سجاد ظہیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سید سجاد ظہیر (1904- 1973) پاکستان کے نامور اردو ادیب، انقلابی اور مارکسی دانشور تھے۔

زندگی[ترمیم]

نومبر 5، 1905 کو ریاست اودھ کے چیف جسٹس سر وزیر خاں کے گھر پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ادب پڑھنے کے بعد والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے برطانیہ جاکر آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور بیرسٹر بن کر لوٹے۔ یہاں انہوں نے قانون کے ساتھ ادب کا بھی مطالعہ کیا۔

سجاد ظہیر، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانی ممبران میں سے تھے۔ بعد ازاں 1948ء میں انہوں نے فیض احمد فیض کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بنیاد رکھی۔ دونوں رہنما بعد میں راولپنڈی سازش کیس کے تحت گرفتار کر لیے گئے۔ محمد حسین عطا اور ظفراللہ پشنی سمیت کئی افراد اس مقدمے میں گرفتار ہوئے۔ میجر جنرل اکبر خان اس سازش کے مبینہ سرغنہ تھے۔ 1954ء میں انہیں بھارت جلاوطن کر دیا گیا۔ وہاں انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین، انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن اور ایفرو ایشین رائٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ سجاد ظہیر ناصرف ان تینوں تنظیموں کے روح رواں تھے بلکہ ان کے بانیوں میں سے تھے۔

سجاد ظہیر نے ستمبر 13، 1973 کو الماتے، (قازقستان)، جو کہ تب سوویت یونین کا حصہ تھا، میں ایفرو ایشیائی مصنفین کی تنظیم کے ایک اجلاس کے دوران وفات پائی۔

باقیات[ترمیم]

سال 2005ء کو دنیا بھر کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے سجاد ظہیر کے صد سالہ سال پیدائش کے طور پر منایا گیا۔ 1932میں افسانوی مجموعہ “انگارے“ جس میں علی احمد، رشید خان، محمد الظفر اور سید سجار ظہیر کے افسانے شامل تھے، برطانوی راج نے اہل ہندوستان کے مذہبی ابہامات کو نشانہ بنانے کے الزام میں ضبط کر لیا گیا۔

ان کی اہلیہ رضیہ سجاد ظہیر بھی اردو کی جانی پہچانی ناول نگار ہیں۔ ان کی چار صاحبزادیاں ہیں۔ ان کی صاحبزادی نادرہ ظہیر بائیں بازو کی سیاسی کارکن ہیں، ان کی شادی بالی ووڈ کے نامور فلمی ستارے اور سیاسی کارکن راج ببر سے ہوئی۔ آریہ ببر، اور جوہی ببر ان کی اولادیں ہیں۔

ادبی آثار[ترمیم]

  • ناول: “لندن کی ایک رات“
  • “روشنی“، ترقی پسند ادب اور تحریک پر ادبی مضامین
  • “ذکر حافظ“، فارسی شاعرحافظ پر ملفوظات۔
  • “پگھلتا نیلم“، آخری شعری مجموعہ

تراجم[ترمیم]