زمزمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
زمزمہ

زمزمہ جسے کمز گن (Kim’s Gun) اور بھنگیاں والا توپ (Bhangianwala Toap) بھی کہا جاتا ہے، ایک تاریخی توپ ہے، جسے احمد شاہ ابدالی کے حکم سے اس کے وزیر شاہ ولی نے 1757ء میں بنوایا۔ اس کی لمبائی 14 فٹ ساڑھے چار انچ اور نال کا قطر ساڑھے 9 انچ ہے۔ اس کا گولا آہنی ہوتا ہے۔ 1761ء میں احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی جنگ میں اسے مرہٹوں کے خلاف استعمال کیا اور کابل واپس جاتے ہوئے لاہور کے گورنر کے سپرد کر گیا۔

1762ء میں یہ توپ ایک سکھ جرنیل ہری سنگھ بھنگی کے قبضے میں آگئی اور بھنگیوں کی توپ کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد ازاں چڑت سنگھ والیٔ گوجرانوالہ اسے گوجرانوالہ لے گیا۔ 1806ء میں یہ توپ مختلف بھنگی سرداروں کے زیر تصرف رہی۔ آخر کار رنجیت سنگھ 1802ء میں اسے امرتسر سے لاہور لایا اور جب انگریزوں نے لاہور پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے مال روڈ پر (پنجاب یونیورسٹی کے سامنے اور عجائب گھر کے درمیان) بطور نمائش رکھ دیا۔ رڈیارڈ کپلنگ نے اپنے ناول کم میں اس توپ کا تذکرہ کیا ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]