سارے جہاں سے اچھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سارے جہاں سے اچھا
شاعری محمد اقبال
نمونۂ موسیقی

سارے جہاں سے اچھا یا ترانۂ ہندی اردو زبان میں لکھی گئی دےشپرےم کی ایک غزل ہے جو ہندوستانی جنگ آزادی کے دوران برطانوی راج کے خلاف احتجاج کی علامت بنی اور جسے آج بھی ملک - عقیدت کے گیت کے طور پر ہندوستان میں گایا جاتا ہے. اس غیر رسمی طور پر بھارت کے قومی گیت کا درجہ حاصل ہے. اس گیت کو مشہور شاعر محمد اقبال نے 1905 میں لکھا تھا اور سب سے پہلے سرکاری کالج، لاہور میں پڑھ کر سنایا تھا. یہ اقبال کی تخلیق بنگ - اے - دارا میں شامل ہے. اس وقت اقبال لاہور کے سرکاری کالج میں وياكھياتا تھے. انہیں لالہ ہردیال نے ایک اجلاس کی صدارت کرنے کی دعوت دی. اقبال نے تقریر کرنے کے بجائے یہ غزل پوری امنگ سے گاكر سنائی. یہ غزل ہندوستان کی تعریف میں لکھی گئی ہے اور الگ - الگ سمپردايو کے لوگوں کے درمیان بھائی - چارے کا جذبہ بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے. 1950 کی دہائی میں ستار - بجانے پنڈت روی شنکر نے اسے سر - بددھ کیا. جب اندرا گاندھی نے بھارت کے پہلے اتركشياتري راکیش شرما سے پوچھا کہ خلا سے بھارت کیسا دکھائی دیتا ہے، تو شرما نے اس گیت کی پہلی لائن کہی.

غزل[ترمیم]

اردو دیوناگري

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبليں ہيں اس کي، يہ گلستاں ہمارا

غربت ميں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن ميں
سمجھو وہيں ہميں بھي، دل ہو جہاں ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا، ہمسايہ آسماں کا
وہ سنتري ہمارا، وہ پاسباں ہمارا

گودي ميں کھيلتي ہيں اس کي ہزاروں ندياں
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا

اے آب رود گنگا، وہ دن ہيں ياد تجھ کو؟
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

مذہب نہيں سکھاتا آپس ميں بير رکھنا
ہندي ہيں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

يونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقي نام و نشاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستي مٹتي نہيں ہماري
صديوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اقبال! کوئي محرم اپنا نہيں جہاں ميں
معلوم کيا کسي کو درد نہاں ہمارا

सारे जहाँ से अच्छा, हिन्दोस्ताँ हमारा ।

हम बुलबुलें हैं इसकी, यह गुलिसताँ हमारा ।।

ग़ुरबत में हों अगर हम, रहता है दिल वतन में ।
समझो वहीं हमें भी, दिल हो जहाँ हमारा ।। सारे...

परबत वो सबसे ऊँचा, हमसाया आसमाँ का ।
वो संतरी हमारा, वो पासबाँ हमारा ।। सारे...

गोदी में खेलती हैं, उसकी हज़ारों नदियाँ ।
गुलशन है जिनके दम से, रश्क-ए-जिनाँ हमारा ।।सारे....

ऐ आब-ए-रूद-ए-गंगा! वो दिन है याद तुझको ।
उतरा तेरे किनारे, जब कारवाँ हमारा ।। सारे...

मज़हब नहीं सिखाता, आपस में बैर रखना ।
हिन्दी हैं हम वतन हैं, हिन्दोस्ताँ हमारा ।। सारे...

यूनान-ओ-मिस्र-ओ-रूमा, सब मिट गए जहाँ से ।
अब तक मगर है बाक़ी, नाम-ओ-निशाँ हमारा ।।सारे...

कुछ बात है कि हस्ती, मिटती नहीं हमारी ।
सदियों रहा है दुश्मन, दौर-ए-ज़माँ हमारा ।। सारे...

'इक़बाल' कोई महरम, अपना नहीं जहाँ में ।
मालूम क्या किसी को, दर्द-ए-निहाँ हमारा ।। सारे...