راولپنڈی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
راولپنڈی
راولپنڈی is located in پاکستان
راولپنڈی
پاکستان میں وقوع
متناسقات: 33°36′N 73°02′E / 33.6°N 73.033°E / 33.6; 73.033متناسقات: 33°36′N 73°02′E / 33.6°N 73.033°E / 33.6; 73.033
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
تحصیل راولپنڈی
شہروں کی تعداد 8
متحدہ مجلس کی تعداد 170
حکومت
 - ناظمِ شہر راجہ جاوید اخلاص
رقبہ
 - کُل 42 میل2 (108 کلومیٹر2)
بلندی 1,640 فٹ (500 میٹر)
آبادی (1998 مردم شماری  ; 2006 تخمینہ)
 - کُل 2,300,000
 - تخمینہ 3,039,550
منطقۂ وقت PST (یو ٹی سی+5)
 - موسمِ گرما (د‌ب‌و) GMT+6 (یو ٹی سی+6)
ڈاک رمز 46000
رموز رقبہ 51
ویب سائٹ راولپنڈی سرکاری موقع

راولپنڈی، صوبہ پنجاب میں سطح مرتفع پوٹھوھار میں واقع ایک اہم شہر ہے۔ یہ شہر پاکستان فوج اور پاکستان فضایہ کا صدر مقام بھی ہے اور 1960 میں جب موجودہ دارالحکومت اسلام آباد زیر تعمیر تھا ان دنوں میں قائم مقام دارالحکومت کا اعزاز راولپنڈی کو ہی حاصل تھا۔ ۔ راولپنڈی شہر دارالحکومت اسلام آباد سے 5کلومیٹر، لاہورسے 275 کلومیٹر، کراچی سے 1540 کلومیٹر، پشاور سے 160 کلومیٹر اور کوئٹہ سے1440 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ راولپنڈی کی آبادی تقریبًا 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ نئ مردم شماری کے مطابق راولپنڈی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ یہ شہر بہت سے کارخانوں کا گھر ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ راولپنڈی شہر میں واقع ہے، اور یہ ایئرپورٹ راولپنڈی شہر کے ساتھ ساتھ دارلحکومت اسلام آباد کی بھی خدمت کرتا ہے۔ راولپنڈی کی مشہور سڑک "مری روڈ" ہمیشہ ہی سے سیاسی جلسے جلوسوں کا مرکز رہی ہے۔ راولپنڈی مری، نتھیا گلی، ایوبیا، ایبٹ آباد اور شمالی علاقہ جات سوات، کاغان، گلگت، ہنزہ، سکردو اور چترال جانے والے سیاحوں کا بیس کیمپ ہے۔ نالہ لئی، اپنے سیلابی ریلوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے جو راولپنڈی شہر کے بیچ و بیچ بہتا ہوا راولپنڈی کو دو حصّوں "راولپنڈی شہر" اور "راولپنڈی کینٹ" میں تقسیم کرتا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نالہ لئی کا پانی کبھی اتنا صاف شفاف اور خالص تھا کہ اسے پیا جا سکے، لیکن اب یہ گھروں سے خارج ہونے والا فضلہ اور کارخانوں سے خارج ہونے والا گندہ پانی اس کو ناپاک کر چکا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

راولپنڈی، پنڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قديمہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پوٹھوھار سطح مرتفع پر واقع ثقافت 3000 سال قدیم ہے۔ یہاں ملنے والا مادہ اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ یہاں پر بدھ پرست لوگوں کا استحکام ٹیکسلا اور ویدی استحکام (ہندو تمدّن) کے ہم عمر ہے۔ ٹیکسلا اس بات سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس کا شمار "گینس بک آف ورلڈ رکارڈز" میں بھی ہوتا ہے کیونکہ یہاں پر دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی "تکشاہلا یونیورسٹی" کے آثارات ملے ہیں۔

یہ دکھائی دیتا ہے کہ یہ شہر ناکامی کی طرف ایشیا کی ایک خانہ بدوش قوم "وائٹ ہن" کی بربادی کے باعث گیا تھا۔ اس علاقے میں پہلے مسلمان حملہ آور "محمود غزنوی" (جو کہ غزنی، افغانستان سے تھا) نے تباہ شدہ شہر کو ایک گکھڑ حاکم "کائے گوہر" کے حوالے کر دیا۔ شہر، بہر حال، ایک حملہ آوری کے راستے پر ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکا اور تب تک بنجر رہا جب تک ایک اور گکھڑ رہنما جھنڈا خان آیا اور اس نے شہر کی صورتحال کو درست کیا اور اس کا نام ایک گاؤں "راول" کے نام پر 1493ء میں "راولپنڈی" رکھ دیا۔ راولپنڈی گکھڑوں کے زیرِ حکومت رہا حتٰی کہ آخری گکھڑ حکمران "مقرب خان" کو سکھوں کے ہاتھوں 1765ء میں شکست واقع ہوئی۔ سکھوں نے دوسرے علاقوں کے تاجروں کو راولپنڈی میں آ کر رہنے کی دعوت دی۔ یوں راولپنڈی نمایا ہوا اور تجارت کے لیے بہترین علاقہ ثابت ہو کر ابھرا۔

پھر انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں کے راولپنڈی میں اپناۓ گئے پیشے کی پیروی کرتے ہوئے راولپنڈی کو 1851ء میں مستحکم طور پر انگریز فوج کا قلعہ بنا دیا گیا۔ 1880 کے عشرہ میں راولپنڈی تک ریلوے لائن بچھائی گئی، اور ٹرین سروس کا افتتاح 1 جنوری 1886ء میں کیا گیا۔ ریلوے لنک کی ضرورت لورڈ ڈیلہوزی کے بعد پیش آئی جب راولپنڈی کو شمالی کمانڈ کا صدر مقام بنا دیا گیا اور راولپنڈی برطانوی فوج کا ہندوستان میں سب سے بڑا قلعہ بن گیا۔

1951ء میں راولپنڈی میں پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم جناب لیاقت علی خان کو ایک مقامی پارک میں خطاب کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔ اس پارک کا نام اسی سانحے کے باعث "لیاقت باغ" رکھ دیا گیا۔

2007 میں لیاقت باغ کے مین گیٹ پر پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔1979 میں ان کے والد پاکستان کے سابق وزیراعظم ذ والفقار علی بھٹو کو راولپنڈی کی سنٹرل میں پھانسی دی گئی تھی۔

ماحول اور لوگ[ترمیم]

راولپنڈی ایک بے ترتیب لیکن گرد سے پاک صاف ستھرا شہر ہے۔ جنوری 2006 کے مطابق راولپنڈی میں نوست و خواند کی قابلیت کی شرح %70.5 ہے۔ شہر کی آبادی میں پوٹھوہاری، پنجابی، مہاجر (بھارت سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والے افراد) اور پٹھان شامل ہیں۔ راولپنڈی شہر میں صوبہ سرحد کے ہزارہ دویژن سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہے جن کی مادری زبان ہند کو ہے یہ لوگ شہر اور شہر کے اطراف میں بکھری آبادیوں اپنی ذاتی رہائش گاہوں یا پھر کرایہ کے گھروں میں رہتے ہیں شہر کا درجہ حرارت گرمیوں میں نا قابل پیشین ہوتا ہے۔ شہر میں بارش کا سالانہ اوسط درجہ 36 انچ ہوتا ہے۔ موسم گرما میں گرمی زیادہ سے زیادہ 52 ڈگری اور موسم سرما میں درجہ حرارت 5- تک گر سکتا ہے۔

ذرائع آمدورفت[ترمیم]

شہر میں سفر کی مناسب سہولتیں میسر ہیں اور شہر کے بڑے حصوں کو ملانے والی سڑکوں کی حالت بہترین ہے۔مری روڈ شہر کی سب سے مصروف ترین سڑک ہے۔ شہر کے اندر سفر کرنے کے لۓ پبلک ٹرانسپورٹ جن میں ٹیکسی، بسیں، رکشا اور ٹانگے ہر وقت دستیاب ہیں۔

شاہرات[ترمیم]

پاکستان کے مروجہ نظام شاہرات کے تحت قائم بین الاضلاعی شاہرات کے ذریعے یہ شہر اسلام آباد، اٹک، جہلم، چکوال، مری اور ایبٹ آباد کے ساتھ متصل ہے۔ جی ٹی روڈ (این-5) راولپنڈی شہر کو پاکستان مختلف حصوں سے ملاتی ہے۔ ۔ جی ٹی روڈ (این-5) راولپنڈی شہر کےے درمیان میں ہے۔

موٹروے[ترمیم]

راولپنڈی شہر کو موٹروے (ایم1) اسلام آباد اور پشاور اور (ایم2) لاہور اور اسلام آباد سے ملاتی ہے۔دونوں موٹرویز چھ لینوں پر مشتمل ہیں۔

ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

راولپنڈی ریلوے اسٹیشن 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ یہاں سے ٹرینیں پاکستان کے مختلف شہروں کو جاتی ہیں جن میں کراچی، لاہور،پشاور، کوئٹہ، نوشہرہ ، حیدرآباد، سبی، سکھر، ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، فیصل آباد، لاڑکانہ، کوہاٹ، نوابشاہ، میانوالی، سرگودھا، گجرات، سیالکوٹ اور جیکب آباد ہیں

ہوائی اڈا[ترمیم]

اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ مصروف ترین ائرپورٹ ہے جو راولپنڈی شہر میں ہے۔ یہاں پاکستان کی قومی ہوا باز کمپنی پی آئی اے کے علاوہ 25 سے زاید نجی اور انٹرنیشنل کمپنیاں مسافروں کے لۓ اپنی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ پرانے ائر پورٹ سے 25 کلو میٹر دور نۓ راولپنڈی اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے اور تعمیر کا کام زوروشور سےجاری ہے۔

راولپنڈی کے دلکش مناظر[ترمیم]

راولپنڈی میں بہت سارے اچھے ہوٹل، طعام خانے، عجائب گھر اور سبزہ زار ہیں۔ راولپنڈی کو دیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے بازاروں میں گھوما جائے۔ شہر کی دو اہم شاہراہیں: جی ٹی روڈ بالعموم مشرق سے مغرب تک چلتے ہوئے مال روڈ کنٹونمنٹ سے ہوتا ہوا گزرتا ہے اور مری روڈ مال روڈ کے شمال سے شروع ہوتا، ریلوے لائنوں کو اوپر اور نیچے سے عبور کرتا ہوا اسلام آباد تک پہنچتا ہے۔ راولپڈی کے دو اہم بازار ایک راجہ بازار جو کہ پرانے راولپنڈی شہر میں واقع ہے اور صدر بازار

راولپنڈی کے مشہور علاقے[ترمیم]

راولپنڈی کے مشہور علاقے درج ذیل ہیں:

  • شکریال
  • صادق آباد
  • سیٹلائیٹ ٹاؤن
  • اصغر مال
  • خیابان سرسید
  • ڈھوک کا لا خان
  • پیرودھاہی
  • شمس آباد
  • ڈھوک حسو
  • گوالمنڈی
  • رتہ امرال
  • گنجمنڈی
  • وارث خان
  • پرانا قلعہ
  • راجہ بازار
  • صدر
  • ڈھوک کھبہ
  • گلزارِقائد
  • مسلم ٹاؤن
  • مورگاہ
  • بکرا منڈی
  • اڈیا لہ
  • دھمیال
  • شاہ چن چراغ
  • موتی با زار

مشہور پارک[ترمیم]

راولپنڈی کی تحصیلیں[ترمیم]

  • تحصیل راول ٹائون
  • تحصیل پوٹھوہار ٹائون
  • تحصیل گوجرخان
  • تحصیل ٹیکسلا
  • تحصیل مری
  • تحصیل کوٹلی ستیاں
  • تحصیل کہوٹہ
  • تحصیل کلر سیداں

کھیل[ترمیم]

ہسپتال[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]


Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

راوپنڈی شہر کو 3D میں دیکھیے۔ اس کے لیے آپ کو سافٹویئر Google Earth چاہیے ہو گا۔