانیت شامل ہیں۔ 1955 میں انسانیت فلم میں دیو کو دلیپ کمار کیساتھ اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ 1958 کی فلم کالا پانی کیلیئے دیو نے اپنا پہلا فلم فیئر اعزاز برائے بہترین اداکاری حاصل کیا[9]۔

حوالہ جات[ترمیم]