روح القدس (عیسائیت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عیسائی عقیدے تثلیت کا مطلب ہے ”ایک میں تین” اور ”تین میں ایک“۔ عیسائی خدا کو ایک ہی مانتے میں مگر ایک میں تین ہستیوں کو شامل کرتے ہیں۔ جن تین ہستیوں کو اس ایک میں شامل کیا جاتا ہے وہ اس طرح ہیں۔

  1. خدا
  2. عیسیٰ علیہ السلام
  3. روح القدس

ان تینوں کو ایک اور ایک کو تین ثابت کرنے کے لیے عیسائی علماءجو حوالے دیتے ہیں اس میں بائبل کے بہت سی آیتیں شامل ہیںَ۔ جیسے بائبل کی کتاب پیدائش باب 1 کی آیت 1 تا 3۔ (1) خُدا نے اِبتدا میں زمِین و آسمان کو پَیدا کیا۔ (2) اور زمِین ویران اور سُنسان تھی اور گہراؤ کے اُوپر اندھیرا تھا اور خُدا کی رُوح پانی کی سطح پر جُنبِش کرتی تھی۔ (3) اور خُدا نے کہا(یعنی کلام کیا) روشنی ہوجا اور روشنی ہوگئی۔[1] تیسری آیت میں یہاں کلام کرنے سے مراد خدا کا مجسم ہو جانا لیا گیا ہے جسے عیسائی حضرات حضرت عیسیٰ مراد لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوحنا کی کتاب جو انہوں نے الہام کے زیر اثر لکھی کے باب 1 کی آیت 1 تا3 میں درج ہے کہ خدا نے کہا ہو جا اور سب چیزیں اس کے وسیلہ سے وجود میں آئی۔ توریت میں پیدائش کی کتاب کے پہلے باب کی پہلی آیت میں جس خدا کا ذکر ہے وہ انجیل میں آکر عیسائیوں کے روحانی باپ کے درجے پر فائز ہو گیا ہے، دوسری آیت میں جس روح کے پانی پر جنبش کرنے کا ذکر ہے وہ انجیل میں پاک روح یعنی روح القدس ہے۔تیسری آیت میں جس کلام کا ذکر ہے انجیل یوحنا باب 1 کی آیت 14 میں اسے مجسم روپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل بتایا گیا ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]