ستار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ستار کی اسلام آباد میں ورکشاپ

ستار، کلاسیکی موسیقی کا ایک نامور اور مشہورطرین ساز ہے، جو آج بھی بھارت اور پاکستان میں دلچسپی سے سنا اور بجایا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ستار امیر خسرو کی ایجاد ہے، آپ نے وینا سے ایک تونبہ الگ کر کرے وینا کی تشکیل کی۔

شکل[ترمیم]

ستار کے کدو کو تونبہ کہتے ہیں اور لمبی کھوکھلی لکڑی کو ڈانڈ کہا جاتا ہے۔ تونبے کی چھت پر ہڈی کے دو پل سے ہوتے ہیں جو جواریاں کہلاتے ہیں، ان پر سے تاریں گزرتی ہیں۔ ڈانڈ پر لوہے یا پیتل کے قوس سے بنے ہوتے ہیں جنھیں پردے یا سندریاں کہا جاتا ہے۔

تاریں[ترمیم]

تاروں کا ایک سرا تونبے کے پیچھے ایک کیل سے بندھا ہوتا ہے اور دوسرا ڈانڈ میں لگی ہوئی کھونٹیوں سے آجکل سدار کے تاروں کی تعداد متعیّن نہیں تاہم عمومآ جارتاریں، دوچکاریاں اور تیرہ طربیں رکھی جاتی ہیں۔ پہلی فولاد کی تار باج کہلاتی ہے، دوسری پیتل کی جوڑی، تیسری فولاد کی پنچم اور جوتھی پیتل کی گندھی ہوئی دوہری تار گرام کہلاتی ہے۔ بعض لوگ گت میں شوخی پیدا کرنے کے لیے جوڑے میں ایک تار کی بجاۓ دو تاریں رکھتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • کنور خالد محمود، عنایت الہی ٹک، سرسنگیت۔ الجدید، لاہور؛ المنار مارکیٹ، چوک انارکلی۔ 1969ء صفحہ 116-117.
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=ستار&oldid=783012’’ مستعادہ منجانب