رادھا کرشنن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش:1888

وفات: 1975ء

ہندوستانی فلسفی ۔ ماہر تعلیم اور سفارت کار ، 1931 سے 1939 تک لیگ آف نیشنز کی ’’ذہنی و عقلی تعاون‘‘ کی بین الاقوامی مجلس کے رکن رہے۔ 1949ء اور پھر 1956ء میں یونیسکو کی مجلس عاملہ کے صدر منتخب ہوئے ۔ 1929 ء سے 1930ء تک آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہندی فلسفہ پڑھایا ۔ 1931ء سے 1936ء تک آندھرا یونیورسٹی اور 1939ء میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ 1949ء سے 1952ء تک روس میں ہندوستان کے سفیر رہے۔ 1952ء میں ملک کے نائب صدر بنے ۔ 1962ء سے 1967ء تک صدر رہے۔


حالات زندگی[ترمیم]

افکار و نظریات[ترمیم]

  • تمام انسانوں کا الوہی جوہر یکساں ہے۔
  • مذہبی شعور میں روح ایشور کے طور پر آشکار ہوتی ہے۔
  • پریم (حب) اور دھرم (راست بازی) کے زریعے تمام انسان ایک ہی روحانی منزل تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
  • معرفت اور وجدان حقیقت کے براہ راست حصول کا زریعہ ہے۔
  • دنیا لامحدود روح کے ایک مخصوس احتمال کی تبدیلی کی صورت ہے۔

اہم تصانیف[ترمیم]

  • فلسفۂ ہند
  • ہندو نظریۂ حیات
  • عینیت پسند نظریۂ حیات
  • مشرقی مذاہب اور مغربی فکر
  • تفسیر برہم سوتر
  • تفسیر گیتا
  • اپنیشدوں کی تفاسیر

بیرونی روابط[ترمیم]