رحمان ملک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
رحمان ملک


صدر آصف علی زرداری
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی
پیشرو حامد نواز خان

در منصب
1993 – 1996
صدر وسیم سجاد
فاروق لغاری
وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو

پیدائش دسمبر 12 1951 (1951-12-12) (عمر 61)
سیالکوٹ, پنجاب
پیدائشی نام اے۔ رحمان ملک
قومیت  پاکستان
سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)
سکونت اسلام آباد، پاکستان
مادر علمی جامعہ کراچی
پیشہ سیاستدان
کابینہ کابینہ پاکستان
قلمدان ایوان بالا
مذہب اسلام
Notable Awards ستارۂ شجاعت
موقع جال Rehman Malik

رحمان ملک (پدائش: 12 دسمبر 1951ء) پاکستان پیپلز جماعت سے تعلق رکھنے والا سیاست دان ہے جو اپریل 2009ء سے وزیر داخلہ کے عہدہ پر ہے۔ پاکستانی پاسبان کے ادارہ ایف-آیی-اے میں معمولی عہدے دار تھا، مگر بینظیر بھٹو کا چہیتا بن کر جلد ترقی کی منزلیں طے کر کے ادارے کا سربراہ مقرر ہو گیا۔ بینظیر کے ساتھ جلاوطنی اختیار کی اور اس کے ساتھ ہی واپس آیا۔ بینظیر کے قتل کے وقت اس کے گاڑی قافلہ میں شامل تھا اور بینظیر کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھا۔ آصف علی زرداری نے وزیر داخلہ مقرر کیا۔

4 جون 2012 کو عدالت عمظمیٰ نے دہری شہریت رکھنے پر رحمان ملک کی ایوان بالا کی رکنیت معطل کردی جس پر وہ وزیر رہنے کا اہل بھی نہیں رہا۔ سرکاری ملازمت سے برطرفی کی وجہ سے بھی مَلک پارلیمان کی رکنیت کا اہل نہیں تھا۔[1]