زمین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مریخ، زمین، زہرہ، اور عطارد
اپالو 17 سے زمین کا منظر

زمین نظام شمسی کا وہ واحد سیارہ ہے جہاں پر زندگی موجود ہے۔ پانی زمین کی 3­/­2 سطح کو ڈھکے ہوئے ہے۔ زمین کی بیرونی سطح پہاڑوں، ریت اور مٹی کی بنی ہوئی ہے۔ پہاڑ زمین کی سطح کا توازن برقرار رکھنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اگر زمین کو خلا سے دیکھا جائے تو ہمیں سفید رنگ کے بڑے بڑے نشان نظر آئیں گے۔ یہ پانی سے بھرے بادل ہیں جو زمین کی فضا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے ان بادلوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کا اثر زمین کی فضا کو پڑتا ہے۔ ہماری زمین کا صرف ایک چاند ہے۔ زمین کا شمالی نصف کرہ زیادہ آباد ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہیں۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات رہتی ہے۔ عام دن اور رات کا دورانیہ چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔ زمین کی انسانی آبادی چھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور انسان اس پر ہمہ وقت جنگوں میں مصروف رہتے ہیں۔

[1]

گردشیں[ترمیم]

زمین کی دو گردشیں ہیں

تاریخ[ترمیم]

اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: زمین کی تاریخ

سائنسدان جدید تحقیق کی بدولت زمین کے ماضی کے بارے میں اب تفصیلی معلومات رکھتے ہیں۔ زمین اور نظام شمسی کے دوسرے سیارے شمسی نیبیولا، جو سورج کی تشکیل کے بعد بچ جانے والے گرد و غبار اور گیسوں کی طشتری تھی، سے 4.57 ارب سال پہلے وجود میں آئے۔[1] آغاز میں زمین پگھلی ہوئی حالت میں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زمین کی فضا میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا اور اس کی سطح ٹھنڈی ہو کر ایک قرش(crust) کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی چاند کی تشکیل ہوئی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ کی جسامت کا ایک جسم تھیا (Theia)، جس کی کمیت زمین کا دسواں حصہ تھی، زمین سے ٹکرایا اور اس تصادم کے نتیجے میں چاند کا وجود عمل میں آیا۔ اس جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ مدغم ہو گیا، کچھ حصہ الگ ہو کر خلا میں دور نکل گیا، اور کچھ الگ ہونے والا حصہ زمین کی ثقلی گرفت میں آگیا جس سے چاند کی تشکیل ہوئی۔

پگھلے ہوئے مادے سے گیسی اخراج اور آتش فشانی کے عمل سے زمین پر ابتدائی کرہ ہوا ظہور پذیر ہوا۔ آبی بخارات نے ٹھنڈا ہو کر مائع شکل اختیار کی اور اس طرح سمندروں کی تشکیل ہوئی۔ مزید پانی دمدار سیاروں کے ٹکرانے سے زمین پر پہنچا۔ اونچے درجہ حرارت پر ہونے والے کیمیائی عوامل سے ایک (self replicating) سالمہ (molecule) تقریباً 4 ارب سال قبل وجود میں آیا، اور اس کے تقریباً 50 کروڑ سال کے بعد زمین پر موجود تمام حیات کا جد امجد پیدا ہوا۔

ضیائی تالیف کے ارتقاء کے بعد زمین پر موجود حیات سورج کی توانائی کو براہ راست استعمال کرنے کے قابل ہو گئی۔ ضیائی تالیف سے پیدا ہونے والی آکسیجن فضاء میں جمع ہونا شروع ہو گئی اور کرہ ہوا کے بالائی حصے میں یہی آکسیجن اوزون (ozone) میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ چھوٹے خلیوں کے بڑے خلیوں میں ادغام سے پیچیدہ خلیوں کی تشکیل ہوئی جنھیں (eukaryotes) کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یک خلوی جانداروں کی بستیاں بڑی سے بڑی ہوتی گئیں، ان بستیوں میں خلیوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا چلا گیا اور خلیے مختلف کاموں کے لئے مخصوص ہوتے چلے گئے۔ اس طرح کثیر خلوی جانداروں کا ارتقاء ہوا۔ زمین کی بالائی فضا میں پیدا ہونے والی اوزون (ozone) نے آہستہ آہستہ زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیا اور سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں (ultra violet rays) کو زمین تک پہنچنے سے روک کر پوری زمین کو زندگی کے لئیے محفوظ بنا دیا۔ اس کے بعد زندگی زمین پر پوری طرح پھیل گئی۔

  • زمین کی عمر
  • اگرچہ کائنات کی عمر کے بارے میں سائنسدان متفق نہیں ہیں ۔ لیکن زمین کی عمر کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آج سے پانچ ارب سال پہلے گیس اور غبار کا ایک وسیع و عریض بادل کشش ثقل کے

انہدام کے باعث ٹکروں میں تقسیم ہوگیا سورج جو مرکز میں واقع تھا سب سے زیادہ گیس اس نے اپنے پاس رکھی ۔ باقی ماندہ گیس سے دوسرے کئی گیس کے گولے بن گئے ۔ گیس اور غبار کا یہ بادل ٹھندا تھا اور اس سے بننے والے گولے بھی ٹھندے تھے ۔ سورج ستارہ بن گیا اور دوسرے گولے سیارے ۔ زمین انہی میں سے ایک گولہ ہے ۔ سورج میں سارے نظام شمسی کا 99٪ فیصد مادہ مجتمع ہے ۔ مادے کی کثرت اور گنجانی کی وجہ سے اس میں حرارت اور روشنی ہے ۔ باقی ماندہ ایک فی صدی سے تمام سیارے جو نظام شمسی کا حصہ ہے بنے ۔ نظام شمسی کے یہ گولے جوں جوں سکڑتے گئے ان میں حرارت پیدا ہونے لگی ۔ سورج میں زیادہ مادہ ہونے کی وجہ سے اس شدید سمٹاؤ کی وجہ سے اٹمی عمل اور رد عمل شروع ہوا اور اٹمی دھماکے شروع ہوئے ، جس سے شدید ایٹمی دھماکے ہوئے ، جن سے شدید حرارت پیدا ہوئی ۔ زمین میں بھی ان ہی اصولوںکے تحت حرارت پیدا ہوئی ۔ حرارت سے مادہ کا جو حصہ بخارات بن کر اڑا فضا کے بالائی حصوں کی وجہ سے بارش بن کر برسا ۔ ہزاروں سال یہ بارش برستی رہی ۔ ابتدا میں تو بارش کی بوندیں زمین تک پہنچتی بھی نہیں تھیں ۔ بلکہ یہ راستہ میں دوبارہ بخارات بن کر اڑ جاتی تھیں ۔ مگر لاکھوں کروڑں سال کے عمل سے زمین ٹھنڈی ہوگئی ۔ اس کی چٹانیں بھی صاف ہوئیں خشکی بھی بنی اور سمندر وجود میں آئے ۔ زمین پر جو ارضیاتی ادوار اب تک گزرے ہیں ان کی مختصر تفصیل یہ ہے ۔

  • ماقبل کیمرین دور Pre Cambrian Time
  • کرہ ارضی میں قدیم ترین چٹانوں کی تشکیل آج سے تقریباً چار ارب 57 کروڑ سال پہلے شروع ہوئی ۔ ماقبل کیمبرین زمانہ اس وقت سے لے کر آج سے 57 کروڑ قبل طویل دور پر محیط ہے ۔ یہ زمانہ چار ارب سال رہا ۔ زمین پر زندگی کا آغاز اس دور میں ہوچکا تھا ۔
  • نچلا قدیم محجرحیات کا دور The Lower Palaeozoic Era
  • یہ دور 57 کروڑ قبل شروع ہوکر 39 کروڑ پچاس لاکھ سال تک رہا ۔ اس کا کل عرصہ 18 کروڑ پچاس لاکھ سال بنتا ہے ۔ اس دور میں زندگی کے بے شمار شواہد چٹانوں میں محفوظ ملے ہیں ۔ اس سے پہلے

تقریباً ڈھائی ارب سال زندگی کا وجود تسلیم کیا جاتا ہے ۔ مگر اس کے مجحرات زیادہ نہیں ملے ہیں ۔ اس دور کو تین ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

  • ( 1 ) کیمبرین زمانہ The Cambrian Period
  • ( 2 ) آرڈود شین زمانہ The Ordovician Period
  • ( 3 ) سلورین زمانہ The Silurian peroid
  • بالائی قدیم مجحر حیات کا دور The Upper Palaeozic Era
  • یہ دور 39 کروڑ پجاس سال سے لے کر22 کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک رہا ہے ۔ گویا یہ کل سترہ کروڑ تک محیط رہا ہے اور اسے چار ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے
  • ( 1 ) ڈیونین ادوار Devonian Peroid = یہ زمانہ پانچ کروڑ سال تک رہا ۔ اس عہد میں پہلی دفعہ جل بھومی جانور ظاہر ہوئے ۔
  • ( 2 ) نچلا کاربن کا ادوار The Lower Carboniferous Peroid = یہ ادوار کل آٹھ کروڑ سال تک رہا ۔
  • ( 3 ) بالائی کاربن کا زمانہ The Upper Carboniferous Peroid = ان ادوار میں کوئلہ وجود میں آیا ۔
  • ( 4 ) پرمین ادوار The Permian Peroid = یہ زمانہ ساڑھے چار کروڑ سال پرمحیط ہے ۔
  • درمیانی قدیم مجحر حیات کا دور The Mesozoic Peroid
  • یہ دور 22 کروڑ پجاس سال سے لے کر6 کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک رہا ہے ۔ گویا یہ کل سولہ کروڑ تک محیط رہا ہے اور اسے تین ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے
  • ( 1 ) تین پرتی زمانہ The Triassic peroid = یہ زمانہ چار کروڑ پچاس لاکھ سال تک جاری رہا ۔ اس زمانہ میں رینگنے والے جانور خوب پھلے پھولے ۔
  • ( 2 ) پہاڑی زمانہ The Jurassic peroid = یہ زمانہ بھی چار کروڑ پچاس لاکھ سال تک جاری رہا ۔ اس زمانے میں ڈاینو سار اور آکٹوپس نما جانور عروج پر تھے ۔
  • ( 3 ) چاک دار زمانہ The Cretacious peroid = یہ زمانہ چھ کروڑ پچاس لاکھ سال جاری رہا ۔ اس دور میں چاک کے ذخائر پیدا ہوئے اور زمین پر پھول دار پودے پہلے پہل نمودار ہوئے ۔
  • نئی حیات کا دور The Cenozic Era
  • یہ زمانہ چھ کروڑ پچاس لاکھ سال قبل سے لے کر زمانہ حال تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس عہد نے زمین نے موجودہ شکل اختیار کی ۔ یہ عہد شیر دار جانوروں اور پھول پودوں کا عہد کہلاتا ہے ۔ اس عہد کو اتفاق

رائے سے دو حصہ میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

  • ( ۱ ) تیسرا زمانہ The Tertiary peroid
  • (۲ )چوتھا زمانہ The Quarternary peroid
  • یہ دونوں زمانے مزید زمانی ادوار میں تقسیم کئے گئے ہیں ۔
  • (۱ ) تیسرا زمانہ The Tertiary peroid
  • یہ زمانہ آج سے چھ کروڑ پجاس لاکھ سال پہلے کے وقت سے لے کر پچیس لاکھ سال پہلے تک کے عرصہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ یعنی یہ کل سوا چھ کروڑ سال کی طوالت پر محیط ہے ۔ اس زمانے میں زمین پر پہاڑ بنے ۔ اس عہد میں ہمالیہ پہاڑ وجود میں آیا ۔ اس دور میں بر اعظموں کی شکلیں تقریباً وہی تھیں جو آج کل ہیں ۔ لیکن کچھ فرق بھی تھا ۔ مثلاً مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا کے آر پار ایک سمندری راستہ تھا اور عہد حاضر کے عرب و عراق اور ایران کا بیشتر حصہ اور پاکستان اور بھارت کے کچھ حصہ سمندر کے نیچے تھے ۔

اس دور میں شروع سے آخر تک مڈغاسکر اور آسٹریلیا جزیروں کی شکل میں تھے ۔ لیکن یور ایشیا اور شمالی امریکہ کے دوران الاسکا اور سائبیریا کا زمینی راستہ موجود تھا ۔ جس پر سے بہت سے انوع کے شیر دار جانور وں کے گلے ادھر ادھر آئے گئے ۔ چنانچہ شمالی براعظموں کے جانوروں نے جنوبی بر اعظم کے جانوروں نسبت باہمی مماثلت زیادہ برقرار رکھی ۔ اگرچہ اس دور کے اوائل میں جنوبی امریکہ اور افریقہ کے جانوروں کا بھی کسی قدر تعلق شمالی بر اعظموں سے رہا ۔ بحیرہ روم کی شکل اور جسامت میں مسلسل کم و بیشی ہوتی رہی ۔ ہمالیہ ، پرانیز �â فرانس اور اسپین کے درمیان پھیلا ہوا ایک پہاڑی سلسلہ جو خلیج بسکے سے لے کر بحیرہ روم تک پھیلا ہوا ہے �á ، الپس اور دوسرے پہاڑی سلسلے نمودار ہوئے ۔ افریقہ میں رفٹ وادیاں بنیں ۔ اس دور کے آخر دنوں میں امریکہ کے مغربی علاقوں میں ، وسطی ایشیا میں اور شمالی اور جنوبی افریقہ میں صحرا بھی نمودار ہوئے ۔ ان سب ارضیاتی تبدیلیوں نے شیر دار جانوروں اور پرندوں کی کرہ ارض پر تقسیم اور ان کے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ نباتی زندگی کے ارتقائ نے زمین کا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دیا ۔ تاہم اس دور کا سب سے اہم واقع شیر دار جانوروں کا ارتقائ پزیر ہونا تھا ۔ درمیانی حیات کے دور ( میسوز ٹک عہد Mesozoic Peroid ) میں چھوٹے شیر دار جانور وجود رکھتے تھے ۔ لیکن ان میں سے اکثر اسی عہد کے ساتھ معدوم ہوگئے تھے ۔ صرف تھیلی دار جانور اور آنول والے شیر دار جانور بچ نکلے ۔ تیسرا زمانہ پانچ ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

  • ( ۱ ) پہلا نذدیکی زمانہ Palaeocene
  • ( 2 )فجری نذدیکی زمانہ Eocene
  • ( 3 ) خفیف نزدیکی زمانہ Oligocene
  • ( 4 ) کم نذدیکی زمانہ Mioicene
  • ( 5 ) زیادہ نذدیکی زمانہPliocene
  • پہلا نذدیکی زمانہ Palaeocene
  • یہ زمانہ تقریباً ساٹھ لاکھ سال رہا ۔ یعنی چھ کروڑ پچاس لاکھ سال پہلے سے لے کر پانچ کروڑ نوے لاکھ سال تک رہا ۔ اس زمانے کی بری زندگی کے بارے میں معلومات کم ہیں ۔ کیوں کہ ایسی چٹانیں کم ملی ہیں جن میں اس دور کے بری جانوروں کے محجرات محٰفوظ ہوں ۔ تاہم ایشیا اور جنوبی امریکہ اور ریاست ہائے امریکہ میں کچھ آثار ملے ہیں ۔

دنیا میں شیر دار جانوروں کے کل پیتیس 35 بڑے سلسلے رہے ہیں ۔ جن میں سے آج کل کل بیس سلسلے زندہ ہیں ۔ اس زمانے میں ترقی یافتہ سلسلوں میں شاذ ہی کسی کا نشان ملتا ہے ، البتہ زیادہ قدیم سلسلے مثلاً ڈائینوسار قدیم کترنے والے جانور خوب پھل پھول رہے تھے ۔

  • فجری نذدیکی زمانہ Eocene
  • یہ زمانہ تقریباً دو کروڑ پجاس لاکھ سال رہا ۔ یعنی پانچ کروڑ نوے لاکھ قبل سے لے کر تین کروڑ چالیس لاکھ سال تک رہا ۔ اس دور میں کھروں والے شیر دار جانور نمودار ہوئے ۔ اس زمانے کے آزاد شیر

داروں کے اگرچہ زیادہ محجرات زیادہ نہیں ملے ۔ تاہم اس زمانے میں شیر دار جانوروں کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوچکی ہیں ۔ اس زمانے کی خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ آزاد شیر داروں کی کچھ قسموں نے ارتقائ کی منازل طہ کر کے دو ایسی خصوصیات حاصل کرلی تھیں جو آج کے شیر دار جانوروں میں ہیں ، یعنی ہاتھوں اور پاؤں کا کسی چیز کا پکڑنے کے قابل ہونا اور درختوں پر جھول سکنے کی صلاحیت رکھنا ، نیز جسم اور دماغ کے حجم کا وہ تناسب جو آج کے انسان کے قریب ترین ہے ۔

* خفیف نزدیکی زمانہ Oligocene  
*       یہ زمانہ تقریباً نوے لاکھ سال رہا یعنی تین کروڑ چالیس لاکھ سال قبل سے لے کر دو کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک ۔ اس زمانے کے آزاد شیر دار جانوروں کے کافی مجحرات ملے ہیں ۔ اس زمانے کی خاص 

خصوصیت یہ ہے کہ کرہ ارضی پر وسیع عریض گھاس کے میدان وجود میں آگئے ۔ ان کے ساتھ گھاس خور جانور بھی نمودار ہوئے ۔ جب کہ پہلے تو بری جانوروں میں زیادہ تر جنگل کے پتے کھا کھانے والے ہی تھے ۔ طاق کھر والے جانور اسی زمانے میں زبردست اکثریت میں تھے ۔ تاریخ کا سب سے عظیم الجثہ شیر دار جانور اسی دور میں وسطی ایشیا میں ظہور پزیر ہوا ۔ جس کو ماہرین اندرا کو تھریم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ ایک لمبی گردن والا دینو سارس تھا ، جس کا قد �â یعنی پاؤں سے لے کر کندھوں تک عموداً �á تقریباً پندرہ فٹ یا پانچ میٹر تھا ۔ فجری بن مانس کے لا تعداد مجحرات کے فایوم کے علاقہ میں ملے ہیں ۔ ان کے ساتھ ہی ہاتھیوں کے ابتدائی اجداد کے ڈھانچے ملے ہیں ۔

  • کم نذدیکی زمانہMioicene
  • یہ زمانہ ایک کروڑ تیس لاکھ سال کے عرصہ پر محیط ہے ۔ یعنی دو کروڑ پچاس لاکھ سال قبل سے لے کر ایک کروڑ بیس لاکھ سال تک ۔ اس زمانے میں یوریشیا کا بیشتر حصہ جنگلات سے پر ہوا تھا ۔ اس زمانے کے آخر دنوں کے قریب یوریشیا اور افریقہ کے درمیان ایک زمینی پل سے بندر اور بن مانس شمالی بر اعظموں کی طرف منتقل ہوئے ۔ ان میں دیو قامت مانس بھی شامل تھے جو بعد میں معدوم ہوگئے ۔ جس کا نام ’ ڈرایوپتھے کس ‘ ہے ۔ یہی دیو قامت مانس زمانے آج کل کے بن مانسوں کا جد امجد سمجھا جاتا ہے ۔ آج کل دنیا میں چار قسم کے مانس موجود ہیں ۔
  • 1 چمپانزی 2 اورنگوتان 3 گوریلا 4 گبن
  • اس عہد میں رام مانس کا ظہور میں آیا ۔ یہی انسانی نسل کا دادا یا پر دادا ہے ۔
  • زیادہ نذدیکی زمانہPliocene
  • زیادہ نذدیکی زمانہ یہ زمانہ تقریباً پچانوے لاکھ سال پر پھیلا ہوا ہے ۔ یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ سال قبل تک ۔ اس زمانے میں کرہ ارض پر بیشتر علاقوں میں آب و ہوا سرد اور خشک ہوگئی ۔ گھوڑوں اور سینگ دار جانوروں کی نسلوں میں تنوع پیدا ہوا ۔ اسی زمانے میں جانوروں کو جنگل اور میدان میں سے کسی ایک جگہ کو اپنے مسکن کے طور پر منتخب کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا ۔ چنانچہ کچھ جانور جنگلی بن گئے اور کچھ میدانی ۔ اسی زمانے میں دیو قامت مانس ’ ڈرایوتپھے کس ‘ سے بھی بہت بڑا ’ عظیم الہیکل مانسGigantopithecus ‘ میدانی علاقوں میں ظاہر ہوا ۔ اس کا وزن 150 پونڈ سے بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی زمانے میں نسل انسانی کا باپ ’ جنوبی مانس ‘ ( آسٹریلوتپھے کس ) بھی ظہور میں آیا ۔ جنوبی مانس نے اسی زمانے میں اوزار بنانے سیکھے ۔ اوزار بنانے کی محنت نے اس کو مزید ترقی دی اور آئندہ زمانے میں ( یعنی چوتھے زمانے میں ) وہ ارتقائ کے بلند ترین مرحلے میں داخل ہوا ، یعنی جدید انسان بنا ۔
  • ( ۲ ) چوتھا زمانہ The Quarternary peroid
  • یہ زمانہ گزشتہ پچیس لاکھ سال سے لے کر عہد حاضر پر محیط ہے ۔ اس کے دو حصہ ہیں ۔
  • ( ۱ ) انتہائی نذدیکی زمانہ Pleistocene
  • ( 2 ) مکمل نذدیکی زمانہ Holocene
  • ( 3 ) انتہائی نذدیکی زمانہ Pleistocene
  • یہ زمانہ گزشتہ پچیس لاکھ سال قبل ( اور بعض کے نذدیک سترہ لاکھ سال قبل ) سے شروع ہوکر دس ہزار سال ( یا گیارہ ہزار سال ) قبل پر پھیلا ہوا ہے ۔گویا اس کا عرصہ بیس لاکھ سے

چورانوے لاکھ سال تک پھیلا ہوا ہے ۔

  • اس دور میں زمین پر بار بار زبر دست موسمی تبدیلیاں واقع ہوئیں ۔ بار بار زمین کے بیشتر حصوں پر خصوصاً شمالی علاقوں پر برف کی موٹی دبیز تہیں چھاگئیں ۔ جن کی موٹائی دس ہزار فٹ ( تین ہزار میٹر

) یا اس سے بھی زیادہ ہوتی تھی اور پھر بار بار یہ برف پگھل گئیں ۔ اسی زمانے کے دوران برف جمنے اور پگھلنے کے آتھ ادوار کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ آخری برف آج سے دس ہزار سال پہلے پگھل کر ختم ہوئی ۔ یوں اس پورے دور کو برفانی دور کہا جاتا ہے ۔ جس میں بار بار برف پگھلی اور جمی ۔ زمین کی پوری ارضیاتی زندگی میں یہ آخری برف سازی تھی ۔ جب کہ پہلی کوئی ستاون کروڑ سال پہلے ہوئی تھی ۔ اس شدید موسمی کایا پلٹ کی بنا پر بہت سے جانوروں کی اقسامیں معدوم ہوگئیں اور بہتوں میں زبردست ارتقائ ہوا اور ارتقائ کا انقلابی مرحلہ کیفیتی تبدیلی کا مرحلہ اسی دور میں ہوا ۔ اسی دور میں جدید انسان اپنی موجودہ شکل میں سامنے آیا ۔ انسانیت کی صبح صادق اسی عہد میں طلوع ہوئی ۔ قدیم پتھر کا زمانہ اسی دور سے تعلق رکھتا ہے ۔ جو تقریبا! پچیس تیس لاکھ سال قبل سے شروع ہو کر بارہ ہزار سال قبل ختم ہوتا ہے ۔ قدیم پتھر کے زمانے علی الترتیب تین حصہ کیئے جاتے ہیں ۔

  • (1) نچلا قدیم پتھر کا دور
  • (2) درمیانہ قدیم پتھر کا دور
  • (1) بالائی قدیم پتھر کا زمانہ ۔
  • مکمل نذدیکی زمانہ Holocene
  • یہ زمانہ گزشتہ دس ہزار یا گیارہ ہزار سال پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس دور کے آغاز سے پہلے ہی برف پگھلنی شروع ہوگئی تھیں ۔ آج سے تقریباً پندرہ ہزار سال پہلے برف پگھلنے کا عمل شروع ہوا جو کہ اچانک ہوا ۔ سائنس دانوں کی رائے میں سورج کی تابکاری بڑھ جانے کی وجہ سے زمین پر گرمی بڑھ گئی ۔ تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے ایک طرف تو برفیں پگھلنے سے دریاؤں کے پاٹ زیاہ بھر گئے ، دوسرے بارشیں بھی زیادہ ہوئیں ۔ اس دور میں کافی سیلاب آئے ۔ اس زمانے میں جانداروں کی نسلوں میں کوئی جسمانی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔ ماسوائے دو باتوں کے کہ ایک تو انسانی آبادیوں میں زبردست اضافہ ہوا ، دوسرا عظیم شیر دار تیزی سے معدوم ہوگئے ۔
  • اسی زمانے میں بھی ایک چھوٹا برفانی دور گزرا ۔ اس کا عروج 1750 میں ہوا ۔ جب کہ پرانے عظیم برفانی دور کے بعد نسبتاً گرم زمانے میں سب سے زیادہ برفانی توودے زمین پر نمودار ہوگئے تھے ۔
  • ماخذ
  • یحیٰی امجد ۔ تاریخ پاکستان قدیم دور


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 G.B. Dalrymple The Age of the Earth Stanford University Press, 1991. ISBN 0-8047-1569-6

مزید دیکھیے[ترمیم]

کرہ ارض

نظام شمسی
سورج عطارد زہرہ چاند زمین فوبوس اور ڈیمیوس مریخ سیرس سیارچوی پٹی مشتری مشتری کے چاند زحل زحل کے چاند یورینس یورینس کے چاند نیپچون کے چاند نیپچون کیرون، نکس اور ہائڈرا پلوٹو کوئپر پٹی ڈسنومیا ارس منتشر طشتری اورت بادلSolar System Right To Left.PNG
سورج · عطارد · زہرہ · زمین · مریخ · مشتری · زحل · یورینس · نیپچون
بونے سیارے
پلوٹو · سیرس · ارس
دیگر اجرام فلکی
چاند · نجمیے · دم دار سیارے · کہکشاں · شہاب ثاقب · سحابیہ · اجرام فلکی کے فاصلے

ِ