رومیوں کے نام پولس رسول کا خط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عہدنامہ جدید

زمانہ تصنیف[ترمیم]

پولس رسول نے یہ خط کرنتھس سے شہر روم کے مسیحیوں کو 57 تا 58 عیسوی کے درمیان لکھا تھا۔

تعارف و مندرجات[ترمیم]

روم شہر رومی سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ اہل روم اپنے بادشاہ کو قیصر روم کہہ کر پکارتے تھے۔ پولس روم سے ہوتا ہوا اسپین جانا چاہتا تھا۔ اُس نے روم کے مسیحیوں کو اپنا تعارف کرانے اور اپنے ارادہ سے آگاہ کرنے کے لیے یہ خط اُنہیں بھیجا۔ اُس نے اُن کے فائدہ کے لیے اس خط میں مسیحی اعتقادات کی تشریح بھی کی ہے اور بتایا ہے کہ خدا کے انتظام نجات میں یہودی اور غیر یہودی دونوں شامل ہیں (باب 9 تا11) اور (باب 10 آیت 5 تا 13)۔ اُس نے خدا کے فضل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جومسیحی عقیدہ کے مطابق ہر گناہ گار کو مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اسی فضل کی بدولت راستباز گنا جاتا ہے اور نجات پاتا ہے۔خط کے آخر میں بعض مشورے دئیے گئے ہیں جن پر عمل کرنے سے اس دنیا میں ایک کامیاب زندگی گذارنے میں مدد ملتی ہے۔