رچرڈ شیر دل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
رچرڈ شیر دل
انیسویں صدی کی عکاسی میں رچرڈ حسرت سے بیت المقدس کی جانب دیکھتے ہوئے

رچرڈ اول (پیدائش:8 ستمبر، 1157ء - وفات: 6 اپریل، 1199ء) 6 جولائی، 1189ء سے اپنی وفات تک انگلستان کا بادشاہ تھا۔ انہوں نے مختلف اوقات میں اسی مدت کے دوران نارمنڈے ،Aquitaine ،گاسکونی کے ڈیوک، آئر لینڈ، قبرص کے لارڈ، نینتز, آنجو، مائن کے نواب اور Brittany (فرانس کا صوبہ) کے سردار اعلی کے طور پر حکومت کی۔ رچرڈ کی ماں کا نام ایلینار آف گا ئن تھا۔ رچرڈ اس کی آخری عمر میں پیدا ہوا تھا۔ وہ شاہ لویس کی سابقہ ملکہ تھی جو 1149ء کی صلیبی جنگ میں عیسائی فوجوں کا ایک سردار تھا۔ شاہ لویس سے طلاق کے بعد ایلینار نے ہنری ڈیوک آف آنجو سے شادی کر لی۔ 16 سال کی عمر میں رچرڈ نے اپنی فوج کی کماند کرتے ہوے پااٹو (Poitou) میں بغاوت کو کچلا جو اس کے والد، بادشاہ ہنری دوئم کے خلاف تھی ۔

رچرڈ بلا کا طاقتور تھا - بہت دلیر اور اولوالزم - اس نے بڑے بڑے معرکے سر کئے تھے۔ جنگ میں اس کی شجاعت مسلم تھی۔ اس کی پرجوش فطرت کو کھیلوں کے مقابلوں میں عمدہ ضیافتوں میں تسکین ملتی۔ اس کی رگوں میں پوشیرز اور گاسکونی کے مطربوں اور منچلے شہزادوں کا خون گردش کر رہا تھا وہ تیغ زنی اور نیزہ بازی میں انتہا ئی لطف محسوس کرتا۔ وہ بربط بجانے کا بھی بہت شوقین تھا۔ رچرڈ کو فن ملک داری سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اس کے قوی ہاتھ تلوار کے قبضے اور نیزے کے گز کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔ انہں قلم اور کاغز سے کوئی سروکار نہ تھا۔

وہ رچرڈ شیر دل کے طور پر جانا جاتا تھا ، یہاں تک کہ اپنے الحاق سے پہلے بھی اور اس کی بڑی وجوہات تھیں کہ رچرڈ ایک عظیم فوجی رہنما اور جنگجو کے طور پر مشہور تھا۔ اس نے تیسری صلیبی جنگ کے لئے رقم جمع کرنے کے لئے نہایت ہی بے پرواہی سے شاہی مراعات فروخت کر دی۔ اپنے باپ کے قہر سے بچنے کے لئے رضا کارانہ طور پر جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔ وہ اپنے باپ کی موت تک فرانس میں مقیم رہا۔ صلیبی جنگ کے دور آغاز میں وہ تخت نشین ہوا۔ وہ نازک مزاج، متکبر اور انتہائی بہادر تھا۔ رچرڈ تیسری صلیبی جنگ کے دوران مرکزی عیسائی کمانڈر تھا، مؤثر طریقے سے فلپ آگسٹس کی رخصتی کے بعد اس مہم کی قیادت اس کے پاس تھی گویا اس نے مسلمان ہم منصب صلاح الدین ایوبی کے خلاف کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کیں، لیکن وہ یروشلم فتح کرنے میں ناکام رہا۔

عرب مورخ اسے ملک الرک کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ رچرڈ شیر دل انفرادی مبارزت میں واقعی بے مثال تھا۔ لیکن فوجی قیادت اس کے بس کا روگ نہ تھا، رچرڈ کی قیادت میں صلیبی جنگ ناکام ہوگئی تھی۔ اس نے جنگ میں خطروں کو للکارا تھا، خوب دادشجاعت حاصل کی لیکن اپنے مقصد اولین میں بری طرح ناکام رہا تھا۔ جب اس نے فوج کی کمان سنبھالی تو وہ بلکل بےبس ہو کر رہ گیا تھا پھر اس نے یہ ظلم ڈھایا کہ عکہ کے مسلمان اسیران جنگ کو جو دراصل یرغمال تھے تہ تیغ کردیا۔ لیکن اس بدترین ناکامی کےباوجود اس کے دلیرانہ کارنامے ہمیشہ یاد رہيں گے۔

صلیبی جنگ میں شکست کھانے کے بعد انگلستان میں رچرڈ کا کسی نواب سے سونے پر جھگڑا ہو گیا۔ رچرڈ نے خفا ہو کر اس کے قلعے کا محاصرہ کر لیا دوران محاصرہ کسی تیر انداز نے گز دار کمان سے بادشاہ کو نشانہ بنایا۔ رچرڈ نے تیر انداز کی جان بخش دی لیکن وہ اس کاری زخم سے جانبر نہ ہو سکا۔