راولپنڈی سازش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

راولپنڈی سازش (یا راولپنڈی سازش کیس)، پاکستان کے سب سے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کے خلاف 1951ء میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ ایک بغاوت بخلاف ریاست کی کوشش تھی۔ منتخب حکومتوں کے خلاف یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلی بغاوت کی کوشش تھی۔ میجر جنرل اکبر خان، دیگر فوجی افسراں اور بائیں بازو کی پاکستانی سیاست دانوں کے ساتھ مل کر یہ پاکستانی فوج کے سینئر کمانڈروں کی طرف سے بغاوت کا ایک منصوبہ تھا۔

اسباب[ترمیم]

اس بغاوت بخلاف ریاست کے پیچھے بنیادی وجہ پاکستانی فوج میں پڑنے والی دراڑ تھی، جو کہ جموں و کشمیر کی ہمالیہ ریاست کے پورے علاقے پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش اور اس سے ابھرنے والی مایوسی سے پیدا ہوئی۔ 1948ء کی پاک-بھارت جنگ ایک التواۓ جنگ کے زریعہ عارضی صلح میں اختتام پزیر ہو گئ اور پاکستان کے ہاتھ میں کشمیر کی ریاست کا صرف شمال مغربی علاقہ آیا۔ اس التواۓ جنگ کے خلاف پاکستانی فوج میں کافی گہری آرزدگی تھی۔ بہت لوگوں نے اس نتیجے کو ایک غلطی قرار دیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے بھارتی افواج کشمیر میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر پائںگی، جس سے پاکستان کا اس خطہ میں زور کم پڑ جائگا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت نے پاکستانی کمانڈروں کو بھارتی افواج پر از سر نو حملہ کرنے سے روکا اور ایک اعتدال پسند پالیسی کے حق میں آواز بلند کی۔

سازش کے شرکاء[ترمیم]

گیارہ فوجی افسران اور چار شہری اس سازش میں ملوث تھے۔ سازش کے شرکاء میں سب سے اہم کردار میجر جنرل اکبر خان کا تھا جنہوں نے اس بغاوت کا منصوبہ بنایا۔ میجر جنرل اکبر خان پاکستانی افواج کے رئیسِ عملۂ جامع تھے۔ انہوں نے 1947ء کی جنگ میں "جنرل طارق" کے تخلص کا سہارا لے کر پاکستانی افواج کی قیادت سنبھالی۔ اس وقت، پاکستان کا جنوبی شہر کراچی ریاست کا سیاسی دارالحکومت تھا جبکہ راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹرز واقع تھا جہاں جنرل خان کی وابستگی تھی۔ سازش کے سویلین شرکاء کے سب سے اہم کردار معروف پاکستانی شاعر فیض احمد فیض تھے۔ فیض بائیں بازو کی سیاست کے ہامی تھے اور پاکستانی کمیونسٹ پارٹی اور سجاد ظہیر کے ہمدرد بھی تھے۔ اس سازش میں اکبر خان کی بیوی، نسیم شاہنواز خان، نے بھی اپنے شوہر کا ساتھ دیا اور انکی حوصلہ افزائی کی۔

شرکاء کی ابتدائی ملاقات[ترمیم]

23 فروری 1951ء کو میجر جنرل اکبر خان اور انکی اہلیہ نے اپنے گھر پر ایک دعوت کا اہتمام کیا جس میں چند فوجی افسران اور بیگم نسیم کے ہمراہ تین دیگر سیولین شہری موجود تھے، جن میں فیض احمد فیض، سجاد ظہیر اور محمد حسین عطاء شامل تھے۔ عسکری شرکاء میں زعیمِ نقیب صدیق راجہ اور میجر محمد یوسف سیٹھی بھی شامل تھے، جنکو بعد میں معاونتِ سازش كے الزام پر ریاست کی طرف سے معافی بھی مل گئ۔

اس ملاقات میں اکبر خان نے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان دونوں کی راولپنڈی آمد ایک ہفتہ تک متوقع تھی۔ اس منصوبے کے تحت، گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو مجبور کیا جانا تھا کہ وہ لیاقت علی خان کی حکومت کو برطرف کر کہ ایک عبوری حکومت کی تشکیل کا اعلان کریں جسکے سربراہ خود جنرل اکبر خان ہوں گے۔ اس ملاقات میں اکبر خان نے کشمیر ، زمینی اصلاحات ، کرپشن اور اقربا پروری کے خاتمے کا بھی ذکر کیا ۔