سائنس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
  • علم کی تلاش یہاں لاتی ہے، علم کے دیگر استعمالات کیلیے دیکھیےٴ علم (ضدابہام)۔
جامعہ کلون (جرمنی) کی تجربہ گاہ کا ایک حصہ؛ سائنس کی کسی تجربہ گاہ میں عمومی طور پر استعمال کیۓ جانے والے چند آلات اور کیمیائی مرکبات کی ایک نشاں سازی۔

بنیادی طور پر تو سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اسکا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے، اس طرح کہ اس مطالعے کا طریقہ اور اسکے نتائج دونوں ہی بعد میں دوسرے دہرا سکتے ہوں یا انکی تصدیق کرسکتے ہوں یعنی یوں کہـ لیں کہ وہ قابل تکرار (replicable) ہوں اور اردو میں اسکو علم ہی کہتے ہیں۔ فی الحال سائنس کا کوئی ایسا ترجمہ کرنے (یا اگر کیا گیا ہے تو اسکو عام کرنے) کی کوئی باضابطہ کوشش نہیں کی گئی ہے کہ جو اسکو دیگر علوم سے الگ کرسکے اس لیۓ اس مضمون میں علم اور سائنس متبادلات کے طور پر استعمال کیۓ گۓ ہیں، لہذا یوں کہ سکتے ہیں کہ مطالعہ کر کہ کسی چیز کے بارے میں جاننا (یا ایسی کوشش کرنا) یعنی علم ہی سائنس ہے۔ انگریزی میں سائنس کا لفظ لاطینی کے scientia اور اسے قبل یونانی کے skhizein سے آیا ہے جسکے معنی الگ کرنا، چاک کرنا کہ ہیں۔ مخصوص غیر فنونی علوم جو کہ انسان سوچ بچار حساب کتاب اور مطالعہ کے زریعے حاصل کرتا ہے کہ لیۓ سائنس کے لفظ کا جدید استعمال سترہویں صدی کے اوائل سے سامنے آیا۔

بعض اوقات مندرجہ بالا تعریف کے مطابق حاصل کیۓ گۓ علم یا سائنس کو خالص علم (pure science) بھی کہا جاتا ہے تاکہ اسکو سائنسی اطلاقات کے علم یعنی نفاذی علم (applied science) سے الگ شناخت کیا جاسکے۔

انسان کے سائنسی مطالعے کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے جاری ہے (جسکی تفصیل تاریخ سائنس میں آجاۓ گی) اور زمانے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ اور بہتری ہوتی رہی ہے جس نے سائنس کو اسکی آج کی موجود شکل عطا کی۔ آنے والے سائنسدانوں نے ہمیشہ گذشتہ سائنسدانوں کے مشاہدات و تجربات کو سامنے رکھ کر ہی نئی پیشگویاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال سائنس قدیم ہو یا جدید ، بنیادی ہو یا اطلاقی ایک اہم ترین عنصر جو اس سائنسی مطالعے میں شامل رہا ہے وہ اسلوب علم یا سائنسی طریقۂ کار ہی ہے۔ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ اس سائنسی اسلوب میں بھی زمانے کے ساتھ ساتھ ترقی اور باریکیاں پیدا ہوتی رہی ہیں اور آج کوئی بھی سائنسی مطالعہ یا تجربہ اسلوب سائنس پر پورا اترے بغیر قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا۔

سائنس اور فنیات (arts) کی تفریق کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ فنیات میں وہ شعبہ جات آجاتے ہیں جوکہ انسان اپنی قدرتی ہنر مندی اور صلاحیت کے زریعے کرتا ہے اور سائنس میں وہ شعبہ جات آتے ہیں جنمیں سوچ بچار، تحقیق اور تجربات کر کہ کسی شہ کہ بارے میں حقائق دریافت کۓ جاتے ہیں۔ سائنس اور آرٹس کے درمیان یہ حدِ فاصل ناقابلِِ عبور نہیں کہ جب کسی آرٹ یا فن کا مطالعہ منظم انداز میں ہو تو پھر یہ ابتداء میں درج تعریف کے مطابق اس آرٹ کی سائنس بن جاتا ہے۔

ہر قسم کے لسانی ، تہذیبی اور کسی بھی دوسری قوم کے ذہنی غلبے سے آزاد سوچ ہی سائنس پیدا کرتی ہے۔ ہزار سال قبل ، اسلوب علم کی روشنی میں تیار کیۓ گۓ آلات جراحی جنہوں نے آج کے جدید جراحی آلات کی جانب راہنمائی کی، اسی نوعیت کے واقعات سائنس کہلاۓ جاتے ہیں۔ (مسلم سائنسدان ، الزھراوی کی کتاب التصریف لمن عجز عن التالیف کا ایک نسخہ)۔

‎سائنسی زمرے[ترمیم]

سائنس کے میدان کو عام طور پر دو بنیادی خطوط پر اسطوار کیا جاتا ہے ایک تو وہ جو کہ فطری مظاہرات سے متعلق ہوتے ہیں اور علوم فطریہ (natural sciences) کہلاۓ جاتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو انسانی سلوک (human behavior) اور معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور معاشرتی علوم (social sciences) کہلاتے ہیں۔ سائنس کے ان دونوں ہی شعبہ جات کو تجربی (empirical) کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں ہی جو معلومات حاصل کی جاتی ہیں ان میں انسانی تجربات اور مظاہر فطرت کے بارے میں شواہدات کا ہونا لازمی قرار دیا جاتا ہے، یعنی ان معلومات کو ایسا ہونا چاہیۓ جو کہ فردی نہ ہوں بلکہ بعد میں آنے والے سائنسدان یا علماء بھی انکی صحت کی تصدیق کر سکیں اور انکو اپنے مستقبل کے تجربات میں استعمال بھی کرسکیں، ہاں یہ ہے کہ ایسا کرنے کے دوران (یعنی گذشتہ تجربی مشاہدات (سائنس) کی تصدیق کے دوران) وہی ماحول لازم ہو کہ جس میں ان تجربات کو پیش کرنے والے نے کیا تھا۔

سائنس کے مندرجہ بالا دو گروہوں (علوم فطریہ اور علوم معاشرہ) کے علاوہ ایک اور گروہ بھی ہے جو کہ سائنس کے ان دونوں گروہوں سے مطابقت کے مقامات کے ساتھ ساتھ کچھ افتراقات بھی رکھتا ہے اور اس گروہ کو قیاسی علوم (formal science) کہا جاتا ہے جس میں ریاضی (mathematics) ، شمارندی علوم ، نظریۂ اطلاعات اور احصاء (statistics) جیسے شعبہ جات شامل ہوتے ہیں۔

اسلوبِ سائنس[ترمیم]

اسلوب علم اصل سائسی طریقۂ کار کو ہی کہتے ہیں جس میں فطرت (nature) کے اسرار و رموز اور مظاہر کو ایک قابل تکرار (replicable) انداز میں سمجھا جاتا ہے اور انکا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ پھر اس مطالعے کے بعد حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں پیشگوئیاں کی جاتی ہیں جو کہ مستقبل کی راہ اور مزید تحقیق کیلیۓ معاون ثابت ہوتی ہیں۔

خالص سائنس کی بنیادوں پر قائم ہونے والے سائنس کے اطلاقی شعبہ جات جیسے ہندسیات اور طرزیات وغیرہ کے امتزاج سے بننے والی اشیاء زندگی کو سہل ہیں

بعض اوقات کسی بھی ایک سائنسی مطالعے کے دوران عقلی طور پر کوئی ایک نتیجہ آنے کا امکان دوسرے کی نسبت زیادہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ایسے مواقع پر اسلوب علم کی موجودگی کے باعث سائنسدان اس قدر باضمیر افراد کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی ذہنی لگاوٹ یا جذبے کو نظر انداز کرتے ہوۓ اس سے تجربے یا اسکے نتیجے کو متاثر نہیں ہونے دیتے لہذا یہ اسلوب علم کی پیروی ہی انکے کام کو قابل تکرار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ذاتی لگاوٹ اور کسی بھی تعصب کے رجحانات کو ختم کردینا اسلوب علم کا ایک پہلو ہے، ساتھ ہی یہ تجربی نمونے (experimental design) میں بھی معاونت اور راہنمائی فراہم کرتا ہے اور ایک آخری پیمانے کے طور پر اس میں نظرِ ھمتا (peer review) کی موجودگی ؛ تجربہ ، تجربے کے طریقۂ کار ، استعمال کیۓ جانے والے آلات و کیمیائی مرکبات اور حاصل شدہ نتائج تک ہر پہلو کو قابل اعتبار و تکرار بنانے میں نہایت اھمیت رکھتی ہے۔

اسلوبات سائنس میں ایک بہت اہم اوزار ، نمونوں (models) کی تشکیل ہوتی ہے جو کسی تصور یا منصوبے کی تصویرکشی یا وضاحت کرتے ہیں۔ سائنسدان اس نمونے کی تعمیر ، جانچ پڑتال اور صحت پر بہت توجہ دیتے ہیں کیونکہ اس کی مدد سے ہی اصل تجربات ممکن ہوتے ہیں اور اسی کی مدد سے ایسی سائنسی پیشگوئیاں کی جاسکتی ہیں جو کہ قابل تکرار ہوں۔ مفروضہ (hypothesis) اسلوبات سائنس میں ایک ایسی بات کو کہا جاتا ہے کہ جسکو ابھی تک تائید کی ناقابل تردید تجربی شہادتیں بھی میسر نہ ہوئی ہوں اور دوسری جانب اسکے غلط ہونے کے بارے میں بھی کوئی گذشتہ حتمی تحقیق نا موجود ہو، ایسی صورت میں مفروضہ ، نمونے کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ نظریہ (theory) کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ یہ کئی مفروضات اور بیانات (اکثر عام طور پر مانے جانے والے) کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جن کو آپس میں منتطقی انداز میں جوڑا جا سکتا ہو یا جوڑا گیا ہو اور اس سے دیگر مظاہر فطرت کی وضاحت میں مدد حاصل ہوتی ہو، جیسے جوہری نظریہ۔ طبیعی قانون (physical law) ایک ایسے سائنسی اصول کو کہا جاتا ہے کہ جو گذشتہ مفروضات کے بعد تجرباتی مراحل سے گذر چکا ہو اور اسکے حق میں ناقابل تردید تجربی (empirical) شواہد موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قابل تکرار (replicable) شواہد بھی موجود ہوں۔

ایک ہم عصر سائنسدان (ھمتا / peer) ؛ دوسرے سائنسدان کے کیۓ گۓ تجربے کی اشاعت سے پہلے اسکے نظرِ ھمتا (peer review) کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

سائنسی اسلوب میں ایک اور اہم پہلو اس میں تحریضی (inductive) کیفیت کا ہونا ہے، یعنی اسکا مطلب یہ ہے کہ سائنس دنیا کے کسی مظہر کے بارے میں کسی بات کی جانب مائل کرتی ہے یا یوں کہ لیں کے اسکی ترغیب دیتی ہے اور اسکو تجربے سے ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سائنس کبھی کوئی مطلق دعویٰ نہیں کرتی اور ہمیشہ نۓ شواہد و حقائق کیلیۓ اپنے اندر تحریف (falsification) کی گنجائش رکھتی ہے۔ اور اس مقصد کیلیۓ اوپر بیان کردہ مُراجعۂ ثانی (peer review) نہایت اہم ہے جسکی خاطر تمام معلومات کا دائرۂ عام میں ہونا اور ہر کسی کی رسائی میں ہونا لازمی ہے۔ تاکہ نا صرف یہ کہ نظر ثانی (review) کیا جاسکے بلکہ ساتھ ساتھ ہی کسی ایک سائنسدان کے تجربے کو اسکا کوئی ھمتا (peer) دہرا کر اسکے قابل تکرار ہونے کا اندازہ کرسکے یا تصدیق کرسکے۔ ھمتا یا peer سے مراد یہاں ہم عصر سائنسدانوں سے ہے، یعنی کوئی ایسا سائنسدان جو اتنا ہی قابل ہو جتنا کہ تجربہ کرنے والا سائنسدان۔

ریاضی اور سائنس[ترمیم]

سہ ابعادی مکعب کا ایک چارابعادی اظہارِ مضاہی۔ ریاضی سائنس کے انتہائی پیچیدہ تصورات کو مختصر اور جامع انداز میں واضع کرنے کا اہم زریعہ ہے۔

سائنس اور ریاضی (mathematics) آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور سائنس کا کوئی شعبہ ایسا نہیں (خواہ اسکا تعلق طبیعیات سے ہو یا علم کیمیاء سے ، حیاتیات سے ہو یا وراثیات سے) جو ریاضی کی مدد کے بغیر چل سکتا ہو۔ جیسا کہ تعارف کے بیان میں ذکر آیا کہ عام طور پر ریاضی کو سائنس کے جس گروہ میں شامل کیا جاتا ہے اسے تشکیلی علوم کہتے ہیں[1] ، یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بعض زرائع ریاضی کو بنیادی یا خالص سائنس میں بھی شمار کرتے ہیں [2] [3] ۔

ریاضی کی ہر ایک شاخ ہی سائنس کے دیگر شعبہ جات میں کام آتی ہے جن میں احصاء (statistics)، حسابان (calculus) سمیت ریاضی کی وہ شاخین بھی شامل ہیں جنہیں عام طور پر خالص ریاضی میں شمار کیا جاتا ہے مثال کے طور پر نظریۂ عدد (number theory) اور وضعیت (topology) وغیرہ۔

جس طرح ایک طبیب ایک سائنسدان بھی ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح ایک ریاضی داں ، بجا طور پر ایک سائنسدان ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ ان تمام تر اسلوب سائنس کی پیروی کر رہا ہوتا ہے جن کی مدد سے ہی سائنسی نمونے ، تجربی نمونے ، مفروضے اور سائنسی پیشگوئیاں ممکن ہوتی ہیں۔

فلسفۂ سائنس[ترمیم]

فلسفۂ سائنس اصل میں سائنس کی بنیادوں ، اس میں قائم مفروضات ، اسکے تجربات کی حقیقت اور تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کی حقیقت اور ان نتائج یا سائنس کے اخلاقی کردار اور زندگی میں اسکے اطلاقات جیسے موضوعات سے بحث رکھتا ہے۔ اسکو بنیادی طور پر دو ذیلی شعبہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے ، اول ؛ علمیات یا معلوماتشناسی جسکو انگریزی میں epistemology کہتے ہیں اور دوئم ؛ مابعد الطبیعیات جسے انگریزی میں metaphysics کہا جاتا ہے۔ ان میں علمیات تو علم (سائنس) کی حیققت کی تلاش کو کہتے ہیں جبکہ مابعد الطبیعیات پھر اس حقیقت کی فطرت کا کھوج لگانے کو کہا جاتا ہے، انکی مزید تفصیل کیلیۓ انکے صفحات مخصوص ہیں۔ فلسفۂ سائنس وہ مقام ہے کہ جہاں اکثر سائنس اور ناسائنس کے مابین حدود معدوم ہی ہوجاتی ہیں۔

فلسفۂ سائنس کے مطابق سائنس ایک ایسے تجزیات یا حقائق کا نام ہے کہ جنہوں نے شواہداتی بنیادوں پر ہماری حسوں کو تحریک دی ہو یعنی کسی بھی متعلقہ مظہر قدرت کو اسکے طبیعی شواہد کی بنا پر محسوس کیا گیا ہو۔ یہاں حس (مشاہدے) کا طبیعی یا فطری ہونا لازم ہے کیونکہ اگر کوئی چیز طبیعی کیفیات سے بلند ہو تو پھر اسے سائنس نہیں مافوق الفطرت (supernatural) کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور تصوراتی سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اسکی انسانی سمجھ کے مطابق وجوہات اور اسکے وجود کی توجیہ کے بارے میں شواہد نا مل جائیں۔

کئی راہنما اصولوں (جیسے تیغِ اوکام (Occam's razor) کا اصولِ بخل (parsimony)) سے استفادے کہ بعد سائنسی نظریات کو منطق اور توجیہات کے پیمانوں سے تراشہ جاتا ہے اور پھر کانٹ چھانٹ کے بعد وہی نظریات (یا نظریہ) قابل قبول حیثیت میں قائم رہ جاتا ہے کہ جسکے بارے میں سب سے واضع اور ٹھوس شواہد میسر آچکے ہوں۔

سائنس کے اہداف[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Peirce, p.97
  2. ^ Association for Supervision and Curriculum Development
  3. ^ Devlin, Keith , Mathematics: The Science of Patterns: The Search for Order in Life, Mind and the Universe (Scientific American Paperback Library) 1996, ISBN 978-0-7167-5047-5