سبرامنین چندرشیکھر
| Subrahmanyan Chandrasekhar | |
|---|---|
Subrahmanyan Chandrasekhar
|
|
| پیدائش | اکتوبر 19, 1910 Lahore, British India |
| وفات | اگست 21, 1995 (عمر 84 سال) Chicago, Illinois, United States |
| سکونت | United States |
| شہریت | India (1910–1953) United States (1953–1995) |
| میدان | Astrophysics |
| اِدارے | University of Chicago University of Cambridge |
| مادر علمی | Presidency College, Madras Trinity College, Cambridge |
| علمائی مشیر | R.H. Fowler, Arthur Stanley Eddington |
| علمائی طلباء | Donald Edward Osterbrock, Roland Winston, F. Paul Esposito, Jeremiah P. Ostriker |
| وجہِ معروفیت | Chandrasekhar limit |
| اہم انعامات | Nobel Prize in Physics (1983) Copley Medal (1984) National Medal of Science (1966) Padma Vibhushan (1968) |
| مذہبی وابستگی | Hindu atheist[1] |
Subrahmanyan Chandrasekhar (تامل:சுப்பிரமணியன் சந்திரசேக) ہندوستانی نژاد امریکی طبیعیات دان تھا جسے اپنے استاد William A. Fowler کے ساتھ 1983 میں نوبل انعام ملا۔ اسکے چچا Sir Chandrasekhara Venkata Raman کو 1930 میں طبیعیات کا نوبل انعام مل چکا تھا۔
فہرست |
ابتدائی حالات [ترمیم]
چندرا لاہور پنجاب میں 19 اکتوبر 1910 میں ایک تامل گھرانے میں پیدا ہوا۔ 1930 میں اسے ہندوستانی حکومت سے یونیورسٹی آف کیمبرج میں پڑھنے کے لیئے اسکولرشپ ملا۔ 20 سال کی عمر میں وہ انگلستان میں طبیعیات میں گریجویشن کرنے بحری جہاز سے ہندوستان سے روانہ ہوا۔ چندرا شیکھر منہدم شدہ ستاروں (collapsed stars) کی آخری حالت میں بڑی دلچسپی رکھتا تھا جو الیکٹرون ڈیجنیریسی electron degeneracy کے تابع ہوتی ہے۔ بحری جہاز میں سفر کے دوران اس نے Arthur S. Eddington اور Ralph H. Fowler کے اس موضوع پر کیئے ہوئے کام کا بغور مطالعہ کیا اور پایا کہ انہوں نے اپنے اس کام میں اضافیت کو شامل نہیں کیا تھا۔ چندرا نےجب اضافیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حساب لگایا تو اسے اندازہ ہوا کہ ستاروں کی کمیت اگر ایک خاص حد سے زیادہ ہو جائے تو electron degeneracy کی قوت طاقتور کشش ثقل کا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور ستارہ پچکتا چلا جائے گا۔ اسکے حساب سے یہ حد سورج کا 1.44 گنا تھی۔ اس وقت وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس حد سے زیادہ کمیت پر ستارے کا کیا انجام ہو گا۔
Eddington نے چندرا کی سخت مخالفت کری اور اسکی زندگی مشکل بنا دی۔ 1935 میں اس سے ایک جھگڑے کے بعد چندرا کسی اور ملک میں ملازمت لینے کے بارے میں سوچنے لگا۔ کئی سالوں کی کوششوں کے بعد چندرا نے مایوس ہو کر اس موضوع کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اسے یقین تھا کہ وہ صحیح ہے اس لیئے اس نے ایک کتاب لکھی جس میں ستاروں کی بناوٹ کی تفصیلات درج تھیں۔
بعد میں Eddington نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ سفید بونے ستاروں کا مادہ انتہائی کثیف ہو سکتا ہے۔
پیشہ [ترمیم]
1935 میں کیمبرج سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد چندرا شیکھر نے یونیورسٹی آف شکاگو میں 1937 سے لیکر 1995 میں اپنی وفات تک تدریس و تحقیق کا کام انجام دیا۔
چندرا خلائی دوربین [ترمیم]
23 جولائی 1999 کو ناسا نے خلا میں ایک دوربین بھیجی جسکا نام چندرا شیکھر کے اعزاز میں Chandra X-ray Observatory رکھا گیا۔ یہ دوربین زمین کے مدار میں گردش کرتے ہوئے ستاروں سے آنے والی ایکس ریز کی تصویریں لیتی ہے۔ زمین سے یہ تصویریں نہیں لی جا سکتیں کیونکہ کرہ ہوائی میں بیشتر ایکس ریز جذب ہو جاتی ہیں۔
مزید دیکھیئے [ترمیم]
حوالے [ترمیم]
- ^ Chandrasekhar: The Man Behind the Legend - Chandra Remembered. By Kameshwar C. Wali - 1997; London: Imperial College Press. ISBN 1-86094-038-2