زرمبادلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

توازن ادائیگی[ترمیم]

انیسویں صدی سے پہلے دنیا کے مختلف ملکوں کی کرنسی کی قدروں میں تبدیلوں کی وجہ سے کسی کرنسی پر اعتماد نہیں کیا جاتا تھا۔ ملکی کرنسی صرف اندرون ملک استعمال ہوتی تھی اور بین الا قوامی لین دین کے لیے سونے پر اعتماد کیا جاتا تھا، کیوں کے دنیا نے سونے کو بین الا قوامی کرنسی تسلیم کیا جاتا تھا، اس لیے بین الا قوامی لین دین میں صرف سونے کو قبول کیا جاتا تھا۔

سونے کے بین الا قوامی لین دین میں استعمال ہونے کی وجہ سے دور جدید کے شروع میں ایک ملک کے سکے دوسرے ملک کے لئے بیکار تھے۔ کیوں کے وہ دوسرے ملکوں میں استعمال نہیں ہوتے تھے۔ اس لئے ماہرین معیشت نے کوئی ایسا طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کی کہ اپنا سونا باہر نہ بھیجیں بلکہ اس کے بدلے سامان تجارت بھیجیں۔ وہ سونا اور چاندہ چوں کے دنیا میں محدود تھے اس لیے وہ اس کے ذخائر محفوظ رکھنے کے خواہش مند تھے۔ اس لئے وہ ان کی بیرونی ممالک منتقلی سے بچانے کے لئے غور و فکر کیا جانے لگا۔

ہیوم Dived Hume نے اٹھارویں صدی میں یہ نظریہ پیش کیا، کہ اگر کوئی ادائیگی زیادتی میں ہو تو اس کو دوسرے ملکوں میں منتقل کر دینا چاہیے۔ یہ عدم پذیر کی کیفیت حرکت پذیر ملکوں میں بہنے کی صلاحیت کو (سونا چاندی) روک لیتی ہے۔ ہیوم Dived Humeنے محسوس کیا کہ بچت اور محفوظ زر ایک جیسے ہوں تو اس بہاؤکے سبب قیمتیں بلند ہوجاتی ہیں۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر قیمتیں بلند ہوں تو بین الالقوامی مارکیٹ میں ہماری تجار ذوال پزیر ہونے لگتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اونچی قیمتیں ملکی اشیاء کو بیرونی مارکیٹ میں کم کردیتی ہیں۔ اس طرح ہمارے گاہگ زیادہ تر ان اشیاء کو استعمال میں فوقیت دیتے ہیں، جو قیمتوں میں زیادہ نہیں ہوتی ہیں۔ ہیوم Dived Hume اس نتیجے پر پہنچا کہ کم قیمتیں تجارت کو ترقی دیتی ہیں اور اگر برآمدپر نظر رکھتے ہوئے ادائیگیاں بچت سے کی جائیں تو نہ ہمیں تجارت میں نقصان ہوگا اور نہ ہی ہماری بچتوں میں تنزلی آئے گی۔

ہیوم Dived Humeنے دیکھا کہ وہ ممالک جو شروع میں محفوظ زر کو کاروبار میں لگا دیتے ہیں اور اپنی قیمتوں کو کم کرکے بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا مقام بنالیتے ہیں، وہ غلط نہیں کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی بین الا قوامی مارکیٹ برابر بڑھتی رہتی ہے اور یہاں تک کہ ادائیگیوں کا توازن ان کے حق میں ہوجاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں مقام بنانے کے لیے یہی طریقہ کار ہونا چاہیے۔

ایک خاص موقع پر جہاں قانون رسد و طلب نے اپنی اہمیت کو واضع کیاہے، بین الاقوامی تجارت کے لئے غیر ملکی زر مبادلہ کی کرنسی کی قیمت کا نظریہ ہے۔ جب بین التجارتی ملک کی کرنسی کا معیار سونا تھا، تب کسی ملک کی کرنسی کی شرح مبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی یا سکے کی مقابلے میں وہ نسبت تھی جو اس ملک میں سونے کی مقدار کو دوسرے ملک کے سکہ میں سونے کی مقدار سے (سونے کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے اخراجات کو مہیا کرکے)۔ ریکاڈو Ricardo (1772۔ 1823) نے بین الاقوامی تجارت کا سبب ایک چیز کی مختلف ممالک میں مختلف قیمتیں ہونا بتایا اور قیمت ہاء تقابل Compartive Costs کا نظریہ قائم کیا اور بتایا کہ بین التجارتی ممالک کے درمیان شرح زرمبادلہ کے تعین کا بھی یہی نظریہ ہے۔ کیوں کہ ریکاڈو Ricardo محنت کو ہر چیز کا مخزن سمجھتا تھا۔ اس لئے اس کا یہ نظریہ ”نظریہ محنت“ Labour Cost Theory کے نام سے بھی مشہور ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد معاشین کو معلوم ہوا کہ ریکاڈو Ricardo کا نظریہ بہت سے حقائق کی وضاحت نہیں کرسکتا ہے، اس لئے انہوں نے اسے نظر اندازکر دیا گیا۔ سوئیڈن کے اوہلن Ohlin اور امریکہ کے ٹاسگ Taussig اور انجل Angell نے اپنی اپنی تصانیف میں جو 1930 کے لگ بھگ شائع ہوئیں ریکاڈو Ricardoکے نظریہ کی مخالفت کی اور انہوں نے بین التجارتی ممالک کی کرنسی کی شرح مبادلہ مقرر ہونے کی یکسانی قوت خرید Purchasing Power Parity Theory بیان کی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دو ملکوں کے سکوں کا تبادلہ اس نرخ پر ہونا چاہیے جس نرخ پر ایک ملک کے سکے کو دوسرے ملک کے سکے میں تبدیل کیا جائے، تو وہ اس ملک میں کہ جس کے سکہ میں پہلے ملک کا سکہ تبدیل کیا گیا ہے، اتنا ہی مال خرید سکے جتنا کہ یہ سکہ اپنے ملک میں خریدتا ہے۔ ان معاشین نے یہ دلیل پیش کی، کہ صرف محنت ہی عامل پیدائش نہیں ہے اور مختلف ممالک اس وجہ سے مختلف چیزیں درآمد برآمد کرتے ہیں کہ ایک قسم کی ملکی مصنوعات دیگر ممالک کی ان مصنوعات کے مقابلے میں سستی یا مہنگی ہوتی ہیں۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی ملک کے کارخانہ دار کے لئے اشیاء کی تیاری کے ذیل میں ان کا سستا ہونا خاص چیز نہیں ہے، بلکہ ایک ملک میں اس تیار شدہ مال کی مانگ ہونا بھی ضروری ہے۔

ایک اطالوی معاشین پرٹیو Pareto نے 1893 میں اپنی کتابCourse d, Ecnomic Politique میں بین الاقومی قیمتوں میں توازن کانظریہ پیش کیا تھا۔ اسی زمانے میں ایک انگریز معاشین ایجورتھ Edgegeworth نے اپنے ایک مضمون ”بین الاقومی قیمتوں کا خالص نظریہ“ میں یہ خیال ظاہر کیا کہ جیون Jevon کے نظریہ مبادلہ Theory of Exchange اور مارشل کے پیش کردہ نظریہ ”رسد و طلب کی طاقتوں میں توازن“ سے بین الاقوامی تجارت کے بنیادی اصول وضع کئے جاسکتے ہیں۔ جو توازن کا نظریہ کہ بہت سے معاشیاتی مسائل کی تہہ میں موجود ہے۔ توازن رسد و طلب کے اس نظریہ نے برطانوی اور امریکی معاشین کے نظریات برائے بین الاقوامی تجارت میں رسوخ حاصل کرلیا۔ حتیٰ 1933 میں برطانیہ کی رائل اکنامک سوسائٹی Royal Ecnomice Sosity کے اجلاس کے میں ایڈون کینن Edwin Cannan نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ریکارڈو Ricardo کے وقت سے اس وقت سے اس وقت تک خاص غلطی یہ ہوئی ہے، کہ وہ بین الاقوامی تجارت کے لئے جو نظریہ قائم کرتے ہیں وہ اس نظریہ سے بہت مختلف ہوتا ہے جو کوئی ملک اپنی اندرونی تجارت کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اس نے اس کے بعد یہ مان لیا گیا کہ شرح زرمبادلہ کا دارو مدار کسی ملک کی کرنسی کی طلب و رسد یا اس کے توازن ادائیگی Balance of Payments پر ہوتا ہے۔ کسی ملک کی اندرونی تجارت کا نظریہ جو جیون Jevon اور مارشل نے پیش کیا تھا کہ اصول رسد و طلب یا مسابقت Competition ہی اشیاء کی قیمت کا تعین کرتا ہے۔ 1933 مختلف ملکوں کی کرنسیوں کے شرح مبادلہ کے لئے بھی یہی نظریہ قبول کرلیا گیا۔ دنیا کے اقتصادی نظام میں اصول و رسد و طلب کی ایک اور بڑی فتح تھی۔

دوسری جنگ عظیم میں محاربہ ممالک نے جنگ کی تیاری کی وجہ سے پیداشدہ توازن ادائیگی Balance of Payments کی غیر متوازنیت کے مد نظر غیر ملکی زرمبادلہ پر کنٹرول نافذ کردیا تھا اور وہ اپنے اپنے ملک کی شرح مبادلہ زر مقرر کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ تاہم یہ بہت افسوس کی بات ہے لڑائی کے نو سال کے بعد بھی غیر ملکی زرمبادلہ پر کنٹرول ابھی (جب یہ تحریر لکھی گئی تھی) تک نافذ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک دنیا جنگ کے تباہ کن اثرات سے سنبھل نہیں سکی اور محاربہ ممالک کے توازن ہاء ادائیگی موافق یا متوازن Payments Balance of نہیں ہوئے ہیں۔ شرح مبادکہ میں استحکام پیدا کرنے اور مبادلہ زر کے کنٹرول کو ختم کرنے کی غرض سے 1945 میں جنگ ختم ہونے کے بعد ایک بین الاقوامی ادارہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈInternational Monetary Fund کے نام سے قائم کیاگیا۔ اس بات کااحساس ہوا کہ مختلف کرنسیوں کا آزادانہ تبادلہ ڈالر کی قلت کی وجہ سے نہیں ہوسکتا ہے اور ڈالر کی قلت اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی، تا وقتیکہ امریکہ میں محصول درآمد کی گراں شرح کو کم کیا جائے۔ دوسرے ممالک امریکی ڈالر زیادہ مقدار میں اس وجہ سے حاصل نہیں کرسکتے ہیں کہ امریکی حکومت نے سامان درآمد پر بھاری محصول لگارکھا تھا اور یہ ان کے مال کی برآمد میں جس سے وہ ڈالر حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ تھی۔ امریکی حکومت نے اس ذیل میں ایک کمیشن مقرر کیا اور امریکی صدر آئرن ہاور کے سامنے کچھ تجاویز پیش کیں۔ جن پر امریکی حکومت دیگر ممالک کو ڈالر حاصل کرنے میں سہولتیں مہیا کرسکے۔ کمیشن نے مارچ 1954 میں اپنی تجاویز پیش کیں۔

محصولات درآمد و تجارت کا عام معاہدہGeneral Agreemenet on Tariffs and Trad - (GATT) کے معاہدہ عام کا اجلاس اکتوبرمیں جینوا میں منقد ہوا تھا۔ اس اجلاس سے دنیا کے مختلف ممالک کی کرنسی کے آزادانہ تبادلہ کو مزید تقویت پہنچی۔ گیٹ کے صدر ولگریسس Wilgracess نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ہم ان ممالک کی کرنسیوں کے آزاادانہ تبادلہ کو مستقبل قریب میں دیکھ لیں گے، جو ممالک دنیا کی تجارت میں حصہ لیتے ہیں اور کرنسیوں کے آزادانہ تبادلے سے کثیر النوع تجارت اور ادائیگی زر کے راستے صاف ہوجائیں گے۔ پھر درآمدی پابندیوں کی ضرورت نہیں رہے گی، جو ہم لڑائی کے زمانے سے برداشت کررہے ہیں۔

کینزKwynes بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی اپنی تجویز میں قرض خواہ ملک کے واجب الوصول قرض پر ایک فیصدی کا سالانہ جرمانہ لگانا چاہتا تھا۔ کیوں کہ بین الاقوامی تجارت کے بگاڑنے میں وہ قرض خواہ ملک کو بھی اتنا ہی ذمہ دار سمجھتا تھا کہ جتنا کہ قرض لینے والے ملک کو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرض خواہ ملک محصول درآمد میں اضافہ کرکے مقروض ملک کا سامان تجارت روک سکتا ہے اور اگر جرمانے کی شق لگی ہو توممکن ہے اپنے محصولات درآمد میں تخفیف کردے اور اس طرح بین الاقوامی تجارت میں رخنہ نہ پڑے۔

1944 (I M F) International Montry Fund میں برٹن وڈ میں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدامیں اس کے رکن ممالک کی تعداد تیس تھی۔ مگر اگلے سال اس کی رکنیت عام ملکوں کے لئے کھول دی گئی۔آج کل اس ممبر کے ممالک کی تعددا ۰۵۱ سے زیادہ ہے IMFکی رکنیت کے لئے ہر رکن اس کے فنڈ میں اپنا حصہ ادا کرتا ہے۔ یہ حصہ ڈالراور دوسری بین الاقوامی کرنسیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ جمع شدہ فنڈ IMF کے فنڈ میں ایک جز کے طور پر حصہ لیتا ہے۔ جس کا رائے شماری کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہ آبادی معیشت اور دوسرے اہم منصوبوں میں لگایا جاتا ہے۔

بین الاقومی مالیاتی فنڈ کاایک خاص مقصد یہ ہے کہ ممبر ملکوں کی کرنسی میں استقلال پیدا کر نے میں معاون ثابت ہو۔IMF زرمبادلہ کی کمی کا شکار ممالک کو رکن ممالک کا فالتو زرمبادلہ دلاتا ہے۔ اس طرح ان کی پریشانیوں کو کم کرتا ہے۔ مختلف ممالک جن کو ادائیگیوں کے لئے زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنی ادائیگیاں IMF کی طرف کردیتے ہیں۔ گویا وہ اپنے کوٹے کے بدلے کاغذی کرنسی دیتے ہیں۔

کسی ملک کی درآمد اور برآمد اس وقت برابر ہو گی، جب اس کی ملکی کرنسی بین الاقونی بازار میں اپنی قیمت آزادانہ طور پر قائم کرے۔ کیوں کہ بیشی قیمت تجارت کو نقصان پہنچاتی ہے اور سکہ کی قیمت اصول رسد و طلب اور توازن ادائیگی ayments Balance of کے عمل سے مقرر ہونے دی جائے۔ غیر ملکی زر ہائے مبادلہ یا غیر ملکی کرنسیوں کے روزانہ نرخ عام معاشی قوتوں کے قانون توازن کے مطابق تعین ہوتے ہیں۔

اگر کسی ملک کو بین الاقومی بازار زر میں اپنے سکے کی اصلی قیمت مقرر کرانا منظور ہے تو اسے شرح زرمبادلہ کے زور دار ہچکولوں کو روکنے کی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔ یہ چیز ’حسابات ہمواری Exchange Equalistisation Account ؑتبادلہ زر کے طرز پر حساب ہمواری کے اجزاء سے حاصل ہوسکتی ہے۔ جب کبھی غیر ملکی زرمبادلہ کا نرخ چڑھ جاتا ہے تو حسابات ہمواری تبادلہ زر بازار زر میں کود پڑتے ہیں اور مناسب حد تک اس کے نرخ کو گرادیتے ہیں۔۔ اقتصادی قوتیں خود بخود غیر ملکی زر مبادلہ کی قیمتیں حدود میں رکھتی ہیں۔ کیوں کے غیر ملکی کرنسی کی مانگ بڑھتی ہے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اس کو خود فائدہ نہیں رہتا ہے۔ تبادلہ زر اور عارضی اور فوری ضرورت کے تحت ایک چارہ کار ہیں۔

پاکستان کا ایک فیصلہ[ترمیم]

1049 میں برطانیہ اور بھارت نے اپنے سکے کی قیمت گھٹائی، لیکن پاکستان نے اپنے سکے کی قدر گھٹانے سے انکار کردیا۔ یہ بہت اہم فیصلہ تھا، اس سے پاکستان کی خود مختاری ثابت ہوگئی۔ اس سے بڑا سیاسی فائدہ ہوا پاکستان اپنے اس اقدام سے عالمی پریس کی شہ سرخی بن گیااور دنیا کو پتہ چل گیا کہ پاکستان ایک آزاداور خود مختارملک کا نام ہے۔

پاکستانی روپئے کی قیمت نہ گھٹانے کا جہاں سیاسی فائدہ ہوا، وہاں اسے اْقتصادی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کا فوری اثریہ ہوا کہ روئی اور جوٹ کی قیمتیں گر گئیں اور روئی کی قیمت کم ہو کر واپس اپنی سطح پر آگئی اور یہ بیرونی ممالک برآمد کی جانے لگی۔ لیکن جوٹ کے نرخ میں افراتفری پھیل گئی کیوں کہ پاکستان کے گھٹیا جوٹ کا واحد گاہک بھارت تھا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن شروع سے ہی موافقFavourable Balance of Trade تھا۔ اس لئے بھارت میں پاکستانی سکہ کی قیمت زیادہ رہی تھی۔ اس لئے اقتصادی نقطہ نگاہ سے پاکستانی سکہ کی قیمت بھارت کی کرنسی سے مہنگی ہونی چاہیے۔ لیکن اتنی مہنگی جتنی کہ پاکستان نے مقرر کی تھی۔ یعنی پاکستانی سو روپیہ ۴۴۱ بھارتی روپیہ۔ بین الا قوامی بازارِ زر میں پاکستان لین دین برطانیہ کی کرنسی اسٹرلنگ میں کرتا تھا، جس کی قدر گھٹ چکی تھی۔ اس لئے اقتصادی نقطہ سے پاکستانی سکے کی قیمت گرچکی تھی۔ لیکن پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کے سبب پاکستان اور بھارت کے تجارتی تعلقات منطقع ہوگئے اور بھارت نے پاکستانی جوٹ اٹھانے سے انکار کردیا۔ اس کے نتیجے میں جوٹ کے نرخ گرنے لگے۔ جوٹ کے نرخوں کو گرنے سے روکنے کی خاطر جوٹ کا نرخ اس نرخ سے جو روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کے فیصلے سے قبل تھا نسبتأئ ۹۲ فیصد کم کردیا۔ حالانکہ پاکستانی کرنسی کی قیمت شرح مبادلہ کی رو سے اسٹرلنگ ممالک اور بھاتی روپیہ کے مقابلے میں ۴۴ فیصد زیادہ تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرکزی بینک ہونے کی حثییت سے حکومت کا خزانہ اس کی تحویل میں تھا اور یہ خزانہ بھارتی روپیہ اور اسٹرلنگ فاضلات کی شکل میں تھا۔ اسٹیٹ بینک ان فاضلات کو پاکستانی کرنسی نوٹوں کی کفالت کے طور پر استعمال کررہا تھا۔ پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کے فیصلے سے ان فاضلات میں پاکستانی روپیہ کے حساب سے کمی آگئی تھی۔ اس لئے حکومت نے 1950 کے بجٹ میں ۴۵کروڑوپیہ فاضلات کی مد میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دیئے کہ کرنسی کی زر ضمانت اور زرمحفوظ کرے۔ اس وقت پاکستان کے وزیر خزانہ نے بیان دیا کہ سٹرلنگ اور بھارتی روپیہ کے لحاظ سے ان کی قوت خرید میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ہم نے مانا یہ سچ ہے لیکن روپیہ کی شرح کم نہ کر نے کے فیصلے سے ۴۵ کروڑ کا خصارہ ہوا تھا اور یہ رقم رفاء عامہ کے کسی بھی کام آسکتی تھی۔

جون 1950 تک یہی سلسلہ جاری رہا، پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کا بوجھ جوٹ اور روئی پر پڑا تھا۔ تین مہینے کے بعد کوریا کی جنگ چھڑ گئی،جس سے بازارچڑھ گیا اور روئی اور جوٹ کی قیمتیں چڑھ گئیں اور جوٹ بورڈ جوجوٹ کی نرخوں کو سہارا دینے کے لئے مالی مدد دے رہا تھا۔ اس نے ایک کروڑ روپیہ کا منافعہ کما لیا اور پاکستان کی برآمد 1950-49 88 کروڑکے مقابلے میں یہ رقم 1950-51 ۵۰۲ کروڑ تک پہنچ گئی۔

1951 میں جب کوریا کی جنگ ختم ہوئی تو روئی اور جوٹ کی قیمتیں گر نے لگیں۔ جوٹ کا بورڈ کام کررہا تھا، اس کے نقصان کا اندازہ 9 کروڑ روپیہ لگایا گیا تھا۔ جب کہ پاکستانی برآمد 150 کروڑ روپیہ تک گر چکی تھی۔ اس لئے 1953-54 کے بجٹ میں ۴۱ کروڑ روپیہ اس کے نقصان کی مد میں دکھائی گئی اور پاکستان کی برآمد 128 کروڑ کی ہوئی۔ جب کہ سخت درآمدی پابندیوں کی وجہ سے ۳۱ کروڑ کا موافق توازن تجارت رہا۔ 1953-54 برآمد 122 کروڑ روپیہ کی ہوئی، جب کہ مندرجہ بالاسبب کے باعث ۹کروڑ کا موافق توازن تجارت ہوا۔ اگست 1955 کو پاکستانی کرنسی کی قدر میں تیس فیصد کم کردی گئی، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی اور پاکستانی برآمد کوسات سال عرصہ میں ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا۔

ماخذ[ترمیم]

نصیر احمد شیخ اسلامی دستور اور اسلامی اقتصادیات کے چند پہلو۔ ۹۵۹۱؁ء نصیر احمد شیخ میکلوڈ روڈ کراچی BOOK OF ECONOMIC & THEORRY . SIONIER & HAGUE