رچرڈ فرانسس برٹن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سر رچرڈ فرانسس برٹن
Sir Richard Francis Burton

رچرڈ فرانسس برٹن
پیدائش 19 مارچ 1821 (1821-03-19)
ٹورکے, ڈیون, انگلستان
وفات 20 اکتوبر 1890 (عمر 69 سال)
ٹریسٹ, آسٹریا-مجارستان
مدفن سینٹ مریم میگڈالین رومن کیتھولک چرچ, لندن, انگلستان
قومیت برطانوی
وجہِ شہرت استکشاف، تصانیف، لسانيات، مستشرق
شریک حیات اسابیل برٹن (شادی 1861–1890) «start: (1861)–end+1: (1891)»"Marriage: اسابیل برٹن to رچرڈ فرانسس برٹن" Location:سانچہ:Placename/adr (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DA%86%D8%B1%DA%88_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%D9%B9%D9%86)

رچرڈ فرانسس برٹن (Richard Francis Burton) ایک برطانوی جغرافیہ دان، مستکشف، مترجم، مصنف، فوجی، مستشرق، نقشہ نگار، ماہر علم الاانسان، جاسوس، ماہر لسانيات، شاعر، تلوار باز اور سفارت کار تھا۔

وہ اپنے ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے سفر اور استکشاف کے لئے جانا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، وہ 29 یورپی، ایشیائی اور افریقی زبانوں جانتا تھا۔ [1]

برٹن کی کامیابیوں سب سے زیادہ مشہور بھیس بدل کر مکہ مکرمہ کا سفر کرنا، الف لیلہ کا ترجمہ، کاما سترا کی انگریزی میں اشاعت، عظیم افریقی جھیلیں کا سفر بطور اولین یورپی مستکشف۔

وہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کا ایک کپتان تھا۔ اسکے بعد وہ شاہی جغرافیائی جمعیت کا رکن بن گیا مشرقی افریقہ ساحل کو مستکشف کیا۔

سوانح حیات[ترمیم]

ابتدائی زندگی اور تعلیم (1822-1842)[ترمیم]

برٹن ٹورکے، ڈیون میں 21:30 پر 19 مارچ 1821 کو پیدا ہوا۔ ان کا والد لیفٹیننٹ کرنل جوزف نیٹرویل برٹن برطانوی فوج میں تھا۔

اس نے جامعہ آکسفورڈ کے ٹرنٹی کالج سے تعلیم حاصل کی۔

فوجی کیریئر (1842-1853)[ترمیم]

برٹن نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں ملازمت اختیار کی۔ وہ پہلی اینگلو افغان جنگ میں حصہ لینا چاہتا تھا مگر اسے ہندوستان پہنچنے سے قبل ہے جنگ ختم ہو گئی۔ اسے اٹھارویں بمبئی انفنٹری گجرات میں تعینات کیا گیا۔ ہندوستان میں اس نے ہندوستانی، گجراتی، پنجابی، سندھی اور مراٹھی زبانوں کے ساتھ ساتھ فارسی اور عربی پر عبور ھاصل کیا۔ فوج میں اس نے بندروں کی ایک بڑی تعداد ان کی زبان سیکھنے کی امید سے اپنے ساتھ رکھی۔ [2]

بعد میں اسے سندھ سروے کے لئے مقرر کیا گیا جہاں اس نے ماپنے کے اوزاروں کا استعمال سیکھا جو بعد میں اسکے بطور مستکشف بہت کام آیا۔ یہاں اس نے بھیس بدل کر سفر کرنا شروع کیا۔ اس نے کراچی کے ایک قجہ خانے کی خفیہ تحقیقات میں حصہ لیا جہاں برطانوی فوجی زیادہ جایا کرتے تھے۔ اسکی جنسی عمل میں زندگی بھر دلچسپی نے اسے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرنے میں مدد دی جو بعد میں اسکا درد سر بھی بن گئی۔

مارچ 1849 میں وہ نے بیماری کی چھٹی پر یورپ واپس آ گیا۔ 1850 میں اس نے اپنی پہلی کتاب گوا اور نیلے پہاڑ (Goa and the Blue Mountains) لکھی. وہ تلوار بازی کے اسکول کا دورہ کرنے کی بولوگنی گیا جہاں اسکی ملاقات اسکی ہونے والی بیوی اسابیل سے ہوئی۔

پہلے استکشافات اور مکہ مکرمہ کا سفر (1851-1853)[ترمیم]

رچرڈ فرانسس برٹن عرب لباس میں

اپنی مہم جوئی کے شوق کی وجہ سے برٹن کو شاہی جغرافیائی جمعیت سے علاقے کے استکشاف کی اجازت مل گئی اور اس کے علاوہ اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے چھٹی کی اجازت بھی مل گئی۔

ہندوستان میں سات سال کے دوران برٹن نے مسلمانوں کے رسوم اور رویے سے واقفیت حاصل کر لی تھی۔ اس نے مکہ اور مدینہ منورہ کے سفر اور حج کے لیے تیاری شروع کر دی۔ یہ سفر 1853 میں شروع کیا گیا جس نے برٹن کو مشہور کر دیا۔

یہ سفر اس نے سندھ کے مسلمانوں کا بھیس بدل کر کرنے کی منصوبہ بندی کی اور نہایت مستقل مزاجی سے اس کی تیاری کی یہاں تک کہ مسلمانوں کی طرح ختنہ بھی کروا لیا۔

اگرچہ برٹن یقینی طور پر سب سے پہلے یورپ کے غیر مسلم کے طور پر حج کرنے والا نہیں تھا لیکن اسکی وجہ شہرت اسکی بہترین دستاویزی کاوش تھی۔ اس نے زبان میں کسی بھی قسم کے قرق سے بچنے کے لئے مختلف بھیس بدلے جس میں ایک پشتون کا بھیس بھی شامل ہے۔ برٹن کا مکہ کا راستہ خطرناک تھا اور اس کے قافلے پر ڈاکوؤں کی طرف سے حملہ بھی کیا گیا۔ برٹن نے اپے سفر کی روداد اپنی کتاب مکہ اور مدینہ کی زیارت کا ذاتی بیانیہ (A Personal Narrative of a Pilgrimage to Al-Medinah and Meccah) میں لکھی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Lovell (1998), p. xvii.
  2. ^ A Rage to Live page 58.