زینب بنت علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(زینب سلام اللہ علیہا سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
زینب سلام اللہ علیہا
مکمل نام زینب بنت علی
تاریخ ولادت 5جمادی الاول، 6 ہجری
لقب ام المصا ئب
والد علی ابن ابی طالب
والدہ فاطمہ علیہا السلام بنت محمد
تاریخ وفات 15 رجب، 62 ہجری
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِمحمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم



حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نواسی تھیں۔ وہ 5 جمادی الاول 6ھ کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ واقعہ کربلا کی سب سے نمایاں خاتون تھیں۔

القاب[ترمیم]

تاریخی کتابوں میں آپ کے ذکر شدہ القاب کی تعداد 61 ہے۔ ان میں سے کچھ مشہور القاب درج ذیل ہیں:

ثانیِ زہرا، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء

مختصر حالات[ترمیم]

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی انتقال فرما گئیں ۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار علیہ السلام سے ہوئی ۔ ان کے پانچ بچے ہوئے جن میں سے حضرت عون اور حضرت محمد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہو گئے ۔

سانحہء کربلا اور اس کے بعد[ترمیم]

اصل مضمون: زینب بنت علی

سانحہ کربلا

خود حضرت زینب سلام اللہ علیہا کربلا میں موجود تھیں۔ واقعہ کربلا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار بہت اہم ہے ۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ دمشق لے جائی گئیں جہاں یزید کے دربار میں دیا گیا ان کا خطبہ بہت مشہور ہے۔ آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا ۔

یزيد اگر چہ حادثات زمانہ نے ہمیں اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے اور مجھے قیدی بنایا گیا ہے لیکن جان لے میرے نزدیک تیری طاقت کچھ بھی نہیں ہے ۔خدا کی قسم ، خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اس کے سوا کسی اور سے گلہ و شکوہ بھی نہیں کروں گی ۔اے یزید مکر و حیلے کے ذریعہ تو ہم لوگوں سے جتنی دشمنی کرسکتا ہے کرلے ۔ ہم اہل بیت پیغمبر (ص) سے دشمنی کے لئے تو جتنی بھی سازشیں کرسکتا ہے کرلے لیکن خدا کی قسم تو ہمارے نام کو لوگوں کے دل و ذہن اور تاریخ سے نہیں مٹا سکتا اور چراغ وحی کو نہیں بجھا سکتا تو ہماری حیات اور ہمارے افتخارات کو نہیں مٹا سکتا اور اسی طرح تو اپنے دامن پر لگے ننگ و عار کے بدنما داغ کو بھی نہیں دھوسکتا ، خدا کی نفرین و لعنت ہوظالموں اور ستمگروں پر ۔

ان مظالم کو بیان کرکے جو یزید نے کربلاکے میدان میں اہل بیت رسول(ع) پر روا رکھے تھے؛ حضرت زینب (ع) نے لوگوں کو سچائی سے آگاہ کیا۔ آپ کے خطبہ کے سبب ایک انقلاب برپا ہوگيا جو بنی امیہ کی حکومت کے خاتمے کے ابتدا تھی ۔

وفات[ترمیم]

حضرت زینب علیہا السلام کا مزار

حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کی شہادت کے تقریبا" ڈیڑھ سال بعد 15 رجب المرجب 62 ہجری کودرجہ شہادت پر فائز ہوئیں ۔ ان کا روضہ اقدس شام کے دارالحکومت دمشق میں ہے ۔

دیکھۓ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]