سال (کیمیاء)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مول یا سال (mole) سے مراد علم کیمیاء میں کسی بھی عنصر یا مرکب کے گراموں میں تولے (اخذ کیئے) جانے والے اس وزن کی ہوتی ہے کہ جو اس متعلقہ عنصر یا مرکب کے سالماتی وزن (molecular weight) کے برابر ہو۔ مثال کے طور پر پانی (H2O) کا سالماتی وزن ؛ H اور O کے سالماتی وزن بالترتیب 2 اور 16 کو جمع کرنے پر 18 ہوتا ہے اس لیئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر پانی کے 18 گرام تولے جائیں تو وہ پانی کا ایک سال (mole) بنائیں گے۔ سال ، مَبلغِ شے (amount of substance) کے بارے میں بین الاقوامی نظام اکائیات (بنا) کے تحت آنے والی ایک بنا اساسی اکائی (SI based unit) ہے جو طبیعی مقدار (physical quantity) کی پیمائش کے لیۓ استعمال کی جاتی ہے۔ کیمیائی انداز میں سال کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ

کسی نظام میں موجود کسی شے کا وہ مَبلغ (amount) کہ جو اسی قدر بنیادی اکائیوں (جواہر، سالمات، ایونات یا برقات وغیرہ) پر مشتمل ہو کہ جتنی اکائیوں (یعنی جواہر) پر کاربن-12 (12C) کے 12 گرام مشتمل ہوتے ہیں۔

مذکورہ بالا تعریف پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پیچیدہ ہونے کے باوجود اس تعریف کا سادہ مفہوم وہی ہے کہ جو ابتدائیے میں بیان ہوا ہے ، یعنی کسی بھی شے کے جوہری یا سالماتی وزن کو گراموں میں پیمائش کرنے پر اس شے کا سال (مول) حاصل ہوتا ہے ، چونکہ C کا جوہری وزن 12 ہوتا ہے اس لیئے اس کا ایک مول یا سال 12 گرام کے برابر آتا ہے۔ کیمیائی تعریف میں موجود اس بات کی وضاحت کہ کسی بھی شے کے ایک سال میں موجود بنیادی اکائیوں اور کاربن کے ایک سال میں پائی جانے والی کاربن کی اکائیوں میں کیا تعلق ہے؛ ایواگاڈرو عدد سے ہو جاتی ہے ، جس کے مطابق کسی بھی شے کے ایک سال (مول) میں پائی جانے والی بنیادی اکائیوں (جواہر، سالمات، ایونات یا برقات وغیرہ) کی تعداد ایک مستقل عدد 6.0221415×1023 کے برابر ہوتی ہے۔ گویا اگر یہ کہا جائے کہ C کے 12 گرام (ایک سال) میں موجود بنیادی اکائیوں کی تعداد کسی بھی دوسری شے کے ایک سال میں موجود بنیادی اکائیوں کی تعداد کے برابر ہوگی تو اسی بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شے کے ایک مخصوص مَبلغ میں اتنی ہی بنیادی اکائیاں ہوں جتنی C کے 12 گرام میں تو وہ اس شے کا ایک سال ہوگا۔

وجۂ تسمیہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]