سر سید احمد خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سرسید احمد خان
سرسید احمد خان
سرسید احمد خان
ادیب
پیدائشی نام سید احمد خان
ولادت جمعہ 6 ذوالحجہ 1232ھ / 17 اکتوبر 1817ء
ابتدا دہلی
وفات اتوار 4 ذیقعد 1315ھ/ 27 مارچ 1898ء
معروف تصانیف ١۔ آثار الصنادید

٢۔ خطبات احمدیہ
٣۔ الکلام
٤۔ سفرنامہ لندن
٥۔ تاریخ بجنور

٦۔ اسباب بغاوت ہند


سرسید احمد خاں برصغیرمیں مسلم نشاط ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار تھے اور انہوں نے مسلمانوں میں بیداری علم کی تحریک پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا. سر سید احمد خان انیسیوں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہبر تھے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے نکالنے اور انہیں با عزت قوم بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی. آپ ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مصلح تھے۔ " سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اسوقت اٹھایا جب زمین مسمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کا پیاسا ہو رہا تھا۔ وہ توپوں سے اڑائے جاتے تھے، سولی پر لٹکائے جاتے تھے، کالے پانی بھیجے جاتے تھے۔ اُن کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اُنکی جائدادیں ضبط کر لیں گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اُن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔ ..... وہ دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو مسلمان " سائیس خانساماں، خدمتگار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے۔ ... سر سید نے محسوس کر لیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ دادا کے کارناموں پر شیخی بگھارتے رہیں گے۔۔۔۔ اور انگریزی زبان انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اُنکو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر وہ تمام عمر جدوجہد کرتے رہے۔"[1]

جب کبھی عالموں اور مہذب آدمیوں کو دیکھا، جہاں کہیں عمدہ مکانات دیکھے، جب کبھی عمدہ پھول دیکھے ۔۔۔ مجھ کو ہمیشہ اپنا ملک اور اپنی قوم یاد آئی اور نہایت رنج ہوا کہ ہائے ہماری قوم ایسی کیوں نہی.
*سرسید احمد خان

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد شاہ جہاں کے عہد میں ہرات سے ہندوستان آئے۔ دستور زمانہ کے مطابق عربی فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد خان سے حاصل كی. ابتدائی تعلیم میں آپ نے قرآن پاك كا مطالعہ كیا اور عربی اور فارسی ادب كا مطالعہ بھی كیا۔ اس كے علاوہ آپ نے حساب، طب اور تاریخ میں بھی مہارت حاصل كی.جریدے Sayyad القرآن اکبر کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں ان کے بڑے بھائی شہر کا سب سے پہلا پرنٹنگ پریس کی بنیاد رکھی. [ورژن کی ضرورت] سر سید نے کئی سال کے لئے ادویات کا مطالعہ کی پیروی کی لیکن اس نے کورس مکمل نہیں ہے.

ابتدائی تعلیم حاصل كرنے كے بعد آپ نے اپنے خالو مولوی خلیل اللہ سے عدالتی كام سیكھا۔ 1837ئ میں آگرہ میں كمیشنر كے دفتر میں بطور نائب منشی فرائض سنبھالے۔ 1841ئ اور 1842ئ میں مین پوری اور 1842ئ اور1846ئ تك فتح پور سیكری میں سركاری خدمات سر انجام دیں۔ محنت اور ایمانداری سے ترقی كرتے ہوئے 1846ئ میں دہلی میں صدر امین مقرر ہوئے۔ دہلی میں قیام كے دوران آپ نے اپنی مشہور كتاب ٫٫ آثار الصنادید٬٬ 1847ئ میں لكھی۔ 1857ئ میں آپ كا تبادلہ ضلع بجنور ہو گیا۔ ضلع بجنور میں قیام كے دوران آپ نے اپنی ٫٫ كتاب سركشی ضلع بجنور٬٬ لكھی۔ جنگ آزادی كے دوران آپ بجنور میں قیام پذیر تھے۔ اس كٹھن وقت میں آپ نے بہت سے انگریز مردوں، عورتوں او ربچوں كی جانیں بچائیں۔آپ نے یہ كام انسانی ہمدردی كیلئے ادا كیا۔ جنگ آزادی كے بعد آپ كو آپ كی خدمات كے عوض انعام دینے كیلئے ایك جاگیر كی پیشكش ہوئی جسے آپ نے قبول كرنے سے انكار كر دیا۔

1857ئ میں آپ كو ترقی دے كر صدر الصدور بنا دیا گیا اور آپ كی تعیناتی مراد آباد كر دی گئی۔ 1862ئ میں آپ كا تبادلہ غازی پور ہو گیا اور 1867ئ میں آپ بنارس میں تعینات ہوئے۔

1877ئ میں آپ كو امپریل كونسل كاركن نامزد كیا گیا۔ 1888ئ میں آپ كو سر كا خطاب دیا گیا اور 1889ئ میں انگلستان كی یونیورسٹی اڈنبرا نے آپ كو ایل ایل ڈی كی اعزازی ڈگری دی۔ 1864ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ علی گڑھ گئے تو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نکالا۔ انگلستان سے واپسی پر 1870ء میں رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ اس میں مضامین سرسید نے مسلمانان ہند کے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا کر دیا۔ اورادب میں علی گڑھ تحریک کی بنیاد پڑی۔ سرسید کا کارنامہ علی گڑھ کالج ہے۔ 1887ء میں ستر سال کی عمر میں پینش لے لی اوراپنے کالج کی ترقی اور ملکی مفاد کے لیے وقف کریا۔

۔ 1859 ء میں وہ اپنے بیٹے سید محمود کے ساتھ انگلستان گیے تو وہاں انھیں دو مشہور رسالوں Tatler اور Spectator کے مطالعے کا موقع ملا۔ یہ دونوں رسالے اخلاق اور مزاح کے خوبصورت امتزاج سے اصلاح معاشرہ کے علم بردار تھے۔ آپ نے مسلمانوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ (علیگڑھ تحریک)۔۔۔۔ ظرافت اور خوش طبعی فطری طور پر شخصیت کا حصہ تھی۔

آپ نے 81 سال کی عمر میں 1898ء میں وفات پائی اور اپنے محبوب کالج کی مسجد میں دفن ہوئے۔ سرسید کی تمام زندگی قوم و ادب کی خدمت میں گزری۔

سر سید, بادشاہ اکبر شاہ دربار کے میں[ترمیم]

سر سید کے والد کو اکبر شاہ کے زمانہ میں ہر سال تاریخ جلوس کے جشن پر پانچ پارچہ اور تین رقوم جواہر کا خلعت عطا ہوتا تھا مگر اخیر میں ۔ ۔ ۔ انہوں نے دربار کا جانا کم کردیا تھا اور اپنا خلعت سر سید کو ، باوجودیکہ ان کی عمر کم تھی ، دلوانا شروع کردیا تھا۔ سرسید کہتے تھے کہ:

" ایک بار خلعت ملنے کی تاریخ پر ایسا ہوا کہ والد بہت سویرے اُٹھ کر قلعہ چلے گئے اور میں بہت دن چڑھے اُٹھا ۔ ہر چند بہت جلد گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچا مگر پھر بھی دیر ہوگئی ۔ جب لال پردہ کے قریب پہنچا تو قاعدہ کے موافق اول دربار میں جا کر آداب بجا لانے کا وقت نہیں رہا تھا ۔ داروغہ نے کہا کہ بس اب خلعت پہن کر ایک ہی دفعہ دربار میں جانا۔ جب خلعت پہن کر میں نے دربار میں جانا چاہا تو دربار برخاست ہو چکا تھا اور بادشاہ تخت پر سے اُٹھ کر ہوادار پر سوار ہوچکے تھے۔ بادشاہ نے مجھے دیکھ کر والد سے ، جو اس وقت ہوادار کے پاس ہی تھے ، پوچھا کہ " تمہارا بیٹا ہے؟" انہوں نے کہا، "حضور کا خانہ زاد! " بادشاہ چپکے ہو رہے۔ لوگوں نے جانا بس اب محل میں چلے جائیں گے ، مگر جب تسبیح خانہ میں پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ تسبیح خانہ میں بھی ایک چبوترہ بنا ہوا تھا جہاں کبھی کبھی دربار کیا کرتے تھے۔ اس چبوترہ پر بیٹھ گئے اور جواہر خانہ کے داروغہ کو کشتئ جواہر حاضر کرنے کا حکم ہوا۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ بادشاہ نے مجھے اہنے سامنے بلایا اور کمال عنایت سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ " دیر کیوں کی؟" حاضرین نے کہا ، " عرض کرو کہ تقصیر ہوئی " مگر میں چپکا کھڑا رہا۔ جب حضور نے دوبارہ پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ " سو گیا تھا! " بادشاہ مسکرائے اور فرمایا، " بہت سویرے اُٹھا کرو! " اور ہاتھ چھوڑ دئیے ۔ لوگوں نے کہا، " آداب بجا لاؤ! " میں آداب بجا لایا۔ بادشاہ نے جواہرات کی معمولی رقمیں اپنے ہاتھ سے پہنائیں۔ میں نے نذر دی اور بادشاہ اُٹھ کر خاصی ڈیوڑھی سے محل میں چلے گئے۔ تمام درباری میرے والد کو بادشاہ کی اس عنایت پر مبارک سلامت کہنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ اس زمانہ میں میری عمر آٹھ نو برس کی ہوگی۔"[2]

مرزا غالب سے تجدیدِ مراسم[ترمیم]

1855میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئین اکبری‘‘ کی تصحیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھا ۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ غالب نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی ، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں ان کا شمار ہوتا۔مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر ان کے احسانات کو تو لیا ،مگر قومی معاملات میں ان کی رہنمائی کو نظر انداز کردیا۔

دہلی کے جن نامور لوگوں کی تقریظیں آثارالصنادید کے آخر میں درج ہیں انہوں نے آئینِ اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقریظیں لکھی تھیں مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی کی تقریظ چھپی ہے ۔ مرزا غالب کی تقریظ جو ایک چھوٹی سی فارسی مثنوی ہے وہ کلیاتِ غالب میں موجود ہے مگر آئینِ اکبری میں سرسید نے اس کو قصدا ً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ابوالفضل کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔ 24

سر سید کہتے تھے کہ :

" جب میں مرادآباد میں تھا ، اس وقت مرزا صاحب، نواب یوسف علی خاں مرحوم سے ملنے کو رام پور گئے تھے۔ ان کے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی مگر جب دلی کو واپس جاتے تھے ، میں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں سرائے میں آکر ٹھہرے ہیں ۔ میں فورا سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو مع اسباب اور تمام ہم راہیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔"

ظاہرا جب سے کہ سر سید نے تقریظ کے چھاپنے سے انکار کیا تھا وہ مرزا سے اور مرزا ان سے نہیں ملے تھے اور دونوں کو حجاب دامن گیر ہو گیا تھا اور اسی لئے مرزا نے مرادآباد میں آنے کی ان کو اطلاع نہیں دی تھی۔ الغرض جب مرزا سرائے سے سرسید کے مکان پر پہنچے اور پالکی سے اُترے تو ایک بوتل ان کے ہاتھ میں تھی انہوں نے اس کو مکان میں لا کر ایسے موقع پر رکھ دیا جہاں ہر ایک آتے جاتے کی نگاہ پڑتی تھی ۔ سر سید نے کسی وقت اس کو وہاں سے اُٹھا کر اسباب کی کوٹھڑی میں رکھ دیا ۔ مرزا نے جب بوتل کو وہاں نہ پایا توبہت گھبرائے ، سرسید نے کہا:

" آپ خاطر جمع رکھئے ، میں نے اس کو بہت احتیاط سے رکھ دیا ہے۔"

مرزا صاحب نے کہا، " بھئی مجھے دکھا دو ، تم نے کہاں رکھی ہے؟" انہوں نے کوٹھڑی میں لے جا کر بوتل دکھا دی ۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے بوتل اُٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہنے لگے کہ، " بھئی ! اس میں تو کچھ خیانت ہوئی ہے۔ سچ بتاؤ، کس نے پی ہے ، شاید اسی لئے تم نے کوٹھڑی میں لا کر رکھی تھی، حافظ نے سچ کہا ہے:

واعظاں کایں جلوہ در محراب و منبر میکنند چوں بخلوت میروند آں کارِ دیگر میکنند

سرسید ہنس کے چُپ ہورہے اور اس طرح وہ رکاوٹ جو کئی برس سے چلی آتی تھی ، رفع ہوگئی ، میرزا دو ایک دن وہاں ٹھہر کر دلی چلے آئے۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  1. آثار الصنادید
  2. خطبات احمدیہ
  3. الکلام
  4. سفرنامہ لندن
  5. تاریخ بجنور

تعلیمی خدمات[ترمیم]

سرسید كا نقطہ نظر تھا كہ مسلم قوم كی ترقی كی راہ تعلیم كی مدد سے ہی ہموار كی جا سكتی ہے۔ انہوںنے مسلمانوں كو مشورہ دیا كہ وہ جدید تعلیم حاصل كریں اوار دوسری اقوام كے شانہ بشانہ آگے بڑھیں۔ انہوںنے محض مشورہ ہی نہیں دیا بلكہ مسلمانوں كے لیے جدید علوم كے حصول كی سہولتیں بھی فراہم كرنے كی پوری كوشش كی۔ انہوںنے سائنس٬ جدید ادب اور معاشرتی علوم كی طرف مسلمانوں كو راغب كیا۔ انہوںنے انگریزی كی تعلیم كو مسلمانوں كی كامیابی كے لیے زینہ قرار دیا تاكہ وہ ہندوئوں كے مساوی و معاشرتی درجہ حاصل كر سكیں۔

1859 میں سرسید نے مراد آباد اور 1862ئ میں غازی پور میں مدرسے قائم كیے۔ ان مدرسو ں میں فارسی كے علاوہ انگریزی زبان اور جدید علوم پڑھانے كا بندوبست بھی كیا گیا۔

1875ئمیں انہوںنے علی گڑھ میں ایم اے او ہائی سكول كی بنیاد ركھی جو بعد ازاں ایم اے او كالج اور آپ كی وفات كے بعد 1920ئ میں ایونیورسٹی كا درجہ اختیار كر گیا۔ ان اداروں میں انہوںنے آرچ بولڈ آرنلڈ اور موریسن جیسے انگریز اساتذہ كی خدمات حاصل كیں۔

1863ئ میں غازی پور میں سر سید نے سائنٹفك سوسائٹی كے نام سے ایك ادارہ بنایا۔ اس ادارے كے قیام كا مقصد مغربی زبانوں میں لكھی گئی كتب كے اردو تراجم كرانا تھا۔ بعد ازاں 1876ئ میں سوسائٹی كے دفاتر علی گڑھ میں منتقل كر دیے گئے۔ سر سید نے نئی نسل كو انگریزی زبان سیكھنے كی ترغیب دی تاكہ وہ جدید مغربی علوم سے بہرہ ور ہو سكے۔ یوں دیھتے ہی دیكھتے مغربی ادب سائنس اور دیگر علوم كا بہت سا سرمایہ اردو زبان میں منتقل ہو گیا۔ سوسائٹی كی خدمات كی بدولت اردو زبان كو بہت ترقی نصیب ہوئ ۔

1886ئ میں سر سید احمد خاں نے محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے نام سے ایك ادارے كی گنیاد ركھی گئی۔ مسلم قوم كی تعلیمی ضرورتون كے لیے قوم كی فراہمی میں اس ادارے نے بڑی مدد دی اور كانفرنس كی كاركردگی سے متاثر ہو كر مختلف شخصیات نے اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں كا آغاز كیا۔ لاہور میں اسلامیہ كالج كراچی میں سندھ مسلم مدرسہ٬ پشاور میں اسلامیہ كالج اور كانپور میں حلیم كالج كی بنیاد ركھی۔ محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس مسلمانوں كے سیاسی ثقافتی معاشی اور معاشرت حقوق كے تحفظ كے لیے بھی كوشاں رہی۔[3]

سائنٹفک سوسائٹی _ غازی پور[ترمیم]

Sirsyedinpunjab.jpg

سر سید نے زیادہ زور جدید تعلیم پر دیا۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ جدید تعلیم کے بغیر مسلمانوں کا مستقبل بالکل تاریک ہے۔ سر سید کی دوربیں نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ زندگی نے جو رخ اختیار کر لیا ہے اس کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اس میں رکاوٹ پیدا کر کے اس کی رفتار کو بھی روکا نہیں جا سکتا بلکہ ایسا کرنے والے خود تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے تمام تر توجہ جدید تعلیم کے فروغ پر مرکوز کر دی۔ سائنٹفک سوسائٹی کا مقصد ہی اپنے ہم وطنوں کو جدید علوم سے روشناس کرانا تھا۔[4] اس سوسائٹی کے جلسوں میں جس میں نئے نئے سائنسی مضامین پر لیکچر ہوتے اور آلات کے ذریعہ تجربے بھی کیے جاتے، کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو بتایا جا سکے کہ بنا جدید علوم خاص طور پرسائنس کے میدان میں ترقی نہیں کی جا سکتی اور اسی لیے سائنٹفک سوسائٹی نے جن دو درجن کتابوں کا ترجمہ کرایا ان میں چند کو چھوڑ کر زیادہ تر ریاضی اورسائنس سے متعلق تھیں۔ سر سید احمد خاں کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ یورپ جس راستے پر جا رہا ہے اور جو تعلیم حاصل کر رہا ہے وہی راستا اور تعلیم مستقبل کی ترقی کی گارنٹی ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ درسگاہیں کیسی ہیں اور ان کا نظام تعلیم کیا ہے؟ اس لیے وہ خود انگلستان گئے، وہاں کے تعلیمی نظام کو دیکھا، تعلیمی اداروں میں رہے، اساتذہ سے ملاقاتیں کیں اور اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ انگلستان کی ہر چیز نے ان کو متاثر کیا۔[4] انہوں نے کہا:[5] ” میں نے صرف اس خیال سے کہ کیا راہ ہے جس سے قوم کی حالت درست ہو، دور دراز سفر اختیار کیا اور بہت کچھ دیکھا جو دیکھنے کے لائق تھا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب میں نے کوئی عمدہ چیز دیکھی، جب کبھی عالموں اور مہذب آدمیوں کو دیکھا، جب کبھی علمی مجلسیں دیکھیں، جہاں کہیں عمدہ مکانات دیکھے، جب کبھی عمدہ پھول دیکھے، جب کبھی کھیل کود، عیش و آرام کے جلسے دیکھے، یہاں تک کہ جب کبھی کسی خوب صورت شخص کو دیکھا مجھ کو ہمیشہ اپنا ملک اور اپنی قوم یاد آئی اور نہایت رنج ہوا کہ ہائے ہماری قوم ایسی کیوں نہیں، جہاں تک ہو سکا ہر موقع پر میں نے قومی ترقی کی تدبیروں پر غور کیا سب سے اول یہی تدبیر سوجھی کہ قوم کے لیے قوم ہی کے ہاتھ سے ایک مدرسہ العلوم قائم کیا جائے جس کی بنا آ پ کے شہر میں اور آپ کے زیر سایہ پڑی۔ “

علی گڑھ تحریک[ترمیم]

سرسید نے اس تحریک کا آغاز جنگ آزادی سے ایک طرح سے پہلے سے ہی کر دیا تھا۔ غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ لیکن جنگ آزادی نے سرسید کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے اور ان ہی واقعات نے علی گڑھ تحریک کو بارآور کرنے میں بڑی مدد دی۔ لیکن یہ پیش قدمی اضطراری نہ تھی بلکہ اس کے پس پشت بہت سے عوامل کارفرما تھے۔ مثلا راجہ رم موہن رائے کی تحریک نے بھی ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ لیکن سب سے بڑا واقعہ سکوت دلی کا ہی ہے۔ اس واقعے نے ان کی فکر اور عملی زندگی میں ایک تلاطم برپا کر دیا۔ اگرچہ اس واقعے کا اولین نتیجہ یار دعمل تو مایوسی ، پژمردگی اور ناامیدی تھا تاہم اس واقعے نے ان کے اندر چھپے ہوئے مصلح کو بیدار کر دیا علی گڑھ تحریک کا وہ بیج جو زیر زمین پرورش پارہا تھا ۔ اب زمین سے باہر آنے کی کوشش کرنے لگا چنا نچہ اس واقعے سے متاثر ہو کر سرسید احمد خان نے قومی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔ ابتداءمیں سرسیداحمد خان نے صرف ایسے منصوبوں کی تکمیل کی جو مسلمانوں کے لئے مذہبی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت سر سید احمد خان قومی سطح پر سوچتے تھے۔ اور ہندوئوں کو کسی قسم کی گزند پہنچانے سے گریز کرتے تھے۔ لیکن ورینکلر یونیورسٹی کی تجویز پر ہندوئوں نے جس متعصبانہ رویے کا اظہار کیا، اس واقعے نے سرسید احمد خان کی فکری جہت کو تبدیل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اب ان کے دل میں مسلمانوں کی الگ قومی حیثیت کا خیال جاگزیں ہو گیا تھااور وہ صرف مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود میں مصروف ہوگئے۔ اس مقصد کے لئے کالج کا قیام عمل میں لایا گیا رسالے نکالے گئے تاکہ مسلمانوں کے ترقی کے اس دھارے میں شامل کیا جائے۔ 1869 ءمیں سرسید احمد خان کوانگلستان جانے کا موقع ملا اس یہاں پر وہ اس فیصلے پر پہنچے کہ ہندوستان میں بھی کیمرج کی طرز کا ایک تعلیمی ادارہ قائم کریں گے۔ وہاں کے اخبارات سپکٹیٹر ، اور گارڈین سے متاثر ہو کر ۔ سرسید نے تعلیمی درسگاہ کے علاوہ مسلمانوں کی تہذیبی زندگی میں انقلاب لانے کے لئے اسی قسم کااخبار ہندوستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ اور ”رسالہ تہذیب الاخلاق“ کا اجراءاس ارادے کی تکمیل تھا۔ اس رسالے نے سرسید کے نظریات کی تبلیغ اور مقاصد کی تکمیل میں اعلیٰ خدمات سر انجام دیں. علی گڑھ تحریک ایک بہت بڑی فکری اور ادبی تحریک تھی.

سر سید احمد خاں نے 1875ء میں ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی داغ بیل ڈالی جسے 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا:

میں ہندوستانیوں کی ایسی تعلیم چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ان کو اپنے حقوق حاصل ہونے کی قدرت ہو جائے، اگرگورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق اب تک نہیں دیے ہیں جن کی ہم کو شکایت ہو تو بھی ہائی ایجوکیشن وہ چیز ہے کہ خواہ مخواہ طوعاً و کرہاً ہم کو دلا دے گی۔

ا س تحریك كے دیگر قائدین میں سے محسن الملك٬ وقار الملك٬ مولانا شبلی نعمانی٬ مولانا الطاف حسین حالی٬ اور مولانا چراغ علی خاص طور پر قابل ذكر ہیں۔ ان لوگوں نے وہ كارہائے نمایاں انجام دیے كہ آنے والی مسلم نسلیں ان كی جتین بھی قدر كریں كم ہے۔ سرسید اور ان كے ساتھیوں نے علی گڑھ تحریك كو ایك ہمہ گیر اور جامع تحریك بنا دیا۔ یوں مسلمانوں كی نشاۃ الثانیہ كا آغازہوا۔

تحریك علی گڑھ كا آغاز[ترمیم]

Sirsyed with admirers.jpg

1857ئ كی جنگ آزادی كی تمام تر ذمہ داری انگریزوں نے مسلمانوں پر ڈال دی تھی اور انہیں سزا دینے كے لئے ان كے خلاف نہایت ظالمانہ اقدامات كئے گئے ہندو جو كہ جنگ آزادی میں برابر كے شریك تھے۔ انہیں بالكل كچھ نہ كہا گیا۔ انگریز كی اس پالیسی كی وجہ سے مسلمان معاشرتی طور پر تباہ ہو گئے اور ان معاشی حالت ابتر ہو گئی انگریزوں نے فارسی كی بجائے جو كہ مسلمانوں كی زبان تھی۔ انگریزی كو سركاری زبان كا درجہ دے دیا تھا۔ مسلمان كسی صورت بھی انگریزی زبان سیكھنے پر رضا مند نہ تھے، دوسری طرف ہندووٕں نے فوری طور پر انگریزی زبان كو اپنا لیا تھا اور اس طرح تعلیمی میدان میں مسلمانوں سے آگے نكل گئے۔

ان اقدامات نے مسلمانوں كی معاشی اور معاشرتی حالت كو بہت متاثر كیا تھا مسلمان جو كبھی ہندوستان كے حكمران تھے، ادب ادنیٰ درجے كے شہری تھے۔ جنہیں ان كے تمام حقوق سے محروم كر دیا گیا تھا۔

سرسید احمد خان مسلمانوں كی ابتر حالت اور معاشی بدحالی كو دیكھ كر بہت كڑھتے تھے آپ مسلمانوں كو زندگی كے باعزت مقام پر دیكھنا چاہتے تھے اور انہیں ان كا جائز مقام دلانے كے خواہاں تھے۔ آپ نے مسلمانوں كی راہنمائی كا ارادہ كیا اور انہیں زندگی میں اعلیٰ مقام حاصل كرنے كے لئے جدوجہد كی تلقین كی۔

سرسید احمد خان نے یہ محسوس كر لیا تھا كہ ہندوستان كے مسلمانوں كی موجودہ حالت كی زیادہ ذمہ داری خود مسلمانوں كے انتہا پسند رویے كی وجہ سے ہے۔ ہندوستان كے مسلمان انگریز كو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور انگریزی تعلیم سیكھنا اپنے مذہب كے خلاف تصور كرتے تھے۔ مسلمانوں كے اس رویے كی وجہ سے انگریزوں اور مسلمانوں كے درمیان ایك خلیج حائل رہی، سرسید احمد خان نے یہ محسوس كر لیا تھا كہ جب تك مسلمان انگریزی تعلیم اور انگریزوں كے متعلق اپنا رویہ تبدیل نہ كریں گے ان كی حالت بہتر نہ ہو سكے گی اور وہ تعلیمی میدان میں ہمیشہ ہندووٕں سے پیچھے رہیں گے۔ آپ نے مسلمانوں كو یہ تلقین كی كہ وہ انگریزوں كے متعلق اپنا رویہ بدلیں كیونكہ انگریز ملك كے حكمران ہیں۔ آپ نے اپنی تحریك كا آغاز مسلمانوں اور انگریزوں كے درمیان غلط فہمی كی فضا كو ختم كرنے سے كیا۔

تحریك علی گڑھ كا تعلیمی پہلو[ترمیم]

Tafseer.jpg

سرسید احمد خان یہ سمجھتے تھے كہ مسلمانوں كی موجودہ بدحالی كا سب سے بڑا سبب مسلمانوں كا انگریزی علوم سے بے بہرہ ہونا ہے۔ آپ یہ سمجھتے تھے كہ مسلمانوں كو انگریزی زبان اور تہذیب سے نفرت كا رویہ ترك كر كے مفاہمت كا راستہ اختیار كرنا چاہئے۔ دوسری طرف ہندو جدید تعلیم حاصل كر كے تعلیمی میدان میں مسلمانوں سے آگے نكل گئے تھے اور اعلیٰ ملازمتیں حاصل كر لی تھیں۔ آپ نے مسلمانوں كو اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے كی تلقین كی اور انہیں یہ باور كرایا كہ جب تك وہ اپنا انتہا پسند رویہ ترك كر كے انگریزی علوم نہیں سیكھیں گے وہ كسی طرح بھی اپنی موجودہ بدحالی پر قابو نہ پا سكیں گے۔ آپ نے قرآن پاك كے حوالے دے كر مسلمانوں كو یہ سمجھایا كہ انگریزی علوم سیكھنا اسلام كے خلاف نہیں ہے آپ نے انتہا پسند عناصر سے مسلمانوں كو خبردار كیا۔ مسلمانوں كی تعلیمی بہتری كے لئے آپ نے متعدد اقدامات كئے۔

1859ئ میں مراد آباد كے مقام پر ایك مدرسہ قائم كیا گیا جہاں فارسی كی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس مدرسے میں انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی۔ 1863ئ میں غازی پور میں سائنٹیفك سوسائٹی قائم كی گئی جس كا مقصد انگریزی علوم كو اردو اور فارسی میں ترجمہ كرنا تھا تاكہ ہندوستانی عوام جدید علوم سے استفادہ كرسكیں۔ 1866ئ میں سائنٹیفك سوسائٹی كے زیر اہتمام ایك اخبارجاری كیا گیا جسے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ كہا جاتا ہے یہ اخبار اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع كیا جاتا تھا۔ اس اخبار كے ذریعے انگریزوں كو مسلمانوں كے جذبات سے آگاہ كیا جاتا تھا۔

1869ئ میں آپ كے بیٹے سید محمود كو حكومت كی طرف سے اعلیٰ تعلیم كے لئے انگلستان بھیجا گیا۔ آپ بھی 1869ئ میں اپنے بیٹے كے ہمراہ انگلستان چلے گئے۔ وہاں جا كر آپ نے آكسفورڈ اور كیمبرج یونیورسٹیوں كے نظام تعلیم كا مشاہدہ كیا۔ آپ ان یونیورسٹیوں كے نظام تعلیم سے بہت متاثر ہوئے اور یہ ارادہ كیا كہ ہندوستان جا كر ان یونیورسٹیوں كی طرز كا ایك كالج قائم كریں گے۔

آپ انگلستان سے 1870ئ میں واپس آئے اور ہندوستان میں انجمن ترقی مسلمانان ہند كے نام سے ایك ادارہ قائم كیا جس كا مقصد مسلمانوں كو جدید تعلیم سے روشناس كرانا تھا۔ 1870ئ میں آپ نے رسالہ تہذیب الاخلاق لكھا جس میں آپ نے مسلمانوں كے ان معاشرتی پہلووٕں كی نشاندہی كی جن كی اصلاح كرنا مقصود تھی اور مسلمانوں كو تلقین كی كہ وہ اپنے ان پہلووٕں كی فوری اصلاح كریں۔

علی گڑھ كالج كا قیام[ترمیم]

انگلستان سے واپسی پر آپ نے مسلمانوں كی تعلیمی ترقی كے لئے ایك كمیٹی قائم كر دی جس نے اعلیٰ تعلیم كے لئے ایك كالج كے قیام كے لئے كام شروع كیا۔ اس كمیٹی كو محمڈن كالج كمیٹی كہا جاتا ہے۔ كمیٹی نے ایك فنڈ كمیٹی قائم كی جس نے ملك كے طول و عرض سے كالج كے لئے چندہ اكٹھا كیا۔ حكومت سے بھی امداد كی درخواست كی گئی۔

1875ئ میں انجمن ترقی مسلمانان ہند نے علی گڑھ میں ایم اے او ہائی سكول قائم كیا۔ اس ادارے میں جدید اور مشرقی علوم پڑھانے كا بندوبست كیا گیا۔ 1877ئ میں اس اسكول كو كالج كا درجہ دے دیا گیا جس كا افتتاح لارڈ لٹن نے كیا۔ یہ كالج رہائشی كالج تھا اور یہاں پر تمام علوم پڑھائے جاتے تھے۔ سرسید كی یہ دلی خواہش تھی كہ اس كالج كو یونیورسٹی كا درجہ دلا دیں۔ یہ كالج سرسید كی وفات كے بعد 1920ئ میں یونیورسٹی بن گیا یہاں سے فارغ التحصیل طلبائ نے آگے چل كر تحریك پاكستان میں نمایاں كردار ادا كیا۔[6]

محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس[ترمیم]

سرسید احمد خان نے 27دسمبر 1886ئ كو محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كی بنیاد ركھی اس كانفرنس كا بنیادی مقصد مسلمانوں كی تعلیمی ترقی كے لئے اقدامات كرنا تھا۔ اس كا پہلا اجلاس علی گڑھ میں ہوا۔ كانفرنس نے تعلیم كی اشاعت كے لئے مختلف مقامات پر جلسے كئے۔ہر شہر اور قصبے میں اس كی ذیلی كمیٹیاں قائم كی گئیں۔ اس كانفرنس كی كوششوں سے مسلمانوں كے اندر تعلیمی جذبہ اور شوق پیدا ہوا۔ اس كانفرنس نے ملك كے ہر حصے میں اجلاس منعقد كئے اور مسلمانوں كو جدید تعلیم كی اہمیت سے روشناس كرایا۔ اس كانفرنس كے سربراہوں میں نواب محسن الملك، نواب وقار الملك، مولانا شبلی اور مولانا حالی جیسی ہستیاں شامل تھیں۔

محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كا سالانہ جلسہ مختلف شہروں میں ہوتا تھا۔ جہاں مقامی مسلمانوں سے مل كر تعلیمی ترقی كے اقدامات پر غور كیا جاتا تھا اور مسلمانوں كے تجارتی، تعلیمی، صنعتی اور زراعتی مسائل پر غور كیا جاتا تھا۔[7]

آل انڈیا مسلم لیگ كا قیام بھی 1906ئ میں محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے سالانہ اجلاس كے موقع پرڈھاكہ كے مقام پر عمل میں آیا۔ محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے سالانہ اجلاس كے موقع پر برصغیر كے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے مسلم عمائدین نے ڈھاكہ كے نواب سلیم اللہ خاں كی دعوت پر ایك خصوصی اجلاس میں شركت كی۔ اجلاس میں فیصلہ كیا گیا كہ مسلمانوں كی سیاسی راہنمائی كے لیے ایك سیاسی جماعت تشكیل دی جائے۔ یاد رہے كہ سرسید نے مسلمانوں كو سیاست سے دور رہنے كا مشورہ دیا تھا۔ لیكن بیسویں صدی كے آغاز سے كچھ ایسے واقعات رونما ہونے شروع ہوئے كہ مسلمان ایك سیاسی پلیٹ فارم بنانے كی ضرورت محسوس كرنے لگے۔ ڈھاكہ اجلاس كی صدارت نواب وقار الملك نے كی۔ نواب محسن الملك; مولانامحمد علی جوہر٬ مولانا ظفر علی خاں٬ حكیم اجمل خاں٬ اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر سر آغا خان كو چنا گیا۔ مركزی دفتر علی گڑھ میں قائم ہوا۔ تمام صوبوں میں شاخیں بنائی گئیں۔ برطانیہ میں لندن برانچ كا صدر سید امیر علی كو بنایا گیا.

اردو ہندی تنازعہ[ترمیم]

1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں میں بڑھتے ہوئے اختلافات کے پیش نظر سر سید احمد خاں نے محسوس کرنا شروع کردیا تھا کہ سیاسی بیداری اور عام ہوتے ہوئے شعور کے نتیجہ میں دونوں قوموں کا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ مولانا حالی نے حیات جاوید میں سرسید کے حوالے سے بھی ان خدشات کا اظہار کیا ہے ان کے خیال میں سرسید احمد نے 1867 میں ہی اردو ہندی تنازعہ کے پیش نظر مسلمانوں اور ہندوؤں کے علیحدہ ہوجانے کی پیش گوئی کر دی تھی۔ انہوں نے اس کا ذکر ایک برطانوی افسر سے کیا تھا کہ دونوں قوموں میں لسانی خلیج وسیع ترہوتی جارہی ہے۔ اور ایک متحدہ قومیت کے طور پر ان کے مل کے رہنے کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ اور آگے چل کر مسلمانوں ار ہندوؤں کی راہیں جدا ہوجائیں گی۔[8]

اردو زبان كی ترقی و ترویج كا آغاز مغلیہ دور سے شروع ہوا اور بہ زبان جلد ہی ترقی كی منزلیں طے كرتی ہوئی ہندوستان كے مسلمانوں كی زبان بن گئی۔ اردو كئی زبانوں كے امتزاج سے معرض وجود میں آئی تھی۔ اس لئے اسے لشكری زبان بھی كہا جاتا ہے۔ اس كی ترقی میں مسلمانوں كے ساتھ ہندو ادیبوں نے بھی بہت كام كیا ہے سرسید احمد خان نے بھی اردو كی ترویج و ترقی میں نمایاں كام كیا لیكن چونكہ ہندو فطری طور پر اس چیز سے نفرت كرتا تھا جس سے مسلمانوں كی تہذیب و تمدن اور ثقافت وابستہ ہو لہٰذا ہندووٕں نے اردو زبان كی مخالفت شروع كر دی۔

1867ئ میں بنارس كے چیدہ چیدہ ہندو رہنماوٕں نے مطالبہ كیا كہ سركاری عدالتوں اور دفاتر میں اردو اور فارسی كو یكسر ختم كر دیا جائے اور اس كی جگہ ہندی كو سركاری زبان كے طور پر رائج كیا جائے۔ ہندووٕں كے اس مطالبے سے سرسید احمد خان پر ہندووٕں كا تعصب عیاں ہو گیا اور انہیں ہندو مسلم اتحاد كے بارے میں اپنے خیالات بدلنے پڑے اس موقع پر آپ نے فرمایا كہ :

٫٫ مجھے یقین ہو گیا ہے كہ اب ہندو اور مسلمان بطور ایك قوم كے كبھی نہیں ایك دوسرے كے ساتھ مل كر نہیں رہ سكتے۔٬٬

سرسید احمد خان نے ہندووٕں كی اردو زبان كی مخالفت كے پیش نظر اردو كے تحفظ كے لئے اقدامات كرنیكا ارادہ كیا1867ئ میں آپ نے حكومت سے مطالبہ كیا كہ ایك ٫٫ دار الترجمہ٬٬ قائم كیا جائے تاكہ یونیورسٹی كے طلبائ كیلئے كتابوں كا اردو ترجمہ كیا جا سكے ہندووٕں نے سرسید احمد خان كے اس مطالبے كی شدت سے مخالفت كی لیكن آپ نے تحفظ اردو كے لئے ہندووٕں كا خوب مقابلہ كیا۔ آپ نے الٰہ آباد میں ایك تنظیم سنٹرل ایسوسی ایشن قائم كی اورسائنٹیفك سوسائٹی كے ذریعے اردو كی حفاظت كا بخوبی بندوبست كیا۔

ہندووٕں نے اردو كی مخالفت میں اپنی تحریك كو جاری ركھا۔1817ئ میں بنگال كے لیفٹیننٹ گورنر كیمبل نے اردو كو نصابی كتب سے خارج كرنے كا حكم دیا۔ ہندووٕں كی تحریك كی وجہ سے 1900ئ میں یو پی كے بدنام زمانہ گورنر انٹونی میكڈانلڈ نے احكامات جاری كئے كہ دفاتر میں اردو كی بجائے ہندی كو بطور سركاری زبان استعمال كیا جائے۔

اس حكم كے جاری ہونے پر مسلمانوں میں زبردست ہیجان پیدا ہوا۔ 13مئی 1900 ئ كو علی گڑھ میں نواب محسن الملك نے ایك جلسے سے خطاب كرتے ہوئے حكومت كے اقدام پر سخت نكتہ چینی كی۔ نواب محسن الملك نے اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم كی جس كے تحت ملك میں مختلف مقامات پر اردو كی حمایت میں جلسے كئے گئے اور حكومت كے خلاف سخت غصے كا اظہار كیا گیا۔ اردو كی حفاظت كے لئے علی گڑھ كے طلبائ نے پرجوش مظاہرے كئے جس كی بنائ پر گونر میكڈانلڈ كی جانب سے نواب محسن الملك كو یہ دھمكی دی گئی كہ كالج كی سركاری گرانٹ بند كر دی جائے گی۔

اردو كے خلاف تحریك میں كانگریس اپنی پوری قوت كے ساتھ شامل كار رہی اور اسے قبول كرنے سے انكار كر دیا۔ اردو زبان كی مخالفت كے نتیجے میں مسلمانوں پر ہندو ذہنیت پوری طرح آشكار ہو گئی۔ اس تحریك كے بعد مسلمانوں كو اپنے ثقافتی ورثے كا پوری طرح احساس ہوا اور قوم اپنی تہذیب و ثقافت كے تحفظ كے لئے متحد ہوئی۔ سرسیّد احمد خان نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بڑے زور و شور سے اردو زبان کی مدافعت جاری رکھی۔


سیاسی خدمات[ترمیم]

آپ نے مسلمانوں كو مشورہ دیا كہ سیاست سے دور رہتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ تعلیم كے حصول اورمعاشی و معاشرتی طورپر بحای پر دین تاكہ وہ ہندوئوں كے برابر مقام حاصل كر سكیں۔ سرسید ہندو مسلم اختلافات كو ختم كر كے تعاون اور اتحاد كی راہ رپ گامزن كرنے كے حق میں بھی تھے۔ انہوںنے دونوں قوموں كو ایك دوسرے كے قریب لانے كی مسلسل كوششیں كیں۔ اپنے تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ بھرتی كیے اور ہندو طلبائ كو داخلے دیے ہندوئوں نے اردو كے مقابل ہندی كو سركاری دفاتر كی زبان ك درجہ دلوانے كے لیے كوششیں شروع كر دیں۔ 1857ئ میں اردو ہندی تنازعے نے سرسید كو بددل كر دیا اور اانہوںنے صرف اور صرف مسلمانوں كے حقوق كے تحفظ كے لیے اپنی تحریك كے ذریعے كام شروع كر دیا۔ زبان كا تنازعہ سرسید كی سوچ اور عمل كو بدل گیا۔ انہوںنے دو قومی نظریہ كی بنیادپر برصغیر كے سیاسی اور دیگر مسائل كے حل تلاش كرنے كا فیصلہ كیا۔

سرسید كی سیاسی حكمت عملی كی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔ سرسید نے مسلمانوں كو ایك علیحدہ قوم ثابت كیا اور حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ كے افكار كو آگے بڑھایا۔ دو قومی نظریہ كی اصطلاح سرسید نے ہی سب سے پہلے استعمال كی۔ انہوںنے كہا كہ مسلمان جداگانہ ثقافت رسم و رواج اور مذہب كے حامل ہیں اور ہر اعتبار سے ایك مكمل قوم وك درجہ ركھتے ہیں۔ مسلمانوں كی علیحدہ قومی حیثیت كے حوالے سے سرسید احمد نے ان كے یلے لوكل كونسلوں میں نشستوں كی تخصیص چاہی اعلیٰ سركاری ملازمتوں كے لیے كھلے مقابلے كے امتحان كے خلاف مہم چلائی٬ اكثریت كی مرضی كے تحت قائم ہونے والی حكومت والے نظام كو ناپسند كیا۔ ا نہو ں نے مسلمانوں كی علیحدہ پہچان كروائی اور دو قومی نظریہ كی بنیاد پر ان كے لیے تحفظات مانگے۔انڈین نیشنل کانگریس مدراس مساوات، کانپور، 1887 لیکچر

سر سید مسلمانوں كوسیاست سے دور ركھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوںنے مسلمانوں كو 1885ئ میں ایك انگریز اے او ہیوم كی كوششوں سے قائم ہونے والی انڈین نیشنل كانگریس سے دورركھا۔ بعد میں ہونے والے واقعات نے سرسید كی پالیسی كی افادیت كو ثابت كر دیا ان كو بجا طور پر پاكستان كے بانیوں میں شمار كیا جاتاہے۔ مولوی عبدالحق نے سرسید كی قومی و سیاسی خدمات كے حوالے سے لكھا ہے:

٫٫قصر پاكستان كی بنیاد میں پہلی اینٹ اسی مرد پیر نے ركھی تھی٬٬۔[9]

سرسید احمد خان کے متعلق اہلِ نظر کی آراء[ترمیم]

تہذیب الاخلاق کا ٹائٹل جو سرسید 1870 میں لندن سے بنوا کر لائے تھے۔
  • حالی
ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کو

کریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائیں گے ان کو

  • مولوی نظیر احمد
وہ اپنے وقت کا اک فرد کامل بلکہ اکمل تھا

کہ ہم میں کا ہر اک اعلیٰ اس سے اسفل تھا
خرد مندوں کی صف میں سب موخر تھے وہ اول تھا
غرض اسلامیوں کی فوج کا لیڈر تھا جنرل تھا
اب اس کے بعد لشکر ہے مگر افسر نیہں کوئی
بھٹکتا پھر رہا ہے قافلہ رہبر نیہں کوئی

  • اکبر الہ آبادی
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا

نہ بھولو اس کو جو کچھ فرق ہے کہنے میں کرنے میں
یہ دنیا چاہے جو کچھ بھی کہے اکبر یہ کہتا ہے
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

  • صبا اکبر آبادی
تہذیب اور اخلاق سِکھانے والا

سُورج کی طرح سے جگمگانے والا

خیرہ ہُوئیں اربابِ وطن کی آنکھیں

اس طرح سے آیا تھا وہ آنے والا


شرق و غرب کو ایک کرنے والا

اخلاص کا رنگ سب میں بھرنے والا

سید کی زبان کا اثر تھا اتنا

ہر لفظ دلوں میں تھا اُترنے والا


اسلام کی دیکھی تھی زبوں حالی بھی

مستقبلِ قوم پر نظر ڈالی بھی

تعمیر میں وہ قوم کی رہا مصروف

طعنے بھی سُنے اور سُنی گالی بھی


سرحد میں بھی چمکے ہیں ستارے اس کے

پنجاب میں بھی بہے ہیں دھارے اس کے

سندھی ہوں ، بلوچی ہوں کہ بنگالی ہوں

یو پی کی طرح سب ہی تھے پیارے اس کے


اِک صاحبِ ہوش ، راہبر تھے سید

اسلام کی چشمِ معتبر تھے سید

یہ صرف خطاب ہی نہیں ہے واقعہ ہے

تھی قوم اگر جسم تو سر تھے سید


گرداب کو کشتی سے نکالا اس نے

گرتی ہوئی قوم کو سنبھالا اس نے

وہ خطہ گمنام کبھی تھا جو ، کول

اِک مرکزِ علم و فن میں ڈھالا اس نے


تھیں خوبیاں بے شُمار سید کی

ہو گی نہ کبھی خزاں بہار سرسید کی

نکلا ہے علی گڑھ سے جو پڑھ کے شخص

دراصل ہے یادگا سر سید کی


تاریک جو ہوگی رات ، ڈھل جائے گی

آئے گی کوئی بلا تو ٹل جائے گی

سید کی طرح کوئی سنبھالے گا اگر

بگڑی ہوئی قوم سنبھل جائے گی[10]


مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ نویدِ فکر, سبط حسن
  2. ^ 2.0 2.1 الطاف حسین حالی (1901)، حیات جاوید 
  3. ^ تعلیمی خدمات
  4. ^ 4.0 4.1 رضوان احمد (16 اکتوبر 2009)، "سر سید احمد خاں کی یاد میں"، وائس آف امریکہ، http://www1.voanews.com/urdu/news/arts-entertainment/sir-syed-ahmad-khan-16oct09-64551547.html 
  5. ^ الطاف حسین حالی، حیات جاوید، ص: 187 
  6. ^ تحریك علی گڑھ
  7. ^ محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس
  8. ^ الطاف حسین حالی (1901)، حیات جاوید، ص: 267 
  9. ^ سرسید كی سیاسی خدمات
  10. ^ سرسید احمد خاں کے لئے

بیرونی روابط[ترمیم]