سرائیکی لہجہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سرائیکی
سرائیکی; ਸਰਾਇਕੀ; सराइकी
Saraiki.svg
سرائیکی شاہ مکھی رسم الخظ میں لکھا ہوا
مستعمل پاکستان, بھارت,[1] افغانستان[2]
خطّہ بنیادی طور پر جنوبی پنجاب
واطن مکلمین 13.2 ملین  (2007)[3]
خاندانہائے زبان
لہجے (بولیاں)
ریاستی (ریاستی–بہاولپوری)
خطات فارسی ابجد, لہندا گورمکھی, دیوناگری رسم الخط, لنگدی رسم الخظ
سرکاری حیثیت
نظمیت از کہیں بھی نہیں
رموزِ زبان
آئیسو 639-3 skr
Indic script
یہ مضمون ، برہمنی حروف یا متن رکھتا ہے۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، برہمنی محارف کے بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔
سرائیکی لہجہ کا سندھ اور پنجاب میں مقام

سرائیکی ہند یورپی زبانوں سے تعلق رکھنے والی پنجابی زبان کا ایک جُنوبی لہجہ ہے۔ اسے 13.2 ملین(ا کروڑ 32 لاکھ) لوگ بولنے والے ہیں جو جنوبی پنجاب، جنوبی خیبر پختونخوا، شمالی سندھ اور مشرقی بلوچستان میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت میں 20،000 لوگ سرائیکی بولتے ہیں[1] جو تقسیم کے وقت ہجرت کرکے گئے تھے۔ اس کے علاوہ سرائیکی تارکین وطن(زیادہ تر مشرق وسطیٰ میں) بھی ہیں۔ افغانستان میں بھی کچھ ہندو سرائیکی لہجہ بولتے ہیں لیکن وہاں انکی تعداد نامعلوم ہے[2][4]۔

زبان یا لہجہ

سندھ میں سرائیکی علاقہ نارنجی رنگ میں

برصغیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر کئی زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سندھی، ہندی، اردو، پنجابی وغیرہ شامل ہیں جو آپس میں نسلی اور شناختی تنازعات پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ تمام ایک زبان کی بجائے لہجے کے تنازعے میں شامل ہیں۔ ان تمام زبانوں کی اپنی ایک معیاری شکل ہے جن میں ان کا ادب لکھا گیا ہے۔[5]۔ سرائیکی کو ایک الگ زبان ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے تاہم یہ بات متنازع ہے۔ سرائیکی کا ذکر سب سے پہلے 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد ایک مقامی لسانی پارٹی نے الگ صوبے کے قیام پر کیا[6]:838[7]۔ پہلی بار پاکستان میں سرائیکی لہجہ بولنے والوں کی مردم شماری 1981ء میں پہلی بار کی گئی۔[8]:46. اس کے برعکس سرائیکی کو پنجابی کا ایک لہجہ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ سرائیکی فقرے کی ساخت، بناوٹ وغیرہ بالکل ماجھی پنجابی جیسی ہے اسی وجہ سے کئی مقامی ماہر لسانیات نے سرائیکی کو پنجابی کا ایک لہجہ ہی کہا ہے جن میں دلائی، کے نریندر، گل، ہرجیت سنگھ گل، اے ہینری، گلیسن(جونیئر)، کؤل، این اومکر، سِیا مدُھو بالا، افضل احمد چیمہ، عامر ملک، امر ناتھ شامل ہیں [9][10][11][12] نا صرف مقامی بلکہ جدید لسانیات کے ادارے جیسے یوایس نیشنل ایڈوائزری کمیٹی، یو سی ایل اے لینگویج میٹیریل پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ جدید لسانیات کے ماہر لمبرٹ ایم سرہونے، مریم ٹی ٹینوئی، سسان ایف ہینسونؤ، کارڈونا اور نٹالیا اِونوونا ٹولسٹایاوغیرہ نے بھی سرائیکی کو پنجابی کا ایک لہجہ کہا ہے۔[13][14][15][16]

صوبہ سندھ کے 10 شمالی اضلاع میں جہاں سرائیکی بولی جاتی ہے وہاں سرائیکی کو پنجابی کی بجائے سندھی کا ایک لہجہ کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ سرائیکی اردو کی ابتدائی شکل ہے اس پر بھی بحث ہو چکی ہے کیونکہ مسلمانوں نے ملتان تک کے علاقہ کو فتح کرکے ملتان کو سندھ کا دارلخلافہ بنایا تھا۔[17]

اشتقاق

سرائیکی لفظ کے اشتقاق کے متعلق کافی متضاد تحقیقات ہیں۔ سرائیکی لفظ سنسکرت کے سؤوِریا [18]سے بنا ہے جو قدیم ہند میں ایک سلطنت تھی جس کا ذکر ہندوؤں کی مقدس کتاب مہا بھارت میں بھی ہے۔ کی کا لاحقہ لگانے سے یہ لفظ سؤوِریاکی بن گیا۔ اس کے بعد بولنے کی آسانی کے لیے و کی آواز ہٹا دی گئی جس لفظ سرائیکی بنا دیا گیا۔ اس کے علاوہ جارج ابراہم گریسن نے لفظ سرائیکی کو سندھی کے ایک لفظ سِرو کی بگڑی ہوئی یا سدھری ہوئی شکل بتایا جس کے معنی شمالی کے ہیں کرسٹوفر شیکل[7]:388 نے جارج ابراہم گریسن کی تحقیق کو غلط کہا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق سرائیکی لفظ سرای سے بنا ہے۔

ڈیرہ غازیخان

سرائیکی زبان میں قرآن شریف کے ترجمے

  • ڈاکٹر مہر عبدالحق
  • پروفیسر دلشاد کلانچوی
  • پروفیسر صدیق شاکر
  • ڈاکٹر طاہر خاکوانی
  • ریاض شاہد
  • عبدالتواب ملتانی
  • حفیظ الرحمان

سرائیکی ڈکشنریاں

  • شوکت مغل
  • پروفیسر دلشاد کلانچوی

سرائیکی گرائمر کی کتابیں

  • ڈاکٹر مہر عبدالحق
  • منصور آفاق
  • بشیر احمد بھائیہ

شاعری

سراءیکی مین تقریبا ڈیڑہ ہزار سال کی شاعری موجود ہی۔

  • سچل سرمست
  • ۔حمل لغاری
  • ۔بیدل سندھی۔
  • لطف علی
  • خواجہ غلام فرید
  • غلام رسول ڈڈا۔
  • ممتاز حیدر ڈاہر.. اس زبان کے بڑے شاعر ہیں۔
  • اور آجکل کے معروف و مشہور شاعر
  • شاکر شجاع آبادی
  • احمد خان طارق
  • دلنور نود پوری
  • AD Aashir Leghari(Ramdani)

موسیقار

ادبی کلاسیک

  • ہیر دمودر
  • کمال کہانی

تناسب

پنجابی کے لہجے

ذیل میں سرائیکی(پنجابی کے ملتانی ریاستی ڈیروی لہجوں پر مشتمل) بولنے والے اضلاع کی فہرست ہے

ضلع آبادی معیاری پنجابی% پنجابی(سرائیکی لہجہ)  % دیگر  %
وہاڑی 2,090,000 82.9 11.4 5.7
خانیوال 2,068,000 81.2 11.6 7.2
ملتان 3,116,000 21.64 60.67 17.69
بہاولپور 2,433,000 28.4 64.3 7.3
رحیم یار خان 3,141,000 27.3 62.6 10.1
میانوالی 1,056,000 74.2 12.0 13.8
اوکاڑہ 2,233,000 98.99 0.01 1.00
ساہیوال 1,843,000 98.10 0.01 1.89
بہاولنگر 2,062,000 95.2 3.1 1.7
لودهراں 1,171,000 18.6 69.6 11.8
مظفرگڑھ 2,635,000 7.4 86.3 6.3
لیہ 1,122,000 34.6 62.3 3.1
بھکر 1,051,000 20.0 73.0 7.0
ڈی جی خان 1,643,000 16.5 80.3 3.2
راجن پور 1,103,000 13.3 75.8 10.9
چکوال 1,083,000 97.7 0.2 2.1
چنیوٹ 965,000 95.9 0.8 3.3
حافظ آباد 832,000 96.80 0.01 3.19
خوشاب 950,712 90.9 7.8 1.3
منڈی بہاؤالدین 1,161,000 95.9 0.1 4.0
پاکپتن 1,287,000 92.2 0.8 7.0
سرگودھا 2,666,000 95.96 0.01 4.03
ٹوبہ ٹیک سنگھ 905,580 98.99 0.01 1.00
جھنگ 2,834,000 95.9 0.8 3.3

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 "Abstract of speakers’ strength of languages and mother tongues – 2001". http://www.censusindia.gov.in/Census_Data_2001/Census_Data_Online/Language/Statement1.htm. Retrieved 8 April 2012.
  2. ^ 2.0 2.1 "Siraiki and Kandhari (Multani)". Afghan Hindu. http://www.siraiki.20fr.com/photo.html. Retrieved 2007-12-08.
  3. ^ Nationalencyklopedin "Världens 100 största språk 2007" The World's 100 Largest Languages in 2007
  4. ^ "Pakistan/India/Afghanistan: Multani language; extent to which it is used by Hindus in Afghanistan". http://www.unhcr.org/refworld/docid/3df4bed320.html. Retrieved 8 April 2012. "Hindus have always lived in Afghanistan. That's one reason why they call themselves Kandharis and not Multanis and Seraikies. Some of the old temples in the area also point to this theory. The word Kandh in Seraiki means wall. Kandahar used to have many walls. The Hilmand river flowing in that area was labelled "Rud-e-hind-wa-sind" by Arabic manuscripts. Before the influx of Pashtoons the inhabitants of Kandahar spoke Seraiki. The Pashtoons labelled their language "Jataki". The language spoken by Afghan Hindus in Kandahar known as Kandhari is probably "Jataki"."
  5. ^ Bailey, Rev. T. Grahame. 1904. Panjabi Grammar. Lahore: Punjab Government Press.
  6. ^ Rahman, Tariq. 1997. Language and Ethnicity in Pakistan. Asian Survey, 1997 Sep., 37(9):833-839.
  7. ^ 7.0 7.1 Shackle, C. 1977. Saraiki: A Language Movement in Pakistan. Modern Asian Studies, 11(3):379-403.
  8. ^ Javaid, Umbreen. 2004. Saraiki political movement: its impact in south Punjab. Journal of Research (Humanities), 40(2): 55–65. Lahore: Faculty of Arts and Humanities, University of the Punjab. (This PDF contains multiple articles from the same issue.)
  9. ^ Dulai, Narinder K. 1989. A Pedagogical Grammar of Punjabi. Patiala: Indian Institute of Language Studies.
  10. ^ Gill, Harjeet Singh Gill and Henry A. Gleason, Jr: A Reference Grammar of Punjabi: Patiala University Press
  11. ^ Koul, Omkar N. and Madhu Bala :Punjabi Language and Linguistics: An Annotated Bibliography: New Delhi: Indian Institute of Language Studies
  12. ^ Malik, Amar Nath, Afzal Ahmed Cheema : 1995 : The Phonology and Morphology of Panjabi: New Delhi: Munshiram Manoharlal Publishers
  13. ^ http://books.google.fr/books?id=C9MPCd6mO6sC&printsec=frontcover&hl=fr&source=gbs_ge_summary_r&cad=0#v=onepage&q&f=false
  14. ^ http://www.lmp.ucla.edu/Profile.aspx?LangID=95&menu=004
  15. ^ Lambert M Surhone, Mariam T Tennoe, Susan F Henssonow:2012:Punjabi Dialects:Beta script publishing:6134873527, 9786134873529
  16. ^ http://books.google.com.pk/books?id=BmA9AAAAIAAJ&printsec=frontcover&source=gbs_ge_summary_r&cad=0#v=onepage&q&f=false
  17. ^ Itagi, N. H. (1994). Spatial Aspects of Language. Central Institute of Indian Languages. p. 70. ISBN 81-7342-009-2. http://books.google.com/?id=SQliAAAAMAAJ.
  18. ^ A.H. Dani, Sindhu-Sauvira: A glimpse into the early history of Sind In Hameeda Khusro (ed), Sind Through The Centuries (Karachi: Oxford University Press, 1981) pp. 35-42