ریاض احمد گوھر شاہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو محفوظ کر دیا گیا ہے؛ استفسارِ وجوہات و متعلقہ گفتگو کیلیے تبادلۂ خیال کا صفحہ استعمال کیجیے۔


ریاض احمد گوھر شاہی
Sarkar (608).jpg
گوہر شاہی پاکستان میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع میں
متبادل نام: گوہر شاہی
تاریخ پیدائش: 25 نومبر 1941 ( 1941-11-25)
جائے پیدائش: ڈھوک گوہر شاہ ، راولپنڈی ، برطانوی ہند
تاریخ وفات: 25 نومبر 2001 (عمر 60 سال)
جائے وفات: مانچسٹر ، برطانیہ
تحریک: انجمن سرفروشان اسلام ، بین الاقوامی مسیحا فاؤنڈیشن

ریاض احمدگوھرشاہی (25 نومبر1941ء تا 25 نومبر2001) ایک صوفی، مصنف، روحانی پیشوا اور انجمن سرفروشان ِاسلام (ASI) کے سرپرست و بانی تھے۔ [1] گوہر شاہی ایک متازع شخصیت کے حامل ہیں اور مسلم علماء انکے بیانات پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔ پورانام ریاض احمد گوھرشاہی ہے۔ ریاض کے ایک معنی ٹکڑا کے ہوتے ہیں، نام کے ساتھ گوھرشاہی لگانے کی وجہ انکے خاندان میں گذرنے والے ایک بزرگ گوہر علی شاہ کی نسبت سے ہے جنکی 5 ویں پشت میں ریاض احمد ہوۓ۔ [2]

ابتدائی زندگی

گوہر شاہی جنکی پیدائش 1941ء میں پاکستان کے ایک گاؤں میں بیان کی جاتی ہے نے 24 سال کی عمر میں پیروں فقیروں کے پاس جانا شروع کیا تاکہ اللہ تک رسائی کی راہ کا پتہ چل سکے۔ مگر کوئی موزوں پیر نا ملنے کی وجہ سے واپس دنیاوی کام کاج میں لگ گئےشادی بھی ہوگئی اورتین بچے بھی ہوئے۔[2] ۔ پھر 1975ء میں گوہرشاہی نے جسۂ توفیق الٰہی کا بیان دیا (جسہ کے معنی لغات میں لمس یا چھولینے کے اور توفیق کہ معنی کیف ، ہیکل اور صلح وغیرہ کے آتے ہیں، تاہم طریقت میں اس کے معنی وہ روحانی مخلوقات ہیں جو کہ ہر انسان کے اندر قدرتی طور پر موجود ہوتی ہیں اور انہیں روحوں کو اللہ کے ذکر سے بیدار کرکے انسان مسلمان سے مومن اور پھر ولایت کی دہلیز تک پہنچ سکتا ہے۔)۔[3] اور پھر کوئی پانچ سال بعد پھر 1980ء میں اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا، ابتداء میں اپنا مرکز حیدرآباد اور پھر کوٹری (دونوں پاکستان کے شہر) کو بنایا ، اس تبلیغ کے آغاز کے بارے میں انکے مرید کہتے ہیں کہ انکو حضرت امام بری رحمۃ اللہ علیہ کی بشارت ہوئی تھی کہ ایسا کریں [4] اور اپنے آپ کو ایک صوفی کے طور پر پیش کرنا شروع کیا جبکہ اسی دوران انکے چند روحانی پیروکار انکو امام مہدی تصور کرنے لگے، 1999ء کے اواخر میں گوہر شاہی کے خلاف متعدد مقدمات دائر ہوۓ جن کے باعث وہ برطانیہ چلے گۓ اور وہاں اپنا مرکز بنا لیا اور اپنے پیروکاروں کا خاصی تعداد تیار کرلی[3]؛ وہاں بھی انکے خلاف علماء نے احتجاج کیا لیکن انہوں نے اپنا مشن جاری رکھا اور کئی یورپی ممالک اور امریکہ کے دورے بھی کۓ۔

متنازع بیانات

گوھرشاہی کے متنازع بیانات (جن کو مسلم علماء دین نے کفرانہ بیانات کی نظر سے دیکھا ہے اور ان بیانات کی بنیاد پر فتوے بھی جاری کیۓ ہیں) اور مسلمانوں کے عمومی اتفاق راۓ سے مخالف کی گئی باتیں گوھرشاہی کے لئے وجہ ءشہرت بن گئیں کیونکہ عام علماءکی جانب سے اِ ن کی شدت کے ساتھ مخالفت کی گئی۔[5] اگرتمام علماءکی جانب سے گوھرشاہی کی مخالفت کا جائزہ لیاجائے تومندرجہ ذیل وجوہا ت نمایاںہیں:

  1. گوھر شاہی کی حضرت عیسی علیہ السلام سے امریکہ میں ملاقات۔ [1][6][7][8][9]
  2. گوھرشاہی کے معتقدین کی جانب سے چاند ،سورج اور حجر اسود میں گوھرشاہی کی شبیہات کا انکشاف۔ [1][6][8][10][9]
  3. اللہ کی پہچان اوررسائی کے لئے روحانیت سیکھوخواہ تمہاراتعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو۔
  4. جب محبت اللہ کی دل میں آجاۓ تو اگر مذہب میں نہ بھی ہوا تو بخشا جاۓ گا اللہ کی محبت ہی کافی ہے۔ (ماہنامہ روشن کراچی جولائی 1997ء ص 9)---
    # گوھرشاہی کے تمام مرید گوھرشاہی کے انتقال کو گوھرشاہی کی موت تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ گوھرشاہی جسم سمیت روپوش ہوگئے، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح گوھرشاہی بھی اپنا جسم چھوڑکرغیبت ِ صغر ٰی میں چلے گئے ہیں اور قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ گوھرشاہی دوبارہ آئینگے۔
  5. علماء نے ریاض کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ریاض نے نبی ہونے یا امام مہدی ہونے کا دعو ٰی کردیا تاہم گوھرشاہی نے اسکی نفی ان الفاظ میں کی "میں نے کھبی یہ نہیں کہا کہ میں امام مہدی ہوں ، ہاں میں نے نشانیاں ضرور بتائی ہیں اب یہ تو لوگوں کی سمجھ ہے ، ان سے پوچھیں کہ انکو کیا نشانیاں نظر آئیں"۔

فتاویٰ

  • دارالعلوم احمد رضا ہندوستان کے امام صاحب کا ریاض کے بارے میں فتویٰ

ایسے الفاظ اور اعمال کا حامل اور اسکے پیروکار اللہ تعالیٰ کے عذاب میں آئیں گے اور انہیں (دوزخ کی) آگ کی سزا نصیب ہوگی۔ اسکو مسلمانوں کی مساجد میں آنے سے باز رہنا چاہیۓ اور اسکی ذکر کی مجالس پر پابندی عائد کی جانی چاہیۓ[11]

  • دارالعلوم امجدیہ کی جانب سے فتویٰ

گوہر شاہی ایک فاسق اور فاجر ہے کیونکہ یہ انکا ہمنوا ہے کہ جو نماز قائم نہیں کرتے ، جو نشہ (شراب وغیرہ) لیتے ہیں اور عورتوں سے تغزل (چھیڑ چھاڑ) کرتے ہیں۔ اسکی کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ اسکا مصنف ریاض گوہر شاہی ایک جاہل اور انتہائی منحرف شحص ہے۔ یہ مسلمانوں کو منحرف کر کہ ایک نیا فرقہ تیار کرنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے دور رہنا چاہیۓ اور اسکی مجالس سے اجتناب برتنا چاہیۓ۔ یہی فتوی ایم ایس اے پبلی کیشنز والوں کے موقع روۓ خط پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔[12]۔
مسلم علماء کی جانب سے مندرجہ بالا دونوں فتاویٰ اور ایسے ہی دیگر متعدد فتوں کے بعد United Ulama Council of South Africa (UUCSA) نے تمام مسلمانوں کو انتباہ دیا کہ اس فتنے سے ہوشیار رہیں اور اور خود کو اس فرقے کے کفرانہ عقائد سے دور رکھیں۔ (حوالے کیلیۓ دیکھیۓ 13)۔ UUCSA کی جانب سے موقع یا نبی پر موجود مندرجہ بالا فتاویٰ اور دیگر، اصل میں جمیت العلماء (کوازولو ناتال) (Jamiatul Ulama Kawazulu Natal) کے شعبۂ فتاویٰ کی جانب سے جاری کیۓ گۓ ہیں[13]۔

ریاض احمد گوہر شاہی کافر و مرتد ہے کہ اس کے بہت سے کفریہ اقوال عام ہیں مثلاً اس نے کہا " جب محبت اللہ کی دل میں آجاۓ تو اگر مذہب میں نہ بھی ہوا تو بخشا جاۓ گا اللہ کی محبت ہی کافی ہے " (ماہنامہ روشن کراچی جولائی 1997ء ص 9) اس عبارت میں اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگرچہ کسی کافر کے دل میں بھی اللہ کی محبت ہو تو وہ بخشا جاۓ گا اور اس کا یہ قول ان فصوص قرآنیہ قطعیہ کی صریح خلاف ورزی ہے جس میں کفار کے جہنمی ہونے کا ذکر ہے۔
نیز اپنے ایک خطاب میں اس نے قرآن مجید فرقان حمید کو ناقص قرار دیا چناچہ کہتا ہے " قرآن کے تیس پارے نہیں بلکہ دس پارے اور ہیں "۔ (خطاب جامع مسجد نورایمان 27 دسمبر 1996ء) [14]۔

ہر کوئی جو کہ فریب ِحس (illusion) کا شکار ہو وہ خود کو مہدی کہہ سکتا ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، اور عالیجاہ محمد نے کیا۔ کتنے ہی نام نہاد مہدی آچکے ہیں اور کتنے ہی آئیں گے؛ صرف اللہ ہی ہے جو کہ ہم کو ان نام نہاد مہدیوں سے نجات دلا سکتا ہے جبکہ وہ ہمارے دائیں، بائیں اور درمیان میں نکل رہے ہوں۔ جب کوئی شخصیتی اضطرابات (personality disorders) کا شکار ہو، وہ عجیب مظاہر کا مشاہدہ کر سکتا ہے ، لوگوں کے فطری ردعمل کا (غیر فطری) مشاہدہ کرسکتا ہے اور اپنے آپ میں ھذیانی (paranoid) ہو جایا کرتا ہے اور فرار حاصل کرنا چاہتا ہے [15]۔

صوفیاء کی نظر میں

جہاں علماء نے گوھر شاہی کی بے پناہ مخالفت کی، وہی معروف صوفیاء کرام بشمول علماء کرام نے اُن کی حمایت بھی کی، پاکستان میں ڈاکٹر طاہرالقادری، امریکہ میں شیخ ہشام کابانی جیسی بزرگ شخصیت جن کے دست مبارک پر دس ہزار سے زائد امریکی مسلمان ہوچکے ہیں اور کے ادب کا عالم یہ تھا کہ گوھر شاہی کے قدموں میں تشریف رکھتے تھے اور اس کو باعثِ سعادت سمجھتے تھے، قبرص میں شیخ ناظم۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جوکہ نہ صرف بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں بلکہ اب بھی حیات ہیں۔

کتابیں۔

گوھرشاہی نے کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں صوفی شاعری پر مشتمل ”تریاق ِ قلب“ بھی شامل ہے۔ گوھرشاہی کی تصنیف کردہ کُتب درج ذیل ہیں:[16]

  1. مینارہ ءنور
  2. روشناس
  3. تحفۃ المجالس
  4. روحانی سفر
  5. تریا ق ِ قلب
  6. دین ِ الٰہی

مندرجہ بالا کتب میں دین ِ الٰہی گوھرشاہی کی آخری تصنیف ہے اورگوھرشاہی کے معتقدین کے نزدیک نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

مخالفت

گوھرشاہی پرکئی بارقاتلانہ حملے بھی کئے گئے۔ پانچ قسم کے سنگین مقدمات گوھرشاہی پر پاکستان میں دائر کئے گئے[17]گوھرشاہی کے معتقدین کی جانب سے چاند ،سورج ،نبیولاستارے اور حجر اسود میں گوھرشاہی کی شبیہات کے دعوے کے بعد یہ مخالفت انتہائی شدت اختیارکرگئی۔ [6][8][10] پاکستانی اخبارات وجرائد نے بھی گوھرشاہی کے خلاف تحاریر شائع کیں ۔ حکومت ِ پاکستان کی جانب سے گوھرشاہی کی کتابوںپر پابندی لگادی گئی۔[18] گوھرشاہی اوراُنکے معتقدین کی سرگرمیوںکوروک دیاگیا[19] اوراخبارات وجرائد کو بھی گوھرشاہی کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی ہدایت کی گئیں گوھرشاہی اوراُن کے معتقدین پرکئی مقدمات قائم ہوۓ۔ انسداد ِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سندھ میں گوھرشاہی اور اُن کے بہت سے پیروکاروں کو توہین ِ رسالت جیسے قانون کے تحت سزائیں سنائیں۔[8][20] گوھرشاہی کو سزا عدم موجودگی میں سنائی گئی کیونکہ گوھرشاہی اُس وقت برطانیہ میں تھے۔ گوھرشاہی کو تقریبا ً 59 سال قید کی سزااورجرمانے کی سزاسُنائی گئی،[9][17] جس کے خلاف گوھرشاہی نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل بھی کی تاہم اس اپیل پر کسی بھی فیصلے سے قبل گوھرشاہی برطانیہ میں انتقال کرگئے۔[9]

وفات

دربار ِ گوھرشاہی (مزار)، المرکز ِ روحانی انجمن سرفروشان ِ اسلام کوٹری، حیدرآباد، سندھ، پاکستان

گوھرشاہی 25 نومبر2001 کو مانچسٹر میں نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گۓ۔ گوھرشاہی کی میت پاکستان لائی گئی اور انجمن سرفروشان ِ اسلام کے بین الاقوامی مرکز المرکز ِ روحانی کوٹری شریف میں مدفون کی گئی۔ [9] جہاں اب گوھرشاہی کا مزار بھی واقع ہے۔ تاہم گوھرشاہی کے تمام مرید گوھرشاہی کے انتقال کو گوھرشاہی کی موت تسلیم نہیں کرتے بلکہ پریقین رکھتے ہیں کہ گوھرشاہی جسم سمیت روپوش ہوگئے ، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح گوھرشاہی بھی اپنا جسم چھوڑکرغیبت ِ صغر ٰی میں چلے گئے ہیں اور قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ گوھرشاہی دوبارہ آئینگے۔[9] اسی لئے روایتی انداز میں گوھرشاہی کا عرس بھی نہیں منعقد کیا جاتا۔ گوھرشاہی کی بیوہ اوربچے اب بھی کوٹری میں مقیم ہیں۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 گوھرشاہی ،سرپرست و بانی انجمن سرفروشان ِ اسلام
  2. ^ 2.0 2.1 تعارف ِ گوھرشاہی
  3. ^ 3.0 3.1 فیوچر اسلام کے موقع روۓ خط پر گوہر شاہی کے بارے میں معلومات
  4. ^ حضرت امام بری رحمۃ اللہ علیہ کی بشارت
  5. ^ [گوھرشاہی کے خلاف فتوے]
  6. ^ 6.0 6.1 6.2 [گوھرشاہی ۔ایک اور امام مہدی ؟]
  7. ^ گوھرشاہی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے امریکہ میں ملاقات
  8. ^ 8.0 8.1 8.2 8.3 [گوھرشاہی اوراُن کے معتقدین کے خلاف توہین ِ رسالت کے مقدمات کی فہرست]
  9. ^ 9.0 9.1 9.2 9.3 9.4 9.5 "چاند میں آدمی" تحریر اُردشیرکاؤس جی روزنامہ ڈان انٹرنیٹ ایڈیشن (انگریزی)
  10. ^ 10.0 10.1 گوھرشاہی کی کعبہ میں شبیہہ کادعو ٰی
  11. ^ جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کی جانب سے یانبی نامی موقع روۓ خط
  12. ^ ایم ایس اے پبلی کیشنز
  13. ^ جمیت العلماء کوازولو ناتال
  14. ^ دار الافتاء جامع مسجد کنزالایمان کی جانب سے دیا گیا فتویٰ۔
  15. ^ اللہ اکبر پر ریاض کے بارے میں بیان
  16. ^ گوھرشاہی کی تصنیف کردہ کُتب
  17. ^ 17.0 17.1 بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ ۔مئی 2001
  18. ^ گوھرشاہی کی کتاب پر پابندی کے مقدمے کی سماعت منصف ِ اعظم پاکستان کی عدالت میں
  19. ^ گوھرشاہی کے حق میں نعرے لگانے پر دس(10)افرادگرفتار
  20. ^ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ ءآزادی ءمذہب کی رپورٹ برائے سال 2000