سردار لطیف کھوسہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سردار لطیف کھوسہ

گورنر لطیف کھوسہ پی پی پی

در منصب
13 جنوری 2011 – تا حال
پیشرو سلمان تاثیر

پیدائش ڈیرہ غازی خان ، پنجاب (پاکستان)
نژادیت پنجابی
سیاسی جماعت Flagge der Pakistanischen Volkspartei.svg پاکستان پیپلز پارٹی
سکونت گورنر ہاؤس لاہور (سرکاری)
پیشہ سیاستدان
پیشہ وکیل
مذہب اسلام
وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف

پنجاب (پاکستان) کے موجودہ گورنر۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد جنوری 2011 میں پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سردار لطیف احمد خان کھوسہ پچیس جولائی انیس سو چھالیس کو جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے اور طالب علمی کے دوران ہی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے صدر بنے۔ انہوں نے وکالت کے ساتھ ساتھ وکلا سیاست میں بھرپور حصہ لیا۔

وکالت[ترمیم]

سردار لطیف کھوسہ تین مرتبہ ہائی کورٹ بار ملتان بنچ کے صدر منتخب ہوئے اور ملک میں وکلا: کی سب بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان بارکونسل کے تین مرتبہ رکن چنے گئے۔ سنہ دو ہزار میں لطیف خان کھوسہ نے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کے پروفیشنل گروپ سے علیحدگی کرتے ہوئے الگ گروپ تشکیل دیا جسے بار کی سیاست میں کھوسہ گروپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ بار کا انتخاب بھی لڑا لیکن وہ وکیل رہنما حامد خان سے شکست کھاگئے۔

پیپلز پارٹی[ترمیم]

سردار لطیف کھوسہ پیپلز پارٹی کی وکلا تنظیم پیپلز لائیرز فورم پاکستان کے صدر بھی رہے ۔سردار لطیف کھوسہ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات میں ان کی پیروی کی اور دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد وہ پیپلز پارٹی کیطرف سے سینیٹر منتخب ہوئے۔پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنی جلاوطنی کے بعد جب لاہور میں آئیں تو انہوں نے سردار لطیف کھوسہ کے گھر میں قیام کیا اور اس جگہ انہیں نظر بند کردیا گیا تھا۔یہ بینظیر بھٹو کا لاہور کا آخری دورہ تھا اور یہ نظر بندی بھی ان کی زندگی کی آخری نظربندی تھی۔

وکلا تحریک[ترمیم]

معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے شروع ہونے والی وکلاء کی تحریک میں لطیف کھوسہ پیش پیش تھے تاہم اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اس تحریک سے علیحدہ ہوگئے جس پر اُنہیں وکلاء کی طرف سے نہ صرف شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ بعض ڈسٹرکٹ بار میں اُن کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اٹارنی جنرل[ترمیم]

سردار لطیف کھوسہ کوانیس اگست دو ہزار آٹھ کو جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا لیکن ایک سال کے بعد ہی انہیں اس وقت اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جب مغفور شاہ نامی شخص نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں ان پر ایک مقدمے میں مدعی کو بری کروانے کے لیے ججوں کے نام پر اُن سے تیس لاکھ روپے لینے کا الزام لگایا گیا تھا۔

مشیر[ترمیم]

اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹنے کے بعد انہیں دس فروری دو ہزار دس کو وزیر اعظم نے اپنا مشیر بنا لیا لیکن کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیْ دے دیا تھا جسے منظور نہیں کیا گیا۔ بطور مشیر لطیف کھوسہ نے اپنی ہی وزارت کے بارے میں وائٹ پیر بھی شائع کیا ۔ گزشتہ برس لطیف کھوسہ نے وزیر اعظم کے مشیر کے عہدے سے استعفیْ دے کر این آر او کیس میں بطور وکیل اپنا وکالت نامہ جمع کرایا اور اس مقدمہ میں حکومت کی طرف سے پیروی کی۔

گورنر[ترمیم]

سابق گورنر سلمان تاثیر کی توہین رسالت قانون کے حوالے سے بیانات نے ملکی سیاست اور مذہبی حلقوں میں ہلچل کی سی کیفیت پیدا کر دی۔ جس کا نتیجہ ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کی قتل کی صورت میں سامنے آیا۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد صدر نے لطیف کھوسہ کو پنجاب کا گورنر مقرر کیا۔


سیاسی دفاتر
پیشرو
ملک محمد قیوم
پاکستانی اٹارنی جنرل
2008ء  –  2009ء
جانشین
انور منصور خان
پیشرو
سلمان تاثیر
گورنر پنجاب
2011ء
جانشین
مخدوم احمد محمود